ادھورے خواب

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

قسط: 21

”رات کے آخری پہر طوبیٰ کی آنکھ کھلی تھی خود کو آزر کی بانہوں میں مقید دیکھ کر چہرے پر سمائل آئی پھیل گئی۔
”آج اگر تم نے مجھے روکا تو پھر میں خود کو نہیں روک پاؤ گا اسلئے ابھی مجھے مت روکو.! آزر کے کہہ الفاظ یاد آنے پر اسکے گالوں پر حیا کی لالی پھیل گئی دل نے الگ سے شور مچایا ہوا تھا انہی خیالوں میں پراگندہ وہ آزر کی شرٹ کے بٹن سے کھیلنے لگی تھی۔
”جان.! سونے دو.! نیند میں کسمسا کر اسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر ٹوکتے اسے مزید خود میں بھنچے لیا طوبیٰ نے ذرا سا سر اٹھا کر اسے دیکھا اور پھر آنکھیں موند کر سونے کی کوشش کی مگر نیند تو جیسے کوسوں دور جا چکی تھی اپنی عادت سے مجبور وہ اسکے سینے پر دل کے مقام پر انگلی کے پوروں سے اپنے نام لکھنے لگی تھی
”پلیز.! سونے دو جان.! ایک مرتبہ پھر آزر نے اسے ٹوکا تھا۔
”مجھے نیند نہیں آرہی میں کیا کروں.؟ رونی صورت بنا کر سوال کیا۔
”طبیعت تو ٹھیک ہے تمھاری.؟ اسکی آواز سنتے ہی آزر کی نیند بھک سے اڑ گئی اور اب اسکی جگہ فکر نے لے لی تھی۔
”میں ٹھیک ہوں.! ازر کا ہاتھ تھام کر یقین دہانی کروائی۔
”پھر کیا ہوا ہے.؟ اسکی فکر بنوز برقرار تھی
”آزر۔۔! مجھ سے بات کریں’ طوبیٰ نے لاڈ سے کہا تو اسے کچھ چین آیا۔
”تم کہو میں سن رہا ہوں.؟ آزر اپنے ساتھ بینچ لیا۔
”آزر۔! ایک بات پوچھو.؟ کچھ سوچتے ہوئے سر اٹھا کر اسکی اور دیکھا۔
”اس ٹائم کیا جاننا ہے جان.؟
”ازر آپ مجھ سے ہمیشہ ایسے ہی پیار کریں’ گے.؟
”کوئی شک ہے تمھیں.!
”نہیں شک تو نہیں ہے پھر بھی اگر آپ مجھ سے تنگ ہوگئے تو۔۔۔۔.!! دل کا ڈر زبان تک آیا تھا
”جس دن ایسا ہوا وہ دن میری ذندگی کا آخری………!!
اس سے پہلے آزر اپنی بات پوری کرتا طوبیٰ نے ازر کے منہ پر ہاتھ رکھ کر نفی میں سر ہلاتے آنکھوں میں نمی تیر گئی تھی۔
”کہیں میری جان کو محبت تو نہیں ہو گئی.؟ اسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر اپنے منہ سے ہٹاتے پر تپش نظروں سے دیکھتے شوخی سے سوال کیا۔
جی نہیں.؟ فوری نظریں چرا لی گئی جبکہ چہرے پر مسکراہٹ اُمنڈ آئی تھی جسے وہ چھپا گئی تھی۔
”آزر آپ کا بھی دل چاہتا ہوگا۔۔۔۔۔۔!!!
رومینس کا چاہتا تو پر کیا کرو میری وائف بہت ظالم ہے.! اسکی بات مکمل ہونے سے قبل آزر نے بات مکمل کی جس پر طوبیٰ نے نے اسے گھوری سے نوازا تھا
”آپ کو تو بس ہر وقت رومینس ہی سوجھتا ہے، میں سوچ رہی تھی کے آپکا بھی دل چاہتا ہوگا کہ آپ کی وائف آپ کیلئے روز طرح طرح کے کھانے بنائے، آپ جب شام کو تھکے ہارے گھر آئیں تو وہ سج سنور کر آپ کا استقبال کرے، آپ کے ساتھ واک پر جائے، وغیرہ، وغیرہ، مگر میں اپاہج۔۔۔!!
شروع میں شوخ انداز میں کہتی آخر میں افسردگی در آئی تھی چہرے پر جسے دیکھ آزر کو تکلیف ہوئی تھی۔
” تم ایسا کیوں سوچ رہی ہو جان.! کھانا بنانے کے لیے گھر میں خانساماں موجود اور تم کو میں شیف بنا کر تھوڑی ناں لایا ہوں پاگل لڑکی.! آزر اسکی بے تکی بات سن کر اٹھ کر بیٹھا گیا
”اور رہ گئی بات سجنے سنورنے کی تو.! میں تو ویسے ہی تمہارا دیوانہ ہوں.! تمھیں کیا ضرورت ہے مصنوعی سنگھار کی، ویسے اگر تم اپنے شوہر کیلئے تیار ہونا چاہو تو اس پر مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔ اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے اسکے چہرے پر آئی لٹ کو کان کے پیچھے کیا تو وہ نظریں جھکا گئی۔
”واک کرنے کیلئے میں ہوں ناں تم کہہ کر تو دیکھو کبھی.!
اور خبردار جو تم نے میری جان کو اپاہج کہا آج تو برداشت کر لیا میں نے آئندہ نہیں کروں گا۔ اسی انداز میں کہتے آخر میں مصنوعی غصّہ دکھایا
”لیکن.! آزر میں تو بس.!
”طوبیٰ کوئی بھی انسان مکمل نہیں ہوتا ہر کسی میں کوئی نہ کوئی کمی ضرور ہوتی ہے بس ہم ہی دیکھ نہیں پاتے، مایوسی کفر ہے ایسی باتیں کر کے نہ صرف تم میرا دل تو دکھاتی ہو، ساتھ اللہ کو بھی ناراض کرتی ہو.! اسلئے پرومس کرو نہ تم آئندہ ایسا کچھ سوچو گی نہ ہی ایسا کچھ بولوگی۔ آزر نے نرمی سے سمجھاتے ہوئے ہاتھ آگے کیا جس کچھ دیر پر سوچ نظروں سے دیکھنے بعد اثبات میں سر ہلاتے ہوئے تھام گئی۔
”آزر۔۔! دھیرے سے پکارا
”جی آزر کی جان.! اسی محبت بھرے انداز میں جواب ملا۔
”تھینک یو.! تھینک یو سو مچ.!! اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے طوبیٰ تہے دل سے مشکور ہوئی تھی۔
”تھینک یو کس لیے, کہنا ہی ہے تو آئی لو یو کہوں جان.! محبت کا جواب محبت سے دے کر.! ٹھوڑی سے اسکا چہرہ اپنی طرف کرتے انداز معنی خیز تھا۔
”محبت کے جواب میں نہیں کہا۔ اسنے تصحیح کیا۔
تو پھر کس لیے کہا۔ آئی بروز اچکائی۔
”میری زندگی میں آنے کے لیے، مجھ سے محبت کرنے کے لیے، میری پروا کرنے کے لیے، میرا اتنا خیال رکھنے کے لیے، بنا کہے میرے دل کی ہر بات جاننے کے لیے، اور خاص کر جو آج آپ نے کیا اسکے کے لیے، نظریں جھکائے وہ دھیمے لہجے میں ایک ایک بات گنوانے لگی جس پر آزر کے چہرے پر دلفریب مسکراہٹ پھیل گئی۔
”موسٹ ویلکم.! پورے استحقاق اسکا شکریہ قبول کیا تھا۔
”آپ کو پتا ہے کچھ دن پہلے بوا نے بھی مجھے اسی طرح سمجھایا۔ اسکی نظروں کے ارتکاز سے خائف ہوتے طوبیٰ نے بات بدلتے اسکے سینے پر سر رکھا۔
اچھا۔۔۔!!
”اور وہ یہ بھی کہہ رہی تھی کہ یہ سب ابھی میری سمجھ میں نہیں آئیگا جب میں خود ماں بنوں گی تب سمجھ آئیگا۔ وہ اپنی رو میں کہہ رہی تھی۔
تو پھر کیا سوچا تم نے.؟ انداز سادہ تھا۔
”میں سوچ رہی تھی کہ ماں بننے کا احساس کتنا خوبصورت ہوتا ہوگا ناں.! ابھی تو صرف سوچا ہی تو اتنا اچھا لگ رہا ہے ذرا سوچیں جب وہ ننھی سی جان میری گود میں آئیگا تو کتنا اچھا لگے گا آزر.! اور جب وہ مجھے اپنی طوطلی زبان سے ماما کہے گا تو کتنا اچھا لگے گا آزر….!! بولتے ہوئے پہلی مرتبہ اسکی ویران آنکھوں میں امید جگنوں چمکے تھے جسے دیکھ آزر کو خوشگوار حیرت ہوئی
اور آزر میں آپ کو ابھی سے بتا رہی ہوں میرا بیٹا کہاں پڑھے گا، کون سا کیریئر سلیکٹ کرے گا، کس سے شادی کرے سب میں ڈیسائڈ کرونگی، اور آپ ہمارے معاملے میں بالکل بھی انٹر فیر نہیں کریں گے۔ وہ اپنے تائی بہت آگے تک پلان کرتے انگلی اٹھا کر اسے باور کرواتے اسکی اور دیکھا جو مبہم مسکراہٹ لیے معنیٰ خیز نظروں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا اپنی بات کا مفہوم سمجھتے وہ جزیز ہوتی نظریں چرا گئی۔
”ٹھیک ہے میں تم ماں بیٹے درمیان نہیں آؤنگا لیکن میری ایک شرط ہے۔ اسکی اٹھی ہوئی انگلی پکڑ کر لبوں سے لگائی تو آزر کی بات سن طوبیٰ کی جھکی ہوئی پلکیں اٹھی جیسے جانا چاہتی ہو کیا۔
یہی کہ پہلے تم مجھے ہماری بیٹی دونگی.؟
”لیکن مجھے تو بیٹا۔۔۔۔.!! بے ساختہ کہتے اپنی غلطی کا ادراک ہوتے وہ اپنی آنکھیں سختی سے میچ گئی۔
اپنی بات پوری کرو جان.! گھمبیر انداز میں شوخی تھی۔
”کچھ نہیں، مجھے نیند آرہی ہے۔ فوراً سے کروٹ بدلی۔
”اب مجھے نیند نہیں آرہی، مجھے جواب چاہیے۔اسکا رخ واپس اپنی جانب کرتے اپنی بات پر زور دیا اسکی بات سن کر طوبیٰ بدن کا سارا خون اسکے چہرے پر سمیٹ آیا تھا۔
صرف باتوں سے کچھ نہیں ہوتا،اگر تمھیں بیٹا چاہئے تو اس کیلئے کچھ پریکٹیکل کرنا ہوگا۔ اسکے چہرے پر انگلی پھیرتے معنیٰ خیز انداز کہتے وہ اسکی روح فنا کر گیا۔
”مجھے نیند آرہی ہے.! دھڑکتے دل کے ساتھ اسنے اپنی بات دہرائی آنکھیں بنوز بند تھی جس پر آزر کا قہقہا بے ساختہ تھا
”اچھا سو جاؤ.! اپنے ساتھ لگاتے اسکے بالوں پر لب رکھے جس پر وہ فوراً عمل پیرا ہوئی تھی۔
”فل وقت آزر کے لیے اتنا ہی کافی تھا وہ زندگی کی طرف آرہی تھی وہ پھر سے خواب دیکھنے لگی تھی۔
💛💛💛💛💛💛💛
”ایک نئی صبح کا آغاز ہوا تھا۔
”ازر.! آج آپ اوفس سے جلدی آجائے گے.؟ آزر کے لے کپ میں چائے نکالتے ہوئے سوالیہ نظروں سے اسکی اور دیکھا دونوں اس وقت ڈائنگ ٹیبل پر موجود تھیں۔
”اگر تم کہوں تو میں جاتا ہی نہیں.! پراٹھے کا بائٹ اسکی منہ کے آگے کرتے اسکی انداز میں پیش کش کی۔
”جی نہیں.؟ آپ جائیں لیکن شام کو جلدی آجائیگا۔ اسکے ہاتھ سے بائٹ لیتے اسکی پیشکش کو فوری مسترد کرنے کے ساتھ ہی ہدایت دی۔
”جو حکم آپ کا.! ہاتھ کو گھما کر سینے پر رکھتے ڈرامائی انداز میں سر کو خم کیا جس پر طوبیٰ کی ہنسی چھوٹ گئی۔
” اسکی کھلکھلاتی ہوئی ہنسی کو دیکھ ازر کی نظریں ٹھہر سی گئی آج پہلی بار طوبیٰ کو یوں دل سے خوش دیکھ آزر بے ساختہ اٹھا اور جیب کچھ رقم نکال کر طوبیٰ کے سر سے وارے اور جھک کر ماتھے پر لب رکھے اس غیر متوقع عمل پر وہ متعجب ہوئی تھی۔
”بوا.! یہ سب میں تقسیم کر دیں.! آزر نے بوا کو آواز دے کر وہ رقم انھیں دی جس پر وہ اثبات میں سر ہلاتے ہوئے وہاں سے چلی گئی۔
”آزر.! مجھے آپ کو کچھ دیکھنا ہے.؟ بوا کے جانے کے بعد طوبیٰ نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔
”کیا۔۔۔؟؟
”آپ چلیں میرے ساتھ.؟ اسکی بات کا جواب دینے کے بجائے اسے اٹھنے کو کہا اور اپنے ساتھ آزر کو پینٹگ والے کمرے میں لے آئی تھی جو ازر نے ہی اس کے شوق کو مدنظر رکھتے ہوئے بنا کر دیا تھا۔
”کمرے میں داخل ہوتے ہی آزر کے قدم ایک پل کو ٹھہر گئیں اور نظریں پلٹنا بھول گئی
وہ تو بس محویت و ستائشی نظروں سے دیکھے جا رہا تھا پہلی پینٹگ میں انکی پہلی ملاقات جہاں وہ دونوں جھولے پر بیٹھیں اور دونوں کی نظریں ملی تھیں، دوسری پینٹنگ انکی دوسری ملاقات جب آزر نے شال اڑاتے ہوئے اپنی محبت کا اظہار کیا تھا، تیسری میں اسکے گھٹنوں کے پاس پنجوں کے بل بیٹھے پہلی بار اسکی آنکھوں میں دیکھتے قبول کہا، اگلی پینٹنگ انکے نکاح کے دن جب طوبیٰ کو پورے استحقاق کے ساتھ کسی کی پرواہ کیے بغیر اٹھا کر باہر لے کر گیا، اور آخری پینٹنگ میں تب کی تھی جب لائبہ و آئزہ کی مہندی پر وہ گھر میں اکیلی تھی اور پوری طرح ٹوٹ کر بکھر گئی تھی تب آزر نے بغیر کوئی سوال کیے اسے سمیٹ لیا تھا۔ ساری پینٹنگز کو ستائشی نظروں کو دیکھتے آخر میں طوبیٰ پر نظریں آکر رکی تھی جو اسے ہی دیکھ رہی تھی
”یہ سب کب بنائی.؟ پنجوں کے بل اسکے سامنے بیٹھتے نگاہیں اسی پر ٹکی تھی۔
”جب آپ اوفس چلے جاتے ہیں.! اسکی پر تپش نظروں کی تاب نہ لاتے نظریں جھکا کر دھیمے لہجے میں بولی۔
”جس مہارت سے تم نے ان لمحوں کو پینٹنگز میں قید کیا اسی مہارت سے اب میری زندگی میں بھی رنگ بھر دو.! انگشت سے اسکی ٹھوڑی اوپر کرتے آزر کی آنکھوں میں ستائش تھی۔
”پلیز آپ مجھے اس طرح مت دیکھے.؟ اسکی لو دیتی نظروں سے خائف ہوئی تھی۔
“تم دیکھنے سے منا کر رہی ہو مگر اس دل کا کیا کروں جو اب بس تمھارا تمنائی ہے۔ اسکے گردن کے گرد اپنے بازو حائل کرتے جھٹکے سے اپنے قریب کرنا چاہا جسے وہ اسکے سینے پر ہاتھ رکھ کر فاصلہ بنایا۔
چلے اب آپ آفس جائے۔۔۔!! اپنی ہنسی دباتے ہدایت دی
”میں تو کہتا ہوں کیوں ناں کمرے میں چلیں.! وہ جو اسکی ذرا سی قربت پر آزر سے نظریں ملانے سے کترا رہی تھی اسکی حالت سے محظوظ ہوتے شوخی گویا ہوا۔
”جی نہیں.! آپ اوفس جا رہے ہیں.! دونوں ہاتھوں سے دھکا دیا غیر متوقع عمل پر تعجب سے آزر نے طوبیٰ کو دیکھا۔
لیکن۔۔؟؟
”اوکے بائے.! آزر نے کچھ کہنا چاہا پر اب وہ اسکی سنے بغیر اسے دھکے دینے لگی تھی۔
”یہ غلط بات ہے جان.! یہ ظلم ہے مجھ پر.! مصنوعی انداز میں دہائی دی مگر وہ اسے کمرے نکال کر کمرے کا دروازا بند کر گئی تو چار و ناچار اسے جانا پڑا.
”پیچھے اسکا قہقہہ گونجا جس کی آواز اسے باہر تک آئی تھی۔
💛💛💛💛💛💛💛💛💛💛
”آئزہ تیار ہو جاؤ ہم جا رہے ہیں.! بازؤں کو فولڈ کرتے ارحم نے سیڑھیوں سے اترتے ہوئے ہدایت جاری کی آئزہ جو ابھی کچن سے نکلی تھی ارحم کی بات چونکی۔
کہاں۔۔۔؟؟
”طوبیٰ کے گھر.! جب سے وہ گئی ہے ہم ایک بار بھی اس کی خیریت پوچھنے نہیں گئیں آزر کیا سوچے گا کہ اسکے پیچھے آنے والا کوئی نہیں ہے۔بڑی مہارت سے بات بنائی۔
“لیکن ارحم.! ہم ایسے کیسے جا سکتے ہیں۔ آئزہ کو حجت ہوئی۔
”کیا مطلب ایسے کیسے.! وہ تمہاری بہن ہے، اپنی بہن کی حیرت جاننے سے پہلے کون اتنا سوچتا ہے۔ لاؤنچ میں بیٹھی شزہ جو دونوں کی بات سن رہی تھی مداخلت کی۔
”ارے.! کہاں جانے کی باتیں ہو رہی ہیں.؟ قدسیہ بیگم جو ابھی آئی تھی شزہ کے بات سن کر بولی۔
””خالا ارحم آپی کے گھر جانے کا کہہ رہے ہیں۔ آئزہ نے بتایا۔
”اچھا ویسے مجھے بھی بہت شوق ہے ازر کا گھر دیکھنے کا سنا ہے بہت بڑا اور عالیشان گھر ہے اسکا۔ انھیں اشتیاق ہوا۔
”آزر و طوبیٰ کا۔ وہ جو اپنی ہی رو میں بولتی گئی تھی آئزہ نے تصحیح کرنا ضروری سمجھا۔
”ہاں.! ہاں.! اس کا بھی.! طوبیٰ کا نام سنتے ہی قدسیہ بیگم کے چہرے کے تیور چڑھے تھے۔
”آئزہ تم چل رہی ہو یا پھر میں خود ہی چلا جاؤں.؟ سب کی باتوں کو نظر انداز کرتے ارحم نے دو ٹوک انداز میں جاننا چاہا۔
”ارے یہ نہیں جاتی تو اسے چھوڑو.! میں چلتی ہوں اسی بہانے میں بھی آزر کا گھر دیکھ لونگی۔ قدسیہ بیگم تیار ہوئی تھی۔
”میں بھی فری ہو میں بھی چلو.؟ شزہ نے اٹھتے ہوئے پوچھا تو ارحم نے لاپروائی سے کندھے اچکائے۔
”جب آپ سب جا رہے ہیں تو پھر میں بھی چلتی ہوں، لٹھ مار انداز میں کہتی وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
💛💛💛💛💛💛💛
”آزر کے جانے کے بعد طوبیٰ اپنے کمرے میں کافی دیر تک آزر کے بارے میں سوچتی ہوئے اور آخر فیصلے تک پہنچ گئی کہ اسے کیا کرنا ہے، وہ کمرے سے نکلی خود پر جو خوشیوں کے دروازے بند کر لیے انھیں کھول کر آزر کی محبت اور آنے والی خوشیوں کو دل سے قبول کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا اب اور آزر پر پہرے لگا کر اسے خود سے دور نہیں رکھ سکتی تھی یہی سب سوچتے وہ کچن میں آئی تھی۔
”بہوں رانی.! آپ یہاں کوئی کام تھا تو مجھے بلوا لیتی۔ طوبیٰ کو یوں دیکھ وہ حیران ہوئی تھی۔
کیوں میں یہاں نہیں آسکتی.؟ طوبیٰ نے جواب دینے کے بجائے سوال کیا۔
”نہیں.! نہیں.! میرا وہ مطلب نہیں تھا آپ کا اپنا گھر ہے آپ جب چاہے جہاں چاہے آ جا سکتی ہیں۔ بوا نے وضاحت کی جس پر وہ مسکرا دی۔
”اچھا تو آج شام کیا بن رہا ہے کھانے میں.؟ ارد گرد نگاہوں کو گھماتے طوبیٰ نے اگلا سوال کیا۔
”وہی جو عام روٹین میں بنتا ہے، اگر آپ نے اپنے لیے کچھ بنوانا ہے تو بتا دیں.! بوا نے بتاتے ہوئے پوچھا۔
”آج وہ نہیں بننے گا، بلکہ ایسا کریں خانساماں سے کہے کہ آج مٹن پلاؤ، شامی کباب، اور ہرے مصالحے کا قیمہ بنا لیں.! اسنے روٹین سے ہٹ کر مینیو ترتیب دیا۔
”میٹھا میں خود بناؤ گی۔ اسکے اگلے حکم پر بوا متعجب ہوئی۔
لیکن۔۔۔؟؟
”کوکنگ نہیں کر سکتی، بیکنگ تو کر ہی سکتی ہوں اور اگر کوئی مشکل ہوئی تو آپ ہے ناں.! میری مدد کرنے کے لیے، آپ بس چوکلیٹ کیک کا سارا سامان نکال دیں ۔ اسے قبل کے بوا کچھ کہتی طوبیٰ اپنی بات واضح کی تو اسے دیکھ کر رہ گئی طوبیٰ کو یوں گھر میں دلچسپی لیتا دیکھ بوا کو خوشی ہوئی تھی۔
”اور ہاں پین اور پیپر دیں، مجھے مارکیٹ سے کچھ منگوانا ہے، میں لکھ دیتی ہوں.! آپ منگوا دیں۔ کچھ یاد آنے پر سنجیدگی سے کہا۔ تو بوا اثبات میں سر ہلاتی فوراً سے لےکر آئی۔
جتنے دیر میں اسنے اپنی مطلوبہ چیزیں نوٹ کی بوا کیک کا سارا سامان کیبنٹ سے نکال کر اسے کے سامنے رکھ چکی تھی
یہ لیں.! اور ملازمہ سے کہہ کر روم کی صفائی بھی کروا دیں۔
پیپر آگے بڑھاتے ساتھ ہی ہدایت کی۔
”پوری دلجمعی سے کیک کا بیٹر بنانے لگی تب تک بوا اوون اون کر چکی تھیں بیٹر اوون میں رکھوا کر الگ سے کریم بیٹ کی، ساتھ ہی کچھ فروٹ کو باریک چوپ کیا، الگ سے چوکلیٹ میلٹ کی اتنے میں کیک بھی بیک ہو گیا، جسے ٹھنڈا کرنے کے بعد لیئر لگا کر سٹ کرتے ٹوپ پر میلٹ چوکلیٹ کی لئیر لگانے کے بعد کریم سے آئی اینڈ یو لکھتے درمیان میں سٹوبیری کٹ کر کے بڑے انمہاک سے ہارٹ شیپ بناتے ہوئے بوا پر نظر گئی تو جھجکتے ہوئے اسے کا چلاتا ہوا ہاتھ رکا، بوا اسکی جھجک کو محسوس کرتے دوسرے کام مشغول ہوئی تو طوبیٰ نے اپنا کام مکمل کرتے کیک کو ٹھنڈا ہونے کے لئے فریج میں رکھوا کر واپس کمرے میں آگئی تھی۔
”کمرے میں آکر اب ارادہ خود کو آزر کے لیے سجانے کا تھا، کمرا ملازمہ پہلے ہی آکر صاف کر کہ جا چکی تھی کینڈلز اور پھول جو منگوائے تھے ان کے باعث کمرا خواب ناک منظر پیش کرنے لگا تھا۔ اپنے لیے کبرڈ سے مرون سادہ شفون کی خوبصورت فراک نکالی، جس پہن کر شیشے کے سامنے آئی تو اپنا عکس دیکھ کر خود ہی شرما گئی تھی، بالوں میں لوز کرل کرتے آدھے بالوں کو کیچر میں مقید کرتے باقی کو کھلا چھوڑا میک اپ کے نام پر صرف مسکارا اور لپ گلوس لگائی۔
”سجے سنورے بغیر ہی میں تمہارا دیوانہ ہو.! تمھیں بھلا کیا ضرورت ہے مصنوعی سنگھار کی۔ کانو میں ڈائمنڈ کے ائیر رنگ پہنتے آزر کے الفاظ یاد آنے پر شرم سے اسکے گال دھک اٹھے تھے۔ اس پر دروازے کی آواز نے اسکی دھڑکنوں کو منجمند کر دیا آزر کے آنے خیال سے ہی اسکی سانسیں تھم گئی تھی۔
بہوں رانی.؟
”جی آجائیں۔!! بوا کی آواز سن کر اسکی رکی ہوئی سانس بحال ہوئی تھی۔
”جی بوا میں نے آپ سے کچھ منگوایا تھا.؟ کلائی میں بریسلیٹ پہنتے طوبیٰ پوچھا۔
” جی میں وہی دینے آئی تھی۔ بوا نے موتیے کے گجرے اسکی اور بڑھائے جنھیں وہ مسکرا کر تھام گئی۔
”کیا بات ہے بوا کچھ کہنا چاہتی ہیں.؟ گجرے پہنتے وہ بوا کو خاموش پا کر سوالیہ نظروں سے دیکھتے پوچھا۔
”جی وہ آپ کے مہمان آئیں ہیں۔ بوا کے بتانے پر گجرے پہنتی طوبیٰ کا ہاتھ رکا اور سوالیہ نظروں سے بوا کی اور دیکھا۔
”میرے مہمان۔۔؟ ناسمجھی سے سوال کیا کیونکہ تھوڑی دیر پہلے ہی امی ابو سے بات ہوئی تھی ان کی باتوں سے تو بالکل نہیں لگا تھا کہ وہ آنے والے ہیں۔
“جی بہو رانی.! اور ہم نے انھیں ڈراینگ روم میں بیٹھا دیا ہے۔ مزید اسی انداز میں بولی۔
”آزر آگئے.؟
نہیں بہو رانی وہ تو نہیں آئے.؟
”اچھا آپ چلیں، میں آتی ہوں۔ بوا کو جانے کا کہتے وہ گجرے اتارنے لگی تھی۔
”ارے بہو رانی.! یہ کیو اتار رہی ہیں.؟ بوا نے ٹوکا تو کچھ سوچتے ہوئے طوبیٰ نے گجرے نہ اتارے۔
بوا کو جانے کا اشارہ کرتے ڈریسنگ پر رکھا اپنا موبائل اٹھا کر کیمرہ اون کرتے جھکی ہوئی پلکوں سے اپنی پک لی اور کچھ ٹائپ کرتے ہوئے چہرے پر قوس و قزح کے رنگ بکھرے آزر کو سینڈ کرنے کے بعد شیشے میں خود کو دیکھتے ڈوپٹہ اچھی طرح سے سلیقے سے اوڑھا اس یہ سنگھار صرف اپنے شوہر کے لیے تھا ناکہ کسی اور کو دیکھانے کے لیے۔
Instagram
Copy link
URL has been copied successfully!

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

کتابیں جو آپ کے دل کو چھوئیں گی

Avatar
Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial