آتشِ قلب

post cover

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

قسط: 11

اس واقعہ کو گزرے پورے دو دن ہو گئے تھے اج ان کا ٹیسٹ تھا مطلب کہ انہوں نے اسسائنمنٹ بنا کر دینی تھی قندیل اس دفعہ کے ٹیسٹ کے لیے مکمل تیار تھی
جبکہ قلب نے بھی اپنا کہا سچ کیا تھا اس نے ان دو دنوں میں قندیل کی طرف انکھ اٹھا کر نہیں دیکھا تھا مگر اس کے اپنے ہی اس عمل سے اس کا دل بے حد بے چین تھا وہ جتنا ہو سکے قندیل کو اگنور کرنے کی کوشش کر رہا تھا اور یہی بات اس کے دل کو منظور نہیں تھی
اج ہفتہ تھا اج ان کی اسسائنمنٹ ٹیسٹ تھا قلب سب کی اسسائنمنٹ چیک کرتے ہوئے جب قندیل کے پاس پہنچا تو قلب نے اس سے اسائمنٹ ماگنے کے لیے قندیل کی طرف دیکھا تھا اور پھر دیکھتا ہی رہ گیا تھا
وہ آج مکمل کالے رنگ کی فراک پہنے سر پر کالے رنگ کا ہی حجاب پہنے سیدھا اس کے دل میں اتر رہی تھی
قندیل نے اپنی اسائمنٹ قلب کی طرف بڑھائ تو قلب نے نظر اس کہ چہرے سے اس فائل پر منتقل کی
اس نے ایک نظر مکمل فائل پر ڈالی قندیل کی اسسائنمنٹ میں اس کو ایک حرف بھی غلط نظر نہ ایا وہ کافی امپریس ہوا تھا اس سے پہلے ٹیسٹ کی نسبت بلکہ پہلے ٹیسٹ سے وہ کافی اچھا رزلٹ دے رہی تھی اس دفعہ
گڈ…….. کہنے کے بعد قلب شاہ اگے کی طرف بڑھ گیا جبکہ قندیل منہ کھولو اس کی پیٹھ کو دیکھ رہی تھی کہ اس کی اتنے دنوں کی محنت کو وہ بندہ صرف گڈ کہہ کر آگے گزر گیا
افففف اللہ
پوری کلاس کی اسسائنمنٹ چیک کرنے کے بعد قلب اپنی چیئر پر بیٹھا ایک نظر پوری کلاس کو دیکھنے لگا
پھر کچھ سوچتے ہوئے کھڑا ہوا اور کہنے لگا
اج کی سب سے زیادہ اچھی اسسائنمنٹ اور قابل دید اسسائنمنٹ مس لیزا کی تھی جن بچوں کو تھوڑی امپروومنٹ کی ضرورت ہے ان کے نام بھی میں بتا دوں
ان میں مس سمیہ مس قندیل اور مسٹر راہیل شامل ہیں
اتنا کہنے کے بعد اس نے اپنا لیپ ٹاپ اٹھایا اور کلاس روم کے باہر چلا گیا ایک نگاہ غلط قندیل پر ڈالنا بھی ضروری نہیں سمجھا یا وہ خود کو اس کی طرف مائل ہونے سے روکنا چاہتا تھا
جب کہ پیچھے لیزا جسے لگ رہا تھا اج اس کی اسسائنمنٹ میں بہت زیادہ غلطیاں ہیں پروفیسر قلب سے اتنی تعریف سننے کے بعد اس کے تو مانو پاؤں ہی زمین پر نہیں لگ رہے تھے
جب کے پیچھے قندیل جس نے پوری رات جاگ کر یہ اسسائنمنٹ بنائی تھی اپنا سا منہ لے کے رہ گئی تھی اس سے پورا یقین تھا کہ اس کے سائنمنٹ میں ایک حرف کی بھی غلطی نہیں ہے اس نے تین چار دفعہ چیک کی تھی
جبکہ باقی جن کے نام امپروومنٹ کے لیے پکارے گئے تھے وہ کچھ شرمندہ سے تھے شاید انہیں اس بات کا علم تھا کہ ان کی اسسائنمنٹ اچھی نہیں بنی
پلیز قندیل اب رونا مت شروع کر دینا ماہی نے قندیل کو رونے کی تیاری کر کے دیکھ کہا جب کہ اس کی بات سننے کے بعد قندیل باقاعدہ رونا شروع ہو گئی تھی
یار میں نے پوری رات لگا کر یہ اسائنمنٹ لکھی تھی اور مجھے پورا یقین ہے کہ اس میں ایک حرف کی بھی غلطی نہیں اور پھر بھی سر نے مجھے ایسا کہا قندیل نے سو سو کرتے کہا
یار تم رونا بند کرو ہو سکتا ہے سر کو کسی اور چیز پہ غصہ ہو ایسے تم پر نکل گیا مجھے پکا یقین ہے کہ تمہاری اسسائنمنٹ میں ایک لفظ کی بھی غلطی نہیں ہوگی پلیز چپ کر جاؤ میری جان اگر تم چپ نہ ہوئ تو میں نے تمہیں چوم لینا ہے
استغفر اللہ تم کیسی باتیں کر رہی ہو میں نے تمہیں اتنا اوارہ نہیں سمجھا تھا بدتمیز لڑکی
قندیل اس کے بعد سننے کے بعد شرم سے ہوئے سرخ چہرے ساتھ غصے سے کہا
ہائے میری جان شرما گئی ماہین اس کا گال کھینچتے ہوئے کہا
ماہی ب**** بند کرو اپنی کتابیں کھولو مجھے بھی پڑھنے دو خود بھی پڑھو واہیات لڑکی بےہودہ باتیں کرتی ہے
قندیل نے اپنے سرخ پھولے پھولے گالوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا
اس کے بات سننے کے بعد ماہی نے ہنستے ہوئے اپنی نظر کتاب کی طرف کی جب کہ ان کے پیچھے بیٹھا حارث ان دونوں کی باتیں سنتا بمشکل اپنی مسکراہٹ چھپائے کتاب کی طرف متوجہ ہوا
ابھی ماہی کو ارام سے بیٹھے کچھ ہی ٹائم ہوا تھا جب اسے اپنے کمر پر کسی کے ہاتھوں کا لمس محسوس ہوا
اس نے اپنی بائیں طرف دیکھا تو قندیل کی جگہ پہ حارث بیٹھا اپنی مکمل توجہ کتاب کی طرف کی اس کمر کو اپنے حصار میں لیے ہوئے تھا
جبکہ قندیل کچھ ٹائم پہلے سمیہ کے بلانے پر اس کے ڈیکس پر چلی گئی تھی
حارث کیا کر رہے ہو اپنا ہاتھ اٹھاؤ مجھے الجھن ہو رہی ہے
ماہی نے اپنی نظریں کتاب کی طرف رکھتے ہوئے دھیمی اواز میں کہا
اس کی بات سننے کے بعد حارث کے ہونٹوں پر دلکش مسکراہٹ چھائی
یہ حرکت صحیح نہیں ہے اس میں حارث کی طرف دیکھتے غصے سے کہا
کون سی حرکت حارث نے ایسے اپنی طرف دیکھتے انجان بنتے ہوئے کہا
اوووووو اتنے تم معصوم کاکے جلدی سے ہاتھ اٹھا میری کمر سے ماہی نے جھنجھلاتے ہوئے کہا
میری دفعہ بڑی شرم ا رہی ہے مس قندیل کو کیا کیا کہہ رہی تھی اگر تم چپ نا ہوئ تو میں تمہیں چوم لوں گی
اس کو چومنا اتا ہے مجھے چومنا نہیں اتا میں تو تمہارا محرم تمہارا شوہر ہوں
ہم کلاس روم میں بیٹھے ہیں کیسی باتیں کر رہے ہو تم شرم کرو اور دفع ہو جاؤ اپنے ڈیکس پہ ماہی نے شرم سے ہوئے سرخ چہرے سمیت غصے سے کہا اور ہاں وہ میری بیسٹ فرینڈ ہے اسے میں جیسے مرضی کہو تم نہیں بولو گے اس کے درمیان
ٹھیک ہے جناب میری کیا مجال کہ میں کچھ کہ دو اس نے ایک ہاتھ دل پر رکھتے ہوئے اور تھوڑا سا جھک کر کہا
ماہی اس کے انداز پر دل کھول کر مسکرائی تھی وہ ایسا ہی تھا اس کے اتنے غصے کو منٹوں میں زائل کرنے والا اور وہ بھی تو اس کی ایک مسکراہٹ دیکھتے ہی مان جاتی تھی
ویسے میں تم کو بتا دوں جس کو تم فرینڈ کہہ رہی ہو نا ان فیوچر تمہیں اسے بھابھی کہنا پڑے گا
کیوں میں کیوں اسے بھابھی کہوں گی ماہی نے حیران ہوتے ہوئے کہا
جو ہمارے میجر قلب ہیں نا وہ مس قندیل پر ٹوٹلی لڈو ہو چکا ہے
ویسے حارث مجھے بھی کچھ دنوں سے لگ رہا تھا جیسے میجر قلب مس قندیل کو نظرے بچا بچا کر دیکھتے ہے پر یہ بات ہو گی مجھے اندازہ نہیں تھا پر شکر ہے اب میجر قلب بھی مسکرائے گے
اب یہ محبت اسے ہسائے گی یا رلائے گی یہ تو وقت ہی بتائے گا حارث نے اپنے دل میں سوچتا
کیا سوچ رہے ہو ماہی نے اسے کچھ سوچتے دیکھ پوچھا
میں سوچ رہا ہوں کیوں نہ ہماری شادی کی ڈیٹ فائنل کر لی جائے یہ مشن تو ہوتا رہے گا ہمیں بھی تو اپنا مشن شروع کرنا ہے نا حارث نے شرارتا مسکراتے ہوئے کہا
جب کے اس کی بات سننے کے بعد ماہی کا تو مانو دماغ ہی اڑ گیا ہو
حارث تم کتنے بے شرم ہو اٹھ جاؤ جلدی سے اٹھ جاؤ میرے ڈیکس سے نہیں تو میں تمہارا سر پھاڑ دوں گی اتنا کہنے کے بعد ماہی نے اپنے سامنے رکھی کتاب کو بند کر کے اس کی سر کی طرف مارنے ہی لگی جب حارث جلدی سے اٹھ کر اپنے ڈیکس پر چلا گیا
ویسے قندیل ہے تو بڑی نازک سی معصوم سی لڑکی اور ہمارے میجر صاحب تو ایک دم ڈیول کا دوسرا روپ ہے ان کی جوڑی مزیدار لگے گی ماہی نے حارث کے جانے بعد دل میں سوچا اور مسکرا دی
♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥
اج تین اگست تھا اور اج قندیل کا برتھ ڈے تھا اس واقعہ کو ہوئے تین مہینے گزر گئے تھے
وہ سارے ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھے ناشتہ کر رہے تھے جب قندیل نے کہا
بابا اپ کو یاد ہے نا اج میرا برتھ ڈے ہے اج میں پورے بارہ سال کی ہو جاؤ گی
یاد ہے میری جان کا ٹوٹا کہ اج آپ کی برتھ ڈے ہے اج میں یونیورسٹی سے انے کے بعد پکا آپ کو آپ کی من پسند جگہ پہ لے کے جاؤں گا اور رات میں ہم کسی اچھے سے ریسٹورنٹ پہ آپ کی برتھ ڈے بھی سیلیبریٹ کریں گے کبیر شاہ نے قندیل کا گال چومتے ہوئے کہا جب کہ پاس بیٹھی سندس جس کا اج صبح سے ہی دل گھبرا رہا تھا ان کی باتیں سنتی ہلکا سا مسکراتے اپنے کھانے کی طرف متوجہ ہوئی
ناشتہ مکمل کرنے کے بعد کبیر شاہ اپنے روم میں جاتے ہوئے سندس کو بچھانے کا اشارہ کر گیا جبکہ قندیل اپنا ناشتہ مکمل کرنے کے بعد جلدی سے بھاگ کر اپنے کمرے میں چلی گئ تاکہ وہ اپنے سکول جانے کی تیاری کر سکے رات کو انہوں نے برتھ ڈے بھی تسلیبریٹ کرنی تھی
سندس جب بیڈ روم میں داخل ہوئی تو کبیر شاہ کو اپنا لیپ ٹاپ بیگ میں ڈالتے ہوئے دیکھا
کبیر اپ اتنے پریشان کیوں ہیں سندس نے اس کا پریشان سا چہرہ دیکھتے ہوئے پوچھا
ادھر اؤ میرے پاس کبیر شاہ نے اسے اپنے پاس بلاتے ہوئے بیڈ پر اپنے سامنے بٹھایا اور ساتھ خود بیٹھ گیا بات یہ ہے کہ میں یونیورسٹی چھوڑنے کے بارے میں سوچ رہا ہوں کبیر شاہ نے بغیر کسی تہمیت باندھے سیدھی طرح بات کی
کیوں کبیر اپ کیو چھوڑنے لگے ہیں سندس نے بیڈ پر رکھنے کبیر شاہ کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے کہا ہے
اج کل یونیورسٹی کے حالات کچھ اچھے نہیں ہے
کبیر شاہ نے اس کے چوچھنے پر کہا
مطلب کیا ہے اپ کی اس بات کا سندس نے کچھ حیران ہوتے کہا مجھے لگتا ہے اس یونیورسٹی میں ڈرگز کے سمگلنگ ہونے لگی ہے بچوں کو عجیب و غریب حرکتیں کرتے میں نے دیکھا ہے تو مجھے لگتا ہے کہ اب کوئی مسئلہ نہ بن جائے اس لیے میں یہ یونیورسٹی چھوڑنا چاہتا ہوں
ہم بھی ایسی یونیورسٹی میں پڑے ہیں نا ہمارے دور میں ایسا کچھ نہیں تھا اب کیسا دور ا گیا ہے سندس نے دکھ سے کہا جبکہ کبیر شاہ اس کی بات سننے کے بعد سر ہاں میں ہلاتے اٹھ کھڑا ہوا اور اپنا لیپ ٹاپ اٹھانے لگا میں جاتے ہی اپنا ریزگنیشن لیٹر دے دوں گا تم فکر نہ کرو میں نے ایک اور یونیورسٹی میں جوب کے لیے اپلائی کیا ہے انشاءاللہ کل پرسوں تک جواب اجائے گا وہ اس کا ماتھا چومتے روم سے باہر نکل گیا جبکہ پیچھے سندس کچھ پریشان سی اس کے پیچھے نکلی کبیر شاہ کے جانے کے بعد سندس نے دروازہ بند کیا اور واپس ائی تو قندیل کو یونی فارم میں مکمل تیار دیکھ کر اس کے چہرے پر ایک خوبصورت مسکراہٹ چھا گئی اسے پتہ تھا کہ اس کی بیٹی کو اپنے برتھ ڈے کا دن بہت زیادہ پسند ہے کیونکہ اس دن اس کے لیے صبح سے لے کر شام تک ہر کام سپیشل ہوتا تھا سرپرائزز سے بھرا ہوا
مگر اج جو قندیل کے لیے قسمت نے سرپرائز پلان کر رکھا تھا وہ اسے زندگی میں کبھی نہیں بھولنے والی تھی
♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥
حیدر تم وہاں اپنا بہت خیال رکھنا اور مجھے جب بھی ٹائم ملے کال کرتے رہنا میں تمہیں بہت یاد کروں گی نیلم نے حیدر کو گلے ملتے کہا جبکہ نیلم کی انکھوں سے انسو لگاتار بہہ رہے تھے
اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد حیدر اور غازم دونوں نے آرمی مین اپلائ کیا تھا اور کچھ ہی دنوں میں ان کا جواب بھی اگیا تھا اس لیے وہ دونوں ارمی کی ٹریننگ لینے جا رہے تھے
میری جان تم فکر نہ کرو یہ صرف تین مہینوں کی ٹریننگ ہے اس کے بعد جب میری پوسٹنگ ہو جائے گی تو انشاءاللہ میں پوسٹنگ اسلام اباد کی ہی کرواؤں گا اور ہمیشہ کے لیے تمہارے پاس ا جاؤں گا پوسٹنگ ہونے کے بعد انشاءاللہ مجھے ارمی کی طرف سے گھر بھی ملے گا پھر میں تم کو رخصت کروا کر اپنی پناہوں میں چھپا لوں گا حیدر شاہ نے نیلم کے ماتھے سے اپنا ماتھا ٹکائے محبت پاش لہجے میں کہا
حیدر تین مہینے بھی کم نہیں ہوتے مجھے تمہاری بہت یاد ائے گی نیلم نے ایک دفعہ پھر اسے گلے ملتے ہوئے کہا
اگر اتنی یاد ارہی ہے تو میری کوئی نشانی رکھ لو تم یاد کرتی رہنا اس نشانی کو دیکھ دیکھ کر کہ کوئی حیدر شاہ ہے جو واپس لوٹ کر ائے گا
ہے یہ ٹھیک رہے گا دو مجھے کوئی اپنی نشانی نیلم اس سے تھوڑی سی پیچھے ہو کر اپنا ہاتھ اس کے سامنے کرتی بولی
حیدر نے اک نظر اس کہ خوبصورت چہرے کو دیکھا وہ اس ٹائم نیلم کے گھر اس کو ارمی ٹریننگ پر جانے سے پہلے ملنے ایا تھا
اس نے نیلم کے اگے کیے ہاتھ کی انگلیوں میں اپنی انگلیاں الجھاتے اس سے پیچھے بیڈ پر لٹایا
اس کی اس حرکت سے نیلم تھوڑی حیران ہوئی جبکہ اس کی انکھوں کا اشارہ سمجھتے جلدی سے نا میں سر ہلانے لگی
جبکہ حیدر اس کی کسی بھی مزاحمت کو نظر انداز کرتے ہیں اس کی گردن پر جھکا
اس کی گردن کو ہونٹوں سے چھوتے اس نے اپنے دانت گاڑتے لوبائٹ کی
جبکہ اس کے یوں دانت سے کاٹنے پر نیلم نے اپنی ہونٹوں کو داتے تلے دبا کے اپنی نکلنے والی بے ساختہ چیخ کا گلا گھونٹا تھا
حیدر مکمل اپنے دانت گاڑنے کے بعد پیچھے ہوا تو اسے اپنے ہونٹوں پر نمی محسوس ہوئی جب اس نے ہاتھ لگا کر دیکھا تو اس کے ہونٹوں پر خون تھا اس کی نظر بے ساختہ نیلم کی گردن پر گئ جہاں اس کی سفید گردن اب سرخ ہو چکی تھی اور دانتوں کے نشان پر خون نمایا ہو رہا تھا
حیدر نے اپنے ہونٹوں کے کناروں کو دانتوں تلے دبا کر اپنی مسکراہٹ رکی جب کہ نیلم انکھوں میں انسو لیے اس کی طرف دیکھ رہی تھی
جبکہ اس کے پیچھے ہونے پر نیلم جلدی سے بیڈ سے اٹھتے اس سے دو قدم کے فاصلے پر ہوئی تمہیں شرم نہیں اتی حیدر نیلم نے اپنی گردن پر ہاتھ رکھتے ہوئے روندی اواز میں کہا
اس میں شرم کیسی تم نے ہی تو نشانی مانگی تھی اب جب جب تم ائینے کے سامنے کھڑی اپنی گردن کو دیکھو گی تمہیں میں یاد ایا کروں گا
اور انشاءاللہ اس کے نشان ختم ہونے تک میں واپس لوٹ اؤں گا حیدر نے دل چلا دینے والی مسکراہٹ کے ساتھ کہا
اس کی بات سننے کے بعد ابھی نیلم کچھ کہتی جب کمرے کے دروازے پر کھڑے غازم نے حیدر کو اواز لگائی یار جلدی کرو گاڑی اگے ہمیں لیٹ ہو جائے گی
حیدر اس کی بات سننے کے بعد سر ہلاتا ہے اپنا بیگ اٹھاتا اس کے پیچھے چل دیا جبکہ غازم اپنا رخ پلٹ نے ہی لگا تھا جب اس کی نظر بےساختہ نیلم کی گردن پر گئی جہاں خون کے قطرے نمایا ہو رہے تھے جبکہ غازم کو اپنی طرف یوں دیکھتا پا کر نیلم نے جلدی سے اپنا سکارف ٹھیک کیا
غازم اس کو دیکھنے کے بعد کمرے سے باہر چلا گیا جبکہ نیلم پیچھے بیڈ پر بیٹھ گئی اور اپنے گردن سے سکارف پیچھے ہٹاتی سامنے ڈریسنگ مرر میں اپنے نشان کر دیتی ہلکا سا مسکرا دی تھی
تمہارا انتظار رہے گا حیدر اور مجھے امید ہے تم جلدی لوٹ اؤ گے اس نے اپنے دل کے مقام پر ہاتھ رکھتے ہوئے سوچا
Instagram
Copy link
URL has been copied successfully!

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

کتابیں جو آپ کے دل کو چھوئیں گی

Avatar
Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial