قسط: 30
دوپہر کا وقت تھا اب تو گرمی بھی اچھی خاصی تھی منال کام کر رہی تھی آج دوسرا دن تھا تہمینہ بیگم ، صیغیر صاحب اور آغا جان کو گئے ہوئے تیسرا دن تھا۔۔
حسنال جس دن کا گیا تھا واپس نہیں آیا تھا لیکن یہ ہے کہ وہ اسے سکون دے گیا تھا اسے پتہ تھا وہ بہت نرم دل ہے وہ اسے کسی نہ کسی دن معاف کردے گا۔۔
اس نے سب سے پہلے لاونج اور کچن کے فرش دھوئے تھے
اسے آج کام کرنے کی صیح سے فرصت ملی تھی کیونکہ تہمینہ بیگم جس دن کی ناراض تھی وہ ان کے سامنے ہچکچا جاتی تھی پہلے وہ کام نہیں کرتی تھی کیوں اس کی ماں سارے کام اشنال سے ہی کرواتی تھی لیکن کل سے وہ ایکٹو تھی۔
اس نے پچھلا دن بھی مشین لگا کہ بیڈ شیٹ اور آغا جان کے کپڑے دھو کہ رکھے تھے ان کا روم ہی بہت زیادہ گندا تھا ان کا روم تو اس نے کل کا سارا دن لگا کہ صاف کیا تھا اور آج بھی اس نے سارے کمروں کی صفائی بیڈ شیٹ وغیرہ دھو رہی تھیں وہ صبح سے بہت ہی مصروف تھی کیونکہ اشنال اور روشنال کا علحیدہ سے روم صاف کیا تھا تہمینہ بیگم نے ایک میڈ تو رکھی تھی لکین وہ ایک نمبر کی ہڈ حرام تھی کبھی چھٹیوں کا بہانہ بخار کا بہانہ ہر دن آئے کوئی نہ کوئی بہانہ اس کی زباں پہ چڑھا رہتا تھا اس لیے تہمینہ بیگم نے اسے نکال دیا تھا کیونکہ نفیس اور صفائی پسند خاتون تھی لیکن کمرے اس طرح صاف نہیں تھے جب اشنال تھی تو وہ میڈ کی نگرانی میں کام اچھا کرواتی تھی اور خود بھی وہ ہر چیز ٹپ ٹاپ رکھتی تھی اس نے سوچا اشنال آئے تو کمرہ اسکق صاف ستھرا ہو ۔۔۔
ابھی بھی وہ چھت پہ سارے دبیز پردے شیٹ لے گئی تھی چھت اوپر سے اتنا کوور تھاکہ اسے اکیلے کوئی خطرہ نہیں وہ اوپر ہی مشین پہ دھوتی اور ڈرائیر کرکے وہی چھت پہ پھیلا رہی تھی ویسے تو نیچے پورشن صاف ستھرا تھا اسے ٹنشن تو نہ تھی ۔۔
اس کام میں محنت بھی بہت زیادہ تھی ابھی وہ کام کر ہی رہی تھی جب اسے زور دار چکر آیا وہ سر تھامے پیپ پکڑے وہی بیٹھ گئی تھی کچھ دیر بعد اس نے پانی کے چھینٹے منہ پر پھینکے تھے کہ کچھ نہ کچھ صحت بحال ہو۔۔
تھوڑی دیر بعد جب اس نے خود کو کچھ بہتر محسوس کیا تو پھر سے کام میں جت گئی تھی وہ کچھ دیر کپڑے وغیرہ دھو کر سستانے کےلیے وہی کرسی پر بیٹھ گئی تھی کہ ہر چیز سوکھ جائے تو وہ سب کو اتار کر نیچے لے جائے ۔کام کرتے پوئے اسے بہت مشکل ہوئی تھی اور دیر بھی بہت زیادہ ہوئی تھی کیونکہ وہ ان کاموں کی عادی نہیں تھی ۔۔۔وہ وہی بیٹھ گئی تھی جب ڈور بیل بجی وہ ہکلا کراٹھی تھی ۔۔۔
آہستہ آہستہ چلتی وہ پہلے چھت سے نیچے آئی تھی اور پھر سٹرھیاں اترتی مشکل سے نچلے پورشن تک آئی تھی ڈور بیل ابھی تک بج رہی تھی۔۔۔
کون ۔۔۔۔۔۔ایک دفعہ اس نے اصول و اخلاقیات کے دائرے میں رہ کر پوچھا تھا۔۔
میں ہوں دروازہ کھولو منال ۔۔۔۔! ثمینہ بیگم کی جنجھلائی سی آواز آئی تھی ۔۔۔
اتنے دنوں بعد ماں کی آواز سن کر منال کی ایک دم سے منال کی آنکھیں بھر آئیں تھیں اس نے سوچا کہ وہ ماں کو ساری بات بتائیں کہ حسنال نے اسے ایک موقع زندگی کی نوید سنائی ہے یہ سوچتے اس کی آنکھوں میں خوشی کے آنسوؤں آئے تھے وہ جیسی بھی تھیں اس کی ماں تھیں ماں کی آواز نے اس کے اندر نیا سور پھونکا تھا وہ جلدی سے دروازہ کھول گئی تھی لیکن ماں کے پیچھے ایک جوان جہان لڑکے کو دیکھ کر وہ ہڑا بڑا کر رہ گئی تھی
وہ اسی کی طرف دیکھ رہا تھا وہ جو ماں کے گلے لگنے کو بے تاب تھی اس لڑکے کی گندی نگاہیں اپنے اوپر دیکھ کر اپنا ڈوپٹہ سر پہ صیح کیا تھا جوکہ پہلے ہی ٹھیک تھا اس کو اپنے طرف دیکھتے اس نے چہرہ غیر ارادی طور پر ڈوپٹے سے ڈھانپا۔۔۔اور آنکھوں میں اتنی سختی رکھ کہ گھورا کہ اس کے ماتھے پر بل پڑ گئے تھے وہ لڑکا اس کی چبھتی نظروں سے گڑ بڑا کہ رہ گیا تھا۔۔
اچھا بیٹا آپ جاؤ بہت بہت شکریہ آپکا۔۔۔!
بیٹی کے اتنے عجیب تاثرات دیکھ کر ثمینہ بیگم نے دروازے پہ کھڑے ہوکر خوش اخلاق سا ہوکر کہا اور زبان کے ساتھ آنکھوں ہی آنکھوں میں اسے اشارہ دیا تھا۔
وہ دروازہ بند کر پلٹی تو منال کئی نہیں تھی وہ سڑھیاں چڑھتی ہوئی اوپر آئیں اسے لاونج کے صوفوں پہ کوور چڑھاتے دیکھا گھر میں کوئی بھی نہیں تھا۔۔۔
یہ تم کام کیوں کر رہی ہو ۔۔۔۔! اور سب نظر نہیں آرہے وہ کہاں گئے ۔۔۔۔ ؟ وہ ساڑھی کا پلو سنھبالتے تشویش زدہ لہجے میں پوچھنے لگی تھی۔۔
وہ اشنال اور روشنال کو لینے گئے ہوئے ہیں اور میرا گھر ہے میں ہی کام کروں گی۔۔۔۔ منال نے ایک نظر ماں کی طرف دیکھ کر کہا جو گولڈن اور بلیو ساڑھی میں سہی تیار لگ رہی تھی اور ان کے چہرے کے رنگ ایک دم سے بدلے تھے۔
وہ یہ کہتی بالکل نئے روپ میں انھیں حیران کرگئی تھی حالانکہ وہ کام بالکل بھی نہیں کرتی تھی۔۔
اچھا تو یہ چال تھی ان کی۔۔۔۔میرے نکالنے بعد اس بڈھے کو آرام نہیں آیا اور پوتی کا پیار پھر سے جاگ اٹھا اور وہ دیکھو نہ میری بہن بھی شروع سے ہی میسنی ہے ہر وقت اس کا پیار اس منحوس کلموہی کےلیے امڈ امڈ کر آرہا ہے ۔۔۔۔
پر یہ جو بھی کریں نہ ۔۔۔۔۔کوئی فائدہ نہیں اب جو میں کروں گی وہ یہ ساری زندگی یاد رکھیں گے دیکھتی ہوں میں وہ کیسے اس گھر میں آتی ہے وہ چھٹانک بھر کی لڑکی اب میرا مقابلہ کریں گی میں نے اس کلموہی کو زندہ چھوڑا تو وہ ادھر رہے گی نا۔۔۔۔!
وہ یہ سنتے ہوش و حواس میں نہیں رہی تھی اور اس پہ برس پڑی تھیں۔۔۔
امی آپ ایسا کچھ نہیں کریں گی ۔۔۔۔ اور نہ ہی میں آپ کو ایسا کچھ کرنے دوں گی ۔۔۔وہ جس کشن پہ کوور لگا رہی تھی وہ وہیں پھنکتی ماں کے بازوں تھامتے چیختی ہوئی کہنے لگی تھی۔۔
دیکھتی ہوں کیسے روکتی ہو مجھے ۔۔۔۔! ثمینہ بیگم نے اسے جھٹکے سے بازؤں سے چھڑا کر غصے سے کہتی اندر چلی گئی تھیں
پیچھے سے وہ جلدی سے کمرے اور اور حسنال کے نمبر پہ کال کرنے لگی لیکن اسکا نمبر بند تھا اور منال جانتی تھی وہ کام کے دوارن پاورڈ آف کردیتا تھا
اس نے آغا جان کو کال کی لیکن انہوں نے بھی اٹینڈ نہیں کی تھی آخر کار تنگ آکر اس نے غصے اور بےبسج سے موبائل نیچے پھینکا اور وہی نیچے بیٹھ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تھی
اشنال بیٹے دروازہ کھول دو پلیز۔۔۔! تہمینہ بیگم اس کے روم کے باہر کھڑی تھیں جو ان کے آنے سے بالکل روم کی ہوکر رہ گئی تھی آغا جان بھی پوتی کو یکھنے کے منتظر صوفے پر ہی بیٹھے رہتے تھے۔۔۔
کیا ہوا امی ۔۔۔۔؟ آپ اتنی پریشان کیوں ہیں ۔۔۔؟وہ جو ابھی آفس سے آیا تھا آلج وہ جلدی آگیا تھا ابھی ےو دوپر کے دو بج رہے تھے تہمینہ بیگم کا اترا ہوا چہرہ دیکھ کر وہ خود بھی پریشان ہوگیا تھا ۔۔۔
صبح سے ایسے ہی کمرے میں بند ہے میری بچی ۔۔۔! بہت برا کیا ہے تم روشنال ۔۔۔صبح میں تین چکر لگا چکی ہوں لیکن وہ ہے کہ کھول رہی ۔۔۔تہمینہ بیگم اشنال کی وجہ سے سچ میں پریشان تھیں۔۔
آپ پیچھے ہوں میں ٹرائی کرتا ہوں اس نے ماں کو اشارہ کیا تھا ۔۔
تم رہنے دو میں اپنی بیٹی کو خود مناؤں گا۔۔۔۔۔صیغیر صاحب نے بھاری گمبھیر آواز میں اس کے پاس آئے تھے۔
وہ باپ کی آواز سن کر پیچھے ہٹ گیا تھا۔۔۔۔!
میرا بیٹی اتنی ناراض ہے ہم سے۔۔۔۔! واقعی ہم بہت برے ہیں ۔۔۔۔۔! اپنی پھولوں سی بچی کا اتنا دل دکھایا ۔۔۔! ہم واقعی آپ کےلیے کوئی بہتر فیصلہ نہ کرسکے ۔۔۔۔! ہمیں نہیں پتہ تھا کہ ہماری بیٹی دل میں اتنا گلٹ رکھ کہ جی رہی ہے۔۔۔۔! ان کی یہ کہنے کی دیر تھی اندر اُن کا اتنا پیار بھری آواز سنتی دراوزہ کھول کہ جھٹ سے ان کے گلے آ لگی تھی۔۔۔
بڑے ابو۔۔۔۔۔وہ یہ کہہ کر سسک پڑی تھی روشنال اس کی روئی روئی آنکھیں بغور دیکھنے لگ پڑا تھا۔۔
جی میرا بچہ ۔۔۔۔! میری بچی خود کو اتنی اذیت کیوں دے رہا تھا وہ اس کے سر پہ ہاتھ پھیرتے اسے ٹیبل پہ لے آئے تھے آغا جان صرف نگاہوں سے ہی پوتی کو دیکھ اس بے چین دل کو سیراب کر رہے تھے ان کا بہت دل کیا تھا کہ وہ اپنی بیٹے کی نشانی کو ایک بار گلے سے لگا کر اس کے سارے غم خود میں سمو لیں ۔۔۔۔!
اس کھوتے کے پتر نے بہت زور سے تھپڑ مارا ہے نا ۔۔۔۔! رکو میں ابھی حساب برابر کرتا ہوں ۔۔۔۔! وہ یہ کہہ کر اس کا بازو چھوڑتے روشنال کے پاس گئے تھے وہ انجانی سے انھیں دیکھنے لگا لیکن یہ انجانی حیران اور شاک تب بدلی تھی جب الٹے ہاتھ کا تھپڑ اس کے منہ پہ پڑا تھا۔۔۔
اب بتاؤ اٹھاؤ گے عورت پہ ہاتھ ۔۔۔۔۔تم اس کا شوہر ہو تو میں اس کا تایا ہوں ۔۔۔۔! اگر آہندہ یہ سب کیا نہ تو سب سے پہلے تیرے سینے میں گولیاں اتاروں گا ۔۔۔۔وہ جو بھیتجی کو راضی کرنے اس پہ ہاتھ اٹھایا اب سچ میں خفا ہوئے تھے اور روشنال بخت کے باپ کی تربیت میں ایسی بات تو تھی کہ اس نے ان کے سامنے نگاہیں اٹھانے کی جرات نہیں کی ۔۔۔۔!
یہ دیکھ کر اشنال منہ پہ ہاتھ رکھے حیرت سے اسے دیکھے گئی تھی
اشنال جتنی بھی خفا تھی روشنال سے لیکن اس نے یہ کبھی نہیں چاہا تھا کہ اسے تھپڑ پڑے ۔۔۔! روشنال کو جب تھپڑ پڑا تھا تو اس کی رگ رگ میں اذیت دوڑی تھی وہ اتنی ناراضگی کے باوجود بےچینی سے اسے دیکھنے لگ پڑی تھی جو نگاہیں جھکائے کھڑا تھا۔۔
بڑے ابو کا اسے تھپڑ مارنا ، اشنال بخت کو ایسا لگا کہ کسی نے اس کے دل پہ زور سے پاؤں رکھ دیا ہو وہ اُس دشمنِ جاں سے بھلے جتنا بھی خفا تھی لیکن وہ یہ کبھی نہیں چاہتی تھی کہ وہ ستمگر یوں نگاہیں جھکا کر کھڑا ہو وہ تو نگاہیں اٹھا کر ہی باتیں کرتا اچھا لگتا تھا۔۔وہ پچھتائی تھی وہ دو دن سے اسے مسلسل منا رہا تھا لیکن وہ تھی کہ اسے بات کرنے کو تیار نہیں تھی۔
پتہ نہیں کیوں ۔۔۔۔؟ لیکن یہ بات اشنال بخت کو ذرا اچھی نہیں لگی تھی کہ روشنال بخت ایسے نگاہیں جھکا کر کھڑا ہو وہ تو نگاہیں اٹھا کر باتیں کرتا اچھا لگتا تھا اس کا ضبط سے لال چہرہ دیکھ کر اشنال کے دل نے اسے ڈھیروں ملامت کی تھی۔۔۔
وہ کچھ دیر ان کی سنتا رہا پھر بنا کچھ کہے باہر نکل گیا تھا ۔۔۔۔!
شاباش پتر بہت اچھا کارنامہ انجام دیا ہے اب میرا دل کر رہا ہے کہ میں تمھیں جھانپڑ لگاؤں رکھ کہ آغا جان کی خفا سی آواز آئی تھی ۔۔
اتنی بڑی بات نہیں ہے آغا جان ۔۔۔۔! آجائے گا واپس ۔۔۔! تہمینہ بیگم بظاہر تو ٹھیک تھیں لیکن بیٹے کا ستا چہرہ ان کی نگاہوں میں گھوم رہا تھا اشنال بہت زیادہ شرمندہ ہو رہی تھی وہ تہمنیہ بیگم کی طرف دیکھ نہیں پا رہی تھی ۔۔
ارے بھلی بھانس جلدی کھانا لے کر آئے نا ۔۔۔۔! صیغیر ڈاحب نے تہمینہ بیگم کو مخاطب کیا تھا۔۔
اور پھر تہمینہ بیگم کھانا لے کر آئیں صیغیر صاحب نے پہلا نوالہ اس کے آگے کیا تھا اشنال نے وہ نوالہ لے تو لیا لیکن وہ اس نے بہت مشکل سے نگلا تھا وہ بار بار ڈور کی طرف دیکھ رہی تھی۔۔
تو ہماری بیٹی ہمارے ساتھ بخت ولا میں چل رہی ہے نا انھوں نے بہت ہی مان سے پوچھا تھا۔۔
اشنال نے محض اثبات میں سر ہلا کہ آغاجان کو فرش سے عرش پہ بیٹھا دیا تھا۔۔
جب کہ صیغیر صاحب اپنے پلان کی کامیابی پہ مسکرا اٹھے تھے اس کے دل کا حال صیغر صاحب سے مخفی نہیں رہا تھا
وہ بہت بے چین تھی اس نے جب کل روشنال سے بدتمیزی کی تھی تو اس کا لہجہ صیغیر صاحب کو اس تشویشناک خدشے میں پڑے کہ وہ روشنال کے ساتھ رہنا نہیں چاہتی اس لیے انھوں نے روشنال کو تھپڑ مارا تھا لیکن اس کی اڑی اڑی رنگت اور اس کا بے چین دل انھیں بہت کچھ باوار کرا گیا تھا جس دن وہ یہاں آئے تھے
اور روشنال نے اشنال کو تپھڑ مارا تھا اس رات صیغیر صاحب نے روشنال کو بہت بے چین دیکھا تھا وہ بظاہر تو نارمل لہجے میں بات کر رہا تھا لیکن اندر سے وہ تھوڑ پھوڑ کا شکار تھا لیکن اپنی اس جھلی سی بھتیجی کو بھی بے چین دیکھ کر وہ سمجھ گئے تھے کہ وہ دونوں ایک دوسرے سے کبھی جدا نہیں ہونے چاہتے تھے اور اب انھیں کوئی پریشانی نہیں رہی تھی ۔
امی آپ کھانا کھائیں گی۔۔۔۔؟
منال نے ماں کے کمرے میں آتے ماں سے پوچھا تھا وہ خود کو اکیلا محسوس کر رہی تھی اس لیے ماں کے پاس چلی آئی تھی۔۔۔
کھانے کو چھوڑو ادھر آؤ ۔۔۔۔! میرے پاس بیٹھو وہ اسے اپنے پاس بلا کر بیٹھا گئی تھی
جی امی ۔۔۔۔وہ یہ کہتی ان کے پاس بیڈ پہ جا بیٹھی تھی۔۔ !
تمھیں پتہ ہے آج میں بہت خوش ہوں تمھیں وہ بات بتاؤں گی تو تم بھی خوش ہو جاؤں گی بس یہ سوچ لو کہ تمھیں بھی اس عذاب سے چھٹکارا مل جائے گا۔۔!
کو ۔۔۔کونسی بات۔۔۔وہ ماں کو اتنا خوش دیکھ کر پوچھے بغیر نہیں رہ سکی تھی۔۔
تمھیں پتہ ہے ثمن اتنی امیر ہے اتنی امیر ہے کہ میں کیا بتاؤ اتنا بڑا اس کا گھر ہے ۔۔۔! اس کا بیٹا جو آج مجھے چھوڑنے آیا تھا وہ باہر کے بینک کا مینجر ہے اور اس کی لاکھوں کے حساب سے تنخواہ ہے میں تو اس پوری فیملی سے اتنی متاثر ہوئی ہوں۔۔۔!
تو مجھے کیوں بتا رہیں ہیں میں کیا کروں…..؟ اس نے بیزاری سے ماں کے چہرے کو دیکھتے ہوئے پوچھا تھا۔
اس لیے بتا رہی ہوں کہ حسنال سے طلاق لے لو جلدی سے۔۔۔ اور عدت وہیں ثمن کے گھر کرلینا پھر تمھاری شادی کرواؤں گی وہاں تو تم عیش کرو گی اور ویسے بھی میں تمھاری تصویر ثمن اور اس کے بیٹے کو دیکھا دی ہے اور ان کو تم بہت پسند آئی ہو ثمن تو میرے ساتھ آنا چاہتی تھی لیکن مجھے تمھاری ہاں کا انتظار ہے ۔۔۔۔!
امی آپ۔۔۔۔آپ۔۔۔۔۔۔! آپ نے اتنی آسانی سے یہ الفاظ اپنے منہ سے نکالے کیسے۔۔۔۔؟ آپ تو ایسے کہہ رہی ہیں جیسے میں آپکی بیٹی نہیں طوائف ہوں ۔۔۔
ماں آپ اتنی خودغرض کیسے ہوسکتی ہیں ۔۔۔۔؟ میں نے تو سوچا تھا کہ آپ دو دن مجھ سے دور رہیں گی تو آپکو میری یاد آئے گی لیکن امی آپ اتنی غلط کیسے ہوسکتی ہیں۔۔۔
مجھے لگتا ہے، بلکہ میری چھٹی حس کہہ رہی ہے کہ امی آپ میری زندگی میں زہر گھولیں کر رہیں گی امی آپ سچ میں خود غرض ہیں ۔۔۔؟ میں اتنے اچھے شوہر کےلیے دولت تو کیا خودکو گروی رکھ دوں ۔۔۔! آپ نے یہ بات منہ سے نکالی بھی کیسے ؟
اس نے یہ الفاظ کہے تو اسکی باتوں میں اتنا درد تھا کہ کوئی اور سنتا تو اس کے درد کا پیمانہ نہ ماپ پاتا لیکن وہ اس کی ماں تھیں جو کسی کے آگے نہ پگھلتی تھیں۔
ہونہہ ٹی وی ڈراموں کی ہیروین مت بنو ۔۔یہ باتیں صرف کتابوں اور ڈراموں میں ہی اچھی لگتی ہیں حقیقی زندگی میں دیکھو تو دولت کے بغیر کچھ نہیں ہے۔۔۔!
خواب تو مجھے آپ دکھا رہی ہیں امی ۔۔۔۔حقیقی زندگی تو شوہر کے ساتھ ایماندری ، رشتوں کی ساتھ عقیدت کا نام ہے۔۔۔۔!
اور آج کل ٹی وی ڈرامے بھی معاشرے کو دیکھ کر بنائے جاتے ہیں آج کل آدھی سے زیادہ کہانیاں سچ ہوتی ہیں کیا عورتیں صرف ٹی وی ڈارموں میں قربانی دیتیں ہے ؟ ۔
امی یہاں ہر عورت ہیروئن ہے وہ اپنی زندگی میں وائٹل رول ادا کررہی ہے کبھی روتی ہوئی کبھی ہنستی ہوئی، کبھی چپ ، کبھی اپنی بقا کی جنگ لڑتی ہوئی نظر آتیں ہے۔۔۔
ہم تو کہہ دیتے ہیں کہ وہ فلاں سیریل کی خوبصورت ہیروئن اور ابھرتی ہوئی اداکار ہے وہ میک اپ کی تہہ چڑھا کہ خوبصورت بنی ہوئی ہے آپ اس کے چہرے کہ خوبصورتی کو دیکھ کر محض ڈرامے کی خوبصورتی کو دیکھ کر خوش ہوتے ہیں ۔۔! کبھی اس کے چہرے کے پیچھے غموں کو دیکھا ہے کسی نے۔۔۔۔! ایک آدھ شوقیہ آتی ہے باقی ننانوے فیصد عورتیں مجبوری میں کام کرتی ہیں ۔کہنا آسان ہے دیکھنا بھی آسان ہے لیکن خود کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔۔!
اب تم اتنی سسی ساوتری نہ بنو ۔۔حالانکہ تمھاری اپنی خواہش تھی حسنال سے طلاق لینے کی ۔۔۔! اب چار کتابیں پڑھ کر مجھے زمانے کے سبق مت پڑھاؤ۔۔۔۔!ویسے تمھارے باپ ساری عمر دکھوں اورجدائی کے بغیر مجھے دیا ہی کیا ہے ۔۔۔۔؟
اور وہ بھی تو اسی ہی کا بھتیجا ہے نہ۔۔۔! ساری زندگی پیسوں کےلیے تڑپائے گا تمھیں۔۔۔؟
تو کیا گرنٹی ہے کہ میں راضی ہوں گی تو آپ اشنال کو کچھ نہیں کہیں گی ماں کی خود غرضی کو دیکھ کر وہ بھی میدان میں کود پڑی تھی اس نے اپنا نفع و نقصان بھی نہ دیکھا تھا ۔۔۔۔!
اس کا مطلب یہ ہے کہ تم راضی ہو۔۔۔؟ وہ اچھنپھائے سے کہتے طنزیہ لہجے میں پوچھا تھا لیکن ماں کی پراسرار مسکرائٹ دیکھ کر پریشان ہوئی تھیں ۔۔
امی کاش آپ خوبصورت نہیں پیاری ہوتیں۔۔
اور ماں خوبصورت ہو نہ ہو پیاری ہونی چاہیے۔۔! کیونکہ اولاد خوبصورت ماں سے نہیں پیاری ماں محبت کرتا ہے۔۔
اور ماں بے شک خوبصورت نہ ہو اولاد تو ماں لی گود سے محبت کرتی ہے
وہ ان کے خوبصورت پراسرار چہرے کو دیکھ کردل میں سوچتی مزید بحث کیے باہر نکل گئی ۔۔۔۔
******
میں آجاؤں۔۔۔۔؟ تمینہ بیگم سے اجازت لی تھی ۔۔۔۔!
بڑی امی پلیز مجھے شرمندہ مت کریں آجائیں روم میں ۔۔۔! اس نے جلدی سے نماز طے کی تھی وہ پہلے ہی ان سے شرمندہ تھیں کیونکہ ان کے بیٹے کو تھپڑ اس کی وجہ سے پڑا تھا۔۔۔
یہ چائے میں رکھ رہی ہوں ۔۔۔! انہوں نے چائے سائیڈ ٹیبل پہ رکھی تھی وہ یہ کہہ کر جانے لگیں تھیں۔
بڑی امی بہت زیادہ ناراض ہیں کیا۔۔۔۔؟ وہ ان کے پیچھے آئی تھی۔۔
اور میں کیوں اپنی بیٹی سے خفا ہوں گی۔۔! وہ پلٹ کہ اس کا رویا رویا چہرہ دیکھ کر الٹا اس سے سوال کیا تھا۔
سوری میں نے کل آپ سے بہت زیادہ بدتمیزی کی تھی نا۔۔وہ ان کے پاس آتی ان کے گلے میں بازؤں ڈال گئی تھی۔۔
جتنا ہم نے تمھارے ساتھ غلط کیا ہے اتنا تو بنتا ہے نا ۔۔۔وہ اسے تھامے بیڈ پہ لے آئیں تھیں ۔
اچھا چھوڑو ان باتوں کو۔۔۔ایک بات تم سے پوچھوں اشنال بچے مجھے سچ سچ بتانا۔۔۔! وہ اس کے چہرے کو کھوجتی تشویش زدہ لہجے میں پوچھنے لگی تھی۔
جی پوچھیں۔۔۔۔اشنال نے سعادت مندی سے کہا تھا۔۔۔۔۔!
روشنال کا رویہ شروع سے تمھارے ساتھ کیسا تھا۔۔۔؟ مطلب اس نے تمھیں کچھ کہا تو نہیں ۔۔۔! وہ ماں تھیں اور زیرک خاتون تھیں اس لیے معاملے کی نزاکت کو بھانپ رہی تھیں کچھ نہ کچھ انھیں پہلے ہی پتہ تھا آدھی سے زیادہ کہانی تو روشنال کے ایک دن گھر آنے پر معلوم ہوگئی تھی۔۔
وہ میرے ساتھ بہت اچھے تھے بڑی امی ۔۔۔!اس نے محض جھوٹ اس لیے بولا تھا کہ ایک ماں کو اپنی تربیت پر افسوس نہ ہو۔۔۔۔!
مجھے جھوٹ پسسند نہیں ہے اشنال سچ سچ بتاؤ اس کا رویہ کیسا تھا تمھارے ساتھ ۔۔۔۔!
کیسا سلوک کرتا تھا وہ تمھارے ساتھ۔۔۔۔؟ساتھ۔۔۔۔تم ڈورو مجھے بات کلئیر کرو۔۔۔۔! تہمینہ بیگم کے لہجے سے نرمی غائب تھی۔۔۔
سچ تو یہ امی ۔۔۔۔۔میں ان کو کبھی جان ہی نہیں پائی ۔۔۔۔! میں اُن کی رفاقت میں تیسرا موسم گزار چکی ہوں اور چھوتھا موسم شروع ہے ۔۔۔کبھی کبھی ایسا لگتا ہے کہ اُن جیسا اچھا کوئی نہیں ہے اور کبھی کبھی ایسا لگتا کہ اُن جیسا برا کوئی نہیں ہے امی وہ میرا خیال بھی اجنبیوں کی طرح رکھتے ہیں نہ میں انکو جان پائی ہوں اور نہ آئندہ جان سکوں گی کیونکہ وہ مجھے پراسرار لگتے ہیں وہ اپنی ذات کا ایک پہلو بھی میرے ہاتھ نہیں آنے دیتے ۔۔۔۔! وہ جھکی آنکھوں سے الجھے الجھے لہجے میں کہہ رہی تھی جیسے اس گفتگو کے دوران بھی وہ کوئی سرا ڈھونڈ رہی ہو۔۔۔
کیونکہ تم نے اسے جاننے کی کوشش ہی نہیں کی۔۔۔ یہ مت سمجھنا کہ وہ میرا بیٹا ہے اور میں اس کی حمایت کر رہی ہوں ۔۔۔! جس طرح وہ تھمیں لے کہ گیا تھا میں بہت ڈری تھی کہ تمھارے ساتھ کچھ غلط نہ کر دے ۔۔
امی میرے ساتھ وہ اچھے نہیں تھے وہ بہت ہی زیادہ سختی کرتے تھے اور مجھے گھر میں اکیلا چھوڑ کہ جاتے تھے اور کالج بھی میں لوکل پہ جاتی تھی انہوں نے کبھی رحم نہیں آتا تھا مجھ پر ؟ ۔۔۔اس نے بات کو سلیقے سے بتایا تھا۔
اچھا ٹھیک ہے میں مانتی ہوں کہ وہ لہجے کا تیز ہے سخت ہے برا ہے لیکن یہ بات بتاؤ کہ کبھی اس کی غیر موجودگی میں کسی نے مرد نے تو کیا کسی عورت نے بھی اس در کا دروازہ کھٹکھایا ہے۔۔۔؟
نہیں بڑی امی کبھی نہیں۔۔۔۔! وہ جواب دیتے وقت حیران پریشان سی تھی کہ وہ اسے اتنے عجیب سوال کیوں کر رہی ہیں۔۔
اور جب تم لوکل جاتی تھی تو کسی نے تمھیں نظریں اٹھاکر بھی دیکھا تھا یا تم سے کوئی بدتمیزی کرنے کی کوشش کی تھی ۔۔!
نہیں بڑی امی کبھی نہیں لیکن آپ یہ سوال کیوں کر رہی ہیں ۔۔۔!
اس لیے کہ میں پوچھنا چاہتی ہوں کہ میرے بیٹے میں کتنی خامیاں ہیں۔۔۔۔۔؟
نہیں بڑی امی مجھے کسی نے تنگ نہیں کیا اور گھر میں بھی کوئی بہانے سے کبھی نہیں آیا ….! جو سچ تھا اس نے واضح بتایا تھا۔
تو پھر میرے بیٹے کی شخصیت میں اتنا رعب و دبدبہ تو ہے نہ کہ کسی نے تمھیں گھر میں بھی اکیلے کچھ نہیں کہا ۔۔۔۔۔اور کالج میں بھی اکیلی آتی جاتی رہی ہو ۔۔۔۔! اور تمھارا رستہ کسی نے نہیں روکا۔۔۔۔کیونکہ انھیں پتا تھا کہ تمھارا محافظ ہے اس کا گھر سے نکلا ایک قدم بھی لوگوں کی نگاہوں میں خوف پیدا کرتا ہے پھر لوگ تمھیں چھیڑ تو کیا تمھاری نگاہیں اٹھا بھی نہیں سکتے۔ اور وہ تمھارا بہترین محافظ ہے تمھیں کسی کی بھی گندی نظروں سے بچا لے گا۔۔۔اور یہ بات سچ ہے کہ عورت کا محافظ مرد ہے ۔۔
بڑی امی میں آپ کی باتوں سے متفق ہوں لیکن یہ کیسا تحفظ ہے کہ ایک گھر میں عورت کو قید رکھا جائے ۔۔۔! اس کی سانسیں بند کر دی جائیں ۔۔۔۔! وہ گھر کو گھر نہیں قید خانہ سمجھے۔۔۔۔! وہ اس گھر میں گھٹ گھٹ کر جئیے۔۔۔۔! وہ جرح والے انداز میں سوال کرنےلگی ۔۔!
اسے ہی تو تحفظ کہتے ہیں میری جھلی دھی۔۔۔۔! تم شکر کرو کہ تمھیں ایک محفوظ پناہ گاہ ملی ہوئی ہے ورنہ عورتیں ترسی ہوئی ہوتی ہیں محض ایک چھت کےلیے……! اور آج کل مردوں کےلیے آسان نہیں ہے کہ ایک شادی کو چھوڑ کر دوسری شادی کرنا ۔۔۔! وہ ایک عورت چھوڑ کر تو دوسری کی تلاش میں نکل جاتے ہیں اور جو پہلی بیوی ہوتی ہے وہ بچوں کےلیے نوکری کر رہی ہوتی ہے مرد عورت پہ ظلم و تشدد کرتے ہیں !
پتہ ہے عورت ہر وقت شوہر سے اپنی خوبصورتی کی تعریف چاہتی ہے لیکن خالص مردوں کی تعریف تو مرد کی روک ٹوک اور مزاق میں بھی ہوتی ہے ۔۔۔
اور جہاں تک میں نے روشنال کو سمجھا اور پایا ہے نا ۔۔۔! تو اسے تمھاری بہت فکر ہے میں پہلے تو جانتی تھی لیکن جس دن سے وہ بخت ولا آیا ہے اس کا تمھارا لیے۔۔۔۔! وہ کسی بڑے کو جواب نہ دینے والا تمھارے کردار کی گواہی کےلیے اپنی سگی خالے کہ آگے ڈٹ کر کھڑا ہوگیا تھا اور خالہ بھی وہ جو کسی کی نہیں سنتی ۔۔۔۔! روشنال نے کہا تھا کہ میری خالہ جان اپنے منہ سے میری معصوم بیوی کےلیے ایک لفظ مت نکالیے گا ورنہ میں بھول جاؤں گا کہ میرا آپ سے رشتہ کیا ہے۔۔۔۔! اور روشنال کے اس لہجے کی وجہ سے وہ اب تک اسے اور تمھارے علحیدہ ہونے کی بدعائیں دیتی رہی ہے۔
جب آغا جان نے اسے کہا تھا کہ گھر آجاؤ ۔۔۔تو اس نے پتہ لے کیا کہا تھا میرے بیٹے نے کہا تھا کہ جس گھر میں میری بیوی کی کوئی جگہ نہیں ہے اس گھر میں آنا کیا دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتا۔۔۔۔! اور آغا جان آپ کے اس شاندار ولا میری بیوی کی کوئی جگہ نہیں ہے تو آپ کیسے کہہ سکتے ہیں میں اس گھر میں قدم بھی رکھوں گا۔
تم پچھتاؤ گے روشنال ایک دن میرے بیٹے کو تو اس کی ماں نے مار دیا تھا اب اس کی بیٹی بھی تمھاری جان لے کر رہے گی تم دوسرے کبیر بن رہے ہو ۔۔۔۔!
نہیں آغا جان میں کبیر بنوں یا نہ بنوں آپ میری آنے والی نسلوں کو اشنال کبیر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں آغا جان ااور بابا جب میری موت ہوگی نا ۔۔۔۔۔تو خدا کا واسطہ آپ میری بیٹی کو اشنال کبیر مت بننے دیجئیے گا اس کے دل میں احساسِ کمتری مت رکھنے دیجئے گا کہ اس کے ماں باپ نہیں ہیں ۔۔۔میں اپنی بیوی کو تو اتنا قابل بنا جاؤں گا کہ وہ میرے بعد آپ کی تو کیا کسی کی محتاج نہ رہے
میں اسے اتنا سخت تو بنا جاؤں گا کہ وہ آپ کے در پہ نہیں آئیں گی ۔۔۔
کیا پتہ آپ کی اس بے وجہ نفرت میں کتنے سال برس بیت جائیں اور میری موت واقع ہوجائے ۔۔۔۔! پر میری بیٹی کو اس کی نسلوں کا طعنہ مت دیجئے گا۔۔۔
جو بات ہوئی ہے وہ میں نے بتا دی ہے اشنال ۔۔۔۔مجھے پتہ ہے میرے بیٹے کا عمل ضرور برا ہوگا لیکن وہ خود برا نہیں ہوسکتا۔۔۔۔! اب بس کہنایہ چاہوں گی کہ اسے ایک مرد یا شوہر نہیں تو ایک ماں کا بیٹا سمجھ کر معاف کر دینا۔۔۔۔!بس میرا مان رکھ لینا۔۔۔!
اور اگر تم آج اس کے کمرے میں جاؤ گی تو میں سمجھ جاؤں گی کہ تم نے ایک بے بس ماں کو خالی ہاتھ نہیں لٹایا ۔۔۔۔۔
اس میں بے شک تم میری ممتا میں چھپی غرض ہی سمجھ لو۔۔۔۔کیونکہ میں ماں ہوں میں کل سے اسے بے چین دیکھ رہی ہوں ۔۔۔۔۔! اور تمھارے ساتھ وہ خوش رہتا ہے وہ کل صبح میں نے اسے تمھیں مناتے ہوئے دیکھا تھا۔۔
اچھا شب بخیر میں جارہی ہوں ۔۔ ۔! میری باتوں پہ غورو فکر ضرور کرنا۔۔۔۔۔وہ یہ کہہ کر چلیں گئی تھیں۔۔۔۔!
حسنال گھر بہت تھکا ہوا آیا تھا وہ اپنی چہرے کی تھکان اس بھورے بالوں کو دیکھ کر ختم کرنا چاہتا تھا وہ کام پہ تھا تو تب اس کے آنکھوں کے تصور میں بس ایک ہی چہرہ تھا اور وہ اس بھورے بالوں والی بلی کا تھا۔۔۔
جیسے اس نے بخت ولا میں قدم رکھا ایک بار پھر اسکا دل مچلا تھا۔
وہ تیزی سے چلتا ہوا کمرے میں آیا لیکن وہ وہاں نہیں تھی ہاں البتہ روم اتنا چمک رہا تھا کہ وہ اندازہ نہیں کرپایا کہ یہ روم منال نے ڈاف کیا ہوگا ۔۔۔کیونکہ شادی کے بعد وہ ہر وقت خود ملجگے حلیے میں رہتی تو گھر کی صفائی کیا خاک کرتی لیکن ان دنوں وہ بہت حد تک تبدیل ہوئی تھی۔
وہ کچھ سوچتا ہوا باہر آیا تو اسے برتنوں کی آوازیں آئیں وہ ناسمجھی سے سوچنے لگا کہ وہ بھورے بالوں والی بلی کچن میں کیا کر رہی ہے وہ بالکل دبے قدموں سے کچن میں آیا کیونکہ وہ بنا آواز چلنے میں کافی ماہر کھلاڑی تھی۔۔
وہ اسکی طرف بیک کیے برتن دھو رہی تھی سادہ سے کاٹن کے کپڑے پہنے ، بھورے بال نظر نہیں آرہے تھے جن کا وہ دیوانہ تھا۔
وہ بالکل رفتہ رفتہ چلتے پیچھے سے آتا اسے بازؤں کے گھیرے میں لےگیا تھا۔۔
حسنال۔۔۔۔۔۔ت۔۔۔تم کب آئے۔۔۔۔؟
وہ مانوس سی خوشبو پہچانتے گبھرائی سی بولی تھی کیونکہ اس کی گرفت میں گرم جوشی تھی۔
جب آپ اس چھوٹےسے دماغ میں مجھے سوچے بیٹھی تھی سچی بتاؤں تو دو دن آپ کے دیے گئے تحفے کو محسوس کر رہا ہوں ۔۔۔وہ فٹ سے اسے عزت دیتا یہ کہتے اس کے صابن زدہ ہاتھوں کو تھامتے اس کے ساتھ پلیٹ دلوانے لگا۔۔!
حسنال کیا۔۔۔۔کر رہے ہو کچن ہے یہ۔۔۔؟ وہ اس کی تھوڑی کو اپنے کندھے پہ دیکھتے اس کی بڑھتی ہوئی گستاخیوں سے گبھرا کر بولی تھی۔۔۔
اچھا چھوڑے یہ بتائیں۔۔۔۔؟ یہ تبدیلی کیسے آئی ہے آپ میں مطلب گھر کا اتنا کام آپ اکیلے کر رہی ہیں۔۔۔۔؟ وہ یہ کہتے اس کے ہاتھوں کو پانی کے نیچے کرتے دھونے لگا تھا کیوں کہ وہ برتن دھو چکی تھی ۔۔
کیا مطلب اس بات کا۔۔۔۔؟ وہ ناسمجھی سے پوچھنے لگی
مطلب اتنے خوبصورت و ملائم اور چھوٹے چھوٹے ہاتھوں
سے اتنا کام کر رہی ہیں۔۔۔۔؟ اب کی بار یہ کہتے اس کی ہاتھ کی پشت پہ بڑی نرمی سے لمس چھوڑا تھا۔
کیونکہ میں فارغ بیٹھی بیٹھی اکتا جاتی تھی ۔۔۔؟ اس لیے میرا دل کیا خود کو گھر کے کاموں میں انگجیڈ کروں۔۔۔! منال نے اس کے لمس سے گبھراتے نظریں اپنے ہاتھوں پہ رکھے بہت سادگی سے جواب دیا تھا۔۔
ہائے میں صدقے بھوری بلی۔۔۔۔۔! کیا ضرورت تھی آپ کو ان کاموں میں انگجیڈ کرنے کی ۔۔۔۔! مجھ سے دل انگجیڈ کرلیتی کم از کم ایک ہینڈسم شوہر تو مل جاتا۔۔۔مطلب گھاٹے کا سودا تو نہ نا ہوتا۔۔۔!
وہ اس کا اتنا سادہ سا لہجہ سن کر اس کا رخ موڑ کر شدت سے اپنے گلے سے لگایا گیا تھا۔۔۔
حسنال کچن ہے یہ۔۔۔اور ویسے میری طبعیت خراب ہے یہ نہ ہو اس دن کی طرح تمھاری شرٹ گندی ہوجائے۔۔۔!
کیا۔۔۔۔۔یہ میں کیا سن رہا ہوں۔۔۔!
اس طبعیت خرابی کے سبب آپ مجھے ابا۔۔۔۔میرے والد محترم کو دادا۔۔۔۔ان کے والد کو پردادا تو نہیں بنا رہی ۔۔۔وہ اس کی طبعیت خرابی کا سن کر مچل اٹھا تھا۔
حسنال کیا کہہ رہے ہو شرم نہیں آ رہی تمھیں اسطرح کی بات کرتے ہوئے۔۔۔۔۔؟ وہ اس کے اتنےصاف لہجے پہ گڑبڑا کہ رہ گئی تھی۔۔۔
اور وہ تو مجھے تو رومنیس کرتے نہیں آئی اور ابا بننے میں کونسی شرم ۔۔۔؟
چلیں چھوڑیں جلدی کرے ۔۔۔۔! تیار ہوجائیں جلدی سے میں تب تک ویٹ کر رہا ہوں آپکا۔۔ ؟ آج ہی کنفرم کرتے ہیں کہ آپ مجھے ابا بنا بھی رہی ہیں یا صرف لارے ہی لگا رہی ہیں ۔۔۔
اس کے ماتھے پہ لب رکھتا اس نے بہت جوش سے کہا تھا اچھا چھوڑیں اس خوشی میں خود زحمت کرلیتا ہوں آپ کو روم میں چھوڑنے کی۔۔۔!
نہیں کوئی ضرورت نہیں میں خود چلی جاؤں گی اور کیا پتہ یہ تمھاری خوشفہمی ہو ۔۔۔!منال اس کو پہلے والی ٹون میں آتے دیکھ کر بہت مسکرا کر بولی تھی.
اور آج مجھے پتہ چلا کہ کچھ خوش فہمیاں بھی بہت خوبصورت ہوتی ہیں جو فرش سے عرش پہ بیٹھا دیتی ہیں جیسے آج مجھے بیٹھا دیا ہے۔۔۔
یہ کہتا نرمی سے اسے بازؤں میں اٹھا گیا تھا۔۔۔
حسنال چھوڑو امی دیکھیں گی تو کیا کہیں گی ۔۔۔۔۔وہ ماں کو سوچتے سچ میں ڈری تھی۔
نہیں آج نہیں ۔۔۔آج کوئی دیکھتا ہے تو دیکھنے دے ۔۔۔!
آج میں آپکاکوئی بہانہ نہیں چلنے دوں گا ۔۔پہلے ہوسپٹل چلیں گے، پھر شاپنگ کریں گے۔۔۔۔، چوڑیاں ، مہندی گھڑی ان خوبصورت ہاتھوں پہ سجاؤں گے۔۔۔!
کیونکہ میری اس بھوری بلی کی یہ ہی تو شوق پوری کرنے کی عمر ہے ۔۔۔۔وہ اسے روم میں لاتے یہ باتیں اس کو سمجھدار سا شوہر اور دل کے قریب قریب لگ رہا تھا۔۔۔
جب سے تہمینہ بیگم گئی تھی وہ تب سے ساکت سی بیٹھی اس دشمنِ جاں کو سوچ رہی تھی وہ جو باتیں اسے کہہ کہ گئی تھیں اس کو سوچ کر وہ پریشان سی تھیں کہ وہ اس کےلیے آغا جان سے لڑا تھا وہ یہ سوچ رہی تھی کہ وہ اتنا خود کو نہیں جانتی جتنا وہ اسے جانتا ہے اس نے آغاجان کے آگے اس کی محرومیوں کا ذکر کیا تھا وہ اس کی مضبوطی کےلیے اس پہ اتنی سختی کرتا تھا تاکہ اس کے بعد اسے تکلیف نہ ہو ۔۔۔۔جیسے اس کی ماں کو طعنے ملے تھے وہ خود کو بہت مظلوم تصور کرتی تھی لیکن آج اس کی بہت سی ایسی باتیں اس کی آنکھوں میں آنسوؤں لے آئی تھی وہ اُس کی حمایت کےلیے ان کے آگے ڈٹ گیا تھا اس نے تو کبھی نہیں پوچھا تھا کہ وہ کیسا ہے ۔۔۔۔؟ وہ اس کےلیے کیا کیا نہیں کرتا تھا وہ ہر روز جب سوئی ہوتی تو نیند میں بھی اسے نرم و گرم سا لمس محسوس ہوتا تھا۔۔۔وہ کچھ دیر اس کے بارے میں سوچتی رہی اور جب اس کی یاد نے زور پکڑا تو وہ اس کے خفا چہرے کو سوچتی ڈوپٹے کو صیح کرتی اور ٹائم دیکھتی باہر نکلی تھی۔۔۔
تقربیا بارہ تو ہوگئے تھے وہ پہلے روم سے نکلی چیک کیا کہ کوئی جاگ تو نہیں رہا غیرمعمولی خاموشی سے معلوم ہوا کہ سب سو رہے ہیں پھر وہ اس کے روم میں آئی تھی جو کب کا آیا ہوا تھا وہ جانتی تھی کہ وہ سوگیا ہوگا اس نے دروازہ چیک کیا تو وہ کھلا ہوا تھا اسے سکون ہوا اور وہ آہستگی سے چلتی ہوئی روم میں آئی تھی۔۔
وہ صوفے پہ لیٹا بیٹھے بیٹھے سو رہا تھا اس کے خراٹوں کی مدھم آواز اس خاموش اور جامد کمرے میں واضح محسوس ہو رہی تھی ہمیشہ کی طرح وہ کالے رنگ کا دلداہ کالا سوٹ پہنے ہوا تھا۔۔۔۔وہ بالکل آہستگی سے اس کے ساتھ جابیٹھی تھی۔۔
ہلکی ہلکی بلیک ریشمی داڑھی، بند آنکھوں پر سیاہ ہلکے۔۔۔۔ سوتے ہوئے بھی تیکھی ناک پہ چھائی خفگی ، کشادہ پیشانی پہ پڑے بل ۔۔۔۔، گندمی مگر صاف رنگت اور مخصوص سیاہ لباس وہ وجائت دلکشی اور مردانہ دلکشی و کا جاذبیت کا شاندار اور جیتا جاگتا نمونہ لگتا تھا۔۔
وہ ستمگر اسکا محافظ ہی تو تھا جس کی غیرموجودگی میں بھی اسکو نظریں اٹھا کر دیکھ نہیں سکتے تھا وہ اس کے پاس بیٹھی اس کو آنکھوں کے راستے دل میں اتار رہی تھی اور دل میں ایک بات انی کی طرح چبھ رہی تھی کہ اس شخص کو کتنا غلط سمجھا تا آج تہمنیہ بیگم کا انکشاف اس کی روح کو لرزا گیا تھا اسکا سپرمین اپنی اشو کی خاطر خود کو بھول جائیگے گا کتنی آسانی سے اس نے آغا جان کو کہا تھا اس کے مرنے کہ بعد اس کو کو در در جھکنے سے بچا رہا تھا وہ اس کی احتیاط اور سختی کو ظلم سمجھ رہی تھی۔۔
وہ اسے کتنی دیر بیٹھی تک رہی تھی اور یوں ہی دیوانوں کی طرح تکتے تکتے آنکھوں میں نمی کے باعث
اس کا شاندار اوع وجہیہ چہرہ اس کی نگاہوں میں دھندلا گیا تھا وہ بیٹھنے کے انداز میں سینے سے دونوں ہاتھ باندھے سویا ہوا تھا۔
۔
کچھ کہے بغیر وہ جھکی اس کے مردانہ سینڈل اتارنے کے لیے نیچے بیٹھی اس نے اس کے سفید مضبوط پاؤں کو دیکھنے لگی جو بلیک سینڈل میں بہت پیارے لگ رہے تھے وہ کچھ دیکھتی رہی پھر آہستہ سے اسکے پاؤں سے جوتے علحیدہ کیے تھے۔
آنکھوں سے آنسو اس اناؤں کے مشہور ریاست کے حسین بادشاہ کو دیکھتے پھر سے شہنشاہی نزارنہ پیش کرنے لگے تھے اگلے لمحے وہ دل کے ہاتھوں سے مجبور اس کی ٹانگوں کے ساتھ سر ٹکاتے ہچکیوں سے رونے لگی تھی ۔۔
روشنال بخت جو اب گہری نیند میں تھا ٹانگوں پہ نرم سی گرفت محسوس کرکے آنکھیں کھول گیا تھا۔۔
اشو ۔۔۔۔۔وہ ایک دم سے سیدھا ہوتا اسے شانوں سے تھامتے اس کے پاس نیچے زمین پر بیٹھا تھا۔
اس کا سر اٹھا کر اس کی گلابی ڈوروں والی آنکھیں
دیکھتا اس کو اس وقت اپنے روم میں شدت سے روتا دیکھ کر بھونچکا رہ گیا تھا۔۔