ادھورے خواب

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

قسط: 31

رات کے آخری پہر پسینے سے بھیگی ہوئی اضطرابی کیفیت میں دائے بائے سر ہلاتے وہ شاید کوئی برا خواب دیکھ رہی تھی جس کے آثار اسکے چہرے پر نمایاں تھیں۔
چھوڑ دو مجھے میں نہیں جاؤ گی، ازر مجھے بچا لیں یہ مجھے آپنے ساتھ لے جائے گی آزر.! آئزہ مجھے لے جائیگی
میں نے کچھ نہیں کیا آئزہ مجھے چھوڑ دو میں نہیں جاؤ گی تمہارے ساتھ ازر مجھے آئزہ اپنے ساتھ لے جاۓ گی مجھے بچا لیں
آزر۔۔۔!! آزر۔۔۔!! چیختے ہوئے اٹھ بیٹھی تھی۔
کیا ہوا طوبیٰ ازر نے فورا سے لائٹ اون کرتے اسکی اور دیکھا جو پسینے سے شرابور تیز تیز سانس لے رہی تھی۔
کیا ہوا جان.! اسکی حالت کے پیشے نظر آزر فوراً سے اسے خود میں بھنچ لیا۔
ازر وہ مجھے لے جائیگی اسے کہے میں نے کچھ نہیں کیا.! آئزہ مجھے لے جائیگی. ازر کے سینے سے لگے جنونی انداز میں وہ بس ایک بات کہے جا رہی تھی۔
جان یہاں کوئی نہیں ہے ہم اپنے گھر میں ہیں یہاں کچھ نہیں ہے ۔ بالوں میں انگلیاں چلاتے اسنے نرمی سے سمجھانے کی کوشش کی مگر وہ تو کچھ سننے کو تیار ہی نہیں تھی۔
نہیں آزر وہی ہے، وہ دیکھیں وہ وہاں.؟ آئزہ مجھے بھی مار دے گی ازر مجھے بچا لیں۔ اسکے سینے لگے ہاتھ اٹھا کر کہتی وہ بری طرح کانپ رہی تھی۔
نہیں جان یہاں کوئی نہیں ہے،آئزہ مر گئی ہے اور مرے ہوئے لوگ واپس نہیں آتے، دیکھو میری طرف.! ادھر دیکھو میری طرف کوئی نہیں ہے یہاں اور میرے ہوتے ہوئے کوئی تمہیں مجھے دور نہیں لیجا سکتا تمہیں یقین نہیں مجھ پر۔؟ اسکا چہرہ اپنی اور کرتے سنجیدگی سے سمجھاتے سوال کیا۔
آزر آپ نہیں سمجھ رہے ہیں.! وہ مجھے لے جائیگی وہ مجھے لے جائیگی، مجھے نہیں جانا آزر مجھے بچا لیں۔! روتے ہوئے وہ بس ایک ہی بات کی رٹ لگائی تھی۔
”کوئی نہیں لیجا سکتا تمھیں مجھ سے دور.! تم میری ہو.! میں تمھیں کہی نہیں جانے دونگا۔ اسے خود میں بھنچتے ٹرانس کی کیفیت میں کہتے وہ جیسے خود کو یقین دلا رہا تھا۔
طوبیٰ۔۔۔!! طوبیٰ۔۔!! سینے لگی وہ ایک طرف ڈھلکی تو آزر نے بے قراری سے اسکے گال تھپتھاتے ہوئے پکارا مگر وہ تو اپنے ہوش خرد سے بیگانی اسکی بانہوں میں جھول گئی تھی۔
طوبیٰ میں تمھیں کچھ نہیں ہونے دونگا تمہیں خود کو سنبھالنا ہو گا میرے لیے، ہمارے لیے۔ اسکی حالت دیکھ وہ تڑپ کر ہی تو رہ گیا تھا۔
احتیاط سے لیٹا کر اس پر کمفرٹ درست کرتے آزر نے ڈاکٹر کو کال کی اور خود طوبیٰ کو ہوش میں لانے کی کوشش کرتا رہا لیکن وہ تو جیسے کسی اور ہی دنیا میں چلی گئی تھی۔
💛💛💛💛💛💛💛💛💛
”کیا ہوا میری وائف کو.؟ ڈاکٹر کے کمرے سے نکلتے ہی آزر تیزی سے آگے بڑھا۔
آپ کی وائف نے کسی بات کی بہت اسٹیرس لیا ہے، کسی بات کا خوف ہے جو ان کے دل اور دماغ میں گھہرا اثر کر رہا ہے لیکن اس حالت میں ان کا اتنا اسٹیرس لینا ٹھیک نہیں۔ ڈاکٹر نے پروفشنل انداز میں بتایا جو اس کی پریشانی میں مبتلا کر گئی۔
کیا مطلب کیسی حالت.؟ وہ سمجھا نہیں۔
آپ کی وائف اکسیپکٹ کر رہی ہیں.! اور اس لیۓ آپ کو اپنی وائف کا بہت خیال رکھنا پڑے گا، اگر یہی حال رہا تو تو آگے جا کر یہ ماں اور بچے دونوں کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔ ڈاکٹر کی اگلی بات نے اسے جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا جس خبر کو سننے کے لیے وہ بے قرار تھا وہ خبر اسے اس طرح ملے گی اسنے سوچا بھی نہیں تھا۔
جی۔۔! ازر کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ کیسے ریئاکٹ کرے خوش ہونا چاہتا تھا لیکن ڈاکٹر کی باتو سے پریشان ہو گیا تھا۔
جی اب میں چلتی ہو کچھ دوائیں لکھ دی ہیں، پھر بھی صبح ایک بار آپ انھیں ہاسپٹل لے آئے تاکہ پروپر چیک اپ ہو جائے۔ وہ اپنی ہی سوچوں میں گم تھا کہ ڈاکٹر اپنی بات مکمل کرتے وہاں سے جا چکی تھی۔
💛💛💛💛💛💛💛💛
”صبح طوبیٰ کی آنکھ کھلی تو مندھی مندھی نظروں سے آزر کو اپنے سرہانے بیٹھا دیکھ بھک سے اسکی نیند اڑی تھی۔
آہستہ سے اٹھ کر بیٹھتی بالوں کا جوڑا بناتے اسے اپنے رات والی باتیں یاد آئی اور آنکھوں میں نمی اتر آئی گلے میں گولا سا ابھر کر معدم ہوا بال ہاتھ سے چھوٹ کر کمر پھیل گئیں۔
آئی ایم سوری.! ازر میری وجہ سے آپ کو اتنی پریشانی اٹھانی پڑ رہی ہے ۔ کھسک کر اسکے پاس ہوتے ازر کے بال ماتھے سے ہٹاتے ہوے اپنا شدت سے بھرا لمس چھوڑتے آزر پر کمفرٹ درست کیا۔
اور آہستہ سے بیڈ اترنے لگی تھی کہ ازر نے کلائی تھام کر اپنی طرف کھینچا اور وہ سیدھی ازر کے سینے سے لگی تھی۔
آپ تو سو رہے تھیں۔؟ وہ متعجب ہوئی۔
کیوں جان.! مجھے سوتا چھوڑ کر کہاں جانے کا اردہ ہے.؟ بال کان کے پیچھے اڑیستے ہوے پیار لوٹتی نظروں سے دیکھتے جواب دینے کے بجائے الٹا سوال کیا رات اسکی کہی باتوں کا کافی گہرا اَثر ہوا تھا جسے فل وقت ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا۔
میں نے کہاں جانا ہے میں تو بس ویسے ہی پوچھ رہی تھی، ویسے آپ مجھے ایسے کیوں دیکھ رہے ہیں.؟ اسکی آنکھوں میں الگ سی چمک دیکھ پوچھ بیٹھی۔
”کیوں اب میں اپنی ذاتی بیوی کو دیکھ بھی نہیں سکتا۔ ایک ہاتھ سر کے نیچے رکھتے دوسرا ہاتھ کمر میں ڈال کر اسے اپنے قریب کرتے وہ اسے زہنی الجھنوں سے دور رکھنے کی تگ و دو میں تھا۔
آج آپ بہت خوش لگ رہے ہیں، سب ٹھیک تو ہیں ناں.؟ طوبیٰ نے استفسار کیا اسے لگا تھا رات کی وجہ سے آزر پریشان ہوگے مگر یہاں تو سب الٹ ہو رہا تھا۔
”جان.! بات ہی ایسی اگر تمہیں پتا چل جائے تو تم بھی خوشی سے ہواؤ میں اڑنے لگو گی، میری خوشی تو جان نہیں سکتی میرا دل کر رہا ہیں تمہیں اپنی بانہوں میں چھپا لوں۔ تجسّس پھیلاتے طوبیٰ کو اپنے حسار میں لیتے خوشی اسکے ہر انداز سے چھلک رہی تھی ۔
آزر یہ کیا کر رہے ہیں آپ.؟ اسکی بڑھتی جسارتو پر وہ شرم سے لال ہوئی۔
”ابھی تو میں نے کچھ کیا ہی نہیں جانم آج تو میرا دل چاہ رہا ہے یہ پل یہی ٹھہر جائے۔ گردن پر لب رکھتے سرشاری سے سرگوشی کی اسکی خوشی پر وہ تھوڑی متعجب ہوئی۔
آزر بتائے ناں کیا بات ہے۔ جھنجھلا کر اٹھتی اس کی قربت پر اسکی سانسیں تیز ہوئی۔
بتاتا ہو بتاتا ہو تھوڑا سا صبر کرو.!پہلے مجھے خود تو یقین کر لینے دو کے آیا یہ سچ ہے یا خواب.! کھنچ کر واپس اپنے حسار میں لیا
آزر مجھے بھوک لگ رہی ہے۔ اسے پٹری سے اترتا دیکھ بہانا تراشا۔
یہ غلط بات ہے جان.! یہاں میں تمھیں اتنی امپورٹنٹ بات بتا رہا ہوں اور تمھیں کھانے۔۔!!
اوو سوری.! سوری.! ایسی حالت میں تو ویسے بھی بھوک زیادہ لگتی ہوگی۔ وہ کچھ کہنے لگا تھا کہ یک یک اٹھ گیا طوبیٰ کو اسکی ذہنی حالت پر شبہ ہوا تھا کہا تو اسے طوبیٰ کے لیے پریشان ہونا چاہیے تھا اور کہا اسکی خوشی سنبھالے نہیں سنبھل رہی تھی۔
ایسا نہیں تھا کے وہ پریشان نہیں تھا بس وہ اپنی فکر چھپا کرکے اسے ذہنی اذیت سے بچانا چاہتا تھا اسکا تو بس نہیں چل رہا تھا کہ دنیا جہاں کی خوشیاں لا کر اسکے قدموں میں رکھ دے مگر اس وقت وہ یہی کر سکتا تھا کہ کسی طرح اسے اس ڈپریشن سے نکالے تا کہ اسکی بیوی اور آنے والا بچے کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔
آج میں خود اپنی بیوی کو تیار کرو گا۔ بیڈ سے نیچے اترتے اس جانب آیا۔
کیا بات ہے، آزر آپ بتاتے کیوں نہیں آخر بات کیا ہے، مجھے آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی.؟ اسے جاننے کا تجسّس ہوا
”جان.! بتاتا ہوں پہلے فریش ہو کر کچھ کھا لو.! تمھیں بے شک بھوک نہ لگی ہو.! مگر آنے والے مہمان کو تو بھوکا نہیں رکھنا چاہیے اتنی دیر.؟ اسکے کی بات کا سیدھا جواب دینے کے بجائے بات کو گول مول گھمایا جسے وہ سمجھنا پائی۔
کوئی مہمان آرہا ہے.؟ اسنے پوچھا تو آزر نے انجان بنتے کندھے اچکائے۔
اگر آپ نہیں بتا رہے تو ٹھیک مت بتائے، مجھے بھی نہیں جاننا۔ خفگی سے کہتے فریش ہونے میں مدد کے لیے بوا کو بلانے کی غرض انٹر کوم اٹھایا۔
جان.! ابھی تو کہا میں خود اپنی بیوی کو تیار کرو گا اور صرف آج ہی نہیں، اب سے تمھیں جو کام ہو مجھ سے کہوگی۔ ہاتھ سے انٹر کوم لیتے حکمیہ انداز میں گویا ہوا۔
لیکن آپ کیسے.؟ طوبیٰ نے جھجھکی۔
ایسے۔! جھک کر اپنی بانہوں میں بھر لیا۔
جان آج سے تمہیں کسی بھی کام کیلے کسی دوسرے پر ڈیپنٹ ہونے کی ضرورت نہیں، آج سے تمھارا یہ خادم اپنی بیوی کی خدمت میں ٹوئنٹی فور آوار دستیاب ہوگا۔ اسے لیے واشروم کی اور بڑھتے نظریں اسکے چہرے پر گاڑھے سنجیدگی سے بولا۔ اور وہ محض اسے دیکھ کر رہ گئی۔
💛💛💛💛💛💛💛💛💛
”آپ یہاں کیا کر رہی ہیں.؟ اب کیا چاہئے آپ کو.؟ آپ کے بیٹے کو ہمارا گھر برباد کر کے سکون نہیں ملا جو آپ پھر آگئی ہیں. سائرہ نے قدسیہ بیگم کو دیکھتے ہوۓ تلخ لہجے میں کہا اور آنکھو سے آنسوں بہہ نکلیں۔
نہیں سائرہ.! ایسا بالکل نہیں ہے، صرف ایک تمہارا گھر برباد نہیں ہوا میرا بھی گھر برباد ہوا ہے،میری بہوں دنیا سے چلی گئی میرا بیٹا جیل میں ہے، میں اس عمر میں جوان بیٹے کی تلاش میں در بدر ہو رہی ہو اور تم مجھے ہی قصور وار ٹھہرا رہی ہو.! قدسیہ بیگم نے صوفے سے اٹھتے ہوئے اپنا موقف سامنے رکھا۔
آپ کو قصور وار نہ کہوں تو پھر اور کسے کہوں.؟ سائڑہ جو ابھی ابھی اپنے کمرے سے باہر نکلی تھی قدسیہ بیگم کو دیکھ کر انکا دکھ جو کم تو نہیں ہوا تھا مگر قدسیہ بیگم کو دیکھ انکے اسے درد میں کئی گنا اضافہ ضرور ہوا
”وہ اپاہج ہے قصو۔۔۔!!!
بس قدسیہ بیگم بس.؟ اس قبل کے وہ کچھ کہتی سائرہ نے اس پہلے ہی قدسیہ بیگم کو روک دیا تھا
بہت بول چکی، اب اور نہیں۔! آپ میری بیٹی کو اپاہج نہیں کہے گی میری بیٹی تو پیرو سے معذور ہے، آپ کا بیٹا تو دماغی طور پر مفلوج ہے اور آپ کو اس بات کا احساس تک نہیں، میری بیٹی نے کسی کی ذندگی خراب نہیں کی، آپ کے بیٹے نے میری دونوں بیٹیوں کی زندگی خراب کر دی ایک کو تو اپنی جان لینے پر مجبور کر دیا اور دوسری کو ڈیپریشن کا مریض بنا دیا۔ بنا کسی لحاظ کے وہ انھیں آئینہ دیکھانے لگی۔
تم مجھے غلط سمجھ رہی ہو سائرہ.! میرے کہنے کا وہ مطلب نہیں تھا، مگر تم خود سوچو ارحم نے اپنی مرضی سے آئزہ سے شادی کی وہ تو بہت محبت کرتا تھا آئزہ سے، وہ تو اس اپاہ……..!! میرا مطلب ہے کہ طوبیٰ نے ہی اپنی معصوم شکل اور خوبصورتی کے جلوے دیکھا دیکھا کر میرے بیٹے کو ورغلایا، نہیں تو تم خود بتاؤ کہ ارحم بھلا ایسا کیوں کرے گا۔ قدسیہ بیگم لفظوں کا جال بنتے سارا الزام طوبیٰ کے سر ڈالنے کی کوشش کی۔
”اگر آپ کے بیٹے نے آئزہ کو اتنا ہی خوش رکھا ہوا تھا.؟ اتنی ہی محبت تھی آئزہ سے آپ کے بیٹے کو تو پھر میری بیٹی نے خودکشی کیوں کی.؟ اگر وہ اتنا ہی سچا تھا تو پھر طوبیٰ کے کمرے میں کیا کرنے گیا تھا.؟ کیوں آپ اپنے بیٹے کو سچا ثابت کرنے پر تلی ہوئی ہیں، ہم سب آپ کے بیٹے کا اصلی چہرا اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہیں ،آپ کسے بیوقوف بنانے آئی ہیں۔ ایک کے بعد ایک سوال کرتی سائرہ غصے سے پھٹ پڑی تھی۔
کیا ہو گیا سائرہ کس سے باتیں کر رہی ہو.؟ آنکھوں پر چشمہ درست کرتے آریان صاحب نے اپنے کمرے سے باہر نکلتے پوچھا۔
آپ۔۔!! یہاں کیا کر رہی ہیں.؟ آپ کو اندر کس نے آنے دیا۔ اس قبل کے سائرہ کچھ بتاتی آریان قدسیہ بیگم کو دیکھ غصّہ کو ضبط کیا
”بھائی صاحب آپ کیوں کر رہے ہیں یہ سب، ارحم آپ کے ہاتھوں کا بچہ ہے، اور آپ سب نے اسے اپنی ہی بیوی کا قاتل کرار دے کر جیل بھیج دیا میرے لیے اس گھر کے دروازے بند کر دیے، میں اکیلی عورت کہا جاؤ کس سے مدد مانگو، آپ لوگو کے سوا تو میرا ہے بھی کوئی نہیں، اور آپ لوگو نے بھی آنکھیں سر پر رکھ لی، اور جیل میں بھی کوئی مجھے ارحم سے ملنے نہیں دے رہا میں کہا جاؤ میرا تو ایک ہی جینے کا آسرا ہے، ارحم ہی میرے جینے کی وجہ ہے بھائی صاحب آپ جانتے تو ہے پلیز آپ اتنے سخت دل نہ بننے مجھے میرے بیٹے سے تو ملنے دیں۔ آریان صاحب کو دیکھتے ہی قدسیہ بیگم نم لہجے میں آنکھوں میں آنسوں لیے دہائی دینے لگی۔
”دیکھے قدسیہ بہن.! میں آپ کی بہت عزت کرتا تھا میں نہیں چاہتا کہ میں غصے میں کچھ ایسا ویسے کہہ دوں.! اس لیے بہتر یہی ہے کہ آپ یہاں سے چلی جائے، ہم آپ کے لیۓ کچھ نہیں کر سکتے اگر بات صرف میری بیٹیوں کی ہوتی تو شاید میں آپ کی خاطر معاف کر ہی دیتا مگر یہ سب کچھ آزر دیکھ رہا ہے اس کی عزت پر آپ کے بیٹے نے ہاتھ ڈالنے کی کوشش کی ہے، اور وہ آپ کے بیٹے کو کبھی معاف نہیں کرے گا۔ مٹھیاں بھینچ آریان صاحب نے خود کو سخت الفاظ استعمال کرنے سے گریز کیا تھا۔
پلیز بھائی صاحب.! آپ بات کریں ناں آزر سے میرا گھر اجڑ گیا ہے میں در در کی خاکہ چھان رہی ہوں، لیکن کوئی میرا پرسان حال نہیں کسی کو نہیں پتا میرا بیٹا کہاں ہے؟
اپنی بیٹی جیسی بہوں کو تو کھو چکی ہوں اب اپنے بیٹے کو کھونے کی ہمت نہیں ان بوڑھی ہڈیوں میں اور کچھ نہیں تو میری عمر کا ہی کچھ لحاظ کر لیں۔ قدسیہ بیگم آج کسی طور پر اپنی بات منوانے کا ارادہ رکھتی تھی۔
”بہن آپ روئے مت کیوں کہ میرے ہاتھ میں کچھ نہیں میں کچھ نہیں کر سکتا، اگر آپ میں ہمت ہے تو آپ خود بات کر لیں آزر سے، لیکن میں آپ کو بتا رہا ہوں کوئی فائدہ نہیں ہو گا، طوبیٰ کی جو حالت کی ہے ناں آپ کے بیٹے نے آزر کبھی معاف نہیں کرے گا ارحم کو.! صاف گوئی سے کام لیتے مشورہ دینے کے ساتھ ہی حالات سے آگاہ بھ کر دیا۔
اچھا پھر میں چلتی ہو.! اپنا کام ہوتا نہ پا کر مزید بحث نہ کی۔
💛💛💛💛💛💛💛💛💛💛💛💛
”آزر میں نے کہا ناں میں کر لو گی آپ خوامخواہ۔۔۔!!
جان چپ کر کے بیٹھو اور مجھے میرا کام کرنے دو۔ پورے انہماک سے طوبیٰ کے بالوں میں برش کرتے طوبیٰ کی بات مکمل ہونے پہلے سختی سے ٹوکا
آزر یہ کام آپ کا نہیں ہے، اور بوا ناشتہ لے کر آتی ہو گی وہ کیا سوچے گی کے میں اپنے بالو میں برش بھی نہیں کر سکتی۔ ایک بار پھر آزر کے ہاتھ سے برش لینے کے کوشش کی۔
جان.! مجھے کسی کی پروا نہیں آج تو ویسے بھی میں بہت خوش ہوں آج جس کو جو کہنا ہے کہنے دو.! ہیئر برش رکھتے وہ بلو ڈرائیر کی جانب متوجہ ہوا اور طوبیٰ شیشے سے آزر کو دیکھا تھا جو پوری دلجمعی سے اسکے بال ڈرائی کرتے اسکے دل میں اتر رہا تھا
ایسے کیا دیکھ رہی ہو.؟ خود کو دیکھتا پا کر آئی بروز اچکائی۔
کچھ نہیں.! وہ میں بس۔۔؟ گڑبڑ کر ایسے نظریں چرائی جیسی کوئی چوری پکڑی گئی ہو جس پر آزر کے چہرے پر دلفریب مسکراہٹ نمودار ہوئی۔
وہ میں بس کیا جان.؟ ڈرائیر ایک طرف رکھتے وہ اسکے سامنے آیا۔ تو نفی میں سر ہلاتی اِدھر اُدھر دیکھنے لگی۔
ازر نے طوبیٰ کا ہاتھ پکڑ کر اپنے سامنے کھڑا کیا
طوبیٰ کی نظریں شیشے میں اپنے اور آزر کے عکس پر پڑی تو انجانی سی پشیمانی ہوئی جس کے چلتے وہ پلکوں کی جھالر گرا گئی۔
اب بتاؤ کیا دیکھ رہی تھی.؟ بال کان کے پیچھے اڑیستے اسکی جھکی پلکوں پر پھونک ماری۔
”کچھ نہیں.! بس دیکھ رہی تھی کے آپ کے ساتھ تو کوئی آپ کے جیسی خوبصورت لڑکی ہی سوٹ کرتی ہے، ناکہ میرے جیسی۔۔۔.!! جھکی پلکوں سے پشیمانی کی نمی چھلکی۔
کیا مطلب تمھارے جیسی۔! اِدھر دیکھو میری طرف۔! اسکے چہرے پر آئی لٹ کو سائیڈ پر کرتے ٹھوڑی سے پکڑ اسکا چہرہ اوپر کیا۔
”کیا کمی ہے میری جان میں.! یہ دیکھو کتنی خوبصورت ہے میری وائف.! بالکل میری بیٹی کی طرح آئینے میں نظر آتے عکس پی نگاہیں جمائے آخری جملہ ذرا سا جھک کر رازداری ادا کیا جس پر متعجب نظروں سے طوبیٰ نے اسکے جانب دیکھا جیسے اسکی بات کا مفہوم سمجھنے کی کوشش کی ہو۔
اور دیکھو ایک دم پرفیکٹ میک فور ایچ ادھر.! اسے خود کی جانب دیکھتا پا کر فوری بات بدلتے اپنی مسکراہٹ چھپانے کو لب بھینچے۔
طوبیٰ کی نگاہیں سامنے نظر آتے اپنے اور آزر عکس پر گئی تو آزر کو اپنے اتنے پاس دیکھ چہرے پر حیا کی لالی بکھری
جس پر ایک ادا سے اپنے بازؤں آزر کی گردن کے گرد حائل کرتے ہوہے ازر کو اپنے قریب کیا۔
آپ نے بتایا نہیں آپ کی بیٹی بھی ہے.؟ ازر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے سنجیدگی سے غیر متوقع سوال کیا جس پر وہ ٹھٹھکا وہ سمجھا تھا کہ طوبیٰ اسکی بات کا مفہوم سمجھ جاۓ گی مگر وہ تو کچھ اور سمجھ بیٹھی۔
میں تمھیں بتانے ہی والا تھا۔ اسکی لاعلمی پر آزر کو شرارت سوجھی۔
اٹس اوکے.! مجھے برا نہیں لگا جہاں آپ نے میرے لیے اتنا کومپرمائز کیے، وہاں ایک مجھے کرنا پڑ جائے گا تو کوئی بڑی بات نہیں، آپکی بیٹی نہیں اب سے وہ ہماری بیٹی ہے۔ سابقہ انداز میں یقین دہانی کرواتے ازر کی گردن کے گرد گھیرا تنگ کرتے ہوہے ازر کی ناک اپنی ناک سے رب کی جس پر آزر کے دل نے ایک بیٹ مس کی کہ اتنی بڑی بات کو وہ اتنی آسانی سے اکسیپکٹ کر گئی تھی۔
وہ دونوں یونہی ایک دوسرے میں محو تھے کہ دروازے کی آواز پر آزر بد مزہ ہوا۔
بوا ہیں شاید.؟ ازر سے دور ہوتے انداز لگایا۔
بوا کو بھی ابھی ہی آنا تھا آج پہلی مرتبہ میری بیوی رومنٹک ہوئی تھی۔ ازر نے منہ بنایا۔
جی نہیں ایسی کوئی بات نہیں، آپ جا کر دروازہ کھولیں، بوا ناشتہ لے کر آئی ہو گی۔ازر کو دروازے کو گھورتے ہوئے دیکھ طوبیٰ نے کہا تو اسے بانہوں میں اٹھا کر صوفے پر بیٹھا کر آزر نے دروازا کھولا تو بوا سلام کرتی اندر داخل ہوئی اور ناشتہ رکھ کر واپس چلی گئی۔
”ازر آپ نے نوٹ کیا آج بوا بھی بہت خوش تھی اور عجیب مشکوک نظروں سے دیکھ کر مسکرا رہی تھی۔ بوا کے جانے کے بعد طوبیٰ نے آزر سے پوچھا
کیا تمھیں واقعی اندازہ نہیں ہے کہ کیا بات ہو سکتی ہے کیونکہ اب تک میں تمھیں کافی ہنٹس دے چکا ہوں۔ آزر جتاتی نظروں سے اسکی اور دیکھا۔
اگر آپ اپنی۔۔!! آئی مین ہماری بیٹی کی بات کر رہے تو جس کا آپ نے ابھی بتایا اور صبح سے جس طرح کی ہنٹس دے رہے اسے تو یہی لگ رہا ہے کہ ہماری بیٹی آگئی ہے یا پھر آنے والی ہے جس کے بابت آپ کو بتانے میں مشکل ہو رہی ہے ،مگر اسکے آنے کی خوشی آپ کے چہرے پر عیاں ہے اور جس طرح آپ کو میری خوشی عزیز ہے ناں.! اسی طرح مجھے بھی آپکی خوشی دل و جان سے عزیز ہے اگر آپ سمجھ رہے ہیں کہ مجھے برا لگے گا تو ایسا بالکل نہیں ہے اور یہ میں دل کہہ رہی ہوں سے ناکہ محض آپ کا دل رکھنے کے لیے۔ اسکی ہنٹس کا الگ ہی مطلب اخذ کرتے آزر کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیکر متانت سے گویا ہوئی جس پر آزر کا دل کیا کے وہ اپنا سر پیٹ لے مطلب وہ اتنی سی بات نہیں سمجھ پائی تھی۔
مطلب تم مجھے بے وفا سمجھتی۔۔!!
نہیں آزر مجھے آپ پر پورا یقین ہے مگر کچھ چیزیں انسان کے اختیار میں نہیں ہوتی اس لیے آپ خود کو قصوروار مت سمجھیں تھوڑا مشکل ضرور ہوگا مگر میں برداشت کر لونگی۔ وہ ضبط کی آخری انتہا پر پہنچ گئی تھی وہ سمجھ گئی تھی آزر صبح سے پہلے ناشتہ کرنے کو کیوں کہہ رہے تھے کیونکہ ہو سکتا یہ سب سننے کے بعد میں کیسا رئیکٹ کروں۔
آزر اسکی سوچ پر نفی میں سر ہلاتے ماتم کناں تھا۔
آج تک میں سمجھتا تھا کہ تم تھوڑی پاگل ہو، مگر آج یقین ہوگیا ہے کہ تم تھوڑی نہیں پوری پاگل ہو۔اسکی کنپٹی پر ہاتھ مارتے آزر نے اسکی عقل پر افسوس کرنے کو جی چاہا۔
مطلب۔۔؟ وہ اب بھی نہیں سمجھی تھی۔
میری بیٹی سے مراد ہماری بیٹی پاگل.! تمھاری اور میری ہونے والی اولاد، تم ماں بننے والی ہو اور میں باپ، اب آئی سمجھ یا جو تھی وہ بھی گل ہو گئی۔ اسکے چہرے کو ہاتھوں میں لیتے ایک ایک لفظ پر زور دیا جبکہ اسکی بات سمجھتے وہ کچھ پل کے لیے تو ساکت رہ گئی اسے اپنے کانوں پر یقین نہیں آیا تھا۔
آپ کا مطلب ہے کہ مم..میں.! ماں.! وہ بے یقینی خوشی رشک کے ملے جلے تاثرات کے سے ساتھ بس اتنا ہی کہہ پائی تو آزر نے پر مسرت انداز میں اثبات سر ہلاتے اسکے ماتھے پر عقیدت سے لب رکھے تو شکر کے آنسوں اسکے گال پر پھسل گئے۔
وَلَسَوْفَ يُعْطِيْكَ رَبُّكَ فَتَـرْضٰى (5)
اور آپ کا رب آپ کو (اتنا) دے گا کہ
آپ خوش ہو جائیں گے۔ بے ساختہ اسکی زبان سے یہ آیت ادا ہوئی تھی۔
💛💛💛💛💛💛💛💛💛💛💛💛
ڈاکٹر کے کہنے مطابق آزر اسے پروپر چیک اپ کیلئے لیکر گیا اور ڈاکٹر سے تصلی ہونے کہ بعد اسنے اپنی اس خوشی کو سلیبریٹ کر نے کا سوچا۔
اور اپنی خوشی بانٹنے کے لیے اسنے مستحقِ افراد کو چنا جو بدلے میں قیمتی تحائف کے بجائے دل سے دعائیں دیں۔
کھانا کھلانے کے بعد طوبیٰ کے ہاتھوں سے غریبوں میں تحفے تحائف تقسیم کر رہا تھا کہ گارڈ کی آواز پر اسکی توجہ اس جانب مبذول ہوئی۔
گارڈ کیا بات ہے کیوں بحس کر رہے ہو؟ آزر نے گارڈ کو کسی سے بحس کرتے دیکھ کر پوچھا۔
”صاحب.! یہ عورت آپ سے ملنا چاہتی ہیں، میں نے کہا بھی آج بہت بزی ہیں پر یہ مان ہی نہیں رہی۔ گارڈ نے ایک عورت کی طرف اشارا کرتے ہوئے بتایا جس کی آزر کی اور پشت تھی۔
آنے دو.! اجازت ملتے ہی وہ عورت اندر کی داخل ہوئی۔
قدسیہ بیگم پر نظر پڑتے ہی طوبیٰ کے ہاتھ سے گفٹ کے پیکٹ چھوٹ کر زمین بوس ہوئے
ڈر اور دہشت کے سائے طوبیٰ کی آنکھوں میں لہرانے خوف سے لرزتے آزر کا ہاتھ پکڑ کر بمشکل کھڑی ہوتے فوراً سے آزر کے سینے سے لگی تھی۔
آزر مجھے نہیں جانا۔ طوبیٰ کے منہ سے بے ساختہ نکلا تھا ازر کے چہرے کا رنگ بھی اڑ گیا اور آنکھوں میں طیش ابھر آیا ضبط سے مٹھیاں بھینچ لی تھی۔
”آپ یہاں کیا کر رہی ہیں.؟ ضبط کا دامن تھامے قدسیہ بیگم کو دیکھتے ہی درشت لہجے میں بولا۔
”پلیز بیٹا.! ایک بار میری بات سن لو.؟ قدسیہ بیگم نم لہجے میں آنکھو میں آنسوں لیے مخاطب آزر سے تھی مگر تنفر آلود آگ برساتی نظریں طوبیٰ پر تھی جو اسے آنکھوں ہی آنکھوں میں کچا چبانے کا اردو رکھتی ہو۔
آزر مجھے بچا لیں۔ آزر کے سینے میں منہ دیے وہ بری طرح کانپ رہی تھی۔
”جان کچھ نہیں ہوگا، میں ہو تمہارے ساتھ۔ یقین دہانی کرواتے اسکے گرد بازوں حائل کرتے آگ اگلتی نگاہیں قدسیہ بیگم پر تھی۔
💛💛💛💛💛💛💛💛💛
”وہ سب ڈرائنگ روم میں بیٹھے ہوئے تھیں۔ ڈبل صوفے پر آزر طوبیٰ کو اپنے ساتھ لیے بیٹھا تھا سنگل صوفے پر قدسیہ بیگم کسی مجرم کی طرح نظریں جھکائے بیٹھی تھی۔
آپ کو جو کچھ بھی کہنا ہیں جلدی جلدی کہے.؟ میری بیوی کو آپ کی موجودگی پسند نہیں. طوبیٰ کی اور دیکھتے وہ مدعے پر آیا۔
”بیٹا میں ارحم سے ملنا چاہتی ہوں.! اور پولیس والے مجھے اس سے ملنے نہیں دیے رہیں۔ میرا بیٹا بے قصور ہے، پلیز اسے معاف کر دو.! میرا اِس کے علاو کوئی نہیں، میرا ایک ہی بیٹا ہے وہی میرے جینے کی وجہ ہے، پلیز.! مجھ پر رحم کھاو میں بھی تمہاری ماں کی جگہ ہوں۔ روتے ہوئے اپنی روداد سنائی۔
پہلی بات میری ماں آپ کی طرح بےحس نہیں تھی، نہ انہوں نے کبھی کسی کو کا دل توڑا اور نہ ہی میری تربیت ایسی کی، جیسی آپ نے اپنے بیٹے کی ہے اسلیے خود کو میری ماں سے کمپیئر نہ ہی کریں تو بہتر ہوگا۔
اور جہاں تک بات آپ کے بیٹے کی ہے، تو اسنے نے جو کیا میں اسے کبھی نہیں بھول سکتا، اور نہ ہی آپکے بیٹے کو بھولنے دونگا،اس نے آزر خان کی بیوی پر بری نظر ڈالی ہے اس کی سزا تو اسے ضرور ملے گی، وہ آزر خان کا مجرم تو اسے سزا دینے کا حق بھی آزر خان کے پاس ناکہ کسی پولیس کے پاس۔ وہ جو انگلی اٹھا کر درشت لہجے بولا رہا آخری بات کسی بمب کی مانند لگی تھی۔
Instagram
Copy link
URL has been copied successfully!

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

کتابیں جو آپ کے دل کو چھوئیں گی

Avatar
Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial