ادھورے خواب

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

قسط: 38

”میرے لیے نہیں تو ہماری پرنسس کی خاطر مان جائے اسے ماں کی ضرورت ہے.؟ ہاتھ جوڑتے وہ ملتجی نظروں سے آزر کو دیکھ رہی تھی۔
تم غلط کر رہی ہو۔! ازر کا صبر جواب دیں رہا تھا۔
ٹھیک ہے میں غلط کر رہی ہوں ناں.! تو مجھے کرنے دیں مجھے میرے شوہر اور اپنی بیٹی کے لیۓ جو صحیح لگ رہا ہے کرنے دیں، کیا میرا آپ پر اتنا بھی حق نہیں.! اپنے آنسوں صاف کرتے سپاٹ انداز میں بولی۔
صرف تمھیں ہی تو حق ہے اور میں یہ حق کسی دوسرے کو نہیں دے سکتا یہ صحیح نہیں ہے طوبیٰ.! میں تمہیں کیسے سمجھاؤ میں اس کے ساتھ کبھی خوش نہیں رہ سکتا, اس کے ساتھ تو کیا کسی کے ساتھ بھی خوش نہیں رہ سکتا، میری خوشی صرف تمہارے ساتھ ہے تم کیوں نہیں سمجتی.! کرب سے کہتے وہ اندر سے ٹوٹنے لگا تھا۔
آپ میری بات مانے گے یا نہیں.؟
اسکی سوال کا جواب دینے کے بجائے آزر اٹھ کر کمرے سے نکل گیا اسے اب اور وہاں روکنا مشکل لگ رہا تھا
پیچھے طوبیٰ تکیے میں منہ چھپا کر رونے لگی تھی
آپ کیوں نہیں سمجتے میں آپ یو ٹوٹتے بکھرتے نہیں دیکھ سکتی اگر ابھی آپ ایسے کر رہے ہیں تو اگر مجھے کچھ ہو گیا تو آپ کیسے خود کو سنبھلے گے کیسے.؟ طوبیٰ نے درد سے چور لہجے میں روتے ہوۓ خود سے کہا
💛💛💛💛💛💛💛
نتاشہ میڈم گھر پر ہیں.؟ ازر نے ملازمہ سے پوچھا تھا۔
جی آپ بیٹھے میں ابھی بولا کر لاتی ہو.! ملازم نے کہا
ازر تم یہاں.؟ نتاشہ آزر کو دیکھ کر متعجب ہوئی یہ دوسری بار تھا کہ وہ اسکے گھر آیا تھا۔
مجھے تم سے بات کرنی ہے.! ازر نتاشہ کو دیکھ کر کھڑا ہوا تو وہ اثبات میں سر ہلاتی اسکے سامنے سنگل صوفے پر آکر بیٹھی۔
کیا لو گے چائے یا کافی.؟
مجھے کچھ نہیں چاہیے، ہوسکے تو ایک مہربانی کرو بس طوبیٰ سے کہہ دو تم مجھ سے شادی نہیں کر سکتی تمہیں کوئی اور پسند ہے یا کچھ بھی کہوں بس کچھ بھی کر کہ اسے منا کر دو.! آزر نے ٹو دا پوائنٹ بات کی جس کے لیے وہ یہاں آیا تھا۔
مگر۔۔۔!!
اگر.! مگر کے چکر میں مت پڑو نتاشہ بس اتنا یاد رکھو کہ میں تم سے نکاح نہیں کرنا چاہتا اگر طوبیٰ کے زیادہ مجبور کرنے پر مجھے یہ قدم اٹھانا پڑا تو محض ایک کاغذی کروائی سے بڑھ کر کچھ نہیں ہوگا، میری زندگی میں نہ تو پہلے تمھارے لیے جگہ تھی نا ہی آگے جا کر مجھ سے ایسی کوئی توقع
رکھنا، میری بیوی صرف طوبیٰ ہے اسکے علاوہ میں یہ جگہ کسی کو نہیں دے سکتا، اسی لیے کہہ رہا ہوں بعد میں پچتھانے سے بہتر کہ تم ابھی انکار کر دو.! اسنے بولنے کے لیے منہ کھولا ہی تھا کہ آزر نے دو ٹوک انداز میں آنے والے وقت سے آگاہ کرتے سمجھانے کی کوشش کی تھی۔
”جس طرح تم اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہو ناں آزر بالکل اسی طرح میں بھی مجبور ہوں، میں اچھی طرح جانتی ہوں کہ میں کبھی تمھاری زندگی میں اپنی جگہ نہیں بنا سکو گی اور ناہی تم کبھی مجھے وہ جگہ دے پاو گے جو طوبیٰ کی یا پھر ایک بیوی کی ہوتی ہے ، آزر جو کام میں خود اتنے عرصے میں نہیں کر پائی اسکے لیے میں تمھیں بھی کبھی مجبور نہیں کروگی میرے لیے اتنا ہی بہت ہے کہ میرے نام کے ساتھ تمہارا نام جڑ جاۓ.! انگلیاں چٹخاتے اپنی بے بسی کا اظہار کیا جس پر آزر ضبط سے اپنی مٹھیاں بھینچ گیا
تم بہت پچھتاؤ گی.! تیش میں کہتے اٹھ کھڑا ہوا
اب بھی تو پچھتا رہی ہوں.! نتاشہ کرب و تاسف سے بولی
آزر یہاں نتاشہ کو سمجھانے آیا تھا لیکن یہاں بھی اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا
💛💛💛💛💛💛
بیڈ پر چت لیٹی اپنی آنکھوں پر ایک بازو رکھے دوسرا سیدھا کیے وہ بے آواز آنسوں بہا رہی تھی۔
دروازے کا نوب گھما کر کمرے میں داخل ہوا تو طوبیٰ پر نظر پڑتے ہی آزر کو اپنے دل میں ٹیس اٹھتی ہوئی محسوس ہوئی تھی وہ کیوں ایک بے تکی ضد کر رہی تھی آزر قدم قدم چلتا ہوا طوبیٰ کے پہلو میں لیٹ گیا۔
کب تک ناراض رہنے کا ارادہ ہے جان.! صبح سے تم نے کچھ نہیں کھایا کب تک اس طرح چلے گا.؟ اسکی آنکھوں پر رکھا بازو پکڑ کر اسکا رخ اپنی جانب کیا رونے کی ذیادتی کے باعث آنکھیں لہو چھلکا رہی تھی جبکہ آزر کی حالت بھی اسے کچھ مختلف نہ تھی۔
جب تک آپ میری بات مان نہیں جاتے.؟ رندھی ہوئی آواز میں کرب نمایاں تھا۔
کیوں ضد کر رہی ہو جان! مت کرو ایسا.؟ اسکا چہرے پر ہاتھ رکھے وہ منت کر رہا تھا۔
ہاں یا نہ .؟
ہم اس بارے میں بعد میں بات کریں گے پہلے کچھ کھا لیں مجھے بہت بھوک لگی میں نے بھی صبح سے کچھ نہیں کھایا.؟ آزر نے بات بدلنے کی کوشش کی۔
پلیز آزر میری آخری خواہش س……
ازر نے تڑپ کر طوبیٰ کے منہ پر ہاتھ رکھ کر نفی میں سر ہلایا
اگر تم یہی چاہتی ہو تو ٹھیک ہے میں تیار ہوں.! وہ جو کب سے آزر سے ضد لگائے بیٹھی تھی آزر کی رضامندی ظاہر کرنے پر اسے لگا جیسے اسکا دل دھڑکنا بھول گیا ہو۔
فوراً سے آزر کے سینے سے لگی اور پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی مجھے معاف کر دیں آزر میں یہ کبھی نہیں کرنا چاہتی تھی۔ آزر کے سینے سے لگی معافی مانگ رہی تھی۔
اب رو کیوں رہی تمھاری بات مان تو لی اب خوشیاں مناؤ اور اٹھ کر کچھ کھا لو جان تم نے کل رات سے کچھ نہیں کھایا۔ اسے خود سے الگ کرتے وہ اٹھ بیٹھا۔
آپ مجھ سے ناراض ہیں.؟ مدھم آواز میں اپنے آنسو صاف کرتے سوال کیا۔
میں کون ہوتا ہوں ناراض ہونے والا۔؟ بے تاثر لہجے میں کہتے انٹر کوم سے بوا کو کھانا لانے کو کہا۔
تھوڑی دیر میں بوا کھانا لے کر آئی جو ازر نے دورازے سے خود ہی لے لیا۔
طوبیٰ بیڈ کراؤن کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھی تھی
کھانے کی ٹرے طوبیٰ کے سامنے رکھتے ایک ٹانگ فولڈ کرتے اسکے سامنے بیٹھتے ایک لقمہ توڑ کر طوبیٰ کے منہ کے سامنے کیا تو اسکی آنکھیں ڈبڈبا گئی۔
پہلے آپ۔؟ طوبیٰ نے آزر کے ہاتھ سے لقمہ لے کر آزر کے منہ کے سامنے کیا دونوں ہی ایک دوسرے کے سامنے خود کو مضبوط ثابت کرنے پر تلے تھے۔
بہت ضدی ہو گئی ہو.؟ ازر نے شکوا کیا آزر کی آنکھوں سے آنسوں بہہ نکلیں۔
آپ نے ہی میری عادتیں خراب کی ہیں.؟ پھیکے پن سے مسکرائی۔
اب مجھے کھلائے مجھے بھوک لگی ہے؟ مدھم آواز میں آزر کو دیکھتے ہوئے دھیان دلایا۔
ہم کل ڈاکٹر کے پاس چلے گے میں نے ایک اور گائناکالوجسٹ سے بات کی ہے۔ طوبیٰ کو نوالہ کھلاتے ہوئے بتایا
اس سے کیا ہوگا آپ پہلے ہی شہر کی سب سے اچھے گائناکالوجسٹ کے پاس لے کر جا رہے تھے۔
میں تمہاری ہر بات مان رہا ہو ناں.! اب تمہیں بھی میری ہر بات مانی پڑے گی اور وہ بھی بنا کسی سوال کے۔ ازر نے سرد لہجے میں کہا۔
پہلے آپ کا اور نتاشہ کا نکاح پھر آپ جو کہیں گے میں کرو گی، کسی سوال کے بغیر.! طوبیٰ نے آزر کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر کہا۔
تمھیں مجھ پر یقین نہیں.؟
آپ پر تو یقین ہے، اپنی ذندگی پر نہیں.! نم لہجے میں آنکھوں میں آنسوں لیے کہا۔
Instagram
Copy link
URL has been copied successfully!

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

کتابیں جو آپ کے دل کو چھوئیں گی

Avatar
Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial