قسط: 21
شگفتہ بیگم اور امجد صاحب دونوں ہی اس وقت اس کے پاس موجود تھے – امجد صاحب تو کب کے اپنے نواسے کو گود میں لیے بیٹھے پیار کرنے میں مصروف تھے جبکہ شگفتہ بیگم انہیں خفگی بھری نظروں سے دیکھ رہی تھیں – کیونکہ جب سے وہ یہاں آئے تھے امجد صاحب نے انہیں بے بی دیا ہی نہیں تھا خود ہی پکر کر بیٹھے تھے –
عنایہ نثار ہوتی نظروں سے امجد صاحب کا اپنے بیٹے سے پیار دیکھ رہی تھی – بس کر دیں نہ امجد جی مجھے بھی پکرا دیں بچہ – اخر میرا بھی کچھ لگتا ہے یہ – اپ کا ہی صرف نواسہ نہیں ہے – شگفتہ بیگم کے خفگی سے کہنے پر امجد صاحب نے انہیں دیکھا تھا – کیا کروں بیگم دل ہی نہیں بھر رہا میرا اسے پیار کر کر کے –
عنایہ کا بچپن تو میں نے انجوائے نہیں کیا تھا نہ اسے پیار کیا تھا تو بس اب اس کی اولاد میں اسے محسوس کر رہا ہوں – امجد صاحب کے جواب پر شگفتہ بیگم اور عنایہ دونوں مسکرائیں تھیں – اچھا ٹھیک ہے ٹھیک ہے – باقی پیار بعد میں کریے گا ابھی جائیں بازار سے میٹھائیاں لے کر ائیں اور صدقہ خیرات کر کے ائیں – شگفتہ بیگم ان کے ہاتھوں سے بے بی کو لیتیں بولیں جس پر وہ برے سے منہ بناتے عنایہ کے ماتھے پر پیار کرتے جا چکے تھے جبکہ اب شگفتہ بیگم اپنے نواسے کو دیکھتیں نہار ہوتیں اسے پیار کر رہی تھیں –
::::::::: :::::::: :::::::::::::::: ::::::::::::::::::::::::
اگلے آدھے گھنٹے تک انہیں دسچارج مل گیا تھا – شگفتہ بیگم نماز پڑھنے گئی ہوئی تھیں پریئر روم میں جبکہ عنایہ کمرے میں بیڈ پر لیٹی اپنی ڈیل کا سوچ رہی تھی – وہ اپنا بچہ اپنے آپ سے الگ نہیں کر سکتی تھی – تب تو اس نے سکندر سے بنا سوچے سمجھے ڈیل کر لی مگر اب بچہ دنیا میں آتے ہی اس کے اندر کی ممتا جاگ گئی تھی اور اب وہ اپنی اولاد کو خود سے ایک پل کے لیے بھی دور نہیں کر سکتی تھی –
کرنا تو دور یہ سوچ ہی اس کا دل بند کر دیتی تھی – وہ اپنی سوچوں میں گم تھی کہ تبھی سکندر اندر ایا تھا – وہ دیلیوری کے بعد سے اس کے پاس نہیں ایا تھا – یہ اس کا پہلا چکر تھا اس کے کمرے میں – کیسی ہو ؟؟ کمرے کا دروازہ بند کرتے اس نے عنایہ سے سوال کیا تھا – ٹھیک ہوں میں – عنایہ کے جواب پر وہ سر ہلاتے بے بی کاٹ کی طرف بڑھ گیا اور چہرے پر مسکراہٹ سجاتے اپنے بیٹے کو اٹھایا تھا –
جو اپنی چھوٹی چھوٹی آنکھیں کھولے اسے دیکھ دہا تھا – سکندر نے بے ساختہ جھکتے اس کی آنکھوں پر لب رکھے تھے – تو پھر ہماری ڈیل کا اج لاسٹ ڈے ہے – آج تم اپنے رستے ، میں اور میرا بیٹا اپنے رستے – سکندر کی بات پر عنایہ کا سانس سینے میں اٹکا تھا – کیا مطلب اپ کی آخری بات کا ؟؟ عنایہ نے کانپتی آواز میں پوچھا تھا – مطلب صاف ہے میری بات کا –
ہماری ڈیل یہی ہوئی تھی نہ کہ بے بی دنیا میں آتے ہی میں تمہیں چھوڈ دوں گا اور پھر بے بی میرا اور ازادی تمہاری ہوگی – سکندر کے جواب پر اس نے آنسوں سے بھری آنکھوں سے اسے دیکھتے نہ میں سر ہلایا تھا – نہیں میں اپنا بچہ نہیں دوں گی آپ کو – میں اپنی اولاد خود سے دور نہیں کروں گی – عنایہ کے کہنے پر سکندر نے ایک آئیبرو اٹھاتے اسے دیکھا تھا – تم اپنی بات سے مکر نہیں سکتی –
تم نے خود کہا تھا بچے کے پیدا ہوتے ہی تمہارا اس سے کوئی تعلق نہیں ہو گا – سکندر تو فل اپنے کریکٹر میں گھسا ٹوپ کلاس کی ایکٹنگ کرتے بولا – پاگل تھی تب میں جو ایسی بات منہ سے نکالی میں نے – لیکن اب میں اپنی بات سے پیچھے ہٹتی ہوں – مجھے آپ سے آزادی اور بچہ دونوں چاہیے ہیں –
عنایہ کے کہنے پر سکندر نے تنزیہ مسکراہٹ سے اسے دیکھا تھا – خیال ہے تمہارا کہ میں تمہیں اپنا بچہ دوں گا – جا رہا ہوں میں اپنا بچہ لے کر – اگر تمہیں ساتھ آنا ہے تو آجاو – میرے گھر اور دل کے دروازے ابھی بھی کھلے ہیں تمہںرے لیے – سکندر کے کہنے پر عنایہ بیڈ سے اٹھتی اس کے قریب ائی تھی – نہیں جانا مجھے اپ کے ساتھ اور نہ ہی میں اپنا بچہ اپ کو لے جانے دوں گی – یہ میری اولاد ہے –
میں نے پیدا کیا ہے اسے – تو سوچیے گا بھی مت کہ میں اسے خود سے دور کروں گی – دیں مجھے میرا بچہ – وہ سکندر سے کہتی آخر میں بے بی کو سکندر سے پکرنے کی کوشش کرتے بولی جس پر سکندر نے اپنے ہاتھ پیچھے کرتے بے بی کو اس کی پہنچ سے دور کیا تھا – میں کتنی بار کہہ چکا ہوں تم سے کہ معاف کر دو میری غلطیوں کو اور مجھے ایک اور موقع دو – قسم سے ساری زندگی سر آنکھوں پر بیٹھا کر رکھوں گا –
تم ، میں اور ہمارا حدید ہم ایک ہیپی لائیف گزاریں گے – سکندر نے اپنے لہجے میں پیار اور محبت سموئے کہا – حدید ؟؟ عنایہ نے حیرت سے سوال کیا تھا – حدید ہمارا بیٹا اور کون – سکندر نے اسے مسکرا کر جواب دیا تھا – آپ مجھے میرا بیٹا واپس کریں مجھے نہیں رکھنا اپ سے کوئی تعلق – عنایہ نے واپس اپنی پٹری پر اتے سکندر سے حدید کو چھیننے کی پھر سے کوشش کرتے کہا –
ٹھیک ہے نہیں رکھنا تعلق تو نہ رکھو مگر میں حدید تمہیں نہیں دوں گا – لے کر جا رہا ہوں میں اپنے بیٹے کو – ہم دونوں ایک دوسرے کے لیے بہت ہوں گے – وہ غصے سے اس کا ہاتھ جھٹک کر کہتا کمرے سے جا چکا تھا جبکہ عنایہ اس کے جانے پر بنا جوتا پہنے اس کے پیچھے بھاگی تھی –
اسے اس وقت اپنے بیٹے کے خود سے دور جانے کے علاوہ کچھ نظر نہیں آ رہا تھا حتہ کہ کمرے سے باہر نکلتے وقت وہ شگفتہ بیگم کو بھی نہ دیکھ سکی جو کب سے دروازے کے ساتھ کھڑیں سکندر کی اور اس کی ساری گفتگو سن رہی تھیں – سکندر نے انہیں دیکھ لیا تھا مگر وہ انہیں اگنور کرتا جا چکا تھا جبکہ عنایہ کو سکندر کے پیچھے بھاگنے والے انداز میں جاتے دیکھ وہ بھی تیزی سے اس کے پیچھے گئی تھیں –
نہیں سکندر اپ یہ ظلم نہیں کر سکتے میرے ساتھ – خدا کے لیے میری سانسیں مجھ سے دور نہ لے کر جائیں – میں مر جاوں گی اپنے بچے کے بغیر – عنایہ بھاگ کر اس کے پاس اتی اس کے سامنے ہاتھ جوڑتی روتے ہوئے بولی تھی – وہ اس وقت ہوسپٹل کے ریسیپشن ایریا میں تھے اور اس وقت وہاں کافی رش تھا –
وہاں موجود تمام لوگ ان کی جانب متوجہ ہو چکے تھے – میں ظلم نہی کر رہا تمہارے ساتھ – تم خود کر رہی ہو – میں تو ابھی بھی کہہ رہا ہوں چلو میرے ساتھ – سکندر کے کہنے پر عنایہ اس سے پہلے کچھ بولتی شگفتہ بیگم نے وہاں اتے عنایہ کا ہاتھ تھاما تھا – یہ جائے گی تمہارے ساتھ سکندر –
تم رکو ابھی مجھے بس کچھ بات کرنی ہے عنایہ سے پھر یہ تمہارے ساتھ ہی جائے گی – شگفتہ بیگم سکندر سے کہتیں روتی ہوئی عنایہ کو وہاں سے اپنے ساتھ کھنچتیں سائیڈ پر لے گئی تھیں –
::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
مثلہ کیا ہے تمہارے ساتھ ؟؟ کیوں شوہر کے ساتھ نہیں جا رہی اور کس ڈیل کا زکر کر رہے تھے تم دونوں – شگفتہ بیگم اسے ایک سائیڈ پر لے کے جاتیں سخت لہجے میں پوچھنے لگیں جبکہ ان کے سوال پر عنایہ نے تھوک نگلا تھا – جواب دو اب مجھے – شگفتہ بیگم نے اس کے بازو کو جھنجھورتے ہوئے کہا –
جس پر عنایہ نے انہیں شروع سے لے کر اخر تک ساری بات بتاتے ان کی ہوئی ڈیل کے بارے میں بھی بتایا تھا ہاں خودکشی والی بات گول مول کر گئی تھی- عنایہ کے بتانے پر شگفتہ بیگم نے ایک لمبا سانس ہوا کے سپرد کیا تھا – دیکھو عنایہ تم اپنی جگہ ٹھیک ہو مگر ابھی کمرے میں سکندر کی باتیں بھی میں سن چکی ہوں – اگر وہ شرمندہ ہے تو تمہیں اسے ایک موقع اور دینا چاہیے –
جو بھی ہو عنایہ شوہر شوہر ہی ہوتا ہے – اور طلاق لفظ جتنا بولنے میں چھوٹا اور آسان ہے نہ اس کی حقیقت اتنی ہی بری اور زلالت سے بھری ہے – تم ہم پر بھاری نہیں ہو میری جان – تم چاہو تو ابھی ہمارے ساتھ چلو – ہمیں کوئی مثلہ نہیں ہو گا – مگر تم خود سوچ لو رہ لو گی اپنی اولاد کے بغیر ؟؟ شگفتہ بیگم اسے سمجھاتے ہوئے بولی تھیں – جبکہ ان کی آخری بات پر عنایہ نے بے ساختہ نہ میں گردن ہلائی تھی –
یہی بات ہے نہ کہ ماں اپنی اولاد کے بغیر نہیں رہ سکتی اور اپنی اولاد کے لیے اسے بہت سی قربانیاں دینی پڑتی ہیں – میری مانو میری جان ایک بار سکندر کو موقع دو – اگر اس بار بھی اس نے اپنا موقع گنوا دیا تو تم گھر اجانا – وہ تمہارا اپنا گھر ہے – مجھے اور تمہارے بابا کو کوئی قباحت نہیں ہوگی پھر تمہارے طلاق کے فیصلے پر –
شگفتہ بیگم اس کا چہرہ ہاتھوں میں قید کیے پیار سے سمجھاتی بول رہی تھیں جبکہ عنایہ نے اپنی انکھیں بند کر رکھیں تھیں اور اسے اپنی آنکھوں کے پردوں پر حدید کا معصوم چہرہ نظر آ رہا تھا – ٹھیک ہے امی میں جا رہی ہوں – لیکن یہ وعدہ نہی کرتی کہ سکندر کو ایک اور موقع دوں گی- وہ ان سے کہتی سکندر کی طرف بڑھ گئی جو تب سے وہاں کھڑا دور سے ان کی جانب ہی دیکھ رہا تھا –
عنایہ کے ماننے پر شگفتہ بیگم کو سکھ کا سانس آیا تھا – اور وہ دل ہی دل شکر کرتیں اس کے پیچھے ہی سکندر کے پاس پہنچی تھیں اور مسکرا کر ہاں میں سر ہلاتیں اسے بتا چکی تھیں کہ عنایہ مان گئی – عنایہ نے سکندر کے پاس جاتے ہی حدید کو اس کی گود سے لیتے قدم باہر کی جانب بڑھا دیے تھے جبکہ سکندر اور شگفتہ بیگم اس کے پیچھے ہی تھے –
::::::::::::::: :::: ::::::::::::::::::::::::::: :::::::::::::::::::::::
حدید کے حویلی انے سے ایک الگ قسم کی ہی رونق لگ گئی تھی حویلی میں – داد اور کومل کا بھی جانے کا دل نہیں کرتا تھا حویلی سے – تو پھر سکندر نے انہیں حویلی میں رہنے کا ہی کہہ دیا تھا – داد کے تو جیسے من کی مراد بر آئی تھی – وہ بھی فوراً مان گیا تھی – حدید سارا دن کبھی کسی ایک کے پاس ہوتا تو کبھی کسی ایک کے –
عنایہ کو وہ صرف تب ہی ملتا تھا جب اسے بھوک لگتی اور وہ رونے لگ جاتا تھا – یاں پھر تب جب اسے سلانا ہوتا – تو عنایہ بھی اسے تب ہی جی بھر کر پیار کر لیتی تھی – ابھی بھی وہ حدید کو فیڈ کروا کر ہٹی تھی اور اس کے ساتھ کھیل رہی تھی تبھی سکندر کمرے کا دروازہ کھول کر اندر آیا تھا – سٹارٹنگ میں تو اس کا افس جانے کو دل ہی نہیں کرتا تھا – اگر وہ جاتا بھی تو جلدی ہی واپس آ جاتا تھا –
حدید کے پیدا ہونے پر اس نے اپنے سب امپلوئیز کی تنخائیں بھی بڑھائی تھیں اور ساتھ ہی انہیں تین دن کی چھٹی بھی دی تھی خوشی میں – اس کے روز روز جلدی اجانے پر بی جان نے ایک دن اس کی اچھے سے کلاس لی تھی پھر جا کر وہ اپنی پٹری پر واپس آیا تھا – ابھی رات کے آٹھ بج رہے تھے اور وہ آفس سے تھکا ہارا آیا تھا مگر کمرے میں آتے ہی اپنے بیٹے اور بیوی کی کھلکھلاہٹ سن کر اس کی ساری تھکن اتر گئی تھی – اس نے بلند آواز سلام کرتے اپنا لیپ ٹاپ بیگ صوفے پر رکھا تھا – سکندر کے سلام کرنے پر عنایہ نے اس کی جانب دیکھتے سلام کا جواب دیا تھا –
ہادی مما جان دیکھو بابا آگئے – بابا اب ہادی کے ساتھ کھیلیں گے اور مما بابا کے لیے کھانا لے کر آئیں گی – عنایہ بیڈ سے اٹھتی حدید سے بولتی اسے سکندر کے حوالے کر چکی تھی – اس نے سکندر کو معاف تو نہی کیا تھا مگر حدید کی وجہ سے وہ اس سے مخاطب ہو جاتی تھی اور کچھ امی کی نصیحت تھی کہ وہ اب اس سے تمیز سے مخاطب ہوتی –
لیکن بلا وجہ وہ اس سے بات نہیں کرتی تھی – حدید کو سکندر کو پکراتے وہ کھانا گرم کرنے جانے لگی تھی جب سکندر نے ایک ہاتھ سے حدید کو پکرتے دوسرے سے اس کا بازو پکر کر روکا تھا – نہیں مجھے بھوک نہیں ہے – آفس میں میٹنگ تھی ایک – اسی کے بعد کھانا کھا لیا تھا – سکندر کے کہنے پر عنایہ ٹھیک ہے کہتی واپس بیڈ کی طرف مڑ گئی تھی –
عنایہ ! سکندر نے اسے پکارا تھا – جی ؟؟ اس نے ایک لفظ میں اس کے پکارنے پر جواب دیا تھا – آخر کب تک ایسے چلے گا ؟؟ سکندر کے پوچھنے پر اس نے اسے نا سمجھی سے دیکھا تھا – کس بارے میں بات کر رہے ہیں آپ ؟؟ اس کے پوچھنے پر سکندر اس کے پاس آتا حدید کو بیڈ پر لٹاتے اس کے دونوں ہاتھ تھام چکا تھا – یہ سب مطلب کہ تمہاری یہ بے رخی ، تمہاری خاموشی –
سکندر کے جواب پر اس کی آنکھوں میں ابھی بھی ناسمجھی تھی – پر میں کرتی تو ہوں آپ سے بات – عنایہ نے جیسے اسے بتایا تھا – نہیں یہ سب کافی نہیں ہے – تم صرف مجھے تب مخاطب کرتی ہو جب بہت کوئی ضروری بات ہو یاں پھر تب جب میں تمہیں مخاطب کروں تو تم جواب دے دیتی ہو – سکندر نے بے بسی سے کہا تھا – میں اس سے زیادہ کر بھی نہیں سکتی کچھ – کیونکہ میں حدید کی وجہ سے اس رشتے کو نبھا رہی ہوں – میں نے آپ کو معاف نہی کیا –
میں یہ بات نہی بھولی کہ آپ نے مجھ سے محبت کا ناٹک کیا تھا – میں یہ نہی بھولی کہ محبت کی آر میں آپ کو میرے وجود سے مطلب تھا – تو اس پر ہی خوش رہیں کہ میں اپ کے ساتھ ہوں اس سب کے باوجود – عنایہ کی باتوں پر سکندر نے اس کے ہاتھ چھوڈ کر اپنے بالوں کو پیچھے کرتے لمبے سانس لیے تھے – کب تمہیں یقین ائے گا کہ میں بدل گیا ہوں – میں پچھتا رہا ہوں –
مجھے سچ میں اب تم سے محبت ہے – پلیز یقین کر لو میرا – کیسے آئے گا تمہیں یقین ؟؟ سکندر کے لہجے میں بے بسی اور بے قراری تھی – اول تو ایسا ہو گا نہیں لیکن اگر قسمت میں ہوا تو جب اللہ کو منظور ہو گا مجھے آپ پر اور آپ کی باتوں پر یقین آ جائے گا – وہ اس سے کہتی واش روم میں بند ہو گئی تھی جبکہ سکندر نے خالی نگاہوں سے واش روم کے بند دروازے کو دیکھا تھا پھر بیڈ پر لیٹے حدید کی جانب متوجہ ہوا تھا جو بیڈ پر لیٹا اپنے ہاتھ پاوں چلانے میں مصروف تھا –
اسے دیکھتے ہی سکندر کے چہرے پر مسکراہٹ آئی تھی – کیسا ہے بابا کا شیر ؟؟ وہ بیڈ پر گرنے کے انداز میں لیٹتا ایک ہاتھ سر کے نیچے رکھتے اس سے بولا تھا جبکہ اپنے باپ کے اپنی جانب متوجہ ہونے پر اس کی کھلکھلاہٹ عروج پر تھی – پھر تھوڑی ہی دیر بعد حدید کی کھلکھلاہٹتیں اور سکندر کے قہقہے عنایہ کو واش روم میں بھی سنائی دیے تھے –
ان کے ہسنے کی آوازیں سن اس کے چہرے پر بھی مسکراہٹ ائی تھی – وہ واقع اپنے فیصلے پر مطمٔین تھی – سکندر ایک اچھا باپ تھا اور جب سے وہ اس سے معافی مانگ رہا تھا تب سے وہ ایک اچھا شوہر بھی تھا – وہ اس بات کو مانتی تھی مگر اس کے اپنے بس میں نہی تھا کہ وہ اس کو اتنی جلدی معاف کر سکتی –