ادھورے خواب

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

قسط: 27

آزر صبح سے ہی تیاریوں میں مصروف رہا تھا اسی مصروفیات کے چلتے طوبیٰ کو وینیوں پر لانے کی زمے داری وہاج کو دی تھی۔
گاڑی حال کے انٹرس پر رکی آزر خان جو وہی کھڑا انتظار کر رہا تھا فورا سے آگے بڑھا تھا طوبیٰ کی سائڈ کا دروازہ کھولا نظر تو جسے پلٹنا بھول گئی تھی
سرخ رنگ کے بھاری لہنگے میں مہارت سے کئے میک اپ نے اسکے کھڑے نین نقش کو مزید نکھار دیا تھا پلکیں جھکائے نظریں اپنے مہندی لگیں ہاتھوں پر ٹکائے وہ سجی سنوای آسمان سے اتری کوئی اپسرا لگ رہی تھی جو آزر کے دل کا ہشر برپا کر رہی تھی۔
”بھائی.! اندر چلیں، باقی آپ گھر جا کر دیکھ لیجئے گا آپ کی ہی بیوی ہے۔ آزر کو یوں کھوئے ہوئے دیکھ لائبہ نے چھیڑا تو آزر کے چہرے پر دلفریب مسکراہٹ ابھری جبکہ لائبہ کے الفاظ پر طوبیٰ کی ہتھیلیاں بھیگی تھی۔
وہ جو آزر کو دیکھ خود کو دنیا کی خوش قسمت لڑکی سمجھ رہی تھی وہیل چیئر دیکھتے گھہرا سانس لیتے آنکھیں نم ہوئی۔
اس کی ضرورت نہیں لائبہ.؟ طوبیٰ کی آنکھوں میں نمی دیکھ آزر لائبہ سے کہا۔
لیکن بھائی۔۔؟؟
میں وہیل چیئر پر چلی جاؤ گی، آپ میری فکر نہیں کریں’ نظریں جھکائے مدھم آواز میں بولی۔
”اچھا.! میں نے تمھاری فکر میں نہیں کرنی، تو پھر کون ہے میرا جس کی میں پروا کرو.؟ اسکے چہرے پر نظریں مرکوز کئے سنجیدگی سے سوال کیا تو وہ لاجواب ہوگئی۔
البتہ مجھے لگ رہا ہے کہ تم میری بانہوں میں آنے سے گھبرا رہی ہو پر اب تو انہی بانہوں میں زندگی گزارنی ہے جانم.!۔ گھمبیر معنیٰ خیز انداز میں کہتے وہ اسے بانہوں میں اٹھا لیا آزر کی بات پر شرم و حیا سمیٹتے فورا سے ازر کے سینے میں منہ چھپا گئی، متواتر رفتار سے چلتے ہوئے برائیڈل روم میں طوبیٰ کو لے کر آیا تھا۔
جانم.! تمھیں ایسے دیکھنے کا حق صرف میرا ہے، میں نہیں چاہتا کہ میری بیوی کو کوئی اور دیکھے۔ صوفے پر بیٹھاتے ڈوپٹے کو آگے کر کے اسکے چہرے پر گھونگھٹ دیا۔
یہ یہاں کیا ہو رہا ہے یہ تمھارا گھر نہیں ہے۔ وہاج بھی انکے پیچھے ہی روم میں داخل ہوا۔
آزر نے وہاج کو گھور کر دیکھا تھا
ایسے کیا دیکھ رہے ہو میں سچ کہہ رہا ہو.! اسکی گھوری کو سرے سے نظر انداز کرتے اپنی ہنسی دبائی۔
تمہاری وائف کہاں ہے جو تم یہاں آوارہ پھر رہے ہو ذرا کنٹرول نہیں، اسکا لائبہ کو کہنا پڑے گا تمہیں ذرا قابو کرے۔ تپ کر سوال کیا
”وہ تو صبح سے تمھاری وائف کی خدمت میں مصروف تھی اور اب بھی باہر مہمانوں کو دیکھ رہی ہے، مجھ پر کیا نظر رکھے گی، اور تم یہاں اپنی وائف کے ساتھ رومانس کر رہے ہو یہ غلط بات ہے۔ اسکی کے انداز میں جوابی وار کیا۔ وہاج کی بات پر طوبیٰ کا چہرا شرم سرخ ہو گیا تھا۔
ہاں تو اگر ایک دن کر ہی لی خدمت تجھے کیوں اتنی تکلیف ہو رہی ہے، پورا مہینہ تو بھی تو ہنی مون منا کر ہی آیا ہے۔ آزر نے بھی حساب برابر کیا تھا تو وہاج نے سر جھٹکا
لائبہ اپنے شوہر پر ذرا نظر رکھا کرو کہی بھی چلا جاتا ہے۔ آزر نے پیچھے سے آتی لائبہ کو بیچ میں گھسیٹا۔
کیا مطلب.؟ وہ جو کسی کام سے آئی تھی آزر کی بات پر متعجب ہوئی۔
اسے مجھ پر نظر رکھنے کی ضرورت نہیں، البتہ تم ذرا خیال کرو بیچاری میری بیوی ایسی حالت میں صبح سے کام کر رہی ہے۔ وہاج نے اپنی بیوی کی سائیڈ لی۔
”اب آپ لوگ بچوں کی طرح لڑنا بند کریں’گیں باہر سارے مہمان آگئیں ہیں، اور آپ دونوں یہاں بچوں کی طرح لڑ رہے ہیں، چلیں آزر بھائی کی تو سمجھ آتی ہے، لیکن وہاج آپ ایک بچے کے باپ بننے والے آپ ہی کچھ خیال کر لیں۔ سنجیدگی سے دونوں کو کہتے توپو کا رخ وہاج کی جانب کیا تو آزر نے اپنی ہنسی چھوٹ گئی
“تمہیں کس نے کہا ہم لڑ رہے ہم تو بات کر رہے ہیں، ہے ناں آزر.! تم بتاؤ ۔ وہاج نے فوراً وضاحت دیتے ہوئے آزر سے تائید کروائی تو اسنے بھی اثبات سر ہلایا۔
💛💛💛💛💛💛💛💛
”طوبیٰ اور آزر سٹیج پر بیٹھیں بہت خوبصورت لگ رہے تھے جہاں سب رشک کی بھری نظروں سے دونوں کی جوڑی کو سراہا رہے تھے وہی کچھ نظر طوبیٰ کو یوں خوش و خرم اور مطمئن دیکھ سلگ کر رہ گئیں تھیں آزر کے پہلو میں بیٹھی وہ خود کو دنیا کی خوش قسمت لڑکی تصور کر رہی تھی۔
آریان صاحب و سائرہ دونوں اپنی بیٹی سے مل کر اسے خوش دیکھ دونو بہت کو خوشی ہوئی تھی۔
قدسیہ بیگم سے تو طوبیٰ کی خوشی برداشت ہی نہیں ہو پا رہی تھی وہ تو سمجھ رہی تھی کہ اتنی باتیں سننے کے بعد طوبیٰ کہیں منہ چھپا کر بیٹھی ہو گی مگر یہاں تو اسے کوئی فرق ہی نہیں پڑا بلکہ آج وہ پہلے سے زیادہ خوش و مطمئن نظر آرہی تھی تبھی قدسیہ بیگم دور بیٹھی ہی دیکھ کر کلس رہی جبکہ ارحم کو آئزہ کی وجہ سے سٹیج پر آنا پڑا تھا آتے ہی ارحم کی نظریں گھونگھٹ میں ہونے کے باوجود طوبیٰ پر ٹھہر گئی جو آزر کی ہمراہی میں ایک دم مکمل اور مطمئن لگ رہی تھی جس دیکھ اسکے تن بدن میں آگ لگ گئی غصے سے مٹھیاں بھینچ خود پر ضبط کرتے اسے قبل کے آئزہ آگے بڑھ کر طوبیٰ کے پہلو میں بیٹھتی ارحم تیزی سے آگے بڑھ بیٹھ گیا تھا۔
ارحم کی نظریں خود پر محسوس کرتے طوبیٰ نے آزر کا ہاتھ مضبوطی سے تھام لیا تھا۔
”ریلکس جان.! ازر نے کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر مطمئن کیا آزر کی نظر سامنے سے آتی ہوئی شزہ پر گئی جو بولڈ ڈریس پہنے ڈارک میک اپ میں ان کی طرف ہی آئی تھی۔
”آئزہ.! تم یہاں سے اٹھو گی.؟ مجھے بیٹھنا ہے شزہ نے آزر کو دیکھتے آئزہ کو حکمیا انداز میں کہا تو وہ ناچاہتے ہوئے بھی اٹھنا پڑا شزہ کی نظریں آزر پر مرکوز دیکھ کر طوبیٰ کو کچھ عجیب سا محسوس ہوا اپنی اس کیفیت کو وہ خد بھی سمجھ نہیں پائی تھی۔
”کیسے ہیں.؟ آزر آپ نے تو دوبارہ رابط ہی نہیں کیا. پہلو میں بیٹھتے بے تکلف ہونے کی کوشش کی جس پر آزر نے کوئی خاص ردعمل ظاہر نہ کیا۔
“ویسے میں آپ کے پہلو میں زیادہ اچھی لگ رہی ہوں.؟ شزہ موبائل نکال کر سیلفی لینے کے لیے کیمرے اون کرتے طوبیٰ کو حقارت سے طوبیٰ دیکھا۔
”خوش فہمی اچھی ہے دل بہلانے کے لیۓ، لیکن اگر بات محض خوش فہمی تک ہی رہتی تو بہتر تھا مگر تم نے تو میری بیوی کے دل میں میرے لیے غلط فہمی ڈالنے کی کوشش کی اور یہ میں ہرگز برداشت نہیں کرونگا، اور جہاں تک بات اچھی لگنے کی ہے، کون اچھی لگے گی میرے پہلو میں یہ میں تم سے بہتر جانتا ہوں، تمھیں مجھے بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اسکے ہاتھ سے فون لیتے آزر اسکی جگہ دکھائی تھی جسے سن کر اسکے تن بدن میں آگ لگ گئی تھی۔
”ہنہہ.!! تم بہت پچھتاؤ گے جب یہ اپاہ……..!!!
یہ تو سب نے دیکھ ہی لیا ہے کہ آزر خان کی دلہن کون اب اس پہلے کے میں مہمانوں کا لحاظ بھول کر تمھارا منہ توڑ کر تمھیں تمھاری اوقات یاد دلاؤ دفعہ ہو جاؤ یہاں سے۔ اسے قبل کے وہ کچھ کہتی آزر نے ہاتھ اٹھا کر سخت گیر نظروں سے دیکھتے اسے باہر کی راہ دکھائی تو وہ پاؤں پٹختی سٹیج سے اتر گئی یکا یک ماحول میں سنجیدگی چھا گئی۔
طوبیٰ کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا تو اپنی گھبراہٹ کم کرنے کی سعی میں لب کاٹتے آزر کے ہاتھ پر دباؤ بڑھایا تھا دو آنسو ٹوٹ کر طوبیٰ کے گال پر پھسلے گئیں جو آزر کے ہاتھ پر گرے تھیں۔
طوبیٰ ریلکس میں ہونا تمہارے ساتھ.! ارحم نے طوبیٰ کی پریشانی بھانپ لی تبھی آزر کے کچھ کہنے سے پہلے ارحم طوبیٰ کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے بولا جسے طوبیٰ نے فورا سے کھنچاتے سخت گیر نظروں سے دیکھا۔
”جان.! کیا ہو گیا، اتنی اتنی باتوں کو سیریس نہیں لیتے۔ ازر نے طوبیٰ کے آنسو صاف کئیں۔
”میں جب تمھارے ساتھ ہوں.!تو پھر کیوں تم ایسے لوگوں کی باتوں کی پرواہ کرتی ہو.؟ یہ دیکھو تمھارا بیسٹ فرینڈ بھی پریشان ہو رہا ہے،کیا سوچے گا کے میں اس کی فرینڈ کو خوش نہیں رکھتا۔ نرمی سے سمجھاتے ہوئے ازر نے ارحم کی جانب اشارہ کیا جس کی نگاہیں اُنہی پر تھی۔
طوبیٰ نے نے پلکوں کی جھالر اٹھائی تو نظریں آزر کی نظرو سے ٹکرائی تھی کچھ پل کے لیے وہ محوت ہوکر رہ گئی۔
اہہم.! اہہم.! وہاج نے گلا کھنکارا تھا۔
ہم سب یہی ہیں، کچھ تو خیال کر لو یار.! وہاج ایک بار پھر موقع مل گیا تھا۔
طوبیٰ اور آزر کو ایک ساتھ خوش دیکھ کر ارحم سلگ گیا تھا اور فورا سے وہاں سے اٹھ کر سٹیج سے نیچے اتر گیا اس کو اب وہاں رکنا مشکل ترین ہوگیا تھا۔
آپ ایسے لوگو کی باتوں پر دھیان نہ دیا کرو طوبیٰ.! یہ جو میرا دوست ہے ناں یہ آپ کے علاوہ کسی کو دیکھے گا بھی نہیں، عشق کرتا ہے یہ آپ سے جس کا میں گواہ ہوں.! وہاج نے طوبیٰ کے پاس بیٹھتے شروع میں متانت سے کہتے آخر میں اپنے محسوس انداز میں بولا
طوبیٰ نے ایک نظر آزر کو دیکھتے نظریں جھکا لی۔
ایک منٹ میں ابھی آیا۔وہاج کی نظر انٹرس سے آتی ہوئی نتاشا پر گئی تھی تو وہاج فوراً اکسکیوز کرتا سٹیج سے اتر گیا تھا۔
”اس کیا ہوا.؟ وہاج کو جاتے ہوئے دیکھ آزر کو تشویش ہوئی مگر آزر کی نظر وہاں نہیں گئی تھی جہاں وہاج کی پہنچ گئی تھی۔
تیزی سے اتر کر کسی کی نظر میں آئے بغیر نتاشا کا ہاتھ پکڑ کر وہاج اسے سائیڈ میں لے آیا تھا۔
”کیا بدتمیزی ہے.؟ نتاشا نے غصے سے اپنا ہاتھ وہاج سے چھڑوا تی چنگھاڑی۔
”مجھے بھی کوئی شوق نہیں تمہارا ہاتھ پکڑنے کا۔ وہاج نے بھی اسی کے انداز میں جواب دیا۔
تم یہاں کیا کر رہی ہو.؟ اب کیوں آئی ہو.؟ ایک بار میں دل نہیں بھرا جو اب پھر آگئی ہو آزر کی زندگی خراب کرنے.؟ جینے کیوں نہیں دیتی ہو تم اسے.؟ وہاج نے سلگتے ہوئے ایک بعد کئی سوال اٹھائے۔
”کیوں تم نہیں جانتے میں کیوں آئی ہوں.؟اگر نہیں جانتے تو تھوڑی دیر میں جان جاؤ گے، آزر میرا ہے اور میں اسے کسی اور کا ہونے نہیں دونگی۔ نتاشا نے اٹل لہجے میں کہا تھا اسکی آنکھوں میں ایک الگ ہی تپش تھی۔
”وہ تمہارا کبھی نہیں تھا، نہ پہلے نہ ہی اب.؟ اور ویسے بھی اب تو کسی اور کا ہو گیا ہے، تو پلیز اسے بھی جینے دو.؟ اور خود بھی موو اون کرو.! وہاج نے نتاشا کو سمجھانے کی کوشش کی.
”نہیں کر سکتی میں موو اون.! میری محبت میری دیوانگی میری ذندگی صرف ازر ہی ہے اسکے بغیر جینے کا تصور بھی نہیں کر سکتی نہ ہی میں اس کی جگہ کسی اور کو دے سکتی ہوں، میں بہت بے بس محسوس کر رہی ہوں، کاش کہ میں یہ سب پہلے سمجھ جاتی تو آج یوں در بدر نہ ہوتی۔نتاشا کے لہجے میں نمی اتر آئی اسکی آنکھوں درد صاف نظر آرہا تھا۔
”اگر.! تم اس اتنی ہی محبت کرتی تھی تو کیوں اپنی ہی شادی کے دن تم کسی اور کی خاطر گھر چھوڑ گئی، کیوں دیا تھا تم نے آزر کو دھوکا، کیوں دی تھی تم نے آزر کی جگہ کسی اور کو.؟ بولو مان لی تھی ناں ازر نے آنکل کی بات کر رہا تھا وہ تم سے شادی، لیکن تمھارے سر پر تو جب محبت سوار تھی، اور جب اسی محبت نے تمھیں چیٹ کیا تو پھر تمہیں آزر کی یاد آگئی۔ ایک ایک کر کے اسکی کوتاہیاں یاد دلاتا نتاشہ کا بازو دبوچا گیا۔
”ہو گئی نا غلطی مان تو رہی ہوں.! نہیں کرنا چاہیے تھا مجھے کسی اور پر یقین، پر اب جو ہوگیا اسے بدل تو نہیں سکتی، اب کیا میری جان لیکر ہی اسے میری بات یقین آئےگا آگر ایسا تو ٹھیک لےلے میری جان میں اوف تک نہیں کرونگی۔ وہ روانی سے بولتے ہوئے پل بھر کو رکی۔
جو بھی کرنا پڑے کرونگی پر آزر کو میں اپنی محبت کا یقین دلا کر رہو گی، تایا جان.! نے مجھے ہمیشہ اپنی بہوں سمجھا تھا ازر کو ان کی خواہش کا احترام کرنا ہوگا. نتاشہ کسی بھی قیمت پر آزر کو اپنا بنانا چاہتی تھی اسکے لیے چاہے اسے کچھ بھی کرنا پڑے۔
”تمھاری ہی وجہ سے ان کی ڈیتھ ہوئ تھی، شادی کے دن تم تو بھاگ گئی تھی، پر یہ صدمہ انکی جان لے گیا۔وہاج نے یاد دلایا۔
ہر غلطی کی طرح یہ بھی میرے کھاتے میں ڈال دو.! پر کوئی بھی وجہ ہو مجھے آزر سے دور نہیں کر سکتی۔ بات ختم کرتے وہ ہال کے اندورنی حصہ کی جانب بڑھ گئی۔
”وہ اب تمھارا کبھی نہیں ہو گا اسے اپنی محبت مل گئی ہے۔وہاج نے پیچھے سے بلند آواز میں کہا تھا۔
💛💛💛💛💛💛💛💛
وہ جو چہرے پر دلفریب مسکراہٹ لیے اپنی دلہن کے ساتھ ان لمحوں کو یادگار بنانے میں مصروف تھا نظر سامنے سے آتی ہوئی نتاشہ پر گئی تھی جو ان کے پاس ہی آرہی تھی جسے دیکھتے ہی آزر کے اعصاب تنے اسکے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ یہ اس طرح واپس آجائیگی۔
”کنگریچولیشن بڈی.! اکیلے اکیلے ہی شادی کر لی اور مجھے بتایا بھی نہیں.! تمھیں کیا لگا تھا، تم نہیں بتاؤ گے تو مجھے پتہ نہیں چلے گا۔ ہاتھ آگے بڑھا کر مبارک دیتے اسکے انداز میں عجیب سی تلخی تھی جو آزر کے ساتھ بیٹھی طوبی نے بھی محسوس کی تھی۔جبکہ آزر نے کوئی جواب دینے کے بجائے منہ پھیر لیا تھا۔
ہائے بڈی.! کسی ہو میں ازر کی کزن اور ایکس فیونسی مطلب تمہاری سوتن.! آزر کے نظر انداز کرنے پر نتاشہ نے طوبیٰ کو مخاطب کرتے ایک آنکھ دبائی اسکی بات سن کر طوبیٰ کی آنکھیں پھیلی تھی۔
“نتاشہ اپنی حد میں رہو.! ضبط کے مارے مٹھائیاں بھنچے سختی سے ٹوکا۔
بڈی.! ابھی تک تو میں اپنی حد میں ہی ہو.! ورنہ تم تو جانتے ہو.! تمہارے لیے میں کتنی پوزیسیو ہو.! اسکے انداز میں ایک چھبن تھی
”لیکن کوئی بات نہیں، اب میں نے غلطی کی ہے تو اسکی سزا بھی بھگتنی پڑے گی جس کے لیے میں تیار ہوں،تم اسے چاہتے ہو مجھے کوئی اعتراض نہیں، میں سمجھو گی یہ میری غلطی کی سزا ہے جو مجھے تمہیں اس کے ساتھ شئر کرنا پڑے گا، تمہارے لیۓ کچھ بھی۔ کرب سے کہتے ایک آنسوں ٹوٹ کر گال پر پھسل گیا تھا۔
نتاشا کی باتیں سن کر طوبیٰ جھٹکا لگا تھا۔
”تم حد سے گزر رہی ہو.؟ یہ میری محبت ہے کوئی سزا نہیں سمجھی۔۔! ازر کی آنکھیں غصے و ضبط سے سرخ ہو گئی تھی۔
”ریلکس اتنا ہائپر ہونے کی ضرورت نہیں.! ویسے بھی میں تم سے نہیں اپنی سوتن سے بات کر رہی ہوں.! کیوں بڈی تمھیں تو کوئی اعتراض نہیں ہے ناں.! مجھے اپنی سوتن بنانے میں ہم مل جل کر رہے گی۔ طوبیٰ کے پہلو میں آکر بیٹھی
تو طوبیٰ سوالیہ نظروں سے آزر کو دیکھا جن میں نمکین پانی بھر آیا تھا۔
دیکھو۔۔۔۔!!!
”اس پہلے وہ کچھ اور کہتی ازر نے نتاشا کو بازو سے پکڑ جھٹکے سے اٹھایا تھا۔
”میں یہاں کوئی تماشا کریئٹ نہیں کرنا چاہتا تھا، یہ ہمارا سپیشل دن تھا،اب تم یہاں سے خود جانا پسند کرو گی یا پھر گارڈز کو بلاؤ.! زہر خند لہجے میں پھنکارا۔
”ارے تم پریشان کیوں ہو رہے ہو.! میں تو بس اپنی سوتن سے ملنے آئی تھی، ویسے کافی خوبصورت سوتن ڈھونڈی ہے تم نے میرے لیے بالکل میرے مقابلے کی۔ طوبیٰ کی خوبصورتی دیکھ کر آزر کے کندھے سے نظر نہ آنے والی دھول جھاڑی۔
بڈی.! تم نے ٹینشن نہیں لینی ہمارے درمیان یہ سب چلتا رہتا ہے،اب تو میں واپس آگئی ہوں تو آنا جانا لگا رہے گا تو تم بھی عادی ہو جاؤ گی۔ذرا جھک کر طوبیٰ کے گال تھپتھاتی سٹیج سے اتر گئی طوبیٰ ضبط کئے بس دیکھ کر رہ گئی تھی اس پورے وقت میں اسنے ایک لفظ نہیں کہا تھا جو آزر کو تشویش میں مبتلا کر گیا تھا۔
نتاشہ کے جانے کے بعد آزر نے طوبیٰ کو دیکھا تھا جو شکوا کن نظروں سے آزر کو ہی دیکھ رہی تھی۔
تم جیسا سمجھ رہی ہو ویسا کچھ نہیں ہے جان.! اسکے پاس بیٹھ کر اسکا کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے آزر نے صفائی پیش کرنی چاہی۔
”مجھے آپ پر یقین ہے آپ کو کچھ کہنے کی ضرورت نہیں. اسکے ہاتھ پر اپنا دوسرا ہاتھ رکھتے اسکی آنکھوں میں دیکھتے مضبوط لہجے میں کہا تو ازر کی جان میں جان آئی تھی۔
💛💛💛💛💛💛💛💛💛💛💛
”طوبیٰ دلہن بننی بیڈ کے وسط میں بیٹھی تھی۔ پورا کمرا گلاب کے پھولوں سے سجا ہوا تھا اور کینڈل کی مدھم سی روشنی پورے کمرے کو پرسو خیز بنا رہی تھی۔
”طوبیٰ کے ذہن میں نہ چاہتے ہوئے بھی نتاشہ کی کہی باتیں گھوم رہی تھی آنکھیں پھر سے بھیگنے کو تیار تھی۔
اس سے پہلے کے آنسو ٹوٹ کر اسکے چہرے پر بہہ رہے تھے کھسک کر انٹر کوم سے اس نے بوا کو کال کر کہ بلوایا لیا تھا۔
”بہوں رانی.! ازر بیٹا نے آج کمرے میں آنے سے سختی سے منا کیا تھا۔ بوا نے چیزیں سمٹتے ہوئے تشویش ظاہر کی۔
آپ فکر نہیں کریں وہ میں دیکھ لونگی آپ بس یہ سب سمیٹ دیں. طوبیٰ نے ہاتھوں میں لوشن مسلتے ہوئے کہا۔
“اچھا بیٹا آپ آرام کریں.! مہذب انداز میں کہتے بوا کمرے سے نکل گئی تھی۔
طوبیٰ واپس بیڈ پر بیٹھتی بیڈ کراؤن کے ساتھ سر ٹیکائے آنکھیں موند گئی سوچوں پر اب بھی نتاشہ کی کہی باتیں سوار تھی وہ چاہ کر بھی اسکی کہی باتوں کو ذہن سے نکال نہیں پا رہی تھی۔
وہ انہی سوچوں میں پراگندہ تھی کہ دروازے کا نوب گھوما کر کمرے میں داخل ہوا طوبیٰ کو بیڈ کراؤن کے ساتھ سر ٹیکائے دیکھ کر آزر آہستہ سے چلتے ہوئے اسکے پہلو میں آکر اکر بیٹھ کر اسکے کندھے پر سر رکھ گیا۔
ازر کی موجودگی کو محسوس کرتے ہوئے بھی اس نے آنکھیں بنوز بند رکھی۔
مجھے نیند آرہی ہے۔ آزر کے کچھ کہنے سے قبل ہی اسنے نظریں ملائے بغیر کہہ کر لیٹنے لگی تو آزر ہاتھ پکڑ کر روک لیا۔
صرف یہ بتانے کے لیے اب تک جاگ رہی تھی.؟ آزر کی آواز پر طوبیٰ نے پلکوں کی جھالر اٹھا کر آزر کی اور دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا دونوں کی نظریں ٹکرائی تھی طوبیٰ کی آنکھیں رونے کی وجہ سے سرخ ہو رہی تھی۔
”تم رو رہی ہو.! اور تم نے چینج بھی کر لیا تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہیں ناں.!۔ سیدھا ہوکر بیٹھتے آزر نے اسکے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر چیک کیا اسکی آنکھوں میں نمی دیکھ آزر کو فکر ہوئی۔جس کا کوئی جواب دینے کے بجائے دونوں بازوں آزر کی گردن کے گرد حائل کرتی اسکے گلے لگی تو آزر نے ناسمجھی سے دیکھتے اسکے گرد بازوں حائل کئے۔
کیا ہوا جان تم ٹھیک ہو نا.؟ اسکی کمر سہلاتے آزر نے نرمی سے استفسار کیا۔
”میں آئی تھی آپ کے پاس یہ کہنے کہ میں آپ سے محبت کرتی ہوں مجھ سے شادی کریں نہیں تو میں مر جاؤنگی۔الگ ہوتے بھیگے لہجہ میں غیر متوقع سوال کیا۔
نہیں.!
تو پھر آپ نے کیوں کی مجھ سے شادی کی.؟ کر لیتے شزہ یا نتاشہ یا کسی سے بھی، میں نے منا تو نہیں کیا، میں تو مرنے لگی تھی اور مر بھی جاتی اگر آپ اس دن وقت پہ نہ پہنچتے، کس نے کہا تھا مجھے بچائے میں نے منت کی تھی آپ کی۔ اسکے سینے پر مکے مارتے لہجے میں خفگی سموئے مزید اسی انداز میں گویا ہوئی تو وہ اسے دیکھ کر رہ گیا۔
بولیں ناں اب بولتے کیوں نہیں میں نے کہا تھا نتاشہ سے نہیں مجھ شادی کریں.؟
جان تم نے کچھ نہیں۔۔۔!!
”جان.! جان۔۔! کہہ کر جان لینے کا ارادہ ہے تو بتا دیں، ایک ہی بار دیتی ہوں.! یہ آپکی ہر روز ایک نئی جان دیکھ کر بھی تو میری جان نکلتی ہی ہے، تو پھر ایسے ہی سہی۔ آزر نے کچھ کہنے چاہا تھا اسکی بات اچکتے اسکے سینے پر مارتے ہذیانی انداز بولے جارہی تھی جبکہ اسکی بات کو سمجھتے آزر کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔
آزر میں آپ کو بتا رہی ہوں.! مجھ سے پہلے آپکی زندگی میں کون تھی کون نہیں، اسے مجھے فرق نہیں پڑتا، میرے مرنے کے بعد بھی چاہے تو آپ شادی کر لیں، لیکن اب جب میں آپ سے محبت کرنے لگی ہوں، آپ کے ساتھ جینے لگی ہو، تو آپ صرف میرے ہیں، میں آپکو کسی کے ساتھ کسی بھی قیمت پر شئیر نہیں کرونگی۔ اپنے آنسوں صاف کرتے کالر سے پکڑ کر کھینچتے اپنا حقِ ملکیت جتایا جس پر آزر کو خوشگوار حیرت ہوئی تھی۔
کیا کہا پھر سے کہنا.؟ اسکی کلائی پکڑ کر آزر سوالیہ نظروں سے دیکھا اسے اپنی سماعت شک گزرا تھا۔
”وہی جو آپ نے سنا.؟ اپنی غلطی کا ادراک ہوتے ہی دور ہوتے نظریں چرائی۔
”مجھے صحیح سے سنائی نہیں دیا، ایک بار پھر سے کہوں کیا کہا تم نے.؟ اسکی کلائی پکڑ اپنے قریب کرتے آزر نے جانا چاہا۔
یہی کہ مجھ سے پہلے آپکی زندگی میں کون۔۔۔۔!!
یہ نہیں اسکے بعد.!وہ نظریں جھکائے مدھم آواز میں بول رہی تھی کہ آزر نے فوری ٹوکا
چاہے تو میرے مرنے۔۔۔!!
”ابھی تو جینا شروع کیا ہے جان.! اور تم ابھی سے مرنے کی بات کر رہی ابھی تو تم نے ہمارے بچوں کے بچوں کو بھی اپنی گود میں کھلانے ہیں، اتنی جلدی مرنے نہیں دونگا۔ اسنے ایک مرتبہ پھر بولنا چاہا تو آزر نے پھر اسکے الفاظ اچک لیے پر حدت نگاہوں کی تپش طوبیٰ کو اپنے اندر اترتی ہوئی محسوس ہوئی تھی۔
ہاں تو تم کیا کہہ رہی تھی جان.! کمر میں ہاتھ ڈال کر اپنے بے حد قریب کرتے گھمبیر انداز استفہامیہ تھا۔
آپ نے نہیں سنا تو اس میری غلطی تو نہیں میں نے تو کہہ دیا جو کہنا تھا، لیکن میں بتا رہی ہوں میں برداشت نہیں کرونگی آپکی زندگی میں کسی اور کو جان لےلو گی اگر آپ نے ایسا کچھ سوچا بھی تو.! نظریں جھکائے معصومیت سے مدھم آواز میں کہتے انگلی اٹھا کر ایک بار پھر سختی سے تنبیہ کی تھی۔
کس کی جان لینے کا ارادہ ہے میری جان کا.؟۔ اسکی تنبیہ سے محظوظ ہوتے دریافت کیا۔
اپنی ہی لے سکتی ہوں اور کس کی لینی ہے۔ اپنا آپ چھڑوانے کی تگ و دو کرتے برہمی سے بولی۔
خبر دار۔! ایسا خیال بھی نہ آئے تمھارے ذہن میں، میری زندگی میں نہ تم سے پہلے کوئی تھی، نہ تمھارے بعد کوئی آسکتی ہے آزر خان صرف تمھارا ہے اور ہمیشہ تمھارا ہی رہیگا سمجھی.! کمر میں ہاتھ ڈال کر اپنے قریب کرتے گھمبیر انداز میں کہتے ایک ایک لفظ پر زور دیا آزر کے انداز پر اسکی پلکوں کی جھالر گری تھی دل الگ ہی ترنگ میں دھڑکا۔
”اگر نہیں تو پوری رات پڑی ہے آو تفصیل سے سمجھاتا ہوں۔ معنیٰ خیزی شوخی سے کہتے خود پر گرا کر کروٹ لیتے اس پر سایہ فگن ہوا اسکے کسی قسم کے ردعمل ظاہر کرنے سے قبل ہی ہاتھ بڑھا کر لائٹ اوف کر دی تھی۔
💛💛💛💛💛💛💛💛💛
”ارحم اپنے کمرے میں بیٹھا سگریٹ کے گہرے کش لگا رہا تھا بار بار طوبیٰ محروتی چہرا ارحم کی آنکھوں کے سامنے لہرا رہا تھا۔
”آزر تم پر کیسے حق جما سکتا ہے تم میری ہو، میں تمہیں کسی اور کا ہونے نہیں دونگا۔ سگریٹ کے ساتھ وہ بھی سلگ رہا تھا جلن اور حسد کی آگ میں۔
”تم پر صرف میرا حق ہے، ارحم کی طوبیٰ تم کیسے کسی اور کو چاہ سکتی ہو.! میں تمہیں چھین لو گا ازر سے.! چنگھاڑتے وہ اس طرح گویا ہوا جس طرح وہ وہ اسکے سامنے ہو۔
تم میری طوبیٰ کو ذیادہ دن تک قید نہیں رکھ سکتے میں اسے تمھاری قید سے آزاد کروا کر رہو گا۔
Instagram
Copy link
URL has been copied successfully!

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

کتابیں جو آپ کے دل کو چھوئیں گی

Avatar
Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial