بے قدرہ

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

قسط: 19

سکندر نے عنایہ کو لینے جانا تھا مگر امجد صاحب اسے فون پر منع کر چکے تھے – ان کا ارادہ خود جانے کا تھا عنایہ کو چھوڈنے اور ساتھ ان کے شگفتہ بیگم بھی جانے والی تھیں – کیونکہ وہ لوگ کچھ تحائف وغیرہ لے کر جانا چاہتے تھے –
آخر بیٹی کا سسرال تھا اور پھر اب ماشاللہ سے وہ اس ماں بننے والی تھی اس لیے اس خوشی میں بھی وہ میٹھائیاں اور تحفے لے کر جانا چاہتے تھے – وہ جیسے ہی حویلی پہنچے تو بی جان اور سکندر نے ان کا بہت اچھے سے استقبال کیا تھا – عنایہ تو سفر سے تھک چکی تھی مگر پھر بھی ان کے درمیان خاموش بیٹھی رہی جبکہ بی جان ، امجد صاحب ، شگفتہ بیگم اور سکندر باتوں میں مصروف تھے –
اچھا ہوا اپ لوگ آگئے ورنہ میرا ارادہ تھا آپ کے گھر انے کا – بی جان کی بات پر امجد صاحب اور شگفتہ بیگم دونوں ہی مسکرائے تھے – تو آپ آئیے گا نا اماں جی ہمارے گھر – یہ کہاں لکھا ہے کہ اگر ہم آگئے تو آپ نہیں آ سکتیں – شگفتہ بیگم کے خوش دلی سےکہنے پر بی جان نے ہستے ہوئے نہ میں سر ہلایا – کیوں نہیں بیٹا ضرور آوں گی میں اپ کے گھر مگر ابھی تو میرا ارادہ آپ لوگوں کو ولیمے کی اطلاع کرنے اور دعوت دینے آنے کا تھا –
بی جان کی بات پر جہاں امد صاحب اور شگفتہ بیگم نے انہیں نا سمجھی سے دیکھا تھا وہاں عنایہ بھی ان کی جانب متوجہ ہوئی تھی جو تب سے وہاں غائیب دماغی سے بیٹھی تھی – کس کے ولیمے کی دعوت اماں جی – امجد صاحب نے نا سمجھی سے پوچھا – عنایہ اور سکندر کا ولیمہ اور کس کا – ویسے بھی ان دونوں کی شادی کو کافی ماہ ہوگئے ہیں اور اب تو ماشاللہ ماں باپ بھی بننے والے ہیں تو میرے خیال سے اب ولیمہ کر دینا چاہیے –
داد اور کومل کے ولیمے کے ساتھ ہی ان کا ولیمہ ہو گا – بی جان کے الفاظوں پر جہاں امجد صاحب اور شگفتہ بیگم خوش ہوئے تھے وہیں سکندر نے عنایہ کا ری ایکشن جاننے کے لیے اس کی طرف دیکھا تھا – اس کی سوچ کے عین مطابق عنایہ چہرے پر حیرانگی سجائے بی جان کی جانب دیکھ رہی تھی – مگر بی جان اس کی کیا ضرورت ہے اب –
عنایہ کے گلے سے بامشکل آواز نکلی تھی – کیوں نہیں ضرورت بیٹا ولیمہ فرض ہوتا ہے اب کرنے میں کیا ہے کرنا تو ولیمہ ہی ہے نہ – بی جان کی بجائے شگفتہ بیگم نے جواب دیا تھا جس پر عنایہ بنا کچھ بولے بس ہاں میں سر ہلا گئی تھی – میں کمرے میں چلی جاوں تھکاوٹ ہو رہی ہے مجھے –
اس کا اب وہاں بیٹھنا محال ہو رہا تھا اس لیے بہانا بناتے بولی – ہاں ہاں بیٹا جاو آپ آرام کرو – بی جان نے مسکراتے ہوئے اس سے کہا تھا جبکہ وہ امجد صاحب اور شگفتہ بیگم سے گلے ملتے وہاں سے جا چکی تھی – سکندر نے اسے دور تک جاتے دیکھا تھا کی تبھی امجد صاحب کے مخاطب کرنے پر وہ ان کی جانب متوجہ ہوا تھا جو اس سے کام کے مطلق پوچھ رہے تھے –
:::::::::::::::::::: :::::::::::::::::::::::: :::::::::::::::::::::::::::
بی جان یہ آپ کیا کہہ رہی تھیں امی بابا سے ؟؟ کیوں کرنا ہے ہمارا ولیمہ ؟؟ شگفتہ بیگم اور امجد صاحب کے جاتے ہی وہ ان کے کمرے میں موجود سوال کر رہی تھی – بی جان کو علم تھا وہ آئے گی اسی لیے وہ خود کو اس کے سوالوں کے لیے تیار کیے ہوئی تھیں – کیوں بیٹا کیوں نہیں کرنا چاہیے ولیمہ ؟؟ جو بھی ہے اب تمہاری اور سکندر کی شادی تو ہوئی ہی ہے نہ اور اب ولیمہ بھی ضروری ہے –
اور پھر خاندان والوں کو بھی تو بتانا ہے نہ سکندر کی شادی کا تو اس سے بڑھ کر کیا موقع ہو سکتا ہے انہیں شادی کی اطلاع کرنے کا – بی جان اسے اپنے پاس بیٹھاتیں پیار سے سمجھانیں لگیں – مگر بی جان آپ جانتی ہیں نہ مجھے سکندر سے کسی قسم کا کوئی رشتہ رکھنا ہی نہیں ہے تو کیوں ایسا کر رہی ہیں –
عنایہ کی بات پر بی جان نے حیرت سے اسے دیکھا تھا – ایسے نہیں کہتے بیٹا – مانتی ہوں سکندر سے تم بہت بدگمان ہو اسے ناپسند کرتی ہو شاید نفرت بھی کرتی ہو مگر بیٹا ایسے الفاظ نہیں نکالتے منہ سے – جو بھی وہ تمہارا شوہر ہے اور اگر شوہر نہ بھی مانو تو وہ تمہارے ہونے والے بچے کا باپ ہے – ایسے نہیں کہتے کہ کوئی رشتہ نہیں رکھنا اس سے – اپنا نہیں تو اپنے بچے کا خیال کرو –
بی جان کی باتوں پر عنایہ کو سمجھ نہیں آئی کہ اب انہیں کیا کہے – اسے یہی سہی لگا کہ ابھی بی جان کی بات مان لے بعد میں تو ویسے بھی اس نے چھوڈ ہی دینا تھا سکندر کو – اوکے بی جان جیسے اپ کی مرضی – وہ مسکرا کر کہتی وہاں سے اٹھتی چلی گئی تھی جبکہ بی جان کو خوشی تھی کہ وہ جلدی مان گئی –
::::::::::::::::::::: :::::::::::::::::::::::::::::::::::::
آج داد اور کومل کی بارات تھی – بی جان تو کب کی جا چکی تھیں کیونکہ داد انہیں خود اپنے ساتھ لے کر چلا گیا تھا – اس کا کہنا تھا کہ بی جان میری دادی کی جگہ ہیں اور میری دادی سب سے پہلے میری بارات میں موجود ہونی چاہیے ہیں –
اسی لیے عنایہ اکیلی کو سکندر کے ساتھ جانا تھا – اس نے بہت انکار کیا تھا شادی پر جانے سے مگر سکندر نے اس کی ایک نہیں سنی اور اب وہ اس سے اچھے سے بدلہ لینے کا سوچ چکی تھی – وہ ہال میں بیٹھا عنایہ کا انتظار کر رہا تھا آج اس نے بلیک کلر کا تھری پیس پہن رکھا تھا اور وہیں صوفے پر بیٹھا گھڑی پر ٹائم دیکھ رہا تھا جب وہ سیڑھیوں سے اترتی اسے نظر آئی – سکندر کی نظریں اس پر جم سی گئی تھیں مگر پھر اچانک اس کی نظریں غصے سے لال ہوئی تھیں –
وہ خوبصورت بے حد لگ رہی تھی مگر اس کی ڈریسنگ نے سکندر کو غصہ دلا دیا تھا – وہ غصے سے بھرا اس کے قریب جاتا اس کی بازو کو اپنی فولادی گرفت میں لے چکا تھا – یہ کیا بے حودگی پھیلا رکھی ہے تم نے – سکندر کا اشارہ اس کی لال ساڑھی کی جانب تھا جو اس نے باندھ رکھی تھی –
اگر بات محظ ساڑھی کی ہوتی تو وہ کچھ نہ کہتا مگر یہاں اس نے انڈین طرز کی ساڑھی پہن رکھی تھی جو سکندر نے اس کی شوپنگ میں دیکھی تھی – ساڑھی کے بازو سرے سے تھے ہی نہیں اور بیک بھی نام کی تھی – بیک گلا بے حد گہرا تھا جس سے ساری کمر نظر آرہی تھی اور پیٹ بھی سارا واضح ہو رہا تھا – کیا مسلہ ہے آپ کے ساتھ آپ نے اپنی مرضی چلائی مجھے شادی پر لے جانے کے لیے مگر اب جب میں نے اپنی مرضی سے ساڑھی پہن لی تو آپ کو کیوں مرچیں لگ رہی ہیں –
عنایہ نے غصے سے اس کی طرف دیکھتے کہا – میرا دماغ خراب نہ کرو اور جاو یہاں سے چینج کر کے آو – سکندر کے کہنے پر اس نے نہ میں سر ہلایا – نہیں میں نہیں بدلوں گی – ایسے ہی جاوں گی شادی پر یاں جاوں گی ہی نہیں – عنایہ نے ضدی پن سے کہا – میرے منت کرنے پر ہی کر لو چینج – میں تمہیں پیار سے محبت سے کہہ رہا ہوں نہ مان لو میری بات – سکندر نے اب کہ نرم لہجے میں کہا – نہیں مانوں گی اور نہ ہی اپ کی محبت سے مجھے کچھ لینا دینا ہے نہ ہی اب مجھے اس کا اچاڑ ڈالنا ہے –
وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مضبوط لہجے میں بولی تھی – تم اتنی پتھر دل تو نہیں تھی کیسے ہوگئی اتنی سنگ دل – کبھی کبھی تو لگتا ہے کہ تمہارے پاس اب دل ہے ہی نہیں – اس نے اس کو اس کے دونوں کندھوں سے پکڑتے جھنجھورتے ہوئے کہا تھا – سکندر کی بات پر وہ ہلکہ سا ہسی تھی – کیا کچھ نہ تھا اس کی ہسی میں – درد ، دکھ اور کرب –
دل !
دل تو ہے میرے پاس – اگر دل نہ ہوتا تو زندہ کیسے ہوتی ، دل نہ ہوتا تو یہاں کھڑی نہ ہوتی – ہاں مگر اب یہ دل وہ دل نہیں رہا جو زرہ سے میٹھے لہجے پر موم ہو جایا کرتا تھا – میں اب وہ دل نکال تو سکتی نہیں تھی مگر ہاں میں میں نے اس دل کے گرد مغرور پن ، انا ، بے رحمی اور خود سری کی دیواریں بنا لیں ہیں اور ان دیواروں کی بنیاد بے پرواہی کا سیمنٹ لگا کر مضبوط کی ہے –
تاکہ کسی کا نرم لہجہ اور پیار بھری باتیں اس پر ضرب کا کام کر کے اسے گرا نہ سکیں – تو اپ کا بھی نرم لہجہ مجھ پر کوئی اثر نہیں کرے گا – عنایہ نے ایک لفظ اس کی انکھوں میں دیکھتے مضبوط لہجے میں کہا تھا – اس کا لہجہ اتنا مضبوط تھا کہ سکندر کو بھی لگا تھا ہاں اس نے واقع اسے کھو دیا تھا ہمیشہ کے لیے مگر دل نے احتجاج کیا تھا اس کی سوچ پر – اس کے دل کو اپنی محبت پر یقین تھا –
اچھا چلو ان سب باتوں کو چھوڈو اور میری بات نہیں ماننی تو کم سے کم کومل کا سوچ لو جو تمہاری بیسٹ فرینڈ ہے – تمہارے نہ جانے پر اسے دکھ ہو گا – سکندر نے بات بدلتے اسکو کومل سے اس کی دوستی یاد کرواتے کہا – سکندر کے کہنے پر عنایہ بھی سوچ میں پڑ گئی اور بنا کچھ بولے واپس پلٹ گئی –
تھوڑی دیر بعد ہی وہ پنک رنگ کی فراک پہن کر آئی تھی جبکہ اس کے کپڑے بدل کر آنے پر سکندر بھی مسکراتے ہوئے باہر کی جانب بڑھ گیا – سارا رستہ وہ سکندر سے کچھ نہیں بولی تھی نہ سکندر نے اسے تنگ کیا تھا – اس کے لیے گاڑی میں اس کی موجودگی ہی بہت تھی –
Instagram
Copy link
URL has been copied successfully!

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

کتابیں جو آپ کے دل کو چھوئیں گی

Avatar
Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial