ادھورے خواب

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

قسط: 30

”وقت کا کام ہے چلنا اسے کوئی روک نہیں سکتا نہ ہی وہ کسی کہ لیے رکتا ہے اس طرح آئزہ کو گئے بھی دن ہفتوں میں ڈھلنے لگے تھیں پر غم تھا کہ کم ہو کے نہیں دے رہا تھا۔
لائبہ کچن میں کام کر رہی تھی ایک دم سے اسکی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا اور وہ چکرا کر گرنے ہی لگی تھی کے وہاج جو کچن میں پانی لینے آیا تھا لائبہ کو دیکھ کر اس کی طرف آیا تھا۔
کیا ہوا لائبہ طبیعت تو ٹھیک ہے.؟ کرسی پر بیٹھاتے ہوئے متفکرانہ انداز میں پوچھا۔
میں ٹھیک ہو بس تھوڑا چکر آگیا تھا۔ ماتھے پر ہاتھ رکھ کر لائبہ نے مدھم آواز میں جواب دیا۔
چکر نہیں آئیں گیں تو اور کیا ہوگا۔ وہاج نے فریج سے جوس نکال کر گلاس میں انڈھیلتے برہمی سے بولا
سب کا خیال ہے نہیں ہے تو بس اپنا۔ لائبہ کو جوس کا گلاس دیتے ہوئے کہا اور خود بھی لئبہ کے سامنے ہی کرسی پر بیٹھ گیا
”اب میرا منہ کیا دیکھ رہی ہو پیو.؟ وہاج نے گلاس کی جانب اشارہ کیا تو جس پر دو گھونٹ زہر مار کرتے گلاس رکھ دیا تھا۔
پورا ختم کرو.! وہاج نے تاکید کی۔
وہاج مجھ سے نہیں ہوگا۔ لائبہ نے آنکھوں میں آنسوں لیے نفی کی۔
لائبہ تم اس طرح کمزور نہیں پڑ سکتی تم تو میری بہادر بیوی ہو.! تم ہی تو ہو جس اتنی اچھی طرح سب کو سنبھالا اگر تم ہی ٹوٹ جاؤگی تو باقی سب کا کیا ہوگا۔ وہاج نے نرمی سے آنسوں صاف کرتے ہمت بڑھائی جس پر وہ خاموش رہی۔
لائبہ صبر کرو اللّٰہ جو کرتا ہے اس میں کوئی نہ کوئی بہتری ہوتی ہے، جسے ایک عام انسان سمجھنے سے قاصر ہے اس لئے تم آئزہ کے لیے دعا کرو.! مزید اسی انداز میں بولا تو آنسوں کی لڑی بہہ نکلی۔
وہاج.! ارحم نے کیوں کیا ہمارے ساتھ ایسا، ہم نے تو اسے ہمیشہ اپنے گھر کا فرد سمجھا اپنا بھائی اپنا دوست اپنا ہمدرد سمجھا کبھی مامی کی وجہ سے کچھ نہیں کہا کبھی کوئی سوال نہیں کیا پھر کیوں کیا اسنے ہمارے ساتھ ایسا؟۔روتے پوچھنے لگی۔
وہاج.! آپ نے امی جی کی حالت دیکھی ہے کتنا یاد کرتی ہیں آئزہ کو اور آپی تو خود کو ہی آئزہ کی موت کا ذمیدار سمجھ رہی ہیں کیسے سنبھالو.؟ مجھ سے نہیں ہوگا میں نہیں سنبھال سکتی، میں نہیں ہوں بہادر۔ ہاتھ کی پشت سے اپنے آنسوں صاف کرتے ہچکی بند گئی تھی
پتا نہیں کس کی نظر لگئی ہماری خوشیوں کو وہاج۔! بمشکل بول پائی جس پر وہاج نے لائبہ کو خود میں بینچ لیا
لائبہ خود کو سنبھالو اگر تم ایسے کرو گی تو آنٹی آنکل کو کون سنبھالے گا۔ کچھ دیر بعد جب رو کر اسکا دل کچھ ہلکا ہوا وہاج نے اسکے آنسوں صاف کرتے ہوئے کہا۔
ہمم۔۔!!
تم نے کچھ کھایا.؟؟
نہیں۔۔!! سینے پر سر رکھے جواب ملا
اچھا تم بیٹھوں میں تمہارے لیے کھانا لے کر آتا ہوں.؟ وہاج اٹھ کر فریج سے کھانا نکالا۔
تھوڑا سا کچھ کھا لو اپنے لیے نہیں تو ہمارے آنے والے بچے کی خاطر ہی سہی اپنا خیال رکھو۔! وہاج نے لائبہ کے سامنے بیٹھتے ہوئے کہا اور ایک نوالا توڑ کر لائبہ کی اور بڑھایا ہی تھا کہ نظر کچن کے دروازے سے پلٹتے ہوئے آزر پر گئی۔
آزر۔۔۔!! وہاج کی آواز پر اسکے قدم رکیں۔
تم لوگ کنٹینیوں کرو میں بعد میں آتا ہو۔! چہرے پر مسکراہٹ سجائے پھیکے پن کہتے ہوئے جانے لگا۔
آجاؤ ایسا کچھ نہیں ہے جیسا تم سمجھ رہے ہو.! ہلکے پھلکے انداز میں کہتے اسے روکا۔
بھائی.! کوئی کام تھا تو مجھے بتا دیں۔ لائبہ نے اپنی جگہ سے اٹھتے ہوئے پوچھا۔
وہ میں بس یہ پوچھنے آیا تھا کے طوبیٰ نے کچھ کھایا یا نہیں.؟ آزر نے وجہ بتائی۔
بھائی.! ابھی میں آپ کے پاس آنے ہی والی تھی، آپی نے صبح سے کچھ نہیں کھایا ابھی بھی میں کھانا لے کر گئی تھی پر آپی نے صاف منا کر دیا۔ لائبہ نے پریشانی سے بتایا جس پر اس کی فکر میں مزید اضافہ ہوا۔
ایک تو تمہاری آپی کا پتا نہیں کیا بننے گا، خیر تم لوگ کنٹینیوں کرو میں دیکھتا ہو اپنی والی کو۔
آپی لان میں ہیں۔! آزر جانے لگا تو لائبہ نے کہا۔
جانتا ہوں۔! تاسف سے کہتے وہاں سے نکلتا چلا گیا
وہاج.! بھائی نے ارحم کی باتوں کو سیریس تو نہیں لیا ہوگا اور وہ تصاویر جو ارحم نے دکھائی تھی. لائبہ کو ایک اور فکر نے آلیا۔
تمھیں آزر کی باتوں سے لگتا ہے وہ ایسی کسی بہودہ بات پر یقین کرے گا، اور وہ ساری تصاویر تو کوئی بھی دیکھ کر بتا سکتا ہے کہ فوٹو شوپ کیا گیا تھا۔ اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے سنجیدگی سے اسکی پریشانی کو دور کیا
اور آپ کو.؟ لائبہ نے وہاج کی جانب دیکھا۔
یہ بھی کوئی پوچھنے والی بات ہے لائبہ آف کورس مجھے یقین ہے، چلو اب باقی باتیں بعد میں پہلے کھانا کھاؤ.! پیار سے دیکھتے ہوئے کہا تھا
💛💛💛💛💛💛💛💛💛
لان میں تنہا جھولے پر بیٹھی آسمان میں غیر مرئی نکتے کو تکتے گم سم بیٹھی تھی جس پر آزر کے دل میں ٹیس سی اٹھی تھی۔
آزر کے قدم ایک پل کو رکے تھیں اسی وجہ سے اتنے دنوں سے طوبیٰ کے سامنے نہیں گیا تھا کہ اپنی متاعِ جاں کو اس حالت میں دیکھنے کی ہمت نہیں تھی۔
پھر کچھ سوچتے آزر آہستہ سے چلتے ہوئے طوبیٰ کے پاس جھولے پر بیٹھ گیا تھا جس پر اسنے نظریں اٹھا کر آزر کی اور شکواہ کن نظروں سے دیکھا رونے کی وجہ سے آنکھوں میں سرخ ڈورے بنے ہوئے تھیں بکھرے بال آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے رف حلیہ میں وہ کہیں سے بھی وہ طوبیٰ نہیں لگ رہی تھی جسے وہ یہاں لے کر آیا تھا۔
مل گیا آپ کو میرے لیے ٹائم.؟ اسکے چہرے پر نظریں جمائے طوبیٰ کے لہجے میں شکوہ کرتے ساتھ نمی گھل گئی تھی جس کا اسکے پاس کوئی جواب نہیں تھا دیتا بھی کیسے وہ خود پشیمان تھا کے اسکے ہوتے ہوئے طوبیٰ کو اتنا کچھ برداشت کرنا پڑ رہا تھا اور اسے خبر تک نہ ہو سکی۔
اگر تمھیں میرا آنا پسند نہیں آیا تو واپس چلا جاتا ہوں ویسے بھی تو تمھیں میرے ہونے یا نہ ہونے سے کون سا فرق پڑتا ہے۔ازر نے اسی لہجے میں جواب دیا۔
ازر کی بات سن کر طوبیٰ کی آنکھیں پھیلی تھی وہ کہاں عادی تھی آزر کے ایسے رویہ کی آنکھوں سے بے ساختہ آنسوں بہہ نکلے۔
تم کیا چاہتی ہو میں یہاں سے چلا جاؤں.؟ ازر نے طوبیٰ کی انکھوں میں آنسوں دیکھ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی برہم ہوا جس پر وہ نظریں چرا گئی
اور یہ تم کھانا کیوں نہیں کھا رہی ہو.؟ مجھے تکلیف پہچانے کیلئے کیا اتنا کافی نہیں کہ تم نے مجھ سے اپنی پروبلم چھپا کر مجھ غیر بنا دیا جو اب کھانا پینا بھی چھوڑ دیا ہے۔اب شکوہ کرنے کے باری آزر کی تھی۔
آپ کو فرق پڑتا ہے میرے کھانا کھانے یا نہ کھانے سے۔ وہ بھی دو بدو ہوئی۔
نہیں۔۔!! اسی کے انداز میں جواب دیتے وہ اٹھ کر جانے لگا
ازر کو جاتے دیکھ کر ایک بار تو اسے لگا جیسے اس کا دل بند ہو جائے گا۔
اسے قبل کے وہ جاتا طوبیٰ نے ازر کا ہاتھ پکڑ روک لیا اور بمشکل اٹھ کر ازر کے سامنے کھڑی ہوئی۔
اتنی جلدی آپ مجھ سے تنگ آگئے یا پھر ارحم کی کہیں باتوں پر یقین آگیا ہے اور مجھ سے دور جانے کے بہانے ڈھونڈ رہے ہیں۔ درد سے چور لہجے میں استفسار کرتے اسکے قدم لڑکھڑائے اسے پہلے کہ کے وہ گرتی ازر نے طوبیٰ کی کمر میں ہاتھ ڈال کر سہارا دے کر جھٹکے سے اپنے قریب کیا۔
کیا کہا ذرا پھر سے کہنا.؟ ازر نے طوبیٰ کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے جبڑے بھینچے۔
میں نے کہا کے آپ اتنی جلدی مجھ سے تنگ ہو گئے ہیں یا۔۔۔ سابقہ انداز میں کہتے آنکھوں سے درد صاف چھلک تھا۔
تم تھکتی نہیں ہو.! ایک ہی بات دہرا دہرا کر یا پھر تمھیں مزہ آتا ہے مجھے تکلیف پہنچا کر۔! کبھی اپنی پریشانی چھپا کر ، کبھی خود کو آئزہ کی موت کا زمیدار ٹھہرا کر اسے بھی دل نہیں بھرا تو یہ آنسوں بہا کر، کبھی کھانا چھوڑ کر اور اب یہ سب کہہ کر.! ازر نے ایک ایک کرکے گنواتے اسکے لہجے میں تلخی در آئی آزر کی آنکھیں جیسے خون جھلکنے لگی تھی طوبیٰ کو آزر کی انگلیاں اپنی کمر میں دھنستی ہوئی محسوس ہوئی تھی۔
ازر………. مجھے درد ہو رہا ہے۔ اسکے نگاہوں کی تپش کی تاب نہ لاتے نظریں جھکا کر مدھم آواز میں بولی۔
بس اتنا سا درد سہہ نہیں پائی جانم۔! اور میں جو تمہیں اتنے دنو سے اس حالت میں دیکھ تڑپ رہا ہوں اس کا کیا.؟ تمہارے یہ آنسوں جو مجھے تکلیف دے رہے ہیں اس کا کیا.؟ اور تم جو اس گھٹیا انسان کی وجہ سے خود کو آئزہ کی موت کا زمیدار سمجھ رہی ہوں اس کا کیا…….؟ مانا تمھارا درد بڑا ہے پر اس طرح رونے سے یا خود موردے الزام ٹھہرانے سے آئزہ واپس تو نہیں آئے گی.؟ خود کے قریب کرتے ایک ساتھ کئی سوال اٹھائے جس پر وہ کچھ نہ کہہ سکی۔
تمہارے یہ آنسو کتنی تکلیف دیتے ہیں جانتی ہونا پھر بھی؟
ازر نے ایک ہاتھ سے طوبیٰ کے گال پر بہتے آنسوں اپنی انگلیوں کے پورو پر چنتے اسکی آنکھوں میں دیکھا۔
اب کیوں زبان بند ہو گئی جواب چاہیے مجھے۔؟اسکے جھکے ہوئے چہرے کو انگشت سے ٹھوڑی کو اوپر کرتے ہوئے سوال کیا جس پر وہ کچھ نہ بولی
”کہیں بھی کچھ ہو جائے تم وہاں پہنچ جائے کرو یہ میری وجہ سے ہوا ہے اس کی زمیدار میں ہو کہہ کر.؟ اسکی خاموشی پر ازر نے طنز کیا۔
ایسا نہیں ہے آزر۔۔۔۔!! پلکیں جھکائے مدھم آواز میں اپنی صفائی پیش کرنی چاہیے۔
تو پھر کیسا ہے جانم.! بتانا پسند کریں گی.؟ جاننا چاہا
وہ میں ڈر گئی تھی۔۔!!
اور کس سے اور کیوں ڈر گئی تھی ذرا وجہ بتائے گی.؟
آپ سے اور۔۔۔!!
اور۔۔؟؟؟
اور آپ کو کھونے سے، اگر آپ اسکی باتوں میں آکر مجھ سے دور چلے جاتے، میں تو جیتے جی مر جاتی ازر۔۔! وجہ بتاتے اسکی آواز بھر آئی اور آنکھوں سے آنسوں بہہ نکلیں۔ تھیں جھکی ہوئی پلکوں سے اپنی صفائی پیش کرتی وہ اس حالت میں بھی اس کے دل میں طلاطم برپا کر گئی اسکا سارا غصّہ ساری ناراضگی ایک پل میں ہوا ہوئی تھی۔
”پہلے غلطی کرو اور پھر آخر میں جب میں غصّہ کروں یا ڈانٹو تو اس طرح اپنی باتوں کے جال میں الجھا لیا کرو۔! بات نہیں کرنی میں نے تم سے، تم جانتی ہو کتنی تکلیف دی ہے تم نے مجھے۔ آزر نے آنکھوں میں شرارت لئے مصنوئی خفگی دیکھائی۔
آئی ایم سوری.! جہاں بھر کی معصومیت سموئے بولی تو رہی سہی ناراضی بھی جاتی رہی۔
اتنی آسانی سے معافی نہیں ملے گی تمھیں اپنے کیے کی سزا بھگتنی پڑے گی۔ ازر نے طوبیٰ کے گال پر اپنا لمس چھوڑتے شوخی سے کہا۔
ہم اپنے گھر نہیں ہیں کوئی دیکھے گا تو کیا سوچے گا۔اسکے لمس پر شرم سے لال ہوئی۔
تو پھر گھر چلتے ہیں وہاں تو کوئی نہیں دیکھے گا۔ ازر نے شرارت سے کہا
ازر….. بہت برے ہیں آپ۔ سو سو کرتے ازر کے کندھے پر مکا مارتے روہانسی ہوئی۔
پہلے کچھ کھا لو پھر بتاؤ گا کے میں کتنا برا ہو.! جھولے پر بیٹھاتے نرمی سے اسکے آنسوں صاف کیے۔
تم بیٹھو میں آتا ہو.! پیارے سے کہتے وہ اسکے لیے کھانا لینے گیا۔
💛💛💛💛💛💛💛
آئزہ کی موت کو مہینہ ہونے کو تھا لیکن طوبیٰ کی حالت دن بہ دن مزید خراب ہو رہی تھی آزر کا سمجھانا بھی وقتی اثر کرتا تھا اب تو پینک اٹیک بھی آنے لگے تھیں جس کی وجہ سے سبھی بہت پریشان تھیں۔
آزر سائرہ اور آریان صاحب کے پاس لاؤنچ میں بیٹھا تھا۔
”آنکل نہ تو یہ وقت اور نہ مجھے کہنے کی ضرورت جو بھی ہو رہا ہے سب آپ کے سامنے ہے، طوبیٰ کی حالت دن بہ دن بگڑتی جارہی ہے آپ کو یوں تنہا چھوڑ کر جانے کا دل نہیں کر رہا، ایسا کریں آپ اور آنٹی بھی ہمارے ساتھ ہی چلیں مجھے نہیں لگتا طوبیٰ یہاں رہ کر ٹھیک ہو گی جب بھی وہ کمرے میں جاتی ہے اس کی حالت خراب ہو جاتی اب تو وہ مجھ سے بھی نہیں سنبھلتی۔ ازر پریشانی سے کہا۔
”بیٹا ہمیں بھی نظر آرہی ہے طوبیٰ کی حالت، میں بھی تم سے بات کرنے کا سوچ رہی تھی تم اسے یہاں سے لے جاؤ ہماری فکر نہیں کرو ہم نے آئزہ کی موت کو اکسیپٹ کر لیا ہے ارحم نے جو کیا ہم کبھی سوچ بھی نہیں سکتے تھے، میری ایک بیٹی کو مرنے پر مجبور کر دیا اور دوسری کو ڈیپریشن کا مریض بنا دیا اللّٰہ ہی انصاف کرے گا ہم نے اپنا معاملہ اللّٰہ کے سپرد کر دیا ہے وہ بہتر انصاف کرنے والا ہے۔سائرہ نے نم لہجے میں آنکھوں میں آنسوں لئے کہا۔
آنٹی.! آپ فکر نہیں کریں میں اپنی بیوی کو بہت جلد اس ڈیپریشن سے نکال لو گا آپ بس مجھ پر پر بھروسہ رکھیں۔ آزر نے سائرہ کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر حوصلہ دیا تھا.
کیا ہوا نوری.! کھانا واپس کیوں لے آئی.؟ سائرہ نے نوری کے ہاتھ طوبیٰ کے کمرے میں کھانا بھیجا تھا۔
بیگم صاحبہ.! وہ بی بی جی اپنے کمرے میں نہیں ہیں۔ نوری نے وجہ بتائی۔
اس ٹائم کہاں جا سکتی۔؟ آزر اپنی گھڑی میں ٹائم دیکھتے ہوئے کہا جو رات کے نو بجا رہی تھی۔
پتا نہیں صاحب جی لان میں بھی دیکھا کمرے میں بھی دیکھا وہ کہیں نہیں تھی۔ نوری تفسیل بتائی۔
ازر فوراً سے اپنی جگہ سے اٹھا اور سائرہ اور آریان صاحب بھی پریشان ہوئے۔
آپ روکیں میں دیکھتا ہو ازر نے مضطرب ہوتے ہوئے کہا اور طوبیٰ کے کمرے کی طرف بڑھا آزر نے دروازہ کھولا تو پورا کمرا اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا ازر نے جیسے ہی لائٹ اون کی طوبیٰ کی آواز اسکی سماعتوں سے ٹکرائی۔
نہیں……! میں تمہارے ساتھ
نہیں…..!! جاؤ گی.! آزر …!! ازر۔۔۔!! مجھے بچا لیں یہ مجھے لے جاۓ گآ ازر۔۔!! طوبیٰ کی آواز پر آزر اس تک پہنچا تھا جو کمرے کے کونے میں فرش پر سمٹ کر اپنے گھٹنوں میں منہ دے کر بیٹھی چیختے ہوئے ایک جانب اشارہ کر رہی تھی
کیا ہوا طوبیٰ تم یہاں کیوں بیٹھی ہو.؟ تیزی سے اسکی اور آتے پنجوں کے بل بیٹھا۔
ازر مجھے بچا لیں وہ لے جائیگا ازر وہ جھوٹا ہے میں اسے نہیں پسند کرتی، آزر وہ جھوٹا ہے وہ جھوٹ کہہ رہا ہے ، آپ کو یقین ہے ناں مجھ پر ۔! آزر وہ آپ کو مجھ سے چھین لے گا ازر مجھے بچا لیں۔ ہذیانی انداز میں کہتے وہ آزر کو اپنی بات کا یقین دلا رہی تھی اسکی حالت دیکھ آزر کا دل ڈوبنے لگا
طوبیٰ۔۔۔!! طوبیٰ۔۔۔!! ادھر دیکھو میری طرف
طوبیٰ۔۔۔!! کوئی نہیں ہے یہاں۔ کندھوں سے پکڑ کر جھنجھوڑا۔
ادھر دیکھو کوئی نہیں ہے، میں تمہارا آزر مجھے تم سے کوئی دور نہیں کر سکتا کوئی نہیں۔ اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے سابقہ انداز برقرار رکھا مگر وہ تو کچھ سننے سمجھنے کی حالت میں ہی نہیں تھی۔
”وہ دیکھیں۔! آزر وہ بیٹھا کرسی پر ہنس رہا ہے، میری بے بسی پر آزر وہ مجھے لے جائیگا وہ مجھے گندہ کر دے گا، مجھے بچا لیں ازر۔ ایک جانب اشارہ کر کے حواس باختگی سے بولی۔
”کوئی، نہیں ہے یہاں.!! وہ دیکھو کوئی نہیں ہے، یہ سب تمہارا وہم ہے میرے ہوتے ہوئے وہ یہاں کبھی نہیں آ سکتا یقین ہے ناں تمھیں اپنے آزر پر؟۔ آزر نے اپنی بات پر زور دیتے اسے یقین دہانی کرتے ہوئے پوچھا تو اثبات میں سر ہلاتے وہ اسکے سینے سے لگ گئی۔
چلو آؤ اوپر بیٹھ کر بات کرتے ہیں۔ ازر نے طوبیٰ کو اٹھا کر بیڈ پر لیکر آیا۔
آزر آپ میرے پاس ہی رہے مجھ سے دور مت جائیں.! بیڈ پر بیٹھا کر اٹھنے لگا تھا کہ طوبیٰ نے ہاتھ پکڑ لیا۔
جان میں کہیں نہیں جا رہا یہی ہو تمہارے پاس.! یہ پانی پیو سائیڈ ٹیبل پر رکھے جگ سے گلاس میں پانی نکال کر اسکی اور بڑھایا جس دیکھتے ہی طوبیٰ کی آنکھوں میں خوف کے سائے لہرائے جھٹکے ہاتھ مارتے گلاس خود سے دور پھینکا تھا
دد.. دور.!! کریں اسے مجھ سے یہ خون ہے آئزہ کا خون.! وہ دیکھیں، آزر آئزہ کا خون بہہ رہا ہے، آزر وہ مر جائیگی آزر آئزہ کو بچا لیں۔ ہذیانی انداز میں کہتے وہ اپنے حواس کھوتے اسکی بانہوں میں جھول گئی۔
💛💛💛💛💛💛💛
”طوبیٰ کی حالت کے پیشے نظر وہ اسے گھر لے آیا تھا مگر اسکی حالت میں کوئی واضح فرق نہیں پڑا تھا البتہ اب بالکل خاموش ہو گئی تھی جس پر آزر کافی پریشان تھا مگر ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ اسے اس فیض سے نکلنے میں کچھ وقت درکار ہوگا اسی لیے وہ اسے زیادہ کچھ کہتا نہیں تھا۔
کمرے کی ڈیم روشنی میں رات کے کھانے کے بعد طوبیٰ بیڈ کی پشت سے سر ٹکائے نظریں سامنے چل رہے ایل ای ڈی پر جمائے وہ کسی اور ہی دنیا میں گم تھی جس پر کوئی فلم چل رہی تھی پاس ہی آزر اپنے لیپ ٹاپ پر کچھ ضروری ای میلز چیک کر رہا تھا کہ طوبیٰ نے ریموٹ سے ایل ای ڈی بند کرتی آزر کی جانب متوجہ ہوئی جو اپنے کام مصروف تھا۔
بند کریں.! طوبیٰ نے ہاتھ بڑھا کر لیپ ٹاپ کی سکرین بند کی
جان.! بس دو منٹ، یہ ایک امپورٹینٹ میلز۔۔۔!!
مجھ سے زیادہ امپورٹنٹ ہیں.؟ اسیکرین سیدھی کرتے وہ کچھ کہنے ہی لگا تھا کے طوبیٰ نے اسکی اور دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے سوال کیا تو بغیر کسی حجت کے لیپ ٹاپ بند کر کے سائیڈ ٹیبل پر رکھتے اپنی پوری توجہ اسکی جانب مبذول کی۔
کتنی ہی امپورٹنٹ کیوں نہ ہو تم سے ضروری تو کچھ نہیں.! اسی انداز میں کہتے کچھ نہیں پر زور دیا جس کے جواب میں بنا کچھ کہے وہ کسی ڈرے سہمے بچے کی مانند اسکے سینے سے لگتی اسکے گردن کے گرد بازوں حائل کر گئی اس غیر متوقع عمل پر وہ متعجب ہوا۔
کیا ہوا جان.؟ اسکے گرد بازوں حائل کرتے کندھے کو سہلاتے آزر کو اسکی فکر ہوئی۔ مگر وہ بنا کچھ کہے یونہی اسکے گلے لگی رہی۔
آزر۔! میرے بے قرار دل کو کہیں چین نہیں آرہا، ایسا لگ رہا کہ میرا سر پھٹ جائے گا، آزر میں پاگل ہو جاؤ گی جیسے ہی آنکھیں بند کرتی ہوں ارحم کا مکروہ چہرہ میرے سامنے آجاتا ہے، آئزہ کی چیخے مُجھے سونے نہیں دیتی میں کیا کروں کچھ سمجھ نہیں آرہا۔ آہستہ سے الگے ہوتے مدھم آواز میں اپنے اندر چلی رہی الجھنوں کو الفاظ دیے جس پر آزر کی فکر میں مزید اضافہ ہوا جسے اسنے ظاہر نہ ہونے دیا۔
”جان.! ایسا کچھ نہیں ہے بس تم زیادہ سوچ رہی ہو ناں.! اس لیے تمھیں ایسا لگ رہا ہے، اگر تم یہ سب سوچنا چھوڑ دوگی تو خودبخود سب نارمل ہو جائے گا۔ اسکے گال پر ہاتھ رکھتے نرمی سے سمجھانے کی سعی کی تو ایک آنسوں ٹوٹ کر اسکے گال پر پھسل گیا۔
اچھا چھوڑو یہ سب ہم کہیں باہر چلیں.؟ لونگ ڈرائیو یا پھر ساحل سمندر.؟ آزر نے بات بدلی۔
نہیں مجھے کہیں نہیں جانا بس آپ میرے پاس رہے۔ سینے سے لگتی ردنھی ہوئی آواز میں بولی
میں بھی تو ساتھ ہی چلوں گا، اکیلے تھوڑی جانے دونگا اپنی جان کو کہی۔ اسکا موڈ صحیح کرنے کی خاطر ہلکے پھلکے انداز میں گویا۔
پھر بھی مجھے کہیں نہیں جانا۔!
اچھا تو پھر آئس کریم کھاو گی.؟
آئس کریم۔؟
”ہمم.! یاد ہے لائبہ کی انگیجمنٹ والے دن تم کتنی آئس کریم کھا رہی تھی زبردستی لی تھی تم سے۔ آزر نے جیسے یاد دلایا۔
میرا آئس کریم کھانا تو اچھے سے یاد ہے، کیا اپنا گھورنا بھی یاد ہے کس طرح آپ مجھے گھور رہے تھے.؟ اسنے بھی ترکی بہ ترکی یاد دلایا۔
وہ یہی تو چاہ رہا تھا کے کسی طرح وہ اسکے زہن سے وہ ساری باتیں نکالے چاہے کچھ پل کے لیے ہی سہی۔
”اچھا میرا گھورنا یاد مگر میں نے جو کہا تھا وہ بھول گئی.؟۔ اسے لیٹا کر کہنی فولڈ کر ہتھیلی پر سر ٹکاتے سوال کیا نگاہوں کا مرکز وہی چہرا تھا۔
جی نہیں.! اچھے سے یاد جو اپنے کہا تھا، البتہ آپ کے کہے الفاظ کی وجہ سے کتنی راتیں جاگ کر گزاری یہ آپ بھی نہیں جانتے۔ منہ بناتے اسنے گویا انکشاف کیا۔
وہ کیوں.؟ آزر کو جان کر حیرت ہوئی۔
کیا مطلب کیوں.؟ اس طرح کوئی کسی پر حق جماتا ہے بھلا جس طرح آپ نے جمایا تھا، تم میری ہو میری رہو گی اور میں تمہیں اپنا بنا کر رہو گا چاہے تم چاہو یا نہ چاہو.! اسکی شرٹ کے بٹن سے کھیلتے منہ پھلا کر اسکی کہی بات دہرائی اسکی بات اور انداز پر آزر کے چہرے پر دلفریب مسکراہٹ نمودار ہوئی۔
تو کیا ایسا نہیں ہے.؟ اسکے بالوں سے چھیڑ کھانی کرتے نظریں اسکے چہرے پر ٹکائے معنیٰ خیز انداز میں سوال کیا جس پر وہ نظریں چرا گئی۔
تم میری ہو جان.! اور ہمیشہ میری ہی رہو گی۔! ذرا سا جھک کر گھمبیر انداز سرگوشی کی جس پر طوبیٰ کی دھڑکنیں تیز ہوئی تو اسکے سینے پر ہاتھ رکھتے فاصلہ بنانے کی کوشش جسے وہ اپنے ہاتھ میں لیتے انگلیوں میں انگلیاں پھنساتے تکیہ پر رکھتے اس پر جھکتے اسے خود میں الجھا لیا۔
Instagram
Copy link
URL has been copied successfully!

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

کتابیں جو آپ کے دل کو چھوئیں گی

Avatar
Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial