قسط: 33
”بڈی تم ازر سے بات کرو وہ تمہاری بات ضرور مانے گا۔ نتاشہ کے الفاظ گونجے جیسے کسی نے ہاتھ پکڑ کر راہ دیکھائی تھی۔
میں آپ کو کیسے کسی اور کو سونپ دوں آزر.! مجھے بھی تو آپ سے محبت ہے یہ الگ بات ہے کہ میں آپ کی طرح اظہار نہیں کر سکتی لیکن محبت تو میں بھی کرتی ہوں.! اسے یہ راہ مشکل نظر آئی تھی۔
”لیکن.! طوبیٰ تم خود غرض نہیں بن سکتی تمھیں آزر سے بات کرنی ہوگی، اگر تمھیں کچھ ہو بھی گیا تو ازر کو سنبھلنے کے لیۓ کوئی تو ہونا چاہیے اور نتاشہ کی آنکھوں میں، میں نے آزر کے لیے محبت دیکھی تھی۔ گہرا سانس لیتے خود کلامی کرتے وہ فیصلہ کن انداز میں بولی تھی۔
اہہم۔!! اہہم..!! اس ٹائم اللّٰہ سے کیا مانگ رہی ہو.! منہ پر ہاتھ رکھ کھنکارتے وہ قریب آیا جس پر وہ گڑبڑائی تھی۔
کک……کچھ.! نہیں بس نیند نہیں آرہی تھی تو سوچا نماز پڑھ لوں۔ اپنے انسوں صاف کرتے بات بنائی۔
تو پھر یہ آنسو کیسے.؟ اسکے سامنے بیٹھتے اسکا چہرہ اپنی طرف کیا تو وہ نظریں چرا گئی۔
وہ بس دعا مانگتے ہوئے خود ہی آگئیں تھیں۔ فوراً وجہ دی گئی۔
اگر نیند نہیں آرہی تھی تو مجھے اٹھا لیتی.؟
آپ نے اوفس جانا ہوتا ہے اور اب تو یہ عام بات ہو گئی.؟ روز روز آپ کو اٹھانا اچھی بات نہیں۔ دھیمے لہجے میں جواز پیش کیا جس پہ وہ نالا ہوا۔
یہ کیا بات ہوئ جان.؟ اب تم مجھ سے غیروں جیسا برتاو کروگی۔ آزر کو اسکی بات پسند نہیں آئی تھی۔
نہیں.! آزر ایسی کوئی بات نہیں، میں تو ایسا سوچ بھی نہیں سکتی۔ اسکی بات کی نفی کرتے وہ رو دینے کو تیار تھی۔
”میں مذاق کر رہا تھا جان تم تو سچ میں رونے لگی.! نرمی سے اسکے آنسوں صاف کیے۔
آپ مجھ سے ایسا مذاق نہ کیا کریں، میں مذاق میں بھی آپکی ناراضی برداشت نہیں کر سکتی۔ اسکے کندھے پر سر رکھتے وہ روہانسی ہوئی۔
”تم یہاں کیا کر رہی ہو.؟ ارحم جو واشروم سے فریش ہو کر نکلا تھا شزہ کو اس طرح دیکھ ٹھٹھکا۔
میں تمہارے لیے ناشتہ لے کر آئی تھی سوچا تم سے تمہاری طبیعت کا بھی پوچھ لوں. شزہ نے ناشتہ ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا۔
وہ سب تو ٹھیک ہے لیکن.! تمھیں اس طرح میرے کمرے میں نہیں آنا چاہئے۔ ارحم کا اشارہ اسکے نائٹ ڈریس کی طرف تھا۔
کیوں ایسے کیوں نہیں آسکتی.؟ اب تو تمہاری بیوی بھی نہیں اور طوبیٰ نے بھی تُمہیں ہری جھنڈی دیکھا دی ہے اب تو میرا چانس بنتا ہے۔ معنی خیز انداز میں کہتے اسکی اور بڑھی۔
اگر ماما کو تمہارے اردے پتا چل گئے تو وہ تمہیں ابھی کے ابھی تمہارے گھر بھیجوا دینگی۔ شیشے میں دیکھ کر اپنے بالو میں برش کرتے نظریں شزہ پر تھی۔
تم مجھے خالا سے ڈرا رہے ہو.؟ اسکے قریب آتے سوال کیا۔
میں ڈرا نہیں رہا تمہیں بتا رہا ہوں۔ اسے قبل کے وہ فاصلہ ختم کرتی ارحم صوفے پر جا کر بیٹھا تو وہ اسے گھور کر رہ گئی۔
اچھا..! اسی کے انداز میں کہتی جاکر ارحم کے پہلو میں بیٹھی تھی۔
آج تک جو کچھ ہم نے کیا وہ پتا چلا کسی کو جو اب پتا چلے گا، شزہ نے ارحم کے لیۓ چائے نکالتے ہوئے ارحم کی آنکھوں میں دیکھتے اسکے انداز میں کئی راز افشاں تھیں۔
مگر ابھی ہمیں کچھ اور ٹائم تک ایک دوسرے سے دور رہنا ہوگا۔ ارحم نے شزہ کے ہاتھ سے چائے کا کپ لیتے ہوئے تاکید کی۔
“اب میں تم سے اور دور نہیں رہ سکتی، کب تک ہمیں دور رہنا ہوگا اب تو آئزہ کو بھی راستے سے ہٹا دیا ہیں۔ شزہ نے ارحم کے کندھے پر سر رکھا۔
وہ بیوقوف تو خود راستے سے ہٹ گئی، میں نے تو کبھی سوچا بھی نہیں تھا کے وہ اس طرح ہمارے راستے سے ہٹ جائے گی اور ہمیں کچھ کرنا بھی نہیں پڑے گا۔ چائے کا سپ لیتے ہوئے تبصرہ کیا
”لیکن طوبیٰ اور آزر میں غلط فہمی ہم پھر بھی پیدا نہیں کر سکے، اگر یہ کام ہو جاتا تو مجھے اس گھر میں جانے اور ازر کا دکھ بانٹنے کے بہانے ہی سہی اسکے دل تک رسائی مل جاتی اور ہمیں ازر کی دولت تک پہنچنے میں آسانی ہو جاتی۔اپنی ناکامی پر افسردہ ہوئی۔
صرف ماما اور تمھارے اسی لالچ کی وجہ سے پتہ ہے آزر نے مجھے کتنا ٹارچر کیا اگر میری جگہ کوئی اور ہوتا ناں تو کب کا مر گیا ہوتا وہ تو میں تھا جو سب سہہ گیا اور ویسے بھی
پتا نہیں کیا ہے اس اپاہج میں جو آزر کو اس کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا اس کی جگہ کوئی اور ہوتا تو اسی وقت طلاق دیے دیتا۔ شروع میں اسے مورد الزام ٹھہراتے آخر طوبیٰ پر حیرت ہوئی جس پر شزہ نے اسے ان نظروں سے دیکھا جیسے کہنا چاہتی ہو کہ تم بھی تو اسکی محبت کے دعویداروں میں سے تھے۔
جو بھی تھا آج میں سب بھول جانا چاہتا ہوں کیا تم اس میں میرا ساتھ دوگی۔؟ارحم نے چاۓ کا کپ ٹیبل پر رکھتے اسکی اور دیکھ کر سوال کیا تو اسنے فوراً اثبات میں سر ہلایا تو ارحم شزہ کے ہونٹو پر جھکا اس پر اپنی شدتیں لوٹتے اسکی سانسیں خود میں انڈھیلنے لگا شزہ بھی ارحم کا ساتھ دے رہی تھی ارحم کا کالر پکڑ کر ارحم کو اپنے قریب کر گئی وہ دونو ایک دوسرے میں کھو گئے تھے پورے کمرے میں ان کی سانسیں گونج رہی تھی
بوا میں آپ سے کچھ پوچھ سکتی ہوں.؟ پودوں کی چھانٹ پٹخ کرتے مصروف انداز دریافت کیا۔
جی بہوں رانی پوچھے۔ بوا اسکی جانب متوجہ ہوئی۔
بوا آپ کے پاس نتاشہ کا نمبر ہوگا مجھے اس سے کچھ بات کرنی ہے اس دن آئی تھی نہ اسے بات کر کہ اچھا لگا بری لڑکی نہیں ہے۔ خود کو بظاھر مصروف ظاہر کرتے وہ عام سے انداز پوچھ رہی تھی۔
جی بہوں رانی کبھی کبھی انسان اتنا برا ہوتا نہیں، بس کچھ غلطیاں ایسی کر بیٹھتا ہے جن کی معافی نہیں ہوتی ایسی ایک غلطی اسے بھی ہو گئی تھی، خیر نمبر ہے میرے پاس میں لا دیتی ہوں۔ تاسف سے کہتے اٹھ گئی۔
نمبر لے کر نتاشہ کو کال کی جو دوسری بیل پر اٹھا لی تھی۔