ادھورے خواب

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

قسط: 25

آ”ئزہ..!! تم ہوش میں تو ہو.! کیسے بات کر رہی ہو ماما سے۔ ارحم نے آئزہ کے بازو دبوچتے ہوئے سخت گیر لہجے میں باز پرس کی آئزہ کو اپنے بازوں میں ارحم کی انگلیاں دھنستی ہوئی محسوس ہوئی تبھی زور سے جھٹکتے ہوئے اپنا بازوں اسکی گرفت سے آزاد کروایا تھا
”ارحم..! اس میں اس کا قصور نہیں،یہ زہر اس اپاہج نے بھرا ہے آئزہ کے دل میں۔ قدسیہ بیگم نے مداخلت کی۔
”نہیں مامی.! آپی نے کچھ نہیں کہا یہ سب آپ نے اور آپکے بیٹے نے بھرا ہے میرے دل میں۔ انگلی اٹھا کر تنفر سے بولی۔
”اور مامی.! اب آپ آپی کو اپاہج کہنا بند کر دیں، اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے، کب کس پر گر جائے کچھ پتا نہیں، ڈریں.! اس خدا سے جو سب دیکھ رہا ہے۔ بنا کسی لحاظ کے دو بدو ہوئی۔
”آئزہ..! تم اپنی حد پار کر رہی ہو.! اسکی بات سن کر ارحم نے چنگھاڑا۔
”یہ بات آپ مامی اور شزہ کو بھی کہہ سکتے ہیں؟۔ اسکی کے انداز میں جواب دیتے خونخار نظروں سے دیکھتے ہوئے بنا کسی کی کوئی بات سننے وہاں سے تیزی سے نکل گئی تھی۔ وہ آج سب کچھ بالائے طاق رکھے دل کی بھڑاس نکال گئی تھی۔
”اسے کیا ہوا.؟ قدسیہ بیگم حیران تھی یہ بھیگی بلی کیسے دھاڑ کر گئی تھی۔
”ماما.! آپ پریشان نہ ہو میں سمجھاؤں گا ویسے آپ کی ہی پسند ہے آپ کو ہی شوق تھا آئزہ کو بہوں بنانے کا۔ اپنی ماں کی حیرت کو دیکھتے ہوئے تسلی دیتے آخر میں لہجہ میں طنزیہ تلخی گھل گئی تھی۔
”تمہارے لیے یہی اچھا ہو گا کے تم اسے سمجھا دو.! اگر میں نے اپنے طریقے سے سمجھایا تو پھر نہ تمھیں اچھا لگے گا نہ تمھاری بیوی کو اگر میں شادی کروا سکتی ہوں نا تو تو یہ رشتہ ختم کروانا بھی جانتی ہوں۔ زہر خند لہجے میں تنبیہ کی تو ارحم انھیں دیکھ کر رہ گیا۔“
💛💛💛💛💛💛💛💛
”ارے تم لوگ اچانک.؟ فرحانہ نے لائبہ اور وہاج کو دیکھ کر حیران رہ گئی تھی.
”اسلام علیکم آنٹی.! لائبہ نے فرحانہ سے گلے ملتے ہوئے خوش دِلی سے سلام کیا۔
”وعلیکم اسلام“ کیسی ہو بیٹا“ خود سے الگ کرتے اسی انداز میں جواب دیتے سوال کیا اور وہ دونوں اسی طرح باتیں کرتی ہوئی آگے بڑھنے لگی تھی کہ وہاج کی آواز ائی۔
”میں بھی آپ کا ہی کچھ لگتا ہوں شکوہ کن لہجے میں کہتے ہوئے انکی طرف آیا۔
”ہاں.! تو میں نے کب انکار کیا۔ فرحانہ نے وہاج کے لیے بانہیں کھولیں تو وہ انکے گلے لگ گیا۔
”تم دونو.! یو اچانک۔؟ اسطرح اچانک آمد پر وہ اب تک حیرت میں تھی۔
”بس ماما.! آپکی بہوں کا دل نہیں لگ رہا تھا آپ کے بغیر، اور دوسری جانب آپ کے دوسرے بیٹے کو بہت جلدی ہے اپنے ریسیپشن کی اسکے کے آڈر تھا جلدی واپس آؤ۔ وہاج نے بیٹھتے ہوئے بتایا۔
”بیٹا اسکا بھی ہے کون ہمارے علاوا اچھا کیا تم لوگ آگئیں، اور ویسے بھی جب سے لائبہ نے خوشی کی خبر سنائی ہے، میں تو اپنی بہوں کو دیکھنے کے لیے بیچین ہو رہی تھی۔ تاسف سے کہتے ہوئے آخر میں پر مسرت انداز میں گویا ہوئی جس پر لائبہ کا چہرا شرم سے لال ہو گیا تھا۔
” ماشاء اللہ.!! ماشاء اللہ.!! اللّٰہ پاک تم دونو کو بری نظر سے بچائے۔ فرحانہ نے لائبہ کو پیار دیتے ہوئے کہا اور لائبہ کے سر سے پیسے وارے تھے۔
”جاؤ.! تم دونو آرام کر لو.! تھک گئے ہو گیں، میں تم دونو کے لیۓ کچھ کھانے کے لیۓ بھیجواتی ہوں۔
💛💛💛💛💛💛💛
”مجھے نہیں جانا شاپنگ پر آپ چلے جائیں۔ طوبیٰ کا انداز ٹالنے والا تھا۔
”جان.! مجھے پتہ ہے تم کیوں انکار کر رہی ہو.! لیکن آج میں تمہاری ایک نہیں سنو گا۔ وہ بھی آج ٹلنے والا کہا تھا۔
“ویسے شاپنگ کی ضرورت تو نہیں ہے، میری الماری بھری ہوئی ہے کوئی بھی پہن لو گی.! طوبیٰ نے ایک اور وجہ دی تھی نہ جانے کی جس پر نفی میں سر ہلاتے وہ اسکے پہلوں میں آ بیٹھا۔
”ازر خان.! کی دلہن کوئی بھی ڈریس پہن لے گی وہ بھی اپنے ریسیپشن پر لوگ کیا کہیں گیں۔؟ ازر نے آنکھوں میں شرارت لئے سوال کیا۔
”دلہن.! بس اتنا ہی کہہ پائی تھی۔
”آزر خان کی دلہن.! جان جی.! ازر نے طوبیٰ کو لو دیتی نظرو سے دیکھتے ہوئے بولا اسکی بات سن کر اسکا کا دل زور دھڑکنے لگا تو نظریں جھکا لی تھی چہرا شرم سے لال ہو گیا تھا۔
”جان جی.! ابھی سے شرما رہی ہو.! ازر نے طوبیٰ کا چہرا ٹھوڑی سے پکڑ اوپر کرتے گھمبیر لہجے میں استفسار کیا تو اسکی آنکھیں شرم جھکی ہوئی تھی اور ہونٹوں پر ہلکی سی سمائل آئی تھی جسے وہ فورا سے چھپا گئی تھی اور دل الگ ہی لے پر دھڑکنے لگا۔
”اگر تم ایسے شرماؤ گی تو مجھ سے کل تک انتظار نہیں ہو گا۔ چن پر لب رکھتے اپنی بےتابی کا اظہار کیا۔
ازر کے لمس سے طوبیٰ کی ریڑ کی ہڈی میں سنسناہٹ ہوئی تھی آزر کی گرم سانسیں اپنے چہرے پر محسوس ہو رہی تھی
ازر نے دھیرے سے ناک کو اپنے لبوں سے چھوا تھا ازر کی اتنی قربت پر ہاتھ پسینے سے بھیگ گئے تھے اور زبان تالو سے لگی تھی پلکوں کی جھالر بنوز جھکی ہوئی تھی۔
لبوں پر گستاخی کرتے دور ہوا تو طوبیٰ نے شرم و حیا سے سرخ پڑتے آزر کے سینے میں منہ چھپایا تھا
”جان جی.! اب آپ مجھے بہکا رہی ہو.! ازر نے طوبیٰ کے بالو میں منہ چھپاتے گردن پر لب رکھیں ازر کی بات سن کر طوبیٰ کا دل زور سے دھڑک رہا تھا جسے ابھی پسلیاں توڑ کر باہر آجائے گا وہ فوراً سے آزر سے دور ہوئی تھی۔
“جانم.! تم تیار ہو جاو ہمیں شاپنگ پر جانا ہے،اگر میں بہک گیا تو تو بہت سے کام ادھورے رہ جائیں گیں،اور میں نہیں چاہتا کہ ہمارے ریسیپشن میں کوئی کمی رہ جائے۔طوبیٰ کے بال کان کے پیچھے اڑیستے ہوئے معنیٰ خیزی سے بولا۔
”لیکن ازر.؟ خود کو سنبھالتے ایک بار پھر احتجاج کرنا چاہا۔
میں تمہاری ایک نہیں سن رہا۔ اسے پہلے کہ وہ کچھ اور کہتی آزر نے اسے جھک کر اپنی بانہوں میں اٹھا لیا تو وہ گڑبڑائی۔
”آزر اچھا ٹھیک ہے چلتی ہوں نیچے اتارے،وہیل چیئر پر چلتے ہیں۔ طوبیٰ نے روہانسی ہوئی۔
”آج ہمارے درمیان کسی تیسرے کی گنجائش نہیں پھر چاہے وہیل چیئر ہی کیوں نہ ہو.؟ گھمبیر انداز میں کان میں سرگوشی کرتے کان کی لو کو لبو سے چھوا تھا اسکی بات کا مفہوم سمجھنے کی کوشش کرتے اسکی اور دیکھا مگر آزر کی شوخ نظروں کی تاب لانا اسکے بس میں نہیں تھا تبھی وہ اسکے گردن کے گرد بازوں حائل کرتے اپنا منہ اسکے سینے میں چھپا گئی تھی۔
💛💛💛💛💛💛💛
”سورج اپنی واپسی کی راہ پر گامزن تھا لوگوں اپنے اپنے کاموں میں مصروف سفید کرولا سڑک پر متواتر رفتار میں روا دوا تھی
”دس از نوٹ فیئر آزر.؟ آپ مجھے یہ کہہ کر کر ساتھ لائے تھے کہ میری پسند سے شاپنگ کروائے گیں اور کیا کیا۔؟ خفگی سے اسکی اور دیکھا جو بظاھر پورے انمہاک سے ڈرائیور کرتے نا سمجھی سے اسکی اور دیکھا۔
”آپ نے اتنا ہیوی ڈریس پسند سے لے لیا، اگر آپ نے اپنی ہی مرضی کرنی تھی تو پھر مجھے ساتھ لے کر آئے کیوں؟ وہ بنوز خفا تھی طوبیٰ کے لاکھ منا کرنے پر بھی آزر نے اتنا ہیوی ڈریس پسند کیا تھا۔
”جان.! مجھے اپنی دلہن کو اسی ڈریس میں دیکھنا ہے.لاڈ سے بولا۔
”مجھے آپ سے بات نہیں کرنی.؟ آپ بہت برے ہیں مجھے ساتھ لے کر آئے اور اپنی پسند کی شاپنگ کروا دی، اسے تو اچھا تھا آپ مجھے لیکر ہی نہیں آتے۔ اسکی ناراضی میں ذرا کمی نہ آئی تھی۔
”گول گپے کھاؤ گی.؟ ایک غیر متوقع بات پر اسکی آنکھیں حیرت سے پھیلی۔
” میں کہہ رہی ہو کہ میں آپ سے بات نہیں کرونگی.؟ اور آپ کو گول گپے۔ کھانے کی پڑی ہے۔؟؟ اپنی حیرت کو الفاظ دیے
ہاں وہ دیکھوں.! کھاو گی.؟ اسکی بات کو نظر انداز کرتے گاڑی سڑک کنارے روک کر ایک جانب اشارہ کرتے ہوئے پوچھا۔
نہیں۔۔!! سپاٹ جواب ملا
ٹھیک ہے جیسے تمھاری مرضی پر میں تو کھاؤ گا، تم رکو میں لے کر آتا ہوں۔ کندھے اچکاتے وہ اسکی سنے بغیر گاڑی سے اتر گیا اور وہ محض اسے دیکھ کر رہ گئی۔
یہ ایک منٹ پکڑنا۔؟ وہ جو منہ بنا کر بیٹھی باہر دیکھ رہی تھی آزر نے سامنے سے آکر پلیٹ اسکی اور بڑھائی۔
”میں نے کہا نا مجھے نہیں کھانے.؟ اسی انداز میں اپنی بات دہرائی۔
میں کھانے کا کہہ بھی نہیں رہا، بس پکڑو میں آکر لیتا ہوں.! اسے لگا تھا کہ آزر اصرار کرے گا مگر اسکی بات پر اسکی آنکھیں حیرت سے پھیلی۔
لاؤ دو.؟ گھوم کر آکر اپنی سیٹ سنمبالتے آزر نے ہاتھ آگے بڑھایا تو طوبیٰ نے منہ پھلائے فوراً واپس کی تو آزر کو اسکے بچپنے پر ہنسی آئی جسے وہ چھپا گیا۔
پکا نا تم نہیں کھا رہی.؟ آنکھوں میں شرارت سموئے بظاھر سنجیدگی سے استفسار کیا تو وہ اسی انداز میں فوراً نفی میں سر ہلا گئی جبکہ آنکھوں میں نمی اتر آئی تھی۔
”اچھا سنوں.؟ اسے بھی کہاں چین میسر تھا اسے یو ناراض دیکھ کر۔
جی.! خفگی سے اسکی اور دیکھا۔
”بس یہ ایک کھالو پلیز.! تم جانتی تو ہو، جب سامنے ہوتی ہو تو پہلی بائٹ تمھیں کھلائے بغیر کہا میں کھا سکتا ہوں۔ ایک گول گپے کو پانی میں ڈبکی لگا کر اسکی اور بڑھاتے کچھ اس طرح سے کہا کہ چار و ناچار اسے منہ کھولنا پڑھا۔ منہ جاتے ہی کھٹی مٹھی چٹنی اور کٹھے پان کا ذائقہ منہ میں گھل گیا جو اسے پسند آیا مگر ناراضگی کے چلتے وہ بول نہ سکی۔
اور کھاؤ گی.؟ آزر نے گول گپا اپنے منہ ڈالتے ہوئے پلیٹ اسکی اور کی جس پر وہ بنوز اپنی ناراضی کا اظہار کرتے منہ پھیر گئی تھی۔
”نہیں آپ کھائیں.! ویسے بھی آپ یہ اپنے لیے ہی لائے تھیں نہ کہ میرے لیے۔ سابقہ انداز برقرار تھا۔
”جان.! یہ ہمارے درمیان کب سے میرا“ تمھارا“ آگیا.؟ میں تو صرف اتنا جانتا ہوں تم میری ہو اور میرا سب کچھ تمھارا.! لو دیتی نظروں سے دیکھتے اسنے ایک گول گپا کھٹے پانی میں ڈپ کرکے اسکی اور بڑھایا۔
جو بھی لیکن آپ نے اچھا نہیں کیا آپ جانتے ہیں میں اتنے ہیوی ڈریس نہیں پہنتی پھر بھی۔ گول گپا کھاتے ہوئے اسکی سوئی بنوز وہی اٹکی تھی۔
میں سب جانتا ہوں جان.! مگر کبھی کبھی ہمیں کچھ کام دوسروں کو دیکھانے کے لیے کرنا ضروری ہوتا ہے جیسے پہلے ہمارا ریسیپشن صرف ہمارے لیے تھا، لیکن اب کچھ لوگوں کے منہ بند کرنا ضروری ہے، اسی طرح اگر تم کوئی سمپل سوٹ پہنو یا ہیوی مجھے فرق نہیں پڑتا، لیکن انھی لوگوں کو دیکھانے کے لیے کہ تم کسی کم نہیں، نہ تم میں کوئی کمی ہے کے تم ایک عام لڑکی طرح تیار نہیں ہوسکتی، بلکہ تم تو بہت خاص ہو.! جسے اس مصنوعی سولا سنگھار بناوٹی چیزوں کی ضرورت نہیں، لیکن اگر تم ان سب چیزوں کا استعمال کرنا چاہوں تو تمھیں کوئی روک نہیں سکتا اور نہ سوال اٹھا سکتا ہے۔ متانت سے اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے آزر نے سمجھایا جسے وہ پورے انمہک سے آزر کی بات سن رہی تھی۔ بات کرتے ہوئے طوبیٰ کو پتہ ہی نہ چل سکا کہ آزر نے سارے گول گپیں اسے ہی کھلا دیے تھیں اور بس آخری بچا تھا جسے پانی میں ڈپ کر کہ آزر نے اسکی اور بڑھائے تھا۔
”وہ سب تو ٹھیک ہے لیکن یہ آپ اپنے لیے لائے تھیں جو آپ سارے مجھے کھلا چکیں ہیں۔ اسکا ہاتھ اسکی اور بڑھاتے ہوئے دھیان دلایا تو آزر نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا
تم فکر نہیں کرو اسکا تو میں حساب برابر کر ہی لونگا۔ اسکے ہاتھ سے کھاتے اسکے ہاتھ کو لبوں سے چھوا۔
آپ حساب برابر تو تب کریں’گے جب میں آپ سے بات کرو گی۔ مصنوعی ناراض دیکھاتے طوبیٰ نے اپنا ہاتھ کھینچا۔
”ابھی ہم جہاں جا رہے ہیں وہاں جا کر تم خود بات کرو گی.! آزر پلیٹ واپس کرکے آکر گاڑی اسٹارٹ کی آزر کا انداز معنیٰ خیز تھا۔
ہم گھر نہیں جا رہے.؟ گاڑی گھر کے راستے کہ بجائے انجان راہ کی جانب گامزن دیکھ کر سوال کیا۔
نہیں.!!
پھر ہم کہا جا رہے ہیں۔۔؟؟
سرپرائز۔۔۔۔۔!!! یوں سمجھ لو کہ جیسے میں تمھیں اس دنیا کی بھیڑ سے چرا کر کہی دور لیجا رہا ہوں وہ گانا نہیں سنا، چل چلئے دنیا اسے نکرے جتھے بندہ نہ بندے دی ذات ہوئے۔ شروع میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے آخر میں شوخ انداز میں گانا گن گنایا تو جھنپ گئی۔
“تھوڑی دیر میں ڈرائیو کے بعد گاڑی بیچ پر رکی تھی اور سامنے کا منظر دیکھ طوبیٰ کی آنکھیں چندھیا گئیں۔
”ہم بیچ پر آئیں ہیں.؟ بے یقینی سے اسکی اور دیکھتے ہوئے سوال کیا تو اسنے اثبات میں سر ہلا۔
”آپ میری وہیل چیئر بھی نہیں لے کر آئے مجھے سمندر کے پاس جاکر ان لہروں کو قریب سے دیکھنا تھا ۔ اسے فوراً ہی فکر لاحق ہوئی
”جان جی.! آپ بھول رہی گھر سے نکلنے سے پہلے میں نے کیا کہا تھا۔ ازر نے کمر میں ہاتھ ڈال کر جھٹکے سے اپنی طرف کیا تو وہ سیدھا اسکے سینے سے آلگی ٹھوڑی سے پکڑ اسکا چہرہ اوپر کرتے استفسار کیا
آزر کیا کر رہے ہیں چھوڑیں.؟ اسکی قربت پر طوبیٰ کے دل کی دھڑکن منتشر ہوئی تھی۔
”اتنی بھی کیا جلدی ہے جان.؟ ازر نے طوبیٰ کے چہرے سے بال کان کے پیچھے اڑیستے ہوئے ناک کو لبوں سے چھوا تھا آزر کی اس حرکت سے طوبیٰ کے دل کی دھڑکن تیز ہوئی تھی
مجھے باہر جانا ہے۔ دھڑکتے دل کے ساتھ مدھم آواز میِں بولی
چلتے ہیں، پر جانے سے پہلے تمھیں ایک کام کرنا ہوگا۔؟ نظریں اسکے چہرے پر مرکوز کیا فرمائش کی جس پر طوبیٰ کی آنکھیں پھیلی تھی آزر کی بات سن کر۔
”کیا..؟؟؟ آہستہ سے دریافت کیا۔
ایک کس.! اپنا گال آگے کیا اور اس پر اپنی انگلی رکھتے ہوئے بظاھر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جبکہ پسے پشت شوخی چھپی تھی۔
ازر کی بات سن کر طوبیٰ شرم سے پانی پانی ہوئی تھی اور فورا سے اپنی پلکے جھکا لی اتنے دنوں میں پہلی بار ایسی کوئی بات کی تھی۔
”میں ویٹ کر رہا ہوں.؟ طوبیٰ کی جانب سے کوئی ردعمل ظاہر نہ ہونے ازر نے شوخ لہجے کہا۔
”مجھے نہیں جانا آپ چلے جائیں.؟ جھٹکے سے آزر سے دور ہوئی طوبیٰ کی حالت دیکھ کر وہ بنا کچھ کہے گاڑی سے اترا اور طوبیٰ کی طرف آکر گاڑی کا دروازا کھولا سامنے پھولوں سے سجا ہوا راستہ سمندر کے بلکل پاس جا رہا تھا جہاں بہت خوبصورتی سے ایک ٹیل کے گرد دو چیئر رکھ کر اس جگہ کو چار پلرز رکھ کر خوبصورتی سے سجایا گیا تھا پلرز پر لٹکتے جالی دار پردے ہوا سے لہراتے منظر کو دلکشی بنا رہے تھیں۔
آزر طوبیٰ کو برائڈل سٹائل میں اٹھایا تو آنکھوں سے دو آنسوں ٹوٹ کر ازر کی شرٹ میں جذب ہوئے تھیں۔
ہم تیرے بن اب رہ نہیں سکتے
تیرے بنا کیا وجود میرا
تجھ سے جدا اگر ہو جائیں تو
خود سے ہی ہو جائیں گے جدا
کیونکہ تم ہی ہو
اب تم ہی ہو
زندگی اب تم ہی ہو
چین بھی،
میرا درد بھی،
میری عاشقی،
اب تم ہی ہو،
تیرا میرا رشتہ ہے کیسا
اک پل دور گوارا نہیں
تیرے لیے ہر روز ہیں جیتے
تجھ کو دیا میرا وقت سبھی
کوئ لمحہ میرا نا ہو تیرے بنا
ہر سانس پہ نام تیرا
کیونکہ تم ہی ہو،
اب تم ہی ہو،
زندگی اب تم ہی ہو،
چین بھی،
میرا درد بھی،
میری عاشقی،
اب تم ہی ہو۔
متواتر رفتار سے چلتے ازر نے طوبیٰ کو لاکر چیئر پر بیٹھایا تھا اور خود اس کے سامنے گھٹنے کے بل بیٹھتے ہوئے طوبیٰ کے سامنے اپنا ہاتھ کیا تھا۔
”ویل یوں میری می.؟ اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے گھمبیر انداز میں سوال کیا تو وہ متعجب ہوئی۔
”میں جانتا ہو ہماری شادی ہو گئ ہے،لیکن پہلے تم نے پوچھنے کا موقع نہیں دیا، اس لیا اپنے رشتے کی شروعات کرنے سے قبل پوچھ رہا ہوں۔ سابقہ انداز میں وضاحت پیش کی تو بنا پلکوں کی جھالر گراتے آزر کے ہاتھ میں ہاتھ رکھ کر ہاں میں سر ہلاتے اپنی رضامندی ظاہر کی جس پر آزر کے چہرے پر دلفریب مسکراہٹ نمودار ہوئی۔
ازر نے طوبیٰ کو ایک خوبصورت سی ڈائمنڈ رنگ پہنائی اور اس پر اپنے لب رکھیں شرم سے گلنار ہوتے نظریں جھکا لی۔
ازر بھی اس کے سامنے چیئر پر بیٹھ گیا تھا اور سامنے ڈوبتا ہوا سورج لہروں کا شور اور ہولے ہولے سے چلتی ہوا بہت دلکش منظر پیش کر رہا تھا
کتنا خوبصورت ہے ناں.! طوبیٰ کی نظریں ڈوبتے ہوئے سورج پر تھی۔
ہاں.! واقعی بہت خوبصورت ہے.! آزر کی نظریں طوبیٰ کے چہرے پر مرکوز تھی۔
کاش.! یہ پل یہی رک جائے.؟ محویت سے بولی۔
کاش۔۔!!!
“آزر کے بجتے فون نے ازر کا دھیان اپنی جانب مبذول کروایا موبائل کی سیکرین پر چمکتا ہوا نام دیکھ کر ازر کے ماتھے پر بل پڑے تھے ازر نے فورا سے کال کٹ کی تھی۔
Instagram
Copy link
URL has been copied successfully!

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

کتابیں جو آپ کے دل کو چھوئیں گی

Avatar
Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial