قسط: 34
”نتاشا سے بات کرنے کے بعد طوبیٰ کو اپنی قسمت پر بہت رونا آیا تھا وہ کس طرح اپنے شوہر کو کسی اور سونپ رہی تھی یہ تو اس کا دل ہی جانتا تھا۔
آزر کی گاڑی کی آواز سنتے ہی طوبیٰ نے جلدی سے اپنے آنسوں صاف کیے اور چہرے پر مسکراہٹ سجائی تھی وہ اگر اسے اس طرح روتے ہوۓ دیکھ لیتا تو ہزار سوال کرتا جن کے جواب دینے کی سکت اس میں نہیں تھی
مجھے پتہ تھا تم یہاں ہی ہوگی.! اسکی اور آتے ہوئے کہا جس پر طوبیٰ نے اپنے اندر کے خلفشار کو چھپاتے سمائل پاس کی تھی۔
آج آپ جلدی آگئیں.؟ عام سے انداز میں استفسار کیا۔
کیوں.؟ تمھیں یاد نہیں آج ڈاکٹر سے اپوئمنٹ ہے.؟ آزر نے جیسے یاد دلایا ہو۔
”سب ٹھیک تو ہے آزر.! پچھلی بار بھی ڈاکٹر اتنے ذیادہ ٹیسٹ کروائے اور اینڈ میں کہا تھا سب ٹھیک ہے اور اب بھی یہی کہیں گے تو کیا فائدہ۔ اپنے اندر چل رہے ڈر کی بنا پر طوبیٰ نے اسے ٹالنا چاہا
”جان.! یہ تو اچھا ہے کہ سب ٹھیک ہے، ہم تو بس ریگولر چیک اپ کے لیۓ جا رہے ہیں جو کہ ضروری ہے صرف آنے والے بےبی کے لیے ہی نہیں میری انت الحیات کے لیے بھی۔ اسکے سامنے بیٹھتے اسکی آنکھوں میں دیکھتے متانت سے گویا ہوا۔
انت الحیات.؟ ناسمجھی سے اسکی اور دیکھا۔
تمھیں پتا “انت الحیات” کا مطلب،
نہیں جانتی؟؟ آزر نے پوچھا تو اسنے نفی میں سر ہلایا۔
اس کا مطلب ہے_ “تم زندگی ہو میری” اسکے ٹھہرے ہوئے انداز بےپناہ محبت تھی جسنے طوبیٰ کو سحر جکڑ لیا تھا۔
زندگی پتہ ہے کسے کہتے ہیں_؟؟ آزر نے اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے گھمبیر انداز میں سوال کیا۔
“سانس لینے کو”.؟؟ اپنی تائی جواب دیا۔
نہیں_.!
“زندہ رہنے کو؟؟”
نہیں_.!!
“تمہاری آواز کو، تمہاری دید کو”
“تمھیں کہتے ہیں زندگی”
“تم ہو میری انت الحیات_!! جسے میں کبھی کھونا نہیں چاہتا اگر تمھیں کچھ ہوا تو میں بھی جی نہیں پاؤ گا۔ آزر کے الفاظ سیدھا اس کے دل میں اترے تھے مگر ساتھ ہی اسکا دل ڈر رہا تھا اگر ڈاکٹر نے کچھ کہہ دیا تو ازر کیسے ریئاکٹ کرے گا
میں چینج کر لو پھر چلتے ہیں.؟ اسی انداز میں کہتے طوبیٰ کے ماتھے پر لب رکھے۔
شیشے سے باہر بھاگتے دوڑتے مناظر اور گاڑیوں پر نظریں جمائے آنسوں تواتر سے اسکی آنکھوں سے بہے جا رہے تھیں۔
آخر وہی ہوا جس کا ڈر تھا وہ جسے اپنا وہم سمجھ کر خدا سے اس بات کے جھوٹ ہونے کی دعا کر رہی تھی ڈاکٹر نے اسی بات کی تصدیق کر دی جس پر اسکا دل پھوٹ پھوٹ کر رونے کو چاہ رہا تھا۔
جان اس میں رونے والی تو کوئی بات نہیں.! آئی نو تمھیں بیٹا چاہئے لیکن کوئی بات نہیں، نیکسٹ ٹائم بیٹا ہو جائے گا
۔ اسکے جھولی میں دھرے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لیتے اپنی انگلیاں طوبیٰ کے ہاتھ میں الجھائی۔
ہممم۔۔۔!! اسکی اور دیکھنے سے بھی اجتناب برتا تھا۔
میں نے آپ سے پہلے ہی کہا تھا کہ سٹریس آپکے اور آپکے ہونے والے بچے کے لیے صحیح نہیں ہے مگر لگتا ہے آپ نے میری بات کو سیریس نہیں لیا اب دیکھ لیں وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ رپورٹ دیکھتے ہوئے ڈاکٹر کے چہرے پر پریشانی کے آثار نمایاں ہوئے اور اسکے دل سوکھ پتے کی مانند لرزنے لگا وہ جس بات کے خوف سے ڈاکٹر کے پاس نہیں آنے چاہ رہی تھی وہی ہوا تھا ایک آنسوں ٹوٹ کر اسکے گال پر پھسلا جسے وہ فورا سے صاف کرتے شیشے کے پار کسی سے بات کرتے آزر کو دیکھ کر مسکرائی۔
آپ کی پریگنینسی میں بہت سی کوپلیکیشن سے ہیں جس کی بنا پر میں آپ کو سجیسٹ نہیں کروں گی کہ آپ یہ پریگنینسی کنٹینیوں کریں، کیونکہ یہ آپ کی زندگی کے لیۓ رسکی ہے اگر پہلے انداز ہوتا تو میں آپ کو پہلے ہی ابوٹ کرنے کا کہہ دیتی۔ رپورٹ دیکھنے کے بعد ایک طرف رکھتے آگے ہوکر بیٹھتے ڈاکٹر نے تشویش کا اظہار کیا تو طوبیٰ کا دل ڈوب کر ابھرا۔
ابوٹ۔۔؟؟
جی میں تو آپکو یہی سجیسٹ کرونگی کہ آپ ابوٹ کر دیں اور اس بار میں پہلے ہی کلیئر کر دوں کہ ابورشن کے بعد آپ دوبارہ ماں بن سکیں گی یا نہیں، یہ میں نہیں کہہ سکتی اور یہ ابورشن بھی کافی رسکی ہے، تو جتنا جلدی ہوسکتا آپ ڈیسائڈ کر لیں، ہر گزرتا دن آپ کی زندگی کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ ڈاکٹر نے آنے والے خدشات سے آگاہ کیا ڈاکٹر کی بات سن کر وہ ساکت رہ گئی تھی۔
”ڈاکٹر پلیز.! کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ یہ ساری باتیں میرے ہذبینڈ کو نہ بتائے، وہ بہت خوش ہیں اپنے بےبی کو لیکر۔ طوبیٰ نے نم لہجے میں آنکھو میں آنسوں سموئے پوچھا جیسے اسے ڈاکٹر کے کہنے سے پہلے ہی اندازا تھا
لیکن یہ سب جاننا ان کے لیۓ بہت ضروری ہیں، کیونکہ جتنا میں نے ابزرف کیا ہے انھیں اپنے بے بی سے زیادہ آپ کی فکر ہے۔ڈاکٹر نے پروفشنل انداز میں کہا۔
تو کیا آپ گارنٹی دیتی ہیں کہ اگر میں اپنی جان بچانے کی خاطر اپنے بچے کی جان لے لو.! جو ابھی اس دنیا میں آیا ہی نہیں تو مجھے کچھ نہیں ہوگا.؟ طوبیٰ کے سوال پر ڈاکٹر خاموش ہوگئی۔
لیکن یہ غلط ہے۔ڈاکٹر نے پریشانی سے کہا تھا
جان.! اس میں رونے والی کیا بات نیکسٹ ٹائم بیٹا بھی ہو جاۓ گا۔ آزر کی آواز اسے حال میں لائی تھی۔
اگر تم ایسے رو گی تو پھر میری بیٹی بھی ہر وقت روتی رہے گی جان.! اور میں نہیں چاہتا کہ میری بیٹی کی آنکھوں میں ایک بھی آنسو آئے۔ازر نے ہاتھ پر دباؤ بڑھاتے ہوئے اسکی اور دیکھا جس پر بے ساخت ازر کے کندھے پر سر رکھا تھا اور اپنے آنسو صاف کرتے ہوۓ خود کو سنبھالنے کی کوشش کی تھی۔
گاڑی سگنل پر رکی تھی آج پھر ایک بچہ بھاگتے ہوئے ان کی گاڑی کے پاس آیا تو ازر نے طوبیٰ کی جانب سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
ایسے کیا دیکھ رہے ہیں لےلیں.! طوبیٰ نے خود پر ضبط کرتے ہوئے کہا آزر نے بچے سے گجرے لے کر طوبیٰ کی اور کیے۔
کیوں آج آپ نہیں پہنائیں گیں.؟ اپنی کلائی آگے کرتے ہوئے اسکی اور دیکھتے استفسار کیا۔
کیوں نہیں.؟ محبت پاش انداز میں کہتے اسکی کلائی میں گجرے پہنائے۔
آج مجھے آئسکریم بھی کھانی ہے۔ آزر کے بازوں کے گرد بازوں حائل کرتے کندھے پر سر رکھتے فرمائش کی۔
ابھی تو تم رو رہی تھی.؟ پیار سے ناک کھنچتے آئی برو اچکائی۔
ہاں تو اب رو بھی نہیں سکتی.؟ خود کو سنبھالتے عام سے انداز میں بولی۔
نہیں رو سکتی، جانتی ہو ناں تمہارے آنسو مجھے ہرٹ کرتے ہیں۔ ازر نے پیار لوٹاتی نظروں سے دیکھ کر کہا اور گاڑی آئسکریم شوپ کے پاس روکی تھی۔
”بیٹا اب تمہیں اپنے گھر چلے جانا چاہئے.؟ قدسیہ بیگم نے شزہ کو کہا وہ تینوں لاؤنچ میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔
کیوں خالا آپ کو میرا یہاں رہنا اچھا نہیں لگ رہا.؟ اسے قدسیہ بیگم کی بات کچھ خاص پسند نہیں آئی تھی۔
نہیں ایسی کوئی بات نہیں، میں تو اس لیئے کہہ رہی تھی کے کے لوگ باتیں کر رہے ہیں کہ جوان بیٹا ہے میرا اور جوان لڑکی کو گھر رکھا ہوا ہے، لوگو کو تو موقع چاہئے باتیں کرنے کا۔ قدسیہ بیگم نے شیزہ اور ارحم کو دیکھتے ہوئے اپنی بات کی وضاحت کی۔
ماما.! لوگو کا تو کام ہی ہیں باتیں کرنا، آپ کب سے لوگو کی باتیں سننے لگی.؟ ارحم جو اب تک خاموش تھا شزہ کی حمایت میں بولا۔
جو بھی ہے اب شزہ کو اپنے گھر چلے جانا چاہئے۔ قدسیہ بیگم نے دو ٹوک لہجے میں اپنا فیصلہ سنایا۔
“خالا.؟آپ مجھے اپنی بہوں بنا لیں، پھر لوگ باتیں نہیں کریں گیں.؟ شیزہ نے تجویز دی جس پر قدسیہ بیگم نے خونخوار نظروں سے شزہ کو دیکھا اور پھر ایک تیکھی نظر ارحم پر ڈالی۔
اگر مجھے یہی کرنا ہوتا تو تب ہی نہ کرتی جب اس برخوردار نے مجھے سے اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا تھا مگر نہ پہلے مجھے منظور تھا اور نہ اب ہوگا۔ اٹل انداز میں بولی۔
جب تو آپ کو وہ آئزہ پسند تھی اب تو وہ بھی مر گئی.؟ ارحم نے گویا یاد دلایا۔
اس بیچاری کو مرنے پر مجبور کرنے والے بھی تو تم ہی ہو اور مجھے اب تمھارا سارا کھیل سمجھ آرہا ہے تم نے یہ سب کیوں اور کس کے کہنے پر کیا مگر میں بھی تمھاری ماں ہوں۔ قدسیہ بیگم کا اشارہ شزہ کی جانب تھا۔
جب آپ کو سب سمجھے آہی گیا ہے تو پھر اب مان لیں میری بات.؟ اسکے انداز میں وارنگی تھی جسے دیکھ شزہ کے ہونٹو پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی تھی۔
“کیا بات ہے؟ کچھ دونوں سے دیکھ رہا ہوں میری جان بہت چپ چپ رہنے لگی ہے اور اب تم باہر لان میں بھی نہیں جاتی کیا سوچتی رہتی ہو.؟ ازر نے طوبیٰ کے پاس بیٹھتے ہوئے پوچھا جو بالکونی میں ڈبل صوفے پر بیٹھی آسمان پر نظریں جمائے جانے کن خیالوں میں گم تھی آزر کی آواز پر گہرا سانس لیتے وہ ہوش کی دنیا میں واپس آئی۔
کچھ نہیں، میں نے کیا سوچنا ہے بس ویسے ہی آج کل کسی چیز کو دل نہیں چاہتا اسی لیے آپ کے اوفس جانے کے بعد بس آپ کی واپسی راہ تکتی رہتی ہوں۔ طوبیٰ نے ازر کو دیکھے بغیر بات بناتے آنکھوں کی نمی کو پورو سے صاف کرتے چہرے پر مسکراہٹ سجائی۔
میں تو کب سے کہہ رہا ہوں کہ اوفس سے اوف کر لیتا ہوں، لیکن تم خود ہی بھیج دیتی ہو نہ میرا وہاں دل لگتا ہے اور نہ تمھارا یہاں۔ مصنوعی شکواہ کرتے اسے اپنے حصار میں لیا۔
اوفس جانا بھی تو ضروری ہے۔ گریز برتنے کی کوشش کی۔
میں آپ کے لیۓ بوا کو چاۓ کا کہہ کر اتی ہوں.؟ طوبیٰ کا خود پر ضبط کرنا مشکل ہو گیا تھا۔
سارا دن میرا انتظار کرتی ہو اور جب میں گھر آجاؤ تو تم مجھ سے دور جانے کے بہانے تلاشتی ہو۔ازر نے خفگی سے کہا۔
میری تو شاید قسمت میں ہی آپ سے دوری لکھی ہے میں نے کیا بہانے ڈھونڈنے ہیں۔۔ تاسف سے آزر کی اور دیکھتے دل میں سوچا۔
ایسی کوئی بات نہیں۔؟ میں تو آپ کے لیۓ کہہ رہی تھی کہ آپ اوفس تھک کر آئے ہونگے۔ نظروں کا زاویہ بدلتے طوبیٰ نے فورا سے چہرے پر مسکراہٹ سجا کر عام سے انداز کہنا چاہا مگر آزر اسکے لہجے کی لرزش بھانپ گیا تھا۔
اور تُمھیں لگتا ہے تمہاری اس جھوٹی مسکراہٹ میں چھپا کرب مجھ سے مخفی رہ سکتا۔ اسکا رخ اپنی جانب کرتے سنجیدگی سے استفسار کیا تو طوبیٰ پل بھر کو کچھ نہ بول سکی کہتی بھی تو کیا اتنا بڑا فیصلہ وہ اکیلے کر چکی تھی اور آگے بھی جو کرنے کا ارادہ رکھتی تھی اسکے لیے تو وہ خود کو تیار نہیں کر پا رہی تھی تو آزر سے کیا کہتی اسی کشمکش نے اسے اندر سے توڑ کر رکھ دیا تھا۔
نہیں ایسی کوئی بات نہیں، آپ کو کوئی غلط فہمی ہو رہی ہے۔ خود پر ضبط کیے بمشکل بول پائی۔
”اچھا تو پھر یہی بات میری آنکھوں میں دیکھ کر کہو.؟ ازر نے طوبیٰ کے بال کان کے پیچھے اڑیستے اسکا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں لیا چند ثانیہِ دیکھتے رہنے کے بعد اسکے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا اور وہ اسکے سینے سے لگتی پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی اس غیر متوقع عمل پر آزر ٹھٹھکا مگر اسے رونے سے روکا نہیں بلکہ اسکی کمر سہلاتے اسے رونے دیا۔
کچھ دیر رونے کے بعد جب اسکا دل ہلکہ ہوا تو سو سو کرتی اسے آہستہ سے الگ ہوئی۔
اب بتاؤ کیا بات ہے؟ اسکے چہرے کو نظروں کے حصار میں رکھتے ہوئے پوچھا تو طوبیٰ نے پلکوں کی جھالر اٹھا کر اسکی اور دیکھا۔
آزر ۔۔۔!! وہ۔۔۔!!
اچھا اگر تم نہیں بتانا چاہ رہی تو میں تمھیں فورس نہیں کرونگا، تمھیں جب صحیح لگے تم بتا سکتی ہو.! اسکی مشکل کو سمجھتے آزر نے سہولت سے کہا تو بے ساختہ وہ اسکے سینے لگی۔
آزر.! اتنی محبت نہ کریں کہ آگے جا کر مشکل ہو جائے میرے لیے۔ سینے سے لگے رندھی ہوئی آواز میں بولی۔
کیسی مشکل۔۔؟؟
بیٹی کے آنے کے بعد آپ تو اپنی بیٹی کے ساتھ بزی ہو جائے گے مشکل تو میرے لیے ہی ہوگا۔ سر اٹھا کر اسکی اور دیکھتے وہ بات بدل گئی تھی طوبیٰ کی بات سن کر آزر کے لبوں پر مسکراہٹ ڈور گئی۔
ہمم تو اسکا حل ہے میرے پاس.! کچھ سوچنے کے انداز میں بولا۔
پہلے میں سوچ رہا تھا کہ دوسرے بے بی کے لیے تھوڑا انتظار کر لیں گیں میں دوبارہ تمھیں مشکل میں ڈالنا نہیں چاہتا لیکن تمھاری مجھے لیکر پوزیزسینو دیکھنے کے بعد اب لگتا ہے کہ دوسرے بےبی کی پلینگ ابھی شروع کر دینی چاہیے۔ اسکی بات سن کر آزر نے آگے کا لاہے عمل ترتیب دیا۔
آزر کتنے برے ہیں آپ۔ آزر کی بات کا مفہوم سمجھتے اسکے کندھے پر مکا مارتے روہانسی ہوئی جس پر آزر کے چہرے پر دلفریب مسکراہٹ ابھری تھی۔