ادھورے خواب

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

قسط: 35

تم یہاں کیا کر رہی ہو.؟ وہ جو جھولے پر بیٹھی ہولے ہولے سے جھولا جھولتے آسمان پر چاند کی بادلوں کے ساتھ لکا چھپی دیکھتے کسی گھہری سوچ میں پراگندہ تھی آزر کی آواز پر اسکی جانب مبذول ہوئی جو طوبیٰ کو کمرے میں نہ پا کر لان میں آیا تھا۔
آپ ہی تو کہہ رہے تھے کہ میں اب باہر نہیں نکلتی، تو سوچا آپکی شکایات دور کر دوں۔ بنوز جھولا جھولتے نظریں آسمان پر ٹکائے کھوئے ہوئے انداز میں بولی۔
اتنی رات میں تھوڑی ناں کہا تھا پاگل.!۔ اسکی بات پر تاسف سے نفی میں سر ہلاتے اسکے پہلو میں آکر بیٹھا۔
کیوں اس ٹائم کیوں نہیں آسکتی.؟ سنجیدگی سے پوچھتے ہوئے اسکی اور دیکھا۔
جان.! اس ٹائم تو تمھیں سونا چاہیے۔ اسکی اور دیکھتے اسی انداز گویا ہوا تو وہ نظریں جھکا گئی۔
مجھے نیند نہیں آرہی تھی آپ بھی بزی تھے تو میں یہاں آگئی۔دھیمے لہجے میں وجہ پیش کی۔
آزر۔۔۔.؟ پلکوں کی جھالر اٹھاتے اسکی اور دیکھتے دھیمے لہجے میں پکارا۔
جی آزر کی جان.! ہمیشہ کی طرح محبت پاش انداز میں اسکی اور دیکھا۔
’مجھے آپ کی بیٹی کے لیے کمرا ڈیکوریٹ کرنا ہے۔مدھم آواز میں کہتے آپکی بیٹی پر زور دیتے ازر کے کندھے پر سر رکھا۔
میری بیٹی تمہاری کچھ نہیں لگتی.؟ اسے طوبیٰ کا آپ کی بیٹی کہنا سمجھ میں نہیں آیا تھا۔
آپ کی ہی تو ہے اس کے آنے کے بعد تو آپ مجھے بھول جانے والے ہیں.؟ میرے نصیب میں تو شاید اس دیکھنا بھی ہے یا نہیں.؟ ضبط سے مٹھیاں بھینچ تاسف سے مدہم آواز میں کہتے آخری الفاظ تو صرف دل میں کہے تھے۔
ایسے کیوں سوچتی ہو جان.! اس کے آنے کے بعد تو تم میرے لیے اور بھی خاص ہو جاؤ گی کیوں کہ یہ خوش میری زندگی میں تمھارے دم سے ہے میری پرنسس کی ماما.؟ شروع میں سنجیدگی سے کہتے آخر ہلکے پھلکے انداز میں کہتے طوبیٰ کی ناک کھنچی۔
اور تمہیں جو کرنا ہے تم کر سکتی ہو.؟ تمہارا اپنا گھر ہے مجھ سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں۔ آزر کے ٹھہرے ہوئے انداز میں بےپناہ محبت تھی۔
آزر……! کچھ دیر کی خاموشی کے بعد ایک پھر پکارا۔
جی ازر کی جان.!
آپ میری ایک بات مانے گے.؟ سر اٹھا کر اسکی اور دیکھتے وہ تذبذب کا شکار تھی۔
ایک کیوں سو کہوں.؟
آزر بولیں ناں مانے گے.؟ اپنے سوال پر اصرار کیا۔
تم کہہ کر تو دیکھو.؟؟ اسکے گرد بازوں حائل کرتے اسے اپنے ساتھ لگاتے یقین دہانی کروائی۔
غصّہ تو نہیں کریں گے.؟ انجانے خدشہ کے تحت سوال کیا۔
پہلے کبھی کیا ہے ؟ وہ جو اسکی کشمکش سمجھ رہا تھا مگر اس کشمکش کی وجہ سے انجان تھا وہ چاہ رہا تھا کہ طوبیٰ اپنے دل کی بات خود کہے طوبیٰ کچھ دیر تک خاموشی سے تکتی رہی۔
کہوں ناں جان.؟ ازر نے پیار سے استفسار کیا
کچھ نہیں۔۔۔!! طوبیٰ میں ہمت نہیں تھی وہ کہنے کی جو وہ کہنا چاہتی تھی اس لیے گھہرا سانس لیتے وہ ٹال گئی تو آزر نے بھی اصرار نہیں کیا۔
اب اندر چلیں.؟ آزر نے پوچھا۔
آپ چلے جائے.؟
”تمھارے بغیر.؟ آزر کے پوچھنے پر طوبیٰ نے ازر کو دیکھا
ایسے کیا دیکھ رہی ہو.؟ طوبیٰ کو یوں محویت سے خود کو دیکھتا پا کر آئی برو اچکائی جس پر نفی میں سر ہلاتی وہ سر جھکا گئی۔
کیا میں واقعی اتنی خوش نصیب ہو کہ آپ جیسے شخص کا ساتھ ملا..؟ چاہے کچھ عرصے کے لیے ہی سہی۔ سر جھکائے انگلیاں موڑتے تاسف سے کہتے آخر میں اسکی اور دیکھتے آخری الفاظ وہ صرف سوچ ہی سکی تھی۔
نہیں اس معاملے میں، میں تم سے ذیادہ خوش نصیب ہوں کیونکہ مجھے تم ملی.؟ ذرا سا جھک کر گال پر اپنا لمس چھوڑتے مخمور انداز میں کہتے اسے نظریں جھکانے پر مجبور کر گیا۔
”اب اندر چلے اس سے پہلے کے میں…؟؟؟ گھمبیر انداز میں کہتے جملہ ادھورا چھوڑا
کیوں کرتے ہیں آپ اتنی محبت.؟
محبت کرنے کے لیے کسی وجہ کا ہونا ضروری نہیں یہ تو بس ہو جاتی ہے۔ سابقہ انداز میں کہتے آزر نے طوبیٰ کو اپنی بانہوں میں اٹھا لیا تھا۔
یہ کیا کر رہے ہیں.؟؟ غیر متوقع عمل پر وہ گڑبڑاتے آزر کے کالر کو مٹھیوں میں جکڑتے حیا و حفت کی سرخی چہرے پر پھیل گئی۔
جان.! تم تو ایسے شرما رہی ہو جیسے آج پہلی بار اٹھا رہا ہوں.؟ اور کیا کر رہا ہو یہ اندر جا کر تفصیل سے بتاتا ہوں.؟ کان کی لو کو لبوں سے چھوتے معنیٰ خیز انداز میں سرگوشی کرتے اسکی روح فنا کر گیا اتنے عرصے بعد بھی آزر کی قربت سے گھبرا جاتی تھی تبھی ازر کی گردن کے گرد اپنے بازوں حمائل کیے اور اپنا منہ آزر کے سینے میں چھایا گئی۔
💛💛💛💛💛💛💛💛
”ماما ایک مرتبہ پہلے بھی اپنی ضد اور آنا کے چلتے آپ نے اپنی مرضی کر کے دیکھ لی اور اب آپ پھر سے وہی کر رہی ہیں، لیکن اس بار میں آپ کی ایک نہیں سنو گا۔
قدسیہ بیگم تو اپنے بیٹے کو یوں دیکھ کر حیران ہی رہ گئی تھی انہوں نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ ارحم ایک لڑکی کی خاطر یو ان کے سامنے کھڑا ہو جائے گا۔
ارحم تم جانتے ہو شزہ کس طرح کی لڑکی ہے وہ کبھی کسی ایک کے ساتھ نہیں رہ سکتی پھر بھی.؟
ماما آپ نے طوبیٰ کے معاملے میں بھی یہی سب کہا تھا مگر آج دیکھیں وہ آزر کے ساتھ کتنی اچھی ذندگی گزار رہی ہے اور میں یہاں ایسی ذندگی گزار رہا ہوں، آپ کو مجھ پر ترس نہیں آتا میں آپ کی سگی اولاد ہی ہو ناں.؟ ارحم نے سلگتے ہوے تلخ لہجے میں سوال اٹھایا۔
ارحم….؟؟ قدسیہ بیگم غصے سے دھاڑی تھی۔
نہیں آج آپ بتا ہی دیں کے میں آپ کی سگی اولاد ہو یا نہیں.؟
شزہ.! تمہارے لائق نہیں تم پچھتاؤ گے.؟ قدسیہ بیگم اسے باز رکھنے کی کوشش کی۔
اب کون سا میں نہیں پچھتا رہا، اب بھی تو پچھتا ہی رہا ہوں.! آپ کی بات مان کر۔۔؟
آپ کی مرضی ہو یا نہیں، کل میں شزہ سے نکاح کر رہا ہوں اگر آپ کا دل کرے تو آجائیگا ورنہ مجھے ضرورت نہیں کسی کی۔درشت لہجے میں اپنا فیصلہ سناتے وہ وہاں رکا نہیں تھا۔
پیچھے قدسیہ بیگم نم آنکھوں سے ارحم کو جاتا دیکھ کر رہ گئ تھی
💛💛💛💛💛💛💛💛💛💛💛
”آج مجھے آزر سے بات کرنی ہی ہوگی.؟.
مجھے ہمت کرنی ہے اگر میں ہمت نہیں کرو گی تو آزر کو کیسے سمجھاؤ گی.؟ انہیں منانے کے لیۓ پہلے مجھے خود کو سمجھانا ہوگا، میرے پاس اتنا ٹائم نہیں ہے۔ خود کلامی کرتے طوبیٰ کی آنکھوں سے انسوں پھر سے بہہ نکلے تھے
”نہیں طوبیٰ اب تم نہیں رو سکتی.! تمھیں خود کو مضبوط کرنا ہوگا۔ ہاتھ کی پشت سے رگڑ کر اپنے آنسوں صاف کیے۔
لگتا ہے کہ آج کوئی بڑی بے صبری سے انتظار کر رہا ہے.؟ آزر کی آواز پر اپنے آنسوں صاف کرتے چہرے پر مسکراہٹ سجائی۔
کیا بات ہے جان آج کل تمہاری آنکھیں ہر وقت سرخ رہتی ہیں ڈاکٹر کو چیک کروانا پڑے گا۔ اسکی آنکھوں میں سرخی دیکھ آزر کو فکر ہوئی۔
نہیں.! بس ویسے الرجی ہو گئی ہے بوا کہہ رہی تھی عرق گلاب ڈالنے سے صحیح ہو جائے گا۔ اسنے فوراً سے پیشتر بہانہ بنایا کوئی بعید نہ تھی کہ وہ اسے ڈاکٹر کے پاس لیجاتا۔
اس لیے تو کہہ رہا ہوں کہ گھریلوں ٹوٹکے کو رہنے دو ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں.؟
بس ہر وقت میری ہی فکر رہتی کبھی اپنی طرف بھی دھیان کر لیا کریں.؟ خفگی سے کہتے نظریں پھیری۔
“اب میں کیا کرو میری بیوی کو میرا خیال ہی نہیں.؟ اسکے پہلو میں بیٹھتے معصوم صورت بنائی۔
آزر میں سیریس ہو.! مجھ پر تو ہر وقت بوا کو نظر رکھنے کہا ہوا ہے ، آزر بیٹا یہ جوس نہیں پی رہی، آزر بیٹا یہ کھانا نہیں کھا رہی، ازر بیٹا یہ فروٹ نہیں کھا رہی، یہ آپ کے سونے کا ٹائم ہے، یہ آپ کا سنیک ٹائم ہے،اب کے بالوں میں مساج کا ٹائم ہے،اور اپنے بارے میں کچھ پتا نہیں۔ خفگی سے منہ بناتے ہوے ایک ایک بات گنوائی طوبیٰ کی باتیں سن کر ازر کے چہرے پر مسکراہٹ آئی تھی۔
اس میں مسکرانے کی کوئی بات نہیں، یہ دیکھے، ابھی تھوڑی دیر پہلے میرے بالوں میں مساج کر کے گئی ہیں بوا.؟ طوبیٰ نے اپنے اوئلی بال آزر کے سامنے کرتے ہوئے کہا تو اپنی ہنسی پر قابو کرتے آزر کا چہرا ضبط سے سرخ ہو گیا تھا۔
روکے نہیں ہنس لیں .؟ اس حالت میں دیکھ کر آپ کو بہت ہنسی آرہی ہے ناں.! آپ بھی کسی کی بیوی ہوتے تو آپ کو پتا چلتا کتنا ظلم کرتے ہیں یہ شوہر اپنی بیویو پر.؟ معصوم شکل بناتے ہوئے خفگی سے کہتے نظریں پھیر گئی۔
اچھا تو میری جان کو اس مساج پر غصّہ آرہا یہ لو تم مجھے بھی لگا دو اوئل.! آزر نے ٹیبل سے اوئل اٹھا کر طوبیٰ کی اور بڑھایا۔
آپ کو پتا ہیں یہ اوئل نہیں ہیں یہ دیسی گھی ہے جس میں بوا نے بہت سی جڑی بوٹیاں اور نہ جانے کیا کچھ ملایا ہے اس کی سمیل بہت گندی ہے۔ برا سا منہ بنا کر اسکی خصوصیات بتاتے اسے اس ناگوار بو سے آگاہ کیا۔
جو بھی ہے تم مجھے لگا دو.! جب میری جان لگا سکتی ہے تو میں کیوں نہیں .؟ اسکی بات کو ان سنا کرتے وہ اٹھ کر زمین پر بیٹھ گیا۔
آزر میں سچ کہہ رہی ہوں اس کی سیمل بہت گندی ہے۔ ایک بار پھر وارن کیا۔
تم لگا دوں.؟ طوبیٰ کے ہاتھ اپنے بالو میں رکھتے ضدی بچے کی مانند ضد کی تو بنا کسی حجت کے وہ آزر کے بالوں میں انگلیا چلاتے ہوئے مساج کرنے لگی جس پر سکون سے اپنی آنکھیں موند لی۔
جان.! کتنا اچھا لگ رہا ہے اور تم کہہ رہی ہو اس میں سیمل ہے جو چیز اتنا سکون پہنچائے اسکی تھوڑی بہت سمیل معنی نہیں رکھتی۔ ازر نے طوبیٰ کے ہاتھ تھام کر اس پر اپنے لب رکھتے ہوئے رسان سے کہا۔
آزر میرے ہاتھ میں گھی لگا ہے.؟ اپنا ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کی۔
تو۔۔۔؟؟ طوبیٰ کی گود میں سر رکھتے اس طرح پوچھا جیسے کچھ ہو ہی نہ جس کے جواب میں بنا کچھ کہے پھر سے ازر کے بالوں میں انگلیا چلانے لگی۔
آزر ۔۔۔۔!!
جی آزر کی جان.! اسکے گود میں سر رکھے آنکھیں موندے اسکی انگلیوں کا محسوس کرتے وہ کسی اور ہی جہاں میں پہنچ گیا تھا۔
آپ میری ایک بات مانے گے.؟ وہ جیسے اسہی موقع کی تلاش میں تھی۔
تم کہہ کر تو دیکھو ازر نے طوبیٰ کا ہاتھ تھام کر اسکی اور دیکھا۔
پہلے آپ وعدہ کریں کہ آپ غصہ نہیں کریں’ گے.؟ دھڑکتے دل کے ساتھ اسنے ہمت مجتمع کی۔
Instagram
Copy link
URL has been copied successfully!

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

کتابیں جو آپ کے دل کو چھوئیں گی

Avatar
Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial