آتشِ قلب

post cover

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

قسط: 9

وہ تیار ہو کر نیچے ائی تو اس کی مما ٹیبل پر پہلے سے ہی ناشتہ لگا کر بیٹھی اس کا انتظار کررہی تھی
وہ سلام کر کے اپنی ماں کے ساتھ ٹیبل پر بیٹھ کے ناشتہ شروع کر چکی تھی پانچ منٹ میں ناشتہ کرنے کے بعد بہت جلدی سے اٹھ کے اپنی ماں کے سر پر بوسہ دے کر اپنا بیگ اٹھاتی باہر کو بھاگی
جب اسے پیچھے سے اپنے مما کی اواز سنائی دی کیسے جا رہی ہے بیٹا دھیان سے ایسے بھاگ کیوں جا رہی ہے خیال سے
اوکے مما خیال رکھنا اپنا فی امان اللہ کہنے کے بعد وہ اپنی یونیورسٹی بس میں سوار ہو گئی
♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥
کیا کیا چاہیے میرے بیٹے کو کبیرشاہ نے بہت محبت سے قندیل کے گال کھینچتے ہوئے کہا وہ اس وقت شہر کے بڑے مال میں موجود تھے جہاں پر قندیل ان کو ضد کر کے لائی تھی بابا مجھے ایک ٹیڈی بیئر چاہیے ایک باربی ڈول ہاؤس باربی ڈول اور پلے لینڈ بھی جانا ہے
دیکھ لو کبیر تمہاری بیٹی کی فرمائشی 12 سال کی ہوگی اور ابھی بچوں کی طرح چیزیں مانگ رہی ہے سندس نے کبیر شاہ کی طرف دیکھتے چھوٹا سا شکوہ کیا
جانتی تو وہ بھی تھی کہ قندیل اتنی سمجھدار اور بڑی نہیں کہ وہ ان کی باتوں کی گہرائی کو سمجھ سکتی بس یہی باتیں ہی تو ان کی زندگی میں کھٹی مٹی خوشی کھولتی تھی قندیل کو دیکھ کر ہی تو وہ زندہ تھا قنڈیل کے پیدا ہوتے وقت کچھ پچیدگیوں کی وجہ سے وہ اور اولاد نہ لے سکے اور قندیل بھی تو شادی کے دس سال بعد پیدا ہوئ تھی ان کی تمام زندگی قندیل کے گرد گھومتی تھی انہیں اللہ تعالی نے ایک بچہ دیا تھا اور وہ اس میں ہی اللہ کا شکر ادا کرتے تھے
وہ قندیل کو لے کر شوپنگ کرنے کے بعد پلے لینڈ لے گئے
قندیل وہاں جا کر بہت خوش ہوئ خوب سارا کھیلنے کے بعد سندس کے ڈانٹے پر وہ گھر کی طرف روانہ ہوئے
وہ ابھی راستے میں ہی تھے کہ ان کی گاڑی پر کیسی نے فائرنگ شروع کر دی گولیاں سامنے کی طرف سے چلائ جا رہی تھی
کبیر نے اپنے ساتھ بیٹھی سندس کو اپنے نیچے کرتے خود اس پر سایہ فگن ہو گیا
جبکہ پچھلی سیٹ پر بیٹھی قندیل نہیں ایک زوردار چیخ کے بعد مکمل خاموشی اختیار کر لی
تقریبا پانچ منٹ لگاتار گولیاں چلنے کے بعد تمام طرف سکوت چھا گیا
نیچے جھکنے کی وجہ سے کبیر اور سندس کو زیادہ نقصان نہیں ہوا تھا تمگر ایک گولی کبیر کی کو لگ گئی تھی دائیں کندھے کے قریب کے کبیر شاہ کے سندھ اس پر جھکے ہونے کی وجہ سے سندس مکمل طور پر ٹھیک تھی
گولیوں کی اواز نہیں ائی تو انہوں نے سر اٹھا کر دیکھا وہ لوگ جنہوں نے ان پر گولیاں چلائی تھی وہ اپنی گاڑی پر سوار ہو کے نکل چکے تھے
انہوں نے تمام اطراف میں دیکھتے سکھ کا سانس لیا
جب کبیر شاہ کو ایک دم سے قندیل کا خیال آیا
کبیر شاہ نے ایک جھٹکے سے پیچھے کی طرف دیکھا تو قندیل کو اوندھے منہ سیڈ پر گرے پایا
ان کے اڑی رنگ کو دیکھ کر سندس نے پیچھے کی طرف دیکھا تو بے سختہ اس کے منہ سے ایک زوردار چیخ نکلی
قندیل میرے بیچی
سندس کے منہ سے نکلے الفاط سن کر کبیر شاہ ہوش میں آیا اور جلدی سے قندیل کو پکڑ کر سیدھا کیا
قندیل کو دیکھ کبیر شاہ کی آنکھیں بے ساختہ نم ہوئ تھی کیو کہ قندیل کے پیٹ میں بائیں جانب نیچے کی طرف گولی لگی تھی جس سے خون بہت تیزی سے نکل رہا تھا
کبیر شاہ نے قندیل کو جلدی سے آگے لاتے ہوئےاپنی گود میں نیٹھایا
قندیل اٹھو بیٹا قینو میری جان اٹھ جاؤ وہ دونوں اس کو ہوش میں لانے کی کوشش کر رہے تھے مگر وہ ہوش میں آ ہی نہیں رہی تھی
اس کو ہوش میں نہ آتا دیکھ کبیر شاہ نے گاڑی کو جلدی سے سٹاٹ کیا اور ہوسپیٹل کی طرف دوڑائ
♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥
وہ جب کلاس روم میں داخل ہوئی تو اپنے ڈیکس پر ماہی کو پہلے سے ہی بیٹھے پایا
السلام علیکم ماہی تم میرے نوٹ سے ائی ہو
قندیل نے بس میں بیٹھتے ہوئے سب سے پہلے کال ماہی کو کی تھی کیونکہ وہ دو دن نہیں تھی ماہی کے پاس اس کے نوٹس تھے جو ان دو دنوں میں پڑھائی ہوئی تھی تو قندیل یہی چاہتی تھی کہ وہ نوٹس کاپی کروا لے تا کہ ٹیسٹ کی تیاری کر لیتے جو ان کا ہر ویک اینڈ ہوتا ہے
وعلیکم السلام میری جان بیٹھ تو سہی سانس تو لے تو اتے ہی سر چڑھ دوڑی اور ہاں جی میں تمہارے نوٹس لے آئ ہو
ماہی میں نے تم کو کتنی دفعہ کہا ہے کہ مجھے یہ جانو مانو نہ بلایا کرو مجھے بالکل اچھا نہیں لگتا اور جلدی تو میرے نوٹس
قندیل نے اسے ٹوکتے ہوئے اپنا ہاتھ اس کے اگے کیا تاکہ وہ اسے نوٹس لے سکے
جی میری جانو مانو مجھے پتہ ہے کہ تمہیں یہ الفاظ سن کے شرم اتی ہے اور تمہارے گال ٹماٹر کی طرح لال ہو جاتے ہیں اور نوٹس میں نے کلرک آفس دیے ہیں تاکہ وہ کاپی ہو جائے میرے خیال سے اب تک کاپی ہو گئے ہوں گے افس سے نوٹس بھی لے اؤ اور پلیز یہ بیگ ضرور اتار کے رکھو جب سے ائی ہو بیک پینے ہی کھڑی ہو اتنی بھی کیا جلدی ہے
ماہی یار تم کو تو پتہ ہے پروفیسر شاہ کتنے بڑے جلاد ہیں اگر میں اس دفعہ بھی ٹیسٹ میں فیل ہوئی ہوں تو انہوں نے مجھے اٹھا کے یونیورسٹی سے باہر پھینک دینا ہے پچھلی دفعہ تو ہو سکتا ہے انہوں نے میرے پچھلے ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے مجھے ڈانٹا نہیں پر اس دفعہ وہ میری چمڑی ادھیر دیں گے
چل تو ادھر بیٹھ میں جلدی سے نوٹس لے کر آتی ہوں اتنا کہنے کے بعد ابھی وہ مڑی تھی جب پیچھے سے کسی نے اس کے سٹالر کا کھینچا
سٹونر کھینچنے کی وجہ سے گال کے نیچے اور کان کے قریب موجود پن اس کے گال میں دھنس گئی
وہ جو اج سفید کلر کی فراک اور کیپری پہن کے اور ساتھ سفید کلر کا ہی سٹولر پہن کر ائی تھی خون نکلنے کی وجہ سے گال کے قریب موجود سٹولر سرخ ہو گیا تھا
اس نے پلٹ کر دیکھا تو ان کی کلاس کا ہی ایک لڑکا جس کا نام عمر تھا وہ اس کا سٹالر پکڑ کر کھڑا تھا اور شکل سے کچھ گھبرایا ہوا بھی تھا
قندیل کے دیکھنے پر عمر نے جلدی سے سٹالر چھوڑ کر ہار پیچھے کھڑے کر دیے ابھی وہ کچھ بولتا جب اس کے منہ پہ زوردار ایک تھپڑ لگا
لڑکا اس تھپڑ کی تاب نہ لاتے ہوئے نیچے زمین پر گر گیا
قندیل اپنے سامنے کھڑے پروفیسر کلر کو انکھیں پھاڑے دیکھ رہی تھی جس نے ایک ہی تھپڑ میں لڑکے کا کام تمام کر دیا تھا
جب کہ قلب جو ابھی کلاس روم میں داخل ہوا تھا کسی لڑکے کو قندیل کا سٹالر پکڑے دیکھ غصے سے اس کی طرف بڑا اور ایک زوردار تھپڑ لڑکے کے منہ پہ مارا جس کی وجہ سے لڑکا نیچے زمین پر گر گیا اور خود قندیل کے بالکل سامنے کھڑا ہو گیا کیونکہ قندیل کو زیادہ سٹائل والا سٹالر لینے کی عادت نہیں تھی وہ بس ڈالر کی ایک تہ ہی بناتی تھی سٹالر کھینچنے کی وجہ سے وہ ایک تہ بھی کھل گئی تھی اور اس کی گردن کے پاس کا حصہ نظر انا شروع ہو گیا تھا
اسی وجہ سے قلب قندیل کہ بالکل سامنے کھڑا ہوگا تاکہ کلاس کے باقی لڑکے قندیل کو دیکھ نہ سکے
قلب نے اپنی پاکٹ میں سے رومال نکال کر قندیل کی طرف بڑھایا تاکہ وہ اپنا خون صاف کر سکے جو پن کے چبنے کی وجہ سے قطرے کی شکل میں گال سے اب گردن تک ا گیا تھا
قندیل نے کچھ حیرانی اور کچھ جیچھکتے ہوئے رومال اس کے ہاتھ سے پکڑا اور اپنے گال پر رکھ لیا جہاں سے خون نکل رہا تھا
اپنا سٹالر ٹھیک کرو قلب ایک دم غصے سے دہاڑا تھا
کیونکہ قندیل حیرانی کی وجہ سے ابھی تک یہ محسوس نہیں کر سکی تھی یہ سٹالر اس کی گردن سے ہٹ گیا تھا قلب کی دھاڑ سنتے جلدی سے اپنے سٹالر ٹھیک کرتی بالکل سیدھی کھڑی ہو گئی تھی
قلب نے پلٹ کر اس لڑکے کی طرف دیکھا جس کو تھپڑ لگے کہ وجہ سے اس کے ناک سے خون نکل رہا تھا اور وہ اپنی گال پر ہاتھ رکھے اس کے سامنے نظریں جھکائے کھڑا تھا
کیونکہ یہ عمل اس سے انجانے میں ہوا تھا وہ تو ماہین اور قندیل کی باتیں سن کر قندیل کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے اس کو پکارنے لگا تھا کہ انجانے میں اس نے اس کا سٹالر پکڑ لیا اور قندیل کے اگے بڑھنے کی وجہ سے سٹالر کھینچ گیا
تمہاری ہمت بھی کیسے ہوئی مس قندیل کا سٹالر کھینچنے کی قلب نے اس لڑکے کو دیکھتے سرخ انکھوں سمیت سے کہا
سر ائی ایم سوری یہ مجھ سے انجانے میں ہوا ہے میں تو قندیل کو پکارنے لگا تھا کہ اگر وہ کلرک افس میں جا رہی ہیں تو میرے نوٹس بھی کلرک افس میں ہے وہ بھی لیتے آئے مگر غلطی سے میں نے ان کا سٹالر پکڑ لیا اور ان کے اگے بڑھنے کی وجہ سے سٹالر کھینچ گیا
وہ اپنے ناک کے سے نکلتے خون کو نظر انداز کرتے اپنی صفائی پیش کرنے لگا جب کہ قلب اس کی بات سن کر کچھ غصے سے بولا نیکسٹ ٹائم ایسا نہیں ہونا چاہیے اور جاؤ یونی کی ڈسپنسری سے اپنے ٹرکمنٹ کروا کے اؤ
اتنا کہنے کے بعد وہ قندیل کی طرف پلٹا جو نظری نیچے جھکائے اپنے ہاتھ کی انگلیوں کو مروڑ رہی تھی
اور مس قندیل اپ بھی جائیں اور واش روم میں اپنا فیس واش کر کے
اتنا کہنے کے بعد وہ غصے سے اپنے ٹیبل کی طرف بڑھ گیا اور تمام سٹوڈنٹ کو بیٹھنے کا کہہ کر اپنے لیکچر دینا شروع کر دیا
پروفیسر قلب کی اتنا غصہ کرنے پر لیزا کو کچھ عجیب لگا تھا وہ تو اس بات پر حیران تھی کہ پروفیسر قلب نے لڑکے کو تھپڑ مار دیا
اس کو اپنا شک اب یقین میں تبدیل ہوتا معلوم ہو رہا تھا کیونکہ اس دن سر کی افس سے نکلتے ہوئے قندیل کے اڑا ہوا رنگ دیکھ کر اسے پہلے بہت عجیب لگا مگر بعد میں اپنا وہم سمجھ کر اگے بڑھی مگر اج کی پروفیسر قلب کی حرکت کی وجہ سے پکا لگنے لگا تھا کہ قندیل اور پروفیسر قلب میں کچھ تو ہے جو وہ اتنا غصہ کر رہے ہے
اپنا لیکچر مکمل کرنے کے بعد قلب کلاس روم سے نکلتے ہوئے ایک غصے بھری نظر قندیل پر ڈالتا باہر نکل گیا
♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥
ڈاکٹر کیسی ہے میری بیٹی
ایمرجنسی روم سے نکلتے ہوئے ڈاکٹر کو دیکھ کر کبیر شاہ اور سندس دونوں ڈاکٹر کی طرف دوڑے
آپ مجھے میرے افس میں ملے میں اپ سے تفصیلا بات کرنا چاہتی ہوں
اتنا کہنے کے بعد ڈاکٹر اگے بڑھ گئی جبکہ کبیر شاہ کو جو صرف گولی چھو کر گزری تھی وہ اپنی پٹی کروانے کے بعد بے چینی سے ڈاکٹر کے نکلنے کا انتظار کر رہے تھے اب ڈاکٹر کے کیبن کی طرف بڑھے
کیبن میں داخلے ہوتے کبیر شاہ نے سب سے پہلے سوال کیا ڈاکٹر میری بیٹی ٹھیک تو ہے نا
جی اپ کی بیٹی ٹھیک ہے بٹ میں کچھ باتیں کرنا چاہتی ہوں اس لیے اپ بالکل ارام سے بیٹھ جائیں اپ کی بیٹی بالکل ٹھیک ہے
میں جو اپ کو بتانے لگی ہوں اس کے لیے بہت حوصلے کی ضرورت ہے تو اپ پلیز صبر سے کام لیجئے گا
آپ بتا کیوں نہیں دیتی کہ میری بیٹی کو کیا ہوا سندس نے گھبراتے ہوئے ڈاکٹر سے پوچھا
دیکھیں میں جو بتانے لگی ہوں میری گزارش ہے کہ اگر کبیر شاہ باہر چلے جائے تو میں زیادہ کمفرٹیبل بات کر سکتی ہوں
ڈاکٹر نے سندس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
جبکہ ڈاکٹر کی بات سننے کے بعد سندس نے کبیر شاہ کو انکھوں سے باہر جانے کا اشارہ کیا
اشارے کو سمجھتے ہوئے بجھے دل کے ساتھ کبیر شاہ چلا گیا
جبکہ سندس مکمل طور پر ڈاکٹر کی طرف متوجہ ہوئی
ڈاکٹر نے سندس کو اپنی طرف متوجہ پاتے بات کا اغاز کیا دیکھیں میم مجھے معلوم ہے کہ قندیل ابھی 12 سال کی ہے گولی اس کے پیٹ میں گردوں کے نیچے اور مثالوں کی قریب لگی ہے
ابھی تو وہ بچی ہے مگر اگے جا کر جب وہ بڑی ہوگی جب اپنے جوانی میں قدم رکھے گی اپ سمجھ رہی ہے نا میری بات
جی جی میں سمجھ رہی ہوں
میرا مطلب ہے جب وہ جوان ہوگی اسے منتھلی پیریڈز ہوگے تو اسے حد سے زیادہ درد ہوا کرے گی اس سے چلنا پھرنا مشکل ہو جایا کرے گا
اپنی شور تو نہیں ہوں مگر اگلے جا کے ہو سکتا ہے وہ کبھی ماں بھی نہ بن سکے
اس کی بات سننے کے بعد سندس کا رنگ ایک دم پھیکا پڑ چکا تھا وہ پریشانی ڈاکٹر کی باتیں سن رہی تھی کے بارے میں بات کہ وہ 12 سال کی لڑکی ابھی چھوٹی سی بچی ا کے جا کے اتنی مشکلات کا سامنا کرے گی
ڈاکٹر اس کا کوئی حل نہیں ہے سندس نے ڈوبتے دل کے ساتھ پوچھا
اس کا حل موجود ہے مگر اس نے کافی ٹائم لگے گا اور پکا بھی نہیں ہے کہ وہ حل کام کرے گا بھی یہ نہیں مگر ہم کوشش ضرور کر سکتے ہیں
ڈاکٹر نے ایک چٹ نکالی اور اس کے اوپر کچھ لکھا اور اس کی طرف بڑھایا یہ دوائیوں کا نام ہے اپ یہ منگوا لیں اور اب سے لے کر تب تک اسے دیں جب تک اس کی شادی نہیں ہو جاتی شام کو اس کو یہ دوائی دینی ہے اور یہ ضروری ہے اس دوائیوں سے ہو سکتا ہے کہ اگے جا کے وہ ماں بن جائے اور ہو سکتا ہے کہ اس کی پیریڈز کا درد بھی ختم ہو جائے
ہم قندیل کو گھر کب لے جا سکتے ہیں سندس نے ڈوبتے دل کے ساتھ ڈاکٹر سے پوچھا
اپ تین دن بعد اسے گھر لے جا سکتے ہیں
ڈاکٹر کی بات سننے کے بعد سندس کیبن سے باہر نکلی تو کبیر جو بے چینی سے سندس کا انتظار کر رہا تو اس کے باہر نکلتے ہی وہ اس کی طرف بڑا سندس کیا کہا ڈاکٹر نے میری بیٹی ٹھیک تو ہے نا
سندس کے اڑے ہوئے رنگ کو دیکھ کر کبیر شاہ گھبرا گیا تھا مگر اپنے دل کو مضبوط کرتے اس نے پھر سے سوال کیا سندس بتاؤ تو سہی کہ قندیل کو ہوا کیا ہے کبیر کی بات سننے کے بعد ہوش میں ائی
ہے قندیل بالکل ٹھیک ہے اور اب ہمیں قندیل کے پاس چلنا چاہیے ڈاکٹر نے کہا ہے کہ وہ قندیل کو تین دن تک ڈسچارج کر دیں گے اور اپ یہ دوائیوں کی چڑ پکڑے اور جائیں یہ دوائیں لے کے ائی
یہ دوائیں کس چیز کے ہیں کبیر شاہ نے چڑ پکڑتے ہوئے سندس سے پوچھا
کبیر یہ قندیل کی پیٹ درد کی ہیں اپ اتنے سوال کیوں کر رہے ہیں جو کہا ہے وہ کریں سندس نے کچھ گھبراتے ہوئے جلدی سے جواب دیا اور قدم قندیل کے روم کی طرف بڑھائے جب کے پیچھے کبیر چٹ پکڑتے جلدی سے ڈسپنسری کی طرف بڑھا تھا کہ وہ دوائیاں لے سکیں
Instagram
Copy link
URL has been copied successfully!

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

کتابیں جو آپ کے دل کو چھوئیں گی

Avatar
Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial