قسط 13
وہ دونوں آئفل ٹاور کے گرد بنی سیڑھی پر بیٹھے تھے۔۔ لوگوں کا آنا جانا لگا ہوا تھا۔۔ مگر وہ ان سب سے بے پرواہ ماضی کی داستان میں مشغول تھے ۔۔ بے آواز ہی بہت سے آنسو الہام کے چہرے کو بھگو رہے تھے ۔۔ وقت سے شکایت تو شاید اس نے کبھی نہیں کی تھی۔۔ مگر دل میں ایک درد تھا جو کہ کبھی کبھی اسے یہ احساس دلاتا تھا کہ وقت نے اس سے اسکے پیارے رشتے چھین لئے تھے ۔۔ کبھی کبھی اسے یہ احساس تڑپاتا تھا کہ اسکے کردار کی اتنے لوگوں کے سامنے دھجیاں اڑائی گئیں تھیں ۔۔ کبھی کبھی اسے افسوس ہوتا تھا کہ اسکے اپنوں نے اسکا اعتبار نہیں کیا ۔۔ مگر ان سب کے باوجود اسے یہ یقین تھا کہ ایک دن وقت ہی اسکے زخموں پر مرہم رکھے گا اور ایک دن ہی اسے معتبر کرے گا ۔۔ مگر وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ وقت تو اسے بہت پہلے ہی معتبر کر چکا تھا ۔۔ عرش نے اسے رونے سے روکا نہیں تھا ۔۔
کبھی کبھی رو دینا اچھا ہوتا ہے ۔۔۔ خاموشی سے رونے سے دل کا بہت سارا بوجھ ہلکا ہوجاتا ہے ۔۔ اور دل کا بوجھ ہلکا ہوجانے سے اچھا اور کیا ہوسکتا ہے بھلا ۔؟؟
’’ مجھے پاپا سے یہی شکوہ رہا تھا ہمیشہ کہ وہ ماما اور اربش کے لئے مجھے اگنور کرتے رہے ۔۔ میری ہر بات۔۔ ہر خواہش پر انہوں نے کمپرومائیز کیا تھا ۔۔ مگر پتہ ہے مجھے پھر بھی ان پر مان تھا ۔۔ وہ ہر رشتہ نبھانا جانتے تھے۔۔ مجھے اگنور کر کے بھی انہوں نے میری تعلیم اور میرے کیرئیر پر کمپرومائیز نہیں کیا تھا ۔۔ مجھے یقین تھا کہ پاپا کبھی میرا مان نہیں توڑیں گے ۔۔ ’’ وہ کہہ رہی تھی۔۔ نظریں سامنے آسمان پر تھیں ۔۔ اور عرش کی نظریں الہام کے چہرے پر ۔۔
’’ پر پاپا نے توڑ دیا ۔۔انہوں نے میرا مان توڑ دیا عرش ۔۔ تب جب پوری دنیا انکی بیٹی کے کردار پرانگلی اٹھا رہی تھی۔۔ تو وہ بھی اس دنیا کے ساتھ تھے ۔۔ تب جب انکی دوسری وائف انکی بیٹی کا زبردستی نکاح کروا رہی تھیں۔۔ وہ تب بھی اس نکاح میں شریک تھے ۔۔ تب جب میں نے انکے پاؤں پکڑے تھے۔۔ تو انہوں نے پاؤں جھٹک دیئےتھے ۔۔ انہوں نے مجھےمار دیا تھا عرش ۔۔۔ میرا مان اس دن ٹوٹ گیا ۔۔ ہمیشہ کے لئے۔۔۔ ’’ اس نے اپنے آنسو صاف کئے تھے اور عرش کی طرف دیکھا تھا۔۔ جو اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔ وہ مسکرائی تھی۔۔
’’ اب کیا فرق پڑتا ہے کہ وہ پچھتا رہے ہیں ۔۔؟؟ اب کیا فرق پڑتا ہے کہ وہ سچ جان چکے ہیں ؟ اب کیا فرق پڑتا ہے عرش کے انہیں اب مجھ پر اعتبار ہے ۔۔؟؟ یہ اعتبار بھی انہوں نے مجھ پر نہیں۔۔ ثبوتوں پر کیا تھا ’’ وہ کھڑی ہوئی تھی۔۔ عرش بھی اسکے ساتھ اٹھا تھا۔۔
’’ اب مان تو ٹوٹ چکا ۔۔ اور ٹوٹی ہوئی چیزیں کبھی نہیں جڑتیں ۔۔ اور اگر جڑ بھی جائیں تو ان میں دراڑ رہ جاتی ہے ’’ اس نے کہہ کر قدم آگے بڑھائے تھے۔۔ اور عرش نے اسکا ساتھ دیا تھا ۔۔۔ وہ ہر موڑ پر اسکا ساتھ دینا چاہتا تھا ۔۔ اور وہ ساتھ تھا بھی ۔۔ باقی کا راستہ خاموشی سے گزرا تھا ۔۔
وہ لیپ ٹاپ لے کر ٹیرس پر بیٹھا تھا ۔۔ موسم ٹھنڈا تھا مگر ہاتھ میں پکڑی کافی اس ٹھنڈ کی دوا تھی ۔۔
’’ تو پھر تم نے اسے سب بتا دیا ؟ ’’ لیپ ٹاپ پر ویڈیو کال میں موجود معاذ نے اس سے کہا تھا۔۔
’’ ہاں ۔۔یہ ضروری تھا ’’ اس نے کافی کا گھونٹ بھرتے ہوئے کہا تھا۔۔
’’ اب کیا سوچا ہے ؟ ’’ وہ اس سے پوچھ رہا تھا۔۔
’’ وہ واپس نہیں جائیگی ۔۔ اسکا مان ٹوٹا چکا ہے ۔۔ وہ دوبارہ وہاں نہیں جانا چاہتی ’’ اسکے چہرے پر سنجیدگی تھی۔۔
’’ اور تم کیا چاہتے ہو؟ ’’ معاذ نے پوچھا تھا۔۔ وہ اس وقت اپنے روم میں موجود تھا۔۔ چائے کا کپ اسکے ہاتھ میں تھا۔
’’ میں چاہتا ہوں کہ وہ ہمیشہ کے لئے نہ سہی ۔۔ مگر وہ وہاں آنا جانا ضرور شروع کر دے ۔۔ وہ اسکا ملک ہے ۔۔ میں چاہتا ہوں کہ وہ اپنے ماضی سے ہمیشہ کے لئے جان چھڑوا لے اور یہ تبھی ممکن ہوگا۔۔ جب وہ اس ملک واپس جائیگی ’’ اس کی بات پر معاذ مسکرایا تھا۔۔
’’ ہاں ۔۔ اور پھر وہاں اسکے خوابوں کا گھر بھی تو اسکا منتظر ہے۔۔ جو اسکے فیوچر ہسبنڈ نے بنایا ہے ’’ اس نے اسے چھیڑا تھا۔۔
’’ بلکل اور اس گھر کو ہمارا انتظار ہے ۔۔ ہم اپنی ویکیشنز وہی منائیں گے ’’ عرش نے اسکی بات کو اینجوائے کیا تھا۔۔
’’ ارے واہ کیا بات ہے؟ تم تو وہاں جاکر بہت رومانٹک ہوگئے ہو ’’ معاذ نے ایک آنکھ دبا کر کہا تھا۔۔
’’ ابھی کہاں ۔۔ ابھی تو اسے کچھ کہا ہی نہیں میں نے ۔۔ اچھا سنو۔۔ احتشام بھائی کی شادی ہونے والی ہے’’ اسے اب احتشام کا خیال آیا تھا۔۔
’’ یہ تو اچھی بات ہے۔۔ اگلا نمبر تمہارا ہی ہوگا پھر ’’ معاذ کی سوئی ابھی وہی اٹکی تھی۔۔
’’ تمہاری دعاؤں سے ’’ اس نے مسکرا کر کہتے کافی کا آخری گھونٹ بھرا تھا۔۔
’’ اچھا اب نیند آرہی ہے مجھے۔۔ تم تو اب فارغ ہو لیکن مجھے ہسپتال جانا ہوتا ہے ’’ معاذ نے مغرور انداز میں کہا تھا۔۔۔
’’ ہاں جانتا ہوں جتنی محنت تم وہاں کرتے ہو’’ اس نے طنزیہ انداز میں کہا تھا۔۔
’’ افسوس کہ تم آدھی بھی نہیں کر رہے ’’ وہ بھی حاضر جواب تھا۔۔
’’ چلو جاؤ اب ۔۔ بائے ’’ عرش نے اسے کہہ کر کال کٹ کی تھی اور لیپ ٹاپ بند کر کے کمرے کی جانب آیا تھا۔۔
وہ اپنے کمرے کے بیڈ پر ہاتھ میں ایک خط لئے بیٹھی تھی۔۔ یہ وہ خط تھا جو کہ اربش نے عرش کو دیا تھا ۔۔ اور اس میں اربش نے اپنی غلطیوں کی معافی مانگی تھی ۔۔ وہ چاہتی تھی کہ الہام اسے معاف کر دے ۔۔ مگر کیا آسان ہوتا ہے معاف کر دینا ۔۔؟؟ کوئی آپکے کردار پر انگلی اٹھائے تو کیا آسان ہوتا ہے بھول جانا ۔۔؟؟؟
اس نے خط کو لپیٹ کر سائیٹ ٹیبل پر رکھا تھا ۔۔ اور اب وہ نیم دراز ہوئی تھی۔۔ جب اسکا موبائیل بجا تھا ۔۔ وہ جانتی تھی کہ اس وقت کس کی کال ہوسکتی ہے۔۔ اس لئے بنا دیکھے ہی ریسیو کر لی تھی ۔۔
’’ جاگ رہی ہو ۔؟؟ ’’ اس نے پوچھا تھا۔۔
’’ جی ’’ مختصر جواب دیا تھا۔۔
’’ خط پڑھ لیا ۔۔؟؟ ’’ ایک اور ہوا سوال تھا۔۔
’’ جی ’’ ایک اور مختصر جواب ۔۔
’’ یہی سوچ رہی ہونا کہ معاف کر سکو گی یا نہیں ۔۔؟؟ ’’ اس نے کہا تھا اور اس بار الہام حیران نہیں ہوئی تھی ۔۔ یہ تو وہ بہت سال پہلے ہی مان چکی تھی کہ یہ انسان اسے سب سے زیادہ سمجھتا ہے ۔۔
’’ کیا معاف کرنا اتنا آسان ہوتا ہے عرش ۔۔؟؟ ’’ اس نے پہلی بار اسکا نام لیا تھا ۔۔ اور عرش کو پہلی بار اپنا نام اتنا پیارا لگا تھا۔۔
’’ معاف کرنا آسان نہیں ہوتا الہام ۔۔ مگر یہ مشکل کام صرف وہی کر سکتے ہیں جن میں مشکلات کا سامنا کرنے کا حوصلہ ہوتا ہے ۔۔جو بہادر ہوتے ہیں ۔۔ اور تم بہادر بھی ہو اور حوصلہ مند بھی ۔۔ تم معاف کر دوگی ’’ اس نے کہا تھا۔۔
’’ کردار پر جب بات آتی ہے عرش۔۔ تو معاف کرنا اتنا آسان نہیں ہوتا ۔۔ سب سے زیادہ اذیت اس وقت ہوتی ہے جب کردار پر انگلی اٹھتی ہے ’’ ایک آنسو اسکی پلکوں کو چھو کر گالوں پر گرا تھا۔۔
’’ کردار کا سب سے بڑا گواہ صرف اور صرف اللہ ہوتا ہے ۔۔ یہ جو انسان ہے نا ۔۔ انہیں فرشتوں کے کام کرنے کا بہت شوق ہوتا ہے ۔۔ کون کیا عمل کر رہا ہے ۔۔؟ کون کتنے گناہ اور کتنے ثواب کر رہا ہے ۔۔؟ ان انسانوں کو اسکا حساب رکھنے کا بہت شوق ہوتا ہے۔۔ مگر یہ نہیں جانتے کہ خدا تو نیت دیکھتاہے ۔۔ وہ عمل میں بھی نیت جانچتا ہے ۔۔ مگر یہ انسان نیت نہیں دیکھ سکتے ۔۔ ان میں اتنی صلاحیت نہیں ہے یہ کمزور ہیں۔۔ یہ گمراہ ہیں۔۔ یہ ناکام ہیں ۔۔ یہ جب کسی انسان کو خوش دیکھتے ہیں۔۔ تو انہیں اندر سے حسد ہوتی ہے ۔۔ یہ کسی کو خوش نہیں دیکھ سکتے ۔۔ اور جانتی ہو ایسے انسانوں کے ساتھ کیا کرنا چاہئے ؟؟ ’’
’’ کیا ؟ ’’ اس نے پوچھا تھا۔۔
’’ ان پر رحم کھا کر انہیں معاف کر دینا چایئے ۔۔ کیونکہ یہ صرف اسی کے مستحق ہوتے ہیں۔۔ ان سے اور کسی چیز کی کیا توقع کرنا ؟ ’’ اس نے کہا تھا اور الہام اسکی بات سمجھ گئ تھی۔۔
’’ وہ میرے بھائی ہیں عرش ۔۔ میں جانتی ہوں کہ وہ سگے نہیں ہیں ۔۔ مگر سگوں سے زیادہ پیارے ہیں مجھے ۔۔ میں جانتی ہوں کہ اسلام میں منہ بولے رشتوں کو اصل رشتوں پر کوئی فوقیت نہیں ہے ۔۔۔ مگر اسلام ہی کہتا ہے کہ اعمال کا دارومدار نیت پر ہے ۔۔ ہم دونوں کی نیت صاف تھی ۔۔ اور صاف ہے۔ ہم نے کبھی اپنی حدود کراس نہیں کیں۔۔ مگر اس دنیا نے ہمارے اس پاک رشتے کا مزاق بنا دیا ۔۔ یہ دنیا ، یہ لوگ ، یہ تو قبول کر سکتے ہیں کہ ایک لڑکی اور لڑکی ناجائز تعلقات رکھتے ہیں ۔۔ مگر یہ دنیا یہ قبول نہیں کر سکتی کہ ایک لڑکا اور لڑکی ایک دوسرے کو بہن بھائی سمجھیں یا پھر ان دونوں کے درمیان کسی بھی قسم کی بدنیتی سے پاک کوئی رشتہ ہو ۔۔ کیوں کہ یہ دنیا فرشتہ بننے کی ناکام کوشش میں انسانیت سے بھی گر چکی ہے ۔۔ اور یہ گرے ہوئے انسان۔۔ صرف دوسروں کو گرانے کی کوشش میں ہوتے ہیں اور اس کے لئے وہ خود کتنا گر جاتے ہیں ؟ اسکا احساس انہیں خود بھی نہیں ہوتا ۔۔ اسلئے میں ۔۔۔’’ اس نے دوسرے ہاتھ سے سائیڈ ٹیبل پر رکھے اربش کے خط کو اٹھایا تھا۔۔
’’ میں ہر اس انسان کو معاف کرتی ہوں۔۔ جس نے میرے اور میرے بھائی کے پاک رشتے پر الزام لگایا ۔۔۔ جس نے میرے کردار پر انگلی اٹھائی ۔۔ اور ہر وہ انسان جو مجھے گرانے کے لئے خود کو گرا بیٹھا ۔۔ میں آج ہر اس انسان کو معاف کرتی ہوں ۔۔ میں اربش کو معاف کرتی ہوں ’’ اس نے کہہ کر کاندھے سے موبائیل کو اپنےکانوں ہر ٹکایا تھا اور دونوں ہاتھوں سے اس خط کے بے شمار ٹکڑے کر کے اسے ڈسٹبن میں پھینک دیا تھا ۔۔ آج الہام آزاد ہوگئ تھی۔۔ آج اسکا دل پر سکون پرگیا تھا ۔۔ عرش مسکرایا تھا اور اس نے مسکرا کر اسے شب خیر کہا تھا۔۔ اور کال بند کر دی تھی ۔۔ اور الہام بھی اب سونے کے لئے لیٹی تھی ۔۔ آج اسے سکون کی نیند آنی تھی ۔۔۔ معاف کر دینے سے بھی انسان کتنا پر سکون ہوجاتا ہے۔۔ یہ الہام نے آج جانا تھا ۔۔۔
اگلے روز پارسا کے والدین آئے تھے ۔۔ اور احتشام سے مل کر وہ بہت خوش ہوئے تھے ۔۔۔ الہام انہیں ماضی سے متعلق سب بتا چکی تھی۔۔ اس لئے اب کسی نے بھی ان سے کوئی ایسی بات نہیں پوچھی تھی۔۔ اس روز تو ملنےملانے اور آرام کرنے میں ہی وقت گزرا تھا۔۔ مگر اگلے روز وہ سب اکھٹے بیٹھے اب آگے کے معاملات طے کر رہے تھے۔۔
’’ ہم نے بہت انتظار کیا ہے اس دن کا ۔۔ اس لئے اب بس میں چاہتی ہوں کہ ان دونوں کی شادی جلدی سے ہوجائے ’’ الہام نے انکل اور آنٹی سے کہا تھا جوکہ اسکی بات سن کر مسکرائے تھے ۔۔
’’ بیٹا یہ خواہش کو ہمارے دلوں میں بھی کئ سالوں سے تھی مگر اس نے کبھی ہمیں بتایا ہی نہیں کہ انکار کی اصل وجہ کیا ہے ؟ ’’ آنٹی نے اب پارسا کی طرف دیکھا تھا۔۔ جس نے انکی بات سن کر پہلو بدلہ تھا۔۔
’’ جی ۔۔ یہ بھی آپ میرا شکریہ ادا کریں کہ میں نے انہیں جگایا ہے۔۔ ورنہ ان صاحب کا تو اب بھی اگلے سات سالوں تک چپ رہنے کا ارادہ تھا ’’ الہام کی بات پر احتشام نے اسے آنکھیں دکھائیں تھیں۔۔ جسے اس نے اگنور کیا تھا۔۔
’’ چلو جو بھی ہوا اچھا ہوا ۔۔ اب ہم بھی زیادہ دیر نہیں کریں گے ’’ آنٹی کی بات سن کر احتشام نے پارسا کی طرف دیکھا تھا۔۔ جس نے اسے کچھ کہنے کا اشارہ کیا تھا۔۔
’’ آنکل میری اور پارسا کی ایک خواہش ہے اگر آپ لوگ مان جائیں تو ’’ احتشام نے پارسا کے والد کی جانب دیکھتے کہا تھا۔۔
’’ ہاں بیٹا بولو ؟ ’’ انہوں نے اسے جازت دی تھی۔۔
‘‘ ایکچولی میں اور پارسا چاہتے ہیں کہ شادی سادگی سے ہو ۔۔ یعنی کے صرف نکاح ’’ احتشام کی بات پر الہام کے چہرے پر مسکراہٹ آئی تھی ۔ وہ جانتی تھی کہ احتشام ایسا کیوں چاہتا ہے؟
’’ مگر ہمارے کچھ ارمان ہیں۔۔ آخر ہماری اکلوتی بیٹی ہے پارسا ’’ آنٹی نے کہا تھا۔۔
’’ ماما پلیز ۔۔ میری بھی یہی خواہش ہے اور ویسے بھی نکاح سادگی سےہی ہو تو زیادہ اچھا ہوتا ہے ’’ پارسا کی بات پر آنٹی نے انکل کی جانب دیکھا تھا۔۔ جنہوں نے سر ہلا کر اجازت دی تھی ۔۔
’’ چلو جیسے تمہارے مرضی ۔۔ مگر پھر ہماری بھی ایک بات مانی جائیگی ’’ آنٹی کی بات پر سب نے انہیں دیکھا تھا۔۔
’’ نکاح جمعہ کو ہوگا ’’ آنٹی نے کہا تھا اور الہام اچھلی تھی۔۔
’’ مگر آنٹی جمعہ تو کل ہے ’’
’’ ہاں ۔۔ ہم نے اگلے جمعرات تک واپس جانا ہے ان کے بزنس کے کچھ کام ہیں۔۔ اس لئے میں چاہتی ہوں کہ نکاح جمعہ کے مبارک دن میں ہو ’’ آنٹی کی بات پر الہام نے احتشام کی طرف دیکھا تھا۔۔ جس نے پارسا کی طرف دیکھا تھا اور پارسا نے کاندھے اچکائے تھے۔۔
’’ چلیں ٹھیک ہے۔۔ پھر اٹھیں آپ یہاں سے ۔؟؟ ’’ الہام نے پارسا کو اٹھنے کا اشارہ کیا تھا۔۔
’’ کیوں ؟ ’’ پارسا نے کھڑے ہوئے پوچھا تھا۔۔
’’ بھئی ظاہر ہے کل شادی ہے اور آپ ہیں کہ اپنے ہونے ہسبنڈ کے سامنے بیٹھی گپے مار رہی ہیں ۔۔ چلیں کمرے میں آئیں ’’ الہام اسے بازوں سے پکڑ کر اندر لے گئ تھی اور باقی سب اسکی اس حرکت پر ہنس دیئے تھے ۔۔
اسکی آنکھ بیل پر کھلی تھی۔۔ لگتا تھا کہ جیسے کوئی ڈور بیل پر ہاتھ رکھ کر بھول گیا ہو ۔۔ وہ اٹھ کر باہر نکلا تھا۔۔ نظر حامد کے کمرے کی طرف گئ تھی مگر وہ شاید اس بیل کی آواز پر بھی نہیں اٹھا تھا ۔۔اپنےبالوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اس نے دروازہ کھولا تھا۔۔ اور سامنے الہام کو دیکھ کر حیران رہ گیا تھا ۔۔
’’ تم یہاں ؟ ’’ اس نے پوچھا تھا۔۔ اور وہ فوراً اندر آئی تھی۔۔
’’ کہاں ہے وہ جن ؟؟ ’’ الہام کے تو آج تیور ہی کچھ اور تھے۔۔
’’ کون جن ؟؟ ’’ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ اتنی صبح صبح یہاں کیا کرنے آئی تھی۔۔
’’ وہی جن جس کے ساتھ آپ یہاں رہتے ہیں ؟؟ کہا ہے وہ ؟ ’’ اپنا بیگ کچن کی شیلف پر رکھتے ہوئے پوچھا تھا۔۔
’’اپنے روم میں ہے شاید ۔۔ سو رہا ہے’’ اس کے کہنے کی دیر تھی اور وہ خطرناک تیوروں کے ساتھ اسکے روم کی طرف گئ تھی عرش بھی اسکے پیچھےآیا تھا۔۔
وہ دوںوں روم میں آئے تو سامنے ہی حامد صاحب دنیا جہاں سے بے خبر سوئے ہوئے تھے۔۔ الہام نے آگے بڑھ کر لائٹ آن کی اور پھر وہ واش روم کی طرف گئ تھی۔۔ عرش وہی کھڑا اسکی حرکت دیکھ رہا تھا۔۔
تھوڑی دیر بعد وہ واش روم سے باہر آئی تو اسکے ہاتھ میں پانی سے بھرا ہوا مگ تھا۔۔ جسے وہ لے کر حامد کے سرہانے کے پاس گئ تھی۔۔ عرش کو معاذ یاد آیا تھا۔۔ وہ بھی ایسا ہی کرتا تھا ۔۔ وہ مسکرایا تھا۔۔
الہام نے کمبل ہٹایا تھا اور سارا پانی ایک جھٹکے سے حامد کے چہرے پر انڈیل دیا تھا اور حامد فوراً ہی ہڑبڑا کر اٹھا تھا۔۔ عرش کی تو اسکے اس طرح اٹھنے پر ہنسی نہیں رک رہی تھی اور الہام ہاتھ باندھے غصے سے اسے گھور رہی تھی۔۔۔
’’تم انسانوں کی طرح بھی اٹھا سکتی تھی مجھے ’’ حامد نے اسے گھورتے ہوئے کہا تھا۔۔
’’ انسانوں کی طرح تو تب اٹھاتی نا جب میں انسان ہوتی ؟ مگر میں تو چڑیل ہوں ’’ الہام نے بھی اپنے ایٹیٹیوڈ میں جواب دیا تھا۔۔
’’ ایسی کون سی قیامت آگئ تھی۔۔ جو تم صبح صبح نازل ہوگئ ہو ’’ بیڈ سے اٹھتے ہوئے اس نے پوچھا تھا۔۔
’’ تمہیں میں نے رات تو بتایا تھا ۔۔ آج شادی ہے احتشام بھائی کی اور ہمارے پاس صرف چھ گھنٹے ہیں تیاری کے لئے ۔ہم نےشاپنگ پر جانا ہے اور تم یہاں سورہے ہو ؟؟ ’’ دونوں ہاتھ باندھے وہ ایک روب سے کہتی عرش کو مزید پیاری لگ رہی تھی۔
’’ ارے ہاں میں تو بھول ہی گیا ۔۔ تم باہر بیٹھو ۔۔ میں بس دو منٹ میں آیا ’’ اسے کہہ کر وہ فوراً واش روم میں چلا گیا تھا اور الہام اب عرش کی طرف مڑی تھی۔۔
’’ آپ بھی چل رہے ہیں نا ساتھ ؟ ’’ الہام نے عرش سے پوچھا تھا ۔۔
’’ تم چاہتی ہو کہ میں جاؤں ؟ ’’ اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا تھا۔۔
’’ آفکورس ۔۔ میں چاہتی ہوں آپ میرے ساتھ جائیں یہ میری زندگی کی سب سے بڑی خوشی ہے ’’ اس نے دل کی گہرائیوں سے کہا تھا۔۔
’’ تو پھرمیں ضرور چلونگا ’’ اس نے مسکرا کر کہا تھا اور اب وہ بھی اپنے روم میں جاچکا تھا۔۔ جب کہ الہام کچن میں آکر ناشتہ تیار کرنے لگی تھی ۔۔۔ناشتے کے بعد وہ سب سے پہلے ڈیکوریشن کے لئے بکنگ کروانے گئے تھے جہاں الہام نے وائیذ فلاورز کی ڈیکوریشن تھیم کو سیلیکٹ کیا تھا ۔۔ اور ڈیکوریشن کی ذمہ داری احتشام اور اس کے ایک دو دوستوں کے حوالے کی گئ تھی۔۔ پارسا کے پیرینٹس۔۔ پارسا اور احتشام کی شادی کا جوڑا پاکستان سے لے کر آئے تھے ۔۔ اس لئے اب ان لوگوں نے بس اسکے ساتھ میچینگ کی جیورلی اور باقی ضرورت کی چیزیں لینی تھیں جوکہ الہام اور حامد نے مل کر لیں تھیں۔۔ جبکہ عرش ناجانے کہاں چلا گیا تھا ؟؟
شاپنگ سے فری ہوکر وہ دونوں گھر آئے تھے جہاں احتشام نے ڈیکوریشن کا کام کافی حد تک نپٹا لیا تھا پارسا کوتو الہام نے کمرے سے باہر نکلے سے ہی منع کردیا تھااسلئے وہ فلحال کچھ بھی نہیں دیکھ سکی تھی ۔۔۔ پورے دن کی محنت کےبعد اب ان سب کو بھوک لگی تھی مگر الہام نے عرش کی وجہ سے کھانا نہیں لگایاتھا ۔۔ وہ ابھی عرش کو کال ہی کرنے والی تھی کہ عرش آگیا تھا
’’ کہا چلے گئے تھے آپ ؟ ’’ الہام نے عرش کے ہاتھوں میں بہت سارے شاپنگ کے بیگز دیکھ کر کہا تھا
’’ پہلے کھانا کھلا دو پھر بتاتا ہوں ’’ عرش خود بھی بہت تھک چکا تھا اس لئے وہ بھی ان سب کے ساتھ بیٹھ کر بولا تھا ۔۔ الہام نے سمجھتے ہوئے سر ہلایا تھا اور اب سب کھانا کھا رہے تھے ۔۔ کھانے سے فارغ ہونے کے بعد احتشام نے گھر کی ڈیکوریشن کے باقی کام ختم کیے ۔۔ اور الہام پارسا کا سارا سامان ایک بیگ میں رکھ کر اسے پارلر چھوڑنے چلی گئ تھی ۔۔ عرش بھی باقی انتظامات دیکھنے لگا تھا اور وہ شاپنگ بینگز اس نے ایک کمرے میں رکھ دیئے تھے ۔۔ ڈیکوریشن سے فارغ ہوکر حامد ، احتشام کے ساتھ پارلر چلا گیا تھا اس نے عرش سے بھی جانے کا کہا تھا مگر اس نے انکار کر دیا تھا ۔۔۔ کچھ دیر بعد الہام پارسا کو پارلر چھوڑ کر واپس آئی تھی ۔۔ اسے خیال آیا تھا کہ اس نے اپنے کپڑے تو لئے ہی نہیں تھے ۔۔۔ باقی انتظامات میں وہ یہ بھول گئ تھی ۔۔ اس وقت وہ اپنے کمرے میں موجود کپڑے دیکھ رہی تھی جو وہ آج پہن سکے جب دروازے پر ناک ہوا تھا ۔۔
’’ آجائیں ’’ الہام نے الماری میں سر دیئے کہا تھا ۔۔ دروازہ کھول کر عرش اندر آیا تھا ۔ اس کے ہاتھ میں شاپنگ بیگز تھے۔
’’ کیا ڈھونڈ رہی ہو ؟ ’’ اسے الماری کے کپڑے چھاٹتے دیکھ کر اس پوچھا تھا۔
’’ سمجھ نہیں آرہا کون سے کپڑے پہنوں ؟ ٹائم بھی کم ہے اس وقت تو شاپنگ بھی نہیں ہوسکتی ؟ ’’ وہ واقعی پریشان تھی۔
’’ تو سمھجو تمہارا مسئلہ حل ہوگیا ’’ عرش نے کہا تھا اور وہ حیران ہوکر پلٹی تھی
’’ وہ کیسے ؟ ’’ اس نے پوچھا تھا اور عرش چلتا ہوا اسکے سامنے آیا تھا ۔۔
’’ وہ ایسے ’’ عرش نے ہاتھ میں پکڑے بیگز اس کے سامنے کئے تھے ۔۔ الہام نے انہیں لے کر اندر دیکھا تھا اور وہ حیران رہ گئ تھی ۔۔
’’ یہ کیا ہے ؟ ’’
’’ آفکورس تمہارے لئے ڈریس جو تم آج پہنوگی ’’ اس نے مسکراتے ہوئے اسے دیکھتے کہا تھا ۔۔
’’ آپ اس لئے غائب تھے آج ؟ ’’ اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ وہ پورا دن اس کے لئے شاپنگ کرتارہا تھا ۔
’’ ہاں کیونکہ تمہیں خود کا خیال نہیں آتا اور مجھ سے تمہارا خیال نہیں جاتا ’’ وہ اس سے کہہ کر پلٹا تھا اور کمرے سے نکل گیا جنکہ الہام وہی حیران کھڑی رہ گئ تھی ۔۔
لاؤنچ وائیٹ فلاورز سے سجا ہوا تھا ۔۔ ایک صوفے پر پارسا دلہن بنی بیٹھی تھی ۔ اس کے ساتھ الہام اور دوسری طرف پارسا کی ماما بیٹھی تھی ۔۔ جبکہ سامنے ہی احتشام شیروانی پہنے ۔۔ ساتھ ہی ایک طرف حامد اور ایک طرف پارسا کے پاپا بیٹھے تھے ۔۔ عرش الہام کے بلکل سامنے صوفے پر بیٹھا تھا ۔۔ نکاح شروع ہوا تھا بس اس طرف متوجہ تھے اور عرش الہام کی طرف متوجہ تھا۔ اسکی نظریں الہام پر اٹکی تھیں جسے وہ خود بھی محسوس کر رہی تھی ۔۔ اسکا لایا ہوا نیلے رنگ کا ڈریس پہنی ہوئی وہ اس وقت اسے بہت حسین لگ رہی تھی ۔۔۔ اتنی کہ نظریں ہٹنے سے انکاری تھی ۔۔ چونکا تو وہ تب تھا جب حامد نے مبارک مبارک کا نعرہ لگایا تھا ۔۔ سب ایک دوسرے کے گلے مل رہے تھے نکاح ہوچکا تھا ۔۔ ایک محبت کامیاب ہوئی تھی ۔۔ پارسا اور احتشام کو انکی منزل مل چکی تھی ۔۔ اور وہ دونوں بہت خوش تھے ۔۔
وہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی اپنے گیلے بالوں پر برش پھیر رہی تھی ۔۔ احتشام ڈریسنگ کے ایک طرف ٹیک لگائے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔ اسکے اس طرح مسلسل دیکھنے سے وہ الجھ رہی تھی ۔
’’ کیا ہے ؟ ایسے کیوں دیکھ رہے ہیں ؟ ’’ پارسا نے برش واپس ڈریسنگ ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا تھا
’’ حیرت ہورہی ہے ؟ ’’ وہ ایسے ہی پرسکون سا اسے دیکھتے ہوئے کہہ رہا تھا
’’ کس بات پر ؟ ’’
’’یہی کہ میں نے پہلے کیوں نہیں نوٹ کیا ؟ ’’ وہ اسےسوچتی نگاہوں سے دیکھ رہا تھا
’’ کیا بھئ ؟ ’’ اس سے سسپنس برداشت نہیں ہورہا تھا
’’ یہی کہ تم بوڑھی ہورہی ہو ’’ وہ کہہ کر فوراً سے وہاں سے ہٹا تھا ۔
’’ واٹ ! ’’وہ اب برش اٹھا کر اسے مارنے کے لئے اسکی طرف آئی تھی ۔
’’ ارے تو غلط کیا کہا ہے ؟ دیکھو ذرا تمہارے چہرے پرجھریاں آرہی ہیں ’’ اس نے اسکے چہرے کی طرف انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا ۔
’’ اور اپنے سفید ہوتے بال نظر نہیں آرہے ؟ پورے چار سال چھوٹی ہوں میں آپ سے ’’ وہ اب بھی برش لئے اسکے پیچھے تھی اور احتشام آگے بھاگ رہا تھا ۔۔
’’ لیکن میرے چہرے پر تو جھریاں نہین ہے نا ’’ وہ اسے کہتا ہوا کمرے سےباہر بھاگا تھا اور پارسا اسکے پیچھے ۔۔ کچن سے نکلتی الہام نے اس دونوں کو اس طرح ایک دوسرے کو تنگ کرتے دیکھا تھا ۔۔ کتنے عرصے بعد وہ احتشام بھائی کو اتنا خوش دیکھ رہی تھی ۔۔ کتنے عرصے بعد وہ اسے پرانا احتشام لگا تھا جو اسے بھی اسی طرح تنگ کیا کرتا تھا ۔۔
’’ ارے ارے کیا کر رہے ہو تم دونوں یہ ’’ کمرے سے نکلتی پارسا کی ماما نے کہا تھا اور پارسا فوراً سے انکے سانے جاکھڑی ہوئی تھی ۔
’’ ماما میرے چہرے پر جھریاں ہیں کیا ؟ ’’ وہ بچوں کی طرح سوال کر رہی تھی ۔۔ ماما مسکرائیں تھیں۔
’’ بلکل نہیں ۔۔ اتنا صاف شفاف چہرہ ہے میری بیٹھی کا ’’ ماما نے پیار سے اسکے گال تھپتھا کر کہا تھا ۔۔
’’ دیکھا کہا تھا نا میں نے ’’ پارسا اب احتشام کی طرف مڑی تھی جو الہام کے ساتھ کھڑا تھا ۔
’’ ماں کی محبت تو اندھی ہوتی ہے ۔۔ کیوں الہام ٹھیک کہا تھا ؟ ’’ اس نے اب الہام کی طرف دیکھا تھا ۔۔
’’ بلکل ٹھیک کہا آپ نے ۔۔ کاش بھائی آپ شادی سے پہلے دیکھ لیتے ’’ الہام نے افسوس بھرے لہجے میں کہا تھا اور جواباً مارسا بھاگتی ہوئی اسکی طرف آئی تھی ’’ الہام کی بچی ۔۔ کیسے ٹریک بدلہ ہے تم نے ’’ وہ اب اس کے پیچھے لگ گئ تھی اور الہام ہنستی ہوئی کچن کی طرف بھاگی تھی ۔۔
’’ آنٹی اسے بٹھائیں ۔۔ میں ناشتہ لارہی ہو ’’ کچن سے الہام کی آواز آئی تھی اور آنٹی نے واقعی پارسا اور احتشام کو ڈائیننگ ٹیبل کر بٹھا دیا تھا ۔۔ پارسا کے پاپا ، حامد اور عرش بھی تھوڑی دیر میں وہاں آگئے تھے ۔۔ آج کے ناشتے پر الہام نے ان دونوں کو بھی انوائیٹ کیا تھا ۔۔ناشتا ایک خوشگوار ماحول بھی کھایا گیا تھا ۔ احتشام اور عرش کی آپس میں اچھی خاصی بات چیت ہوگئ تھی جبکہ عرش اور الہام دوسروں کی موجودگی میں بات کم ہی کیا کرتے تھے۔۔ ناشتے سے فارغ ہوکر الہام ہسپتال جانے کے لئے تیار ہوئی تھی ۔۔ احتشام نے اسے منع کیا تھا مگر اسے ہسپتال سے چھٹی نہیں ملی تھی ۔۔ ہاں پارسا کے لئے وہ ایک ہفتے کی چھٹی لے چکی تھی ۔۔ عرش بھی وہاں سے جاچکا تھا جبکہ حامد الہام کے ساتھ ہی ہسپتال گیا تھا ۔۔
وہ اس وقت آندھی نیند میں تھا جب کسی نے زور سے اسکا دروازہ بجایا تھا ۔۔ وہ ہڑبڑا کر اٹھا تھا اورجاکر فوراً دروازہ کھولا تھا ۔۔ ایک آدمی فوراً اسے دھکا دیتے اندر آیا تھا اسکے ہاتھ میں ایک پستول تھی ۔۔۔
’’ ہاتھ اوپر ’’پستول کا رخ اسکی طرف کرتے ہوئے کہا تھا ۔۔
’’ اگر نہیں کروں تو ؟ ’’ عرش نے مسکراتے ہوئے کہا تھا
’’ تو میں تمہیں گولی مار دونگا ’’ وہ اسے اب ڈرانا چاہتا تھا ۔
’’ اچھا تو مار دو ۔۔ مگر نقصاب تمہارا ہی ہوگا ’’ عرش نے ہاتھ پھیلاتے ہوئے اسے مارنے کی اجازت دی تھی ۔
’’ مجھے کیا نقصان ہوگا ؟ ’’ وہ اس سے پوچھ رہا تھا
’’ ظاہر ہے پھر تمہیں فری کے ڈنرز کون کروائے گا ’’ ہاتھ ایسے ہی پھیلائے ہوئے اس نے کہا تھا ۔
’’ اچھا ایسی بات ہے ۔۔ پھر چھوڑو مارنے کو ۔۔ آؤ گلے ملو ’’ وہ اب بندوق زمین پر پھینک کر اسکی طرف بڑھا تھا اور اسکے گلے لگ گیا تھا ۔۔
’’ مجھے یقین نہیں آرہا تم یہاں کیسے آگئے ؟ ’’ عرش واقعی بے یقین تھا ۔۔
’’ بس میں جانتا تھا کہ تم مجھے مِس کر رہے ہوگے ۔۔ اس لئے میں آگیا ’’ معاذ نے اسکے کاندھے پر بازوں پھیلاتے ہوئے کہا تھا ۔۔
’’ میں واقعی تمہیں مِس کر رہا تھا ’’ عرش نے اقرار کیا تھا ۔۔
’’ ظاہر یہ کام میرے بغیر ہو بھی تو نہیں سکتا نا ’’ وہ دونوں چلتے ہوئے باہر آئے تھے جہاں حامد کافی کے تین کپ لے کر لاؤنچ میں رکھی میز پر رکھ رہا تھا ۔۔
’’ سوری یار اسکی وجہ سے تمہاری نیند بھی خراب ہوگئ ’’ عرش کو حامد کی نیند خراب ہونے پر افسوس ہوا تھا ۔
’’ نیند تو تب خراب ہوتی جب میں سوتا ۔۔ میں تو اسکے انتظار میں جاگا ہوا تھا ’’ حامد نے ٹرے رکھتے ہوئے کہا تھا اور پھر سامنے ہی صوفے پر بیٹھ گیا ۔۔
’’ کیا مطلب ؟ ’ تم جانتے تھے کہ یہ آرہا ہے ؟ ’’ عرش نے دونوں کوحیرانی سے دیکھتے ہوئے کہا تھا
’’ آفکورس میں نے اسے بتایا تھا اب ظاہر ہے ۔۔یہاں کوئی تو ہونا چاہئے میری خدمت کے لئے ’’ معاذنے کافی کا کپ اٹھاتے ہوئے کہا تھا ۔۔
’’ تو تم نے مجھے کیوں نہیں بتایا ؟ ’’ عرش کو اس سے شکایت تھی ۔۔
’’ اگر بتا دیتا تو تم نے یہ کافی بھی نہیں دینی تھی مجھے ’’ معاذ نے معصوم صورت بنا کر کہا تھا۔۔
’’ تم ہو بھی اسی قابل ’’ عرش نے اپنا کپ اٹھاتےہوئے کہا تھا ۔۔
’’ اچھا اب یہ بتاؤ کے یہ سوئے گا کہاں ؟’’ حامد نے دونوں کی جانب دیکھتے ہوئے کہا تھا ۔۔
’’ ظاہر ہے یہاں لاؤنچ میں ’’ عرش نے سکون سے جواب دیا تھا جس پر معاذ نے اسے گھورا تھا ۔۔
’’ میں ؟ یہاں ؟ لاؤنچ میں سوؤنگا ؟ ‘’ معاذ نے اسے گھورتے ہوئے کہا تھا ۔۔ حامد مسکراہٹ دبائے دونوں کو دیکھ رہا تھا۔
’’ آفکورس تم یہاں سوؤگے ۔۔ کیوں کوئی ایشو ہے کیا ؟ ’‘ عرش نے نہایت معصوم صورت بناتے ہوئے کہا تھا ۔۔
’‘ بلکل ہے مسئلہ ۔۔میں یہاں مہمان ہوں اور مجھے سپیشل پروٹوکول ملنا چاہئے ’’ معاذ نے اسے مہمان نوازی کے آداب سکھانا چاہے تھے ۔۔
’’ ہاں تو یہ سپیشل پروٹوکول ہی تو ہے ۔۔ بیڈروم میں تو ہر کوئی سوجاتا ہے تمہیں سپیشلی لاؤنچ دے رہے ہیں ۔۔ ہوا نا سپیشل پروٹوکول ؟ کیوں حامد ؟ ’’ عرش نے حامد کی طرف دیکھا تھا ۔۔
’’ بلکل ٹھیک کہا تم نے ۔۔ چلو پھر ہم اپنے روم میں چلتے ہیں ۔ تم ریسٹ کرو’’ حامد نے کافی کا خالی کپ رکھتے ہوئے کہا تھا ۔۔
’’ ہاں چلو ’’ عرش میں کھڑا ہوا تھا ۔۔ اور معاذ ۔۔؟ وہ ان دونوں کو گھور رہا تھا جو اسے اگنور کرتے اپنے اپنے روم کی طرف جارہے تھے ۔۔ عرش اپنے روم کے پاس ہی پہنچا تھا کہ معاذ نے آکر اسکے کاندھے پر پھیائے تھے ۔۔
’’ کیا ہوا ۔۔؟’’ عرش نے اسکو ساتھ چلتے دیکھ کر کہا تھا ۔۔
’’ تم بھول رہے ہو کہ میں تمہاری پہلی وائف ہوں ۔۔۔ تو ہمیں ایک ہی کمرے میں رہینا چاہئے نا ’’ معاذ نے آگے بڑھتے ہوئے کہا تھا اور عرش نے حامد کی طرف دیکھا تھا جس نے ہنستے ہوئے کاندھے اچکائے اور اپنے کمرے میں چلا گیا۔۔
اگلی صبح حامد کے جانے کے بعد عرش اور معاذ واک کر کے کہیں جارہے تھے ۔۔
’’ پھر تم کب کر رہے ہو اس سے بات ؟ ’’ معاذ نے اس سے پوچھا تھا
’’ آج رات ’’ عرش نے جواب دیا تھا ،،
’’گریٹ ! تمہیں کیا لگتا ہے وہ مان جائے گی ؟ ’’
’’میں کچھ نہیں کہہ سکتا ابھی اس بارے میں ۔۔ وہ مجھے ایک بہت اچھا دوست مانتی ہے اور میں اسکے لئے اہم بھی ہوں۔۔مگر یہ محبت ہے یا نہیں ۔۔؟؟ یہ میں نہیں جانتا ’’ اس نے سامنے دیکھتے ہوئے کہا تھا ۔۔ وہ واقعی جب بھی اس بارے میں سوچتا تھا کنفیوز ہوجاتا تھا ۔۔جانے الہام کا کیا جواب ہوگا ؟ جانے وہ اس کے بارے میں کیا سوچتی تھی ؟
’’ مجھے یقین ہے وہ بھی تم سے محبت کرتی ہوگی ’’ معاذ پریقین تھا
’’ خداکرے ایسا ہی ہو ’’ عرش نے گہری سانس لے کر ایک جیورلری شاپ کی طرف قدم بڑھائے تھے ۔
’’ ایسا ہی ہوگا ۔۔ تمہارا انتظار رائیگا نہیں جائے گا ’’ معاذ نے کہا تھا اور عرش مسکرا دیا تھا ۔۔ اسے ان الہام کے لئے ایک رِنگ لینی تھی ۔ دونوں اب جیورلری شاپ میں جاچکے تھے۔۔۔
وہ ابھی ایک آپریشن سے فری ہوکر اپنے ایک پیشینٹ کے روم کی طرف جارہی تھی جب حامد اسکے پاس آیا تھا ۔۔
’’ تمہیں یاد ہے نا ؟ ’’ اس نے الہام سے پوچھا تھا جبکہ الہام نے اسےناسمجھی سے دیکھا تھا ۔
’’ کیا ؟ ’’
’’ یہی کہ کل تم نے میرےساتھ جانا ہے ’’ حامد نے اسے یاد دلایا تھا ۔۔
’’ ہاں ہاں آگیا یاد ۔۔۔ ویسے جاکہاں رہے ہیں ہم ؟ ’’ الہام نےاس سے پوچھا تھا ۔۔ اس سے پہلے کے حامد جواب دیتا کسی اور نے جواب دیا تھا ۔۔
’’ خوابوں کے جہاں میں ’’ پارسا کی چہکتی ہوئی آواز آئی تھی ۔۔ الہام نے پلٹ کر اسے دیکھا تھا ۔۔
’’ آپ یہاں کیا کر رہی ہیں ؟؟ ’’ الہام اسے دیکھ کر حیران تھی ۔۔ کیونکہ وہ تو چھٹی پر تھی ۔۔
’’ آفکورس تم سے ملنے آئی ہوں ’’ پارسا نے مسکراتے ہوئے کہا تھا ۔
’’ میں صبح مل چکی تھی ۔ْ سچ بتائیں احتشام بھائی کہاں ہے؟ ’’ الہام سمجھ گئ تھی کہ ضرور احتشام نہیں ہوگا اسلئے وہ یہاں آئی تھی ۔۔
’’ وہ انہیں ہسپتال سے ایک ضروری کال آئی اور وہ چلے گئے ’’ پارسا نے اصل بات بتائی تھی ۔۔
’’ کتنی غلط بات ہے یہ ۔۔ میں نے انہیں منع کیا تھا ۔۔ ابھی پوچھتی ہوں ان سے ’’ الہام اب احتشام کو کال لگانے کدی تھی جب پارسا نے اسے روکا تھا ۔۔
’’ ارے رہنے دو ۔۔کوئی ضروری کام ہوگا اور ویسے بھی انہوں نے کہا ہے کہ وہ مجھے یہی سے پِک کرینگے ’’ پارسا کی بات پر وہ مسکرائی تھی ْ۔۔
’’ اہوو ! انہوں نے ۔۔ بھئ واہ کیا بات ہے ؟ شادی کے بعد اتنی عزت ملتی ہے ’’ حامد نے اسکےانداز پر اسے چھیڑا تھا ۔
’’ بلکل ملتی ہے ۔۔ فکر نا کرو تمہیں بھی ملےگی ۔۔کیوں الہام ؟ ’’ پارسا نے الہام سے پوچھا تھا اور حامد کی مسکراتی نظریں اسی پر تھیں ۔۔
’’ بلکل ملے گی اگر اس نے بھی دی تو ’’ الہام نے اسے دیکھ کر کہا تھا ۔
’’ بلکل دونگا ۔۔ آخر کو میری عزت ہوگی وہ ’’ حامد نے سے دیکھتے کہا تھا ۔۔
’’ چلو پھر تو اچھا ہے ۔۔۔ اب میں ذرا اپنے پیشینٹ کو دیکھ لوں ۔۔ آپ باقی سب سے مل لیں ’’ پارسا سے کہہ کر وہ اپنے پیشینٹ کے روم کی جانب بڑھی تھی جنکہ پارسا نے اسکے جاتے ہی حامد کی طرف رخ کیا تھا ۔۔
’’ تو پھر کل کیا کرنے والے ہو تم ؟ ’’ اسکی بات پر حامد نے کاندھے اچکا دیئے تھے ۔۔ مطلب وہ بتانے والا نہیں تھا ۔
’’ کچھ تو بتاؤ نا ’’ پارسا نے اندر بے چینی سی تھی ۔
’’ وہ آکر بتا دیگی ۔۔ آپکو کیا لگتا ہے ؟ وہ مان جائےگی ؟ ’’ حامد کے دل میں بھی ایک ڈر تھا ۔
’’تم ایک اچھے انسان ہو اور پھر وہ تمہیں کئ سالوں سے جانتی ہے ۔۔ مجھے نہیں لگتا کہ وہ انکار کرے گی ’’ پارسا جو سوچ رہی تھی وہی اس نے کہا تھا ۔
’’ اور محبت ؟ کیا وہ محبت کرتی ہے ’’ حامد کے لئے شاید صرف اقرار کافی نہیں تھا ۔۔
’’ محبت کے بارے میں میں کچھ نہیں کہہ سکتی حامد ۔۔ اسکی آنکھوں یا اسکے کسی بھی انداز نے کبھی مجھے کچھ ایسا محسوس نہیں ہونے دیا ’’ پارسا نے سچائی سے اسے بتایا تھا ۔
’’ اور وہ اپنے انداز اور اپنے احساسات کو چھپانا بہت اچھے سے جانتی ہے ’’ حامد نے اسے اس دروازے کی طرف دیکھتے کہا تھا جہاں تھوڑی دیر پہلے الہام گئ تھی ۔۔
’’ ہاں ۔۔ اس لئے تو ہم کوئی اندازہ بھی نہیں لگا سکتے ’’ پارسانے اسے دیکھتے کہا تھا ۔
’’ چلیں دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے ’’ وہ کہہ کر آگے بڑھ گیا تھا اور پارسا اسے جاتا دیکھ رہی تھی۔۔ دل میں بس یہی دعا تھی کہ جو بھی ہو ۔۔ وہ محبت کے حق میں بہتر ہو ۔
اچانک ہی بارش شروع ہوگئ تھی ۔۔ وہ بلیک پینٹ پر وائیٹ شرٹ اور اوپر جیکیٹ پہنے چلتا جارہا تھا ۔۔ اسکا رخ ہسپتال کی جانب تھا ۔۔ آج اسے الہام سے ہر حال میں بات کرنی تھی ۔۔ وہ تیزی سے چل رہا تھا اسکے ہاتھ میں ایک پھول تھا ۔۔ جس پر بارش کے قطرے پڑرہے تھے ۔۔۔ وہ سوچوں میں گم تھا ۔۔ دل آج خوش بھی تھا اور ڈر بھی رہا تھا ۔۔ جانے الہام کا کیا جواب ہوگا ؟ جانے وہ کیسا رئیکٹ کرے گی ۔۔ انہیں سوچوں میں گم اسکے ہاتھ میں پکڑا پھول اسکے ہاتھ سے چھوٹ کر روڈ پر جاگرا تھا ۔ وہ تیزی پھول اٹھانے کے لے روڈ کے نیچ دوڑا تھا اسی پل ایک تیز رفتار نے اسے ہٹ کیا تھا ۔۔ بس ایک پل کی بات تھی اور پورا منظر بدل گیا تھا ۔۔وہ روڈ کی ایک جانب خون گِرا تھا۔۔ خون تیزی سے اسکی ٹانگوں اور سر سے نکل رہا تھا ۔۔ لوگ اسکےآس پاس جمع ہورہے تھے ۔۔ اس نے اپنے ہوش میں پس ایک ہی آواز سنی تھی ۔۔ ایمبولینس کی آواز۔۔