قسط: 39 پارٹ 1
تمہیں مجھ پر یقین نہیں.؟
آپ پر تو یقین ہے، اپنی زندگی پر نہیں.! نم لہجے میں آنکھوں میں آنسوں لئے کہا
طوبیٰ۔۔!! ایسی باتیں کیوں کر رہی ہو.! میں تمہاری ضد مان رہا ہوں ناں.! اب تم اپنے منہ سے ایسی کوئی بات نہیں نکالو گی سمجھی، نتاشہ سے نکاح کے بعد تمہیں سکون مل جاۓ گا تو ٹھیک ہے میں صبح ہی تمھاری یہ خواہش پوری کئے دیتا ہوں، لیکن میری ایک شرط ہے جب میں نکاح کرو تم میرے ساتھ رہو گی، میں دیکھنا چاھتا ہو تم میں کتنی ہمت ہے کیسے تم مجھے کسی اور کا ہوتے ہوئے دیکھتی ہو.!! وہ جو خود پر جبر کیے ہوئے تھا اسکا ضبط جواب دے گیا تو فوراً سے پیشتر اپنی جگہ سے اٹھ گیا۔
آزر آپ کہاں جا رہے ہیں.؟ آزر اٹھ کر جانے لگا تو طوبیٰ نے ہاتھ پکڑ لیا۔
جہاں بھی جاو تمہیں فرق نہیں پڑنا چاہئے.؟ ازر نے طوبیٰ کا ہاتھ اپنے ہاتھ سے نرمی سے ہٹاتے ایک کڑی نگاہ اس پر ڈالی
آزر مجھے نیند نہیں آتی آپ کے بغیر.؟
جب نتاشہ کے پاس جانے کا کہوں گی تو تب بھی تو سونا پڑے گا اچھی ہے ابھی سے عادت ڈال لو.؟ ضبط کے باوجود خود سخت الفاظ کہنے سے باز نہ رکھ سکا اور تیزی سے وہاں سے نکل گیا
اسکے الفاظ میں چھپا طنز طوبیٰ کو اپنے سینے میں پیوست ہوتا ہوا محسوس ہوا جس پر وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی
”تم نے سوچا بھی کیسے کے میں تمہیں اپنے آزر کی ذندگی شامل ہونے کی اجازت بھی دونگی، وہ میرے ہے اور میرے جیتے جی تو میں کبھی ایسا ہونے نہیں دونگی، ہاں اگر میرے مرنے کا انتظار کر سکتی ہو تو کر لو اسکے بعد ہی شاید تم اپنے مقصد میں کامیاب ہو سکو۔اپنے کہہ لفظوں کی بازگشت سنائی جس پر اسکے رونے میں شدت آئی اسنے سوچا بھی نہیں تھا کہ اسکے کہہ الفاظ یوں ایک دن اسکے سامنے آ جائے گے۔
صحیح تو کہہ رہے ہیں آپ.! کیسے کرو گی میں یہ سب، کیسے میں آپ کو کسی اور کا ہوتے ہوئے دیکھ پاؤ گی.؟ کیسے۔۔؟؟؟
آزر اندر سے بری طرح ٹوٹ چکا تھا مگر طوبیٰ کے سامنے ظاہر کر کے وہ اسے مزید پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا اسی لیے سٹڈی میں آگیا۔ مگر چین تو یہاں بھی نہیں تھا، ہوتا بھی کیسے وہ خود اسکا اڈیکیٹ ہوگیا تھا اور اسے کھو دینے کا خوف آزر کو مار رہا تھا۔
اپنے اندر کے خلفشار سے لڑتے وہ کھڑکی کے سامنے کھڑا آسمان کے چاند کو دیکھ رہا تھا کہ ایک منظر اسکے سامنے لہرایا۔
میں آئی تھی آپ کے پاس یہ کہنے کہ میں آپ سے محبت کرتی ہوں مجھ سے شادی کریں نہیں تو میں مر جاؤنگی۔الگ ہوتے بھیگے لہجہ میں غیر متوقع سوال کیا۔
نہیں.!
تو پھر آپ نے کیوں کی مجھ سے شادی کی.؟ کر لیتے شزہ یا نتاشہ یا کسی سے بھی، میں نے منا تو نہیں کیا، میں تو مرنے لگی تھی اور مر بھی جاتی اگر آپ اس دن وقت پہ نہ پہنچتے، کس نے کہا تھا مجھے بچائے میں نے منت کی تھی آپ کی۔ اسکے سینے پر مکے مارتے لہجے میں خفگی سموئے مزید اسی انداز میں گویا ہوئی تو وہ اسے دیکھ کر رہ گیا۔
بولیں ناں اب بولتے کیوں نہیں میں نے کہا تھا نتاشہ سے نہیں مجھ شادی کریں.؟
جان تم نے کچھ نہیں۔۔۔!!
”جان.! جان۔۔! کہہ کر جان لینے کا ارادہ ہے تو بتا دیں، ایک ہی بار دیتی ہوں.! یہ آپکی ہر روز ایک نئی جان دیکھ کر بھی تو میری جان نکلتی ہی ہے، تو پھر ایسے ہی سہی۔ آزر نے کچھ کہنے چاہا تھا اسکی بات اچکتے اسکے سینے پر مارتے ہذیانی انداز بولے جارہی تھی جبکہ اسکی بات کو سمجھتے آزر کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔
آزر میں آپ کو بتا رہی ہوں.! مجھ سے پہلے آپکی زندگی میں کون تھی کون نہیں، اسے مجھے فرق نہیں پڑتا، میرے مرنے کے بعد بھی چاہے تو آپ شادی کر لیں، لیکن اب جب میں آپ سے محبت کرنے لگی ہوں، آپ کے ساتھ جینے لگی ہو، تو آپ صرف میرے ہیں، میں آپکو کسی کے ساتھ کسی بھی قیمت پر شئیر نہیں کرونگی۔ اپنے آنسوں صاف کرتے کالر سے پکڑ کر کھینچتے اپنا حقِ ملکیت جتایا جس پر آزر کو خوشگوار حیرت ہوئی تھی۔
کیا کہا پھر سے کہنا.؟ اسکی کلائی پکڑ کر آزر سوالیہ نظروں سے دیکھا اسے اپنی سماعت شک گزرا تھا۔
”وہی جو آپ نے سنا.؟ اپنی غلطی کا ادراک ہوتے ہی دور ہوتے نظریں چرائی۔
”مجھے صحیح سے سنائی نہیں دیا، ایک بار پھر سے کہوں کیا کہا تم نے.؟ اسکی کلائی پکڑ اپنے قریب کرتے آزر نے جانا چاہا۔
یہی کہ مجھ سے پہلے آپکی زندگی میں کون۔۔۔۔!!
یہ نہیں اسکے بعد.!وہ نظریں جھکائے مدھم آواز میں بول رہی تھی کہ آزر نے فوری ٹوکا
چاہے تو میرے مرنے۔۔۔!!
”ابھی تو جینا شروع کیا ہے جان.! اور تم ابھی سے مرنے کی بات کر رہی ابھی تو تم نے ہمارے بچوں کے بچوں کو بھی اپنی گود میں کھلانے ہیں، اتنی جلدی مرنے نہیں دونگا۔ اسنے ایک مرتبہ پھر بولنا چاہا تو آزر نے پھر اسکے الفاظ اچک لیے پر حدت نگاہوں کی تپش طوبیٰ کو اپنے اندر اترتی ہوئی محسوس ہوئی تھی۔
ہاں تو تم کیا کہہ رہی تھی جان.! کمر میں ہاتھ ڈال کر اپنے بے حد قریب کرتے گھمبیر انداز استفہامیہ تھا۔
آپ نے نہیں سنا تو اس میری غلطی تو نہیں میں نے تو کہہ دیا جو کہنا تھا، لیکن میں بتا رہی ہوں میں برداشت نہیں کرونگی آپکی زندگی میں کسی اور کو جان لےلو گی اگر آپ نے ایسا کچھ سوچا بھی تو.! نظریں جھکائے معصومیت سے مدھم آواز میں کہتے انگلی اٹھا کر ایک بار پھر سختی سے تنبیہ کی تھی۔
کس کی جان لینے کا ارادہ ہے میری جان کا.؟۔ اسکی تنبیہ سے محظوظ ہوتے دریافت کیا۔
اپنی ہی لے سکتی ہوں اور کس کی لینی ہے۔ اپنا آپ چھڑوانے کی تگ و دو کرتے برہمی سے بولی۔
گزرے حسین لمحات کو یاد کرتے آنسوں اسکی بریڈ میں جذب ہو رہے تھیں
کیوں کر رہی ہوں تم میرے ساتھ ایسا.؟ کیوں ہو گیا میں اتنا مجبور.؟ کیوں میں نے طوبیٰ کی ضد کے آگے گھٹنے ٹیک دیے.؟ خود سے سوال کرتے صوفے پر گرنے کے انداز میں بیٹھ گیا ازر کے دل میں درد اٹھ رہا تھا جسے وہ چاہ کر بھی کم نہیں کر سکتا تھا۔
قدسیہ بیگم کی منشا کے خلاف ارحم نے شزہ سے نکاح کر تو لیا تھا مگر قدسیہ بیگم نے اس نکاح کو قبول نہ کیا اور اپنی ناراضی ظاہر کرنے کے لیے خود کو ان سے الگ کر لیا جس کی شزہ کو تو خاطر خواہ پروا نہ تھی مگر ارحم تو بیٹا تھا لاکھ برا سہی مگر ماں کی ناراضی اسے بے چین کر رہی تھی۔
ماما نے ناشتہ کر لیا.؟ ڈائنگ ٹیبل کے چیئر پر بیٹھتے ملازمہ سے پوچھا۔
نہیں سر.! بیگم صاحبہ کی طبیعت ٹھیک نہیں رات بھی انھوں نے کچھ نہیں کھایا۔ ملازمہ کے بتانے پر اسے فکر ہوئی۔
خالا اوور ریئاکٹ کر رہی ہیں، مجھے تو سمجھ نہیں آرہی خالا میرے ساتھ ایسا کر کیوں رہی ہیں.! جوس کا گلاس ارحم کے سامنے رکھتے بولی۔
تم فکر نہیں کرو میں ماما کو منا لونگا بس کچھ دن کی بات ہے پھر سب ٹھیک ہو جائے گا۔ارحم نے شیزہ کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر یقین دہانی کروائی۔
اچھی بات ہے تم سمجھا لو اگر میں نے سمجھایا تو شاید خالا کو میرا سمجھانا پسند نہ آئے۔؟ شیزہ نے اپنے بال ایک انداز سے پیچھے کرتے آنکھیں گھمائی۔
اچھا تم ناشتہ کرو میں ماما کو دیکھتا ہوں.! نیپکن سے منہ صاف کرتے ارحم اپنی چیئر سے اٹھا۔
میں بھی ساتھ چلتی ہوں.؟ شزہ بھی اسکی معیت میں اٹھی۔
ماما۔۔!! ماما……!! دروازہ نوک کرتے ہوئے پکارا مگر کوئی جواب نہ ملا۔
ماما۔!! ارحم نے دروزے کا نوب گھمایا تو دروازہ کھولتا چلا گیا۔
ماما۔۔۔!!! ارحم کی نظر سامنے قدسیہ بیگم پر پڑی جو بیڈ سے گری ہوئ تھی.
ماما……! ماما…..! کیا ہوا آپ کو.؟ ارحم فورا سے قدسیہ بیگم کی طرف بڑھا اور قدسیہ بیگم کو سیدھا کیا۔
ماما…؟ ارحم نے قدسیہ بیگم کا چہرا تھپتھپایا
یہ لو پانی.؟ شیزہ نے پانی کا گلاس ارحم کو دیا
انہے ہاسپیٹل لے کر جانا ہوگا، تم جا کر ڈرائیو سے کہو گاڑی نکالے۔؟ قدسیہ بیگم کے بس سد وجود کو دیکھ کر ارحم کے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے پڑ گئیں تھیں۔
اپنی ماں کے لیے ارحم کو پریشان ہوتا دیکھ شیزہ کا منہ بن گیا تھا۔
طوبیٰ رات کو روتے کب سو گئی کچھ پتا نہیں چلا۔
صبح دروازے پر ہوتی دستک سے طوبیٰ کی کی آنکھ کھلی تھی کلس مندھی سے اٹھ کر بیٹھتے طوبیٰ نے اجازت دی تو بوا کمرے میں داخل ہوئی تھی۔
بہوں رانی.!آپ کا ناشتہ کمرے میں ہی لے آؤ.؟ بوا کے لہجے میں طوبیٰ کو اجنبیت محسوس ہوئی جس پر طوبیٰ متعجب ہوئی۔
میں آزر کے ساتھ کرو گی، کہا ہیں وہ.؟ بوا کے لہجے کو نظر انداز کرتے بتایا
وہ تو صبح ہی چلے گئے تھے کہہ کر گئیں ہیں کہ آپ کو ناشتہ کروا دوں.! وہ آجاۓ گے تھوڑی دیر تک کسی ضروری کام سے گئے ہیں.! بوا نے اطلاع دی۔
”ایسا بھی کیا ضروری کام تھا کہ میرے اٹھنے سے پہلے ہی چلے گئے آج سے پہلے تو کبھی ایسا نہیں ہوا.؟۔ سرخ ہوتی آنکھو میں نمی امڈ آئی تھی۔
اب رونے کا کیا فائدہ آپ نے خود ہی تو ازر بیٹے کو خود سے دور کیا ہے،آپ کی احساسے کمتری نے ازر بیٹے کو آپ سے دور کیا ہے۔ بوا کے کہنے پر طوبیٰ کی آنکھیں پھیلی تھی۔
ڈاکٹر کا کہا آپ کے لیے حرفِ آخر ہوگیا آپ نے یہ بھی نہیں سوچا کہ ایک وہ ذات بھی جو زندگی اور موت دینے پر قادر ہے ، بندہ اسے جیسا گمان کرتا وہ اسے ویسے ہی نوازتا ہے، لیکن آپ تو ابھی جو ہوا ہی نہیں اس کے بارے میں سوچ کر اپنا اور آزر کا آج خراب کر رہی ہیں، بہو رانی میری اتنی اوقات تو نہیں کے آپ کو سمجھاؤں لیکن ایک بات ضرور کہوں گی اگر ڈاکٹر کی بات سچ بھی ہوئی اور آپ مر بھی گئی ناں تو اس میں ابھی ایک ڈیز مہینہ ہے، لیکن آپکی ضد کی وجہ سے ازر بیٹا نتاشا سے نکاح نامے پر سائن کرتے ہوہے ہی مر جائے گے، ابھی بھی آپ کے پاس وقت ہے جو ابھی ہوا ہی نہیں، اس بارے میں سوچ کر اس طرح آزر بیٹے کو نہ مارے بہوں رانی! بوا حد درجے سنجیدگی سے کہتے وہاں رکی نہیں تھی۔
پیچھے طوبیٰ کی آنکھوں میں آنسو آگئیں گلے میں گولا سا ابھر کر معدم ہوا رات سے وہ جس کشمکش میں تھی بوا ایک بار میں اس کی ساری کشمکش دور کرتے اسے صحیح راہ دیکھا گئی تھی۔
طوبیٰ نے آزر کے نمبر پر کال کی جو پہلی بیل پر اٹھا لی گئی تھی۔
جان! فکر نہیں کرو گھر ہی آرہا ہوں نتاشا کو کال کر دی ہے اور نکاح خواں کو اپنے ساتھ لے کر آرہا ہوں، آج میں اپنی جان کو بالکل بھی مایوس نہیں کرونگا۔ ازر نے طوبیٰ کے کچھ کہنے سے پہلے ہی اپنی بات کہہ کر کال کاٹ دی طوبیٰ کی آنکھوں سے انسوں تواتر سے بہہ نکلے طوبیٰ کو اپنا سانس روکتا ہوا محسوس ہوا تھا۔
یہ کیا کرنے چلی تھی طوبیٰ تم.؟ اپنے ہی ہاتھوں سے اپنا گھر برباد کرنے جاری تھی اپنا اتنی محبت کرنے والا شوہر کسی اور کی جھولی میں ڈالنے جاری تھی یہ بھی نہیں سوچا کہ ایسا کر کہ میں کیسے جی پاو گی میں تو جیتے جی مر جاؤنگی، نہیں ایسا نہیں ہوسکتا میں ایسا نہیں ہونے دونگی، آزر آپ میرے ہیں صرف میرے۔ خود کلامی کرتے وہ فیصلہ کر چکی تھی۔
ڈاکٹر کیا ہوا میری ماما کو وہ ٹھیک تو ہو جائیگی.؟ ڈاکٹر آئی سی یو سے باہر آیا تو ارحم تیزی سے آگے بڑھا۔
بی پی شوٹ کرنے کے باعث برین ہیمرج ہوا مگر گھبرانے کی ضرورت نہیں اب وہ خطرے سے باہر ہی اچھا ہوا جو آپ انھیں وقت پر ہاسپٹل لے آئے تھوڑی سی بھی دیر انکی جان لے سکتی تھی۔چہرے سے ماسک ہٹاتے ڈاکٹر نے تشویش کا اظہار کیا۔
اب کیسی ہیں وہ.؟ کیا ہم ان سے مل سکتے ہیں۔؟
جی ہم ان کی زندگی بچانے میں تو کامیاب ہوگئے ہیں مگر…!!
مگر کیا۔۔؟؟
ہمیں افسوس کے ساتھ بتانا پڑ رہا ہے کہ اب وہ کبھی چل نہیں سکتی، آپ کو اب اپنی ماں کا بہت خیال رکھنا ہوگا کیوں کے اس عمر میں ایسے اٹیک کے بعد انکا بچ جانا ہی بڑی بات ہے۔ ڈاکٹر نے پروفشنل انداز میں بتانے پر ارحم کے قدم ڈگمگائے تھے
اس تو بہتر ہوتا کہ وہ بچتی ہی نہ.! شزی زیرے لب بڑاڑاتی نحوت سے سر جھٹک گئی۔
شزہ یہ کیا ہو گیا ماما کے ساتھ.؟ جس پر ناچاہتے ہوئے بھی تسلی دینے آگے بڑھی۔