ادھورے خواب

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

قسط: 36

”پہلے آپ وعدہ کریں کہ آپ غصّہ نہیں کریں’ گے.؟ دھڑکتے دل کے ساتھ ہمت مجتمع کرتے وہ آزر کی اور دیکھنے سے گریزاں تھی۔
میں نے پہلے کبھی کیا ہے اپنی جان پر غصّہ.؟ ہاں البتہ پیار کا کچھ نہیں کہہ سکتا اس پر میرا اختیار نہیں.؟ اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیے شروع میں سنجیدگی سے کہتے آخر میں معنی خیز انداز میں کہتے اٹھ کر اسکے پہلو میں بیٹھا۔
نہیں پہلے آپ وعدہ کریں.؟
اچھا وعدہ.! طوبیٰ کے چہرے کو نظروں کے حصار میں رکھتے وعدہ کیا جس پر طوبیٰ کی دل کی دھڑکن تیز ہوئی اور ہاتھوں میں بھی لرزش ہونے لگی جس پر آزر ٹھٹھکا مگر اسکے کچھ سمجھنے سے قبل ہی کچھ سوچتے ہوئے طوبیٰ نے ازر کا ہاتھ اپنے سر پر رکھ لیا۔
نہیں آپ میری قسم کھائے کہ آپ انکار نہیں کریں گے۔ اسکے وجود کے ساتھ اب اسکی الفاظ میں بھی لرزش ہونے لگی تھی۔ازر کو تشویش ہوئی
جان ایسی کیا بات اور کیا تمہیں مجھ پر یقین نہیں.؟ ازر نے طوبیٰ کی انکھوں میں دیکھنے کی کوشش کی لیکن طوبیٰ نے ایک بار بھی آزر کو نہیں دیکھا۔
مجھے نہیں پتہ آپ میری قسم کھائے آپ میری بات مانے گے، اور مجھ سے کوئی سوال نہیں نہیں کریں گے.؟
اچھا تمہاری قسم تمہیں اگر ایسے یقین آتا ہے تو ایسے ہی سہی لیکن اس سب کی ضرورت نہیں تم جو بھی کہوں گی مان لو گا.؟ اس بات سے انجان کے وہ کیا کہنے والی ہے اسے یقین دہانی کرواتے آزر نے قسم اٹھا لی۔
آزر…… آپ نتاشہ سے……. نکاح کر لیں….!! خود پر ضبط کیے آنکھیں زور سے میچ وہ اپنی بات کہہ گئی۔
اسکی بات سن کر ازر کو اپنے کانوں پر یقین نہیں آیا تھا۔
”تم جانتی ہو تم کیا کہہ رہی ہو.؟ ںے یقینی سے اسے دیکھتے آزر نے اپنا ہاتھ کھینچا۔
”جی.! میں جانتی ہوں کہ میں کیا کہہ رہی ہوں اور بہت سوچ سمجھ کر ہی کہہ رہی ہوں، مانا کہ اسنے جو کیا وہ غلط تھا مگر وہ اپنے کیے پر پشیمان ہے تو اب آپ بھی اسے معاف کر کے اسکی سزا ختم کر دیں۔ اسکی حمایت میں بولتے اسکی اپنی زبان اسکا ساتھ دینے سے انکاری تھی تبھی نگاہیں جھکی ہوئی تھی۔
جو بات محض کہنے میں اتنی گراں گزر رہی ہے سوچا ہے کے وہ اصل میں کس قدر تکلیف پہنچا سکتی ہے.؟
آزر۔۔۔۔! آپ نے وعدہ کیا تھا آپ غصّہ نہیں کریں گے.؟ نمکین سیال آنکھوں میں امنڈ آیا تھا۔
غصّہ۔۔!! میرا تو جی چاہ رہا ہے اس بات پر تمھاری جان لےلوں.!! تم ایسا سوچ بھی کیسے سکتی ہو کہ میں تمھاری سوا کسی کا سوچ بھی سکتا ، تم تو پھر نکاح کا کہہ رہی ہو.؟ آزر کا ضبط جواب دینے لگا تھا۔
اس میں غلط کیا ہے مرد کو چار شادیوں کی اجازت ہے اور ویسے بھی نتاشہ آپ سے محبت کرتی ہے.؟ یہ کہتے وہ کس کرب سے گزری تھی یہ صرف وہی جانتی تھی۔
”کیا.. تم نہیں کرتی محبت.؟ دیکھ لو گی مجھے کسی اور کے ساتھ.؟ وہ بھی دو بدو ہوا۔
ہاں دیکھ لونگی.!
ٹھیک ہے تم دیکھ سکتی ہو.! مگر میں ہمارے درمیان کسی تیسرے فریق کو برداشت نہیں کر سکتا، اور اس نتاشہ کو بھی دیکھ لونگا یہ ساری خرافات تمھارے دماغ بھرنے والی وہی ہے ناں.؟ غصے سے کہتے ہوئے طوبیٰ کو گود میں اٹھایا تھا
مجھے کہاں لے کر جا رہے ہیں.؟ اس اچانک افتاد پر گھبرائی تھی کوئی بعید نہیں کہ اس غلطی پر جانے کیا سزا دیتا۔
فل وقت تو صرف کمرے میں لیکر جا رہا ہوں باہر موسم خراب ہے لیکن اگر تم اپنی بات سے باز نہ آئی تو پھر سختی سے نپٹا بھی آتا ہے اور اسے تم میرے دھمکی مت سمجھنا۔ کمرے میں لاکر بیڈ پر بیٹھاتے سنجیدگی سے کہتے وہ اٹھ کر جانے لگا۔
آپ کہاں جا رہے ہیں.؟ آزر کا ہاتھ پکڑتے بھرائے لہجے میں استفسار کیا۔
جس نے یہ سب تمہارے دماغ میں بھرا ہے اسکا دماغ درست کرنا بھی اب ضروری ہے۔ پلٹے بغیر انداز اٹل تھا۔
ازر اس نے مجھے کچھ نہیں کہا.؟
ہاں ہاں اسنے کچھ نہیں کہا یہ سب تمھیں خواب آیا اور تم بنا سوچے سمجھے اس پر عمل پیرا ہوگئی، مجھے پہلے ہی سمجھ جانا چاہئے تھا جب اس کا یہاں آنا جانا شروع ہوا تھا۔اپنے تائی انداز لگاتے آزر نے اپنا ہاتھ چھڑوایا تھا۔
لیکن آزر ۔۔۔!! اسنے روکنا چاہا مگر آج کسی کی سنے کے موڈ میں نہیں تھا۔
💛💛💛💛💛💛💛💛💛
نتاشہ۔۔۔۔!! نتاشہ۔۔۔!! نتاشہ..!!
تن فن کرتا کسی بھپرے شیرے کی مانند گھر میں داخل ہو کر نتاشہ کو آواز لگائی۔
آزر کی آواز سن کر نتاشہ اپنے کمرے سے نکلی تھی۔
آزر تم یہاں.؟ نتاشہ ازر کو دیکھ کر متعجب ہوئی۔
”فکر نہیں کرو تمہیں لینے نہیں آیا، ناں ہی میں یہاں تمھاری کسی خواہش کی تکمیل کے لیے آیا ہوں، البتہ تمہاری ہر خوش فہمی دور کرنے کا ارادہ ضرور ہے اور وہ میں کر کے ہی جاؤنگا۔ شعلہ برساتی نظروں سے دیکھتے اسکی اور بڑھا جس پر خوف زدہ ہوتے قدم پیچھے لیے۔
تم کیا سمجھ رہی تھی کہ میرے گھر میں گھس کر میری ہی بیوی کو اپنے مقصد کے کی خاطر استعمال کرو گی اور مجھے خبر ہی نہیں ہوگی۔
تم غلط سمجھ رہے ہو.؟ نتاشہ نے اپنے صفائی دینی چاہی۔
شٹ اپ۔۔!! جسٹ شٹ اپ.!! آزر ایک جھٹکے سے نتاشہ کا گلا پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے دیوار کے ساتھ لگایا۔
تم خود کو سمجھتی کیا ہو.؟ طوبیٰ کے زریعے مجھے ایموشنل بلیک میل کرو گی اور مجھے پتہ نہیں چلے گا، آج میں تمھیں ہی جان سے ہی مار دونگا نہ تم ذندہ رہوگی نہ ہی روز روز ایک نیا تماشا لگے گا۔ازر نے چنگھاڑتے ہوئے نتاشہ کے گلے پر دباؤ بڑھایا نتاشہ کی آنکھوں میں آنسوں در آئیں مگر زبان پر شکوے کا ایک لفظ تک نہ آیا۔
تم جیسی ڈھیٹ پر کوئی چیز اثر نہیں کرتی، میرا نہیں تو اپنے بوڑھے باپ کی عزت کا ہی کچھ خیال کر لو جسے تم ایک بار پہلے بھی داغ دار کر چکی ہو۔۔!! جھٹکے سے دور دھکا دیتے اسے اسکی ڈھیٹائی پر تیش آیا تھا۔
نتاشہ زرو سے کھانس کر اپنے گلے میں اٹھنے والے درد کو برداشت کرتی اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر اکھڑتی ہوئی سانسوں کو اعتدال لانے کی کوشش کرنے لگی۔
”چھوڑ کیوں دیا مارو ناں مارتے کیوں نہیں.! میں بھی تنگ آگئی ہوں روز روز کی ذلت سے اچھا ایک بار میں کام تمام ہو جائے، مانا کہ مجھ سے غلطی ہوئی ہے مگر تم سب نے تو اسے میرا ناتلافی گناہ بھی بنا دیا ہے ، نہ میرے ماں باپ کو میری ضرورت ہیں نہ ہی تمہیں، تم ہی بتاؤ میں کہا جاؤ یہ تنہائی مجھے ہر روز ہر پل مارتی ہے لیکن میں نے کبھی طوبیٰ سے کچھ نہیں کہا۔ گھہرے گھہرے سانس لیتی گلو گیر لہجے میں گویا ہوئی۔
”تو پھر وہ یہ سب کیوں کہہ رہی اگر تم نے اسے نہیں کہا تو.؟ آزر کے پوچھنے پر نتاشہ کچھ پل کو خاموش ہوگئی۔
ہم بیٹھ کر بات کریں.؟ آزر کی حالت کے پیشے نظر نتاشہ نے تحمل کا مظاہرہ کیا۔
میں یہاں بیٹھنے نہیں آیا، بس یہ کہنے آیا ہو کہ دور رہو میری بیوی سے.؟ انگلی اٹھا کر وارن کیا۔
مجھے تمہیں کچھ بتانا ہے.؟
مجھے کچھ نہیں سنا بس جو کہا اسے یاد رکھو دوبارہ مجھے یہاں آنا نہ پڑے .؟ ازر غصے سے کہتے جانے کے لیے پلٹا تھا
طوبیٰ کے بارے میں بھی نہیں.؟
طوبیٰ کے نام پر ازر کے قدم روکے تھیں۔
کیا مطلب.؟ پلٹ کر پوچھا
ہم بیٹھ کر بات کرتے ہیں.؟ آزر کو بیٹھنے کا کہتے کچن سے ازر کے لیے پانی لے کر آئی۔
پانی پیو.؟ پانی کا گلاس اسکے سامنے رکھتے خود سنگل صوفے پر بیٹھی
تمہیں جو کہنا ہے جلدی کہوں.؟
ازر میں جب پہلی بار تمہارے گھر ائی تھی تو میں نے طوبیٰ سے کہا تھا کہ میں تمہیں پسند کرتی ہو اور تم سے شادی کرنا چاہتی ہوں لیکن اس کے بعد میں نے کبھی ایسی کوئی بات نہیں کی، میں نے تمہاری خوشی کی خاطر اپنے دل کو سمجھا رہی تھی لیکن ایک دن مجھے طوبیٰ کی کال آئی اور……!!
نتاشہ نے طوبیٰ کے اس فیصلے کی اصل وجہ بتائی جسے سنتے ہوئے آزر کے چہرے کے رنگ تبدیل ہوا تھا۔
یہ سب بتانے کا مقصد ہے کہ تم طوبیٰ کو سمجھاو اگر وہ تمھاری بات مان کر اپنے قدم پیچھے لیتی تو مجھے برا نہیں لگے گا لیکن اگر وہ اسکے بعد بھی اپنی فیصلے پر قائم رہتی ہے تب بھی مجھے کوئی اعتراض نہیں.! سنجیدہ انداز میں کہتے وہ پل بھر کو رکی مگر وہ تو شاید سن ہی نہیں رہا تھا تیزی اٹھتے وہاں سے نکلتا چلا گیا۔
💛💛💛💛💛💛💛💛💛
”ازر جب گھر لوٹا تو اسکے ذہن میں کئی سوالوں کے ساتھ دل میں ایک خوف پنہ تھا اپنی محبوب بیوی اپنی محبت کے دور جانے کا خوف اتنی بڑی بات طوبیٰ نے اسے چھپائی اتنا بڑا فیصلہ اسنے اکیلے ہی کر لیا کیا اسے کوئی حق نہیں تھی۔
یہی سب سوچتے سیدھا کمرے میں آیا تھا بہت سے سوال تھے جن کے جواب صرف طوبیٰ ہی دے سکتی تھی۔
کمرے میں طوبیٰ کو نہ پا کر ازر فوراً سے اس کے دوسرے کمرے میں آیا لیکن وہ وہاں بھی نہیں تھی
بوا۔۔۔!!! پکارتا ہوا لاؤنچ تک آیا۔
جی بیٹا۔۔! بوا فورا حاضر ہوئی تھی۔
طوبیٰ کہاں ہے .؟
اپنے کمرے میں ہونگی.!
اگر وہاں ہوتی تو میں آپ سے پوچھتا.؟ غصے و کرب سے وہ جھنجھلایا۔
باہر تو بارش ہو رہی ہے.؟ باہر دیکھتے ہوئے بوا نے کہا تو
ازر فوراً سے لان کی جانب بھاگنے کے انداز میں نکلا حسب توقع تیز بارش میں جھولے کی پشت پر سر گرائے بیٹھی تھی۔
طوبیٰ کو اس حالت میں دیکھ ساکت رہ گیا وہ اپنا درد کسے چھپا رہی تھی خود سے یا آزر سے اتنی تیز بارش میں بھی ازر سے طوبیٰ کے چہرے کا درد چھپ نہ سکا جسے وہ اتنے دونوں سے اپنا وہم سمجھ رہا تھا۔
بھاری قدموں سے قدم قدم چلتا اسکے پاس جھولے پر بیٹھ گیا تھا وہ ہزار شکوہ لیے آیا تھا طوبیٰ کی حالت نے سب بھولا دیا طوبیٰ بنوز اسی طرح بیٹھی انجان بنی رہی۔
طوبیٰ۔۔۔! دونوں ہاتھ جھولے پر ٹکائے گردن اسکی اور موڑتے کرب سے خود پر ضبط کیے پکارا۔
اسکی پکارا پر تیزی سے ازر کے گلے لگی اور پھوٹ پھوٹ کر رو دی اتنے دنوں سے وہ جو خود کو سنبھالے ہوئے تھی آج اس کا صبر جواب دے گیا تھا۔
طوبیٰ.! میں تمہیں کچھ نہیں ہونے دونگا طوبیٰ.! تمہیں کچھ نہیں ہوگا۔ اسے سختی سے خود میں بھنچے وہ اسے زیادہ خود کو تسلی دے رہا تھا۔
”آزر..! اب کچھ نہیں ہوسکتا اب بہت دیر ہوگئی ہے میں نہیں بچوں گی آزر.! ہماری بیٹی کو ماں کی ضرورت ہوگی میں نہیں چاہتی اس کی ذندگی میں کبھی کوئی کمی ہو، آپ اسے میرے بارے میں مت بتائیگا پلیز۔! ازر آپ نتاشہ سے شادی کر لیں میری خاطر ہماری بیٹی کے لیے ۔ ہچکیوں سے روتے التجا کی
طوبیٰ تمھیں کچھ نہیں ہوگا۔! تم ایک ڈاکٹر کی باتیں سن کر کیسے کہہ سکتی ہو یہ سب.؟ تمھیں کچھ نہیں ہوگا میں تمھیں کچھ نہیں ہونے دونگا، تمھیں جینا ہے میرے ساتھ ہماری بیٹی کو تمہاری ضرورت ہے مُجھے تمھاری ضرورت ہے تم کسے ہمت ہار سکتی ہو.! خود سے الگ کرتے دونوں کندھوں سے پکڑ کر جھنجھوڑتے ہوئے کہا۔
Instagram
Copy link
URL has been copied successfully!

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

کتابیں جو آپ کے دل کو چھوئیں گی

Avatar
Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial