تیری ستمگری

post cover

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

قسط: 31

اس کا سر اٹھا کر اس کی گلابی ڈوروں والی آنکھیں
دیکھتا اس کو اس وقت اپنے روم میں شدت سے روتا دیکھ کر بھونچکا رہ گیا تھا
کیا ہوا ہے بتاؤ تو سہی رو کیوں رہی ہو ۔۔۔۔۔؟ اس کی یہ کہنے کی دیر تھی کہ وہ اس کے ہاتھوں پہ سر رکھ کہ پھوٹ پھوٹ کر رونے تھی۔
یار کچھ تو بتاؤ ۔۔۔۔امی نے کچھ کہا تو نہیں ہے ۔۔۔! وہ کتنا پریشان تھا اور کتنا حیران نظر آ رہا تھا ادھر وہ بس روہے جا رہی تھی۔
مجھے معاف کر دیں۔۔۔۔وہ اپنی گھنی ریشمی آنسوؤں زدہ پلکوں کی بار اٹھاتے ہوئے بولی تھی
کس بات کےلیے۔۔۔۔۔روشنال کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ معافی کس بات پہ مانگ رہی ہے وہ پریشان سا ہوا تھا۔
میں نے بہت بدتمیزی کی نہ آپ سے۔۔۔! آپ کو میری وجہ سے تھپڑ پڑا تھا اس لیے آپ ناراض ہو کہ گئے تھی یہ کہہ کر پھر اس سے اس کے رونے میں شدت آگئی تھی.
ہائے اللہ میں کس دیوار پہ سر ماروں یعنی یہ لڑکی صرف میرے تھپڑ کی وجہ سے روتی رہی ہے ۔۔۔۔روشنال نے اسکی بات سن گہری سانس لی تھی اور دل ہی دل میں اسکی معصومیت پہ حیران تھا۔
اچھا ادھر بیٹھو۔۔۔۔وہ اسے شانوں سے تھامتا صوفے پر بیٹھا گیا تھا۔۔
یعنی میری اس جھلی سی بیوی اتنی چھوٹی سی بات پہ اتنا سیلاب بہا رہی ہے اور تھپڑ تو مجھے پڑا ہے پھر میری جھلی کیوں اتنی رو رہی ہے۔۔۔! وہ اس کے چہرے سے اسکے ہاتھوں کو اٹھاتا ہوا بھاری لہجے میں بولا تھا
مسئلہ ہی یہ ہے کہ تھپڑ آپ کو پڑا ہے لیکن درد مجھے ہوا ہے۔۔۔وہ یہ کہہ کر اسے لاجواب کرگئی تھی۔۔
لیکن یہ تھپڑ بھی تو ادلے کا بدلے تھا مسز روشنال ۔۔۔۔! آپ کو خوش ہونا چاہیے تھے کہ آپ کے تپھڑ کے بدلے میں مجھے تھپڑ پڑا تھا ۔۔۔
لیکن جس طرح سے آپ گھر سے گئے تھے غصے سے مجھے لگا کہ آپ مجھ سے ناراض ہوکہ گئے ہیں۔۔
نہیں میری زوجم ۔۔۔۔۔ میں بھی تو آپکے ساتھ غلط کر جاتا ہوں اسکا تو آپ حساب بھی نہیں لیتی ۔۔۔۔!
آپ سچ میں ناراض نہیں ہیں۔۔۔۔وہ آنکھوں کو اٹھاتے تحیر سے پوچھنے لگی تھی۔۔
اور میری اس چھوٹی سی جان نے ایسا کونسا کام کیا ہے کہ میں ناراض ہوجاؤں گا اور مجھے لگتا ہے کہ میری چھوٹی سی جان مجھ سے خفا ہوگی ۔۔۔وہ اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتا نرمی سے پوچھنے لگا۔ ۔
وہ تو میں آپ سے ہوں ۔۔۔! وہ اسکو اتنے نرم لہجے میں دیکھ کر لاڈ سے بولی تھی۔۔!
اچھا اتنا دنوں سے ظا لم بن کر جو بدلے لے رہی ہو میری جان اسکا کیا۔۔۔۔! وہ اسکو کیوٹ کیوٹ سے منہ بناتے دیکھ کر تھوڑا سا قریب ہوا تھا…
آپ نے مجھے تھپڑ بہت زور سے اور سب کے سامنے مارا تھا۔۔ اس نے کہا تو ضبط سے تھا لیکن روشنال نے اس کی آنکھوں میں ہلکی ہلکی نمی محسوس کی تھی۔
پھر پیار بھی تو ایسے ہی کیا تھا نہ۔۔۔۔! روشنال نے اس کے ہاتھوں میں اپنے ہاتھوں میں لے کر پوچھا تھا۔
اشنال اس کی بے باک جسارت پہ گبھرا گئی تھی لیکن پھر بھی لہجے کو مشکل سے نارمل کیا تھا۔
لیکن بڑی امی کہتی ہیں کہ منہ پہ تھپڑ مارنے اس بندے کی ساری نیکیاں اس کی طرف چلی جاتی ہیں جس معصوم کو تھپڑ پڑتا ہے۔۔۔! اس نے معصومیت سے بڑی امی کا حوالہ لیا تھا۔
اچھا پھر ٹھیک ہےمیں نے تو گناہ گار سا بندہ ہوں میری نیکیاں کہاں ہوں گی۔۔۔۔؟ وہ اس کی بات پہ اطمنیان کرتا اس کو سکڑے بیٹھا خود ایزی ہوکر لیٹ گیا تھا۔
استغفراللہ ۔۔۔۔ ! ایسا نہیں کہتے ۔۔۔۔! لیکن آپکا ریلائز ہونا چاہیے کہ آپ نے مجھے تھپڑ سختی سے مارا تھا ۔۔
اور اس کی یہ بات سیدھی روشنال بخت کے دل میں لگی تھی وہ جو دو دن سے اسے مار کر بےچین تھا اس کے لفظوں سے جیسے گہری کھائی میں گرا تھا۔۔
اچھا ایک کام کرو جتنا تمھیں زور سے تھپڑ مارا تھا نا اسے دوگناہ زور سے مجھے مارو ۔۔۔۔! وہ لیٹے لیٹے بازوں سے پکڑے اپنے پاس کرگیا تھا۔۔۔
نہیں آپ مجھ سے بڑے ہیں مم۔۔۔میں ایسا نہیں ۔۔۔کرسکتی۔۔۔! وہ اس کے گرفت میں گبھرائی تھی۔
نہیں اشنال آج میں کھلے دل سے اجازت دے رہا ہوں ایک زور کا تھپڑ مجھے مارو جس طرح میں نے تمھیں مارا تھا۔۔اور بھی کوئی ایسی سزا تجویز کرو جسے تمھارے روح اور وجود کے زخم مت جائیں ۔۔! وہ گہری یاسیت سے کہنے لگا تھا۔۔
چھ۔۔۔چھوڑیں۔۔۔مم۔۔۔میں نے جانا ہے ۔۔۔۔! وہ اس کے گہرے دلگیر لہجے اور ایک دم سے اسکی آنکھوں میں چمکتی نمکی کو دیکھ کر ہکلائی تھی وہ ہر روپ میں اسے زیر کرنے کا فن رکھتا تھا لیکن وہ اسے اس حال میں ہی نہیں دیکھ پا رہی تھا وہ جو نظریں جھکائے بیٹھی تھی اس کی طر دیکھا تو پتھر کی ہوکہ رہ گئی تھی اس شخص کی آنکھوں میں آنسوؤں تواتر سے بہہ رہے تھے۔
وہ اندازہ نہیں کر پائی تھی کہ وہ شخص اپنے ہی دئیے گئے زخموں پر رو رہا ہے ۔۔۔
کیا ہوا ہے سپرمین آپ رو کیوں رہے ہیں ۔۔۔۔۔؟ وہ اس کے قریب ہوئی تھی …
کچھ نہیں ہوا مجھے جو کہہ رہا ہوں وہ کرو۔۔۔۔۔جس طرح تمھیں زور کا لگا تھا اتنی شدت سے مارو ۔۔۔! جس دن سے تمھیں مارا ہے اس دن سے اس سنگدل کو چین نہیں مل رہا ۔۔۔۔۔! سکون ڈھونڈ رہا ہوں میں مجھے سکون نہیں ملتا کیونکہ تمھاری آنسوؤں سے نکلے آنسوؤں نے مجھے بہت سخت قسم کی بد دعا دی ہے ۔۔۔۔۔میں ایسی راہ ڈھونڈ رہا ہوں جس راہ سے کوئی مداوا ہوجائے۔۔!
ہری اپ اشنال جلدی کرو۔ ۔۔۔۔! وہ اتنا تیز بولا تھا کہ اشنال کانپ کہ رہ گئی تھی۔۔۔۔
نہیں سپرمین نہیں ۔۔۔۔! پلیز نہیں وہ روہانسی ہوئی تھی ۔۔
اشنال میں جو کہہ رہا ہو وہ کرو ۔۔۔۔۔۔وہ اب کی بار پہلے سے کافی اونچے لہجے میں بولا تھا۔۔
اشنال نے اس کے آنسوؤں اپنے ہاتھوں سے صاف کیے تھے
ن۔۔۔نہیں۔۔۔۔نہیں ۔۔۔وہ یہ کہتے جھک کر اس کے گال پہ لب رکھ گئی تھی اور پھر اس کے گال کے ساتھ گال ٹکا لیا تھا۔۔
روشنال ساکت رہ گیا تھا وہ اب اس کے اوپر پڑی اس کے گال ساتھ گال ٹکائے اس کے قمیض کے کالر کو تھامے لمبی لمبی سانس لے رہی تھی۔۔
اس بار بڑی امی نے نہیں کہا کہ اس طرح پیار کرنے سے بھی ساری نیکیاں پیار کرنے والے شخص کو چلی جاتی ہے۔۔۔
وہ جو خود کو چھپا رہی تھی اس کی شوخ گمھیبر آواز سنتی اس نے جلدی سے اٹھنا چاہا تھا اس کی سانسیں اتھل پتھل ہو رہی تھی وہ خود کو سنھبال نہیں پا رہی تھی۔
آپ میرے ساتھ ایک گیم کھلیں گے ۔۔۔۔۔؟ وہ اٹھتی بات بدلتی ہوئی بولی تھی۔
یہ کیا بچپنا ہے ۔۔۔۔اس عمر میں گمیز کھیلتا اچھا لگوں گا کیا۔۔۔۔۔؟وہ اس کی اچانک فرمائش پہ حیران ہوا تھا۔
ایج سے کیا ہوتا ہے ۔۔۔۔! آپ میری خاطر کھیل لیں نا۔۔۔!
اچھا۔۔۔۔کونسی وہ اسے مایوس کرنا چاہتا تھا لیکن اس کی خاطر بولا تھا کیونکہ اب وہ اس کی ناراضگی افورڈ نہیں کر سکتا تھا۔۔
ٹروتھ اینڈ ڈیر ۔۔۔۔اس نے گیم بتائی تھی اور اسکی پاکٹ سے پنسل نکال لی تھی ۔۔۔! میں آپ سے محبت کرتی ہوں اس نے اپنی ہتھیلی پر لکھ کے اسے دکھایا تھا ۔۔۔۔وہ جیسے اپنا آپ منوانے آئی تھی۔
اور آپ مجھ سے۔۔۔۔۔؟ وہ اس کے ہاتھ میں پنسل دیتے پوچھنے لگی تھی
زوجم محبت لکھی نہیں جاتی محسوس کی جاتی ہے بالکل خاموش دھڑکتے دلوں کی طرح۔۔۔! وہ انا کا مارا شخص جیسے آج بھی محبت کو قبول نہیں کر پا رہا تھا۔
کیا میں آپ کو اچھی بھی نہیں لگتی ۔۔۔۔۔! اس نے نظریں اٹھائیں تو اسکو گھورتے ہوئے پایا تھا وہ اس شخص کو سچ میں سمجھ نہیں پائی تھی ایک دم سے گبھرا گئی تھی۔۔
مطلب میرا اور آپکا گزارہ زندگی بھر ہو جائے گا نا۔۔۔ وہ گڑبڑاتے بات کو سنھبال گئی تھی۔
کیا عملی ثبوت چاہیے میری محبت کا زوجم۔۔۔۔! روشنال کے ہونٹوں پر بڑی خوبصورت مسکراہٹ آئی تھی ۔۔
پھر بھی۔۔۔۔۔وہ پھر سے بضد ہوئی تھی آج تو وہ اسے اظہار محبت منوانے آئی تھی۔۔
تم نہیں جانتی مگر زوجم ۔۔۔۔میں اپنے سے جڑے ہر رشتے سے بے انتہا محبت کرتا ہوں اور اس محبت میں ” اشنال بخت “
پہلی صف میں کھڑی ہے ۔۔۔!
اب خوش ہیں میری زوجم۔۔۔۔!
اشنال بخت میری چلتی ڈھڑکنوں کےلیے بہت ضروری ہے وہ یہ کہتا اٹھ کر اسے اپنے ساتھ لگا چکا تھا۔۔
وہ آج اسے واقعی خوش کرچکا تھا اس نے آج اپنی سوچ سے بڑھ کر روشنال بخت کو خوبصورت پایا تھا اس کے ہاتھوں کی تپش اور نگاہوں سے بچ پانا اشنال بخت کو بہت مشکل لگا تھا ۔۔اس کی گالوں پہ لالی بکھر گئی تھی آج وہ اسے اور زیادہ عزیز ہوگیا تھا کیونکہ اس نے اس شخص سے اپنا آپ جو منوا لیا تھا ۔۔۔جو اپنے آگے کسی کی نہیں مانتا تھا۔وہ شخص اس کے آگے جھک گیا تھا جو اپنے رب کے علاوہ کسی کے آگے نہیں جھکتا تھا۔
❤❤ابیہا علی شاہ ❤❤
منال فجر کی نماز پڑھ کر اپنے رب کا شکر ادا کر رہی تھی
کیوں جو گڈ نیوز اسے اللہ نے دی تھی وہ بہت بڑی تھی وہ آج ماں کے رتبے پہ فیض ہونے والی تھی جیسے ڈاکٹر نے اسے گڈ نیوز دی تھی وہ روئی بھی بہت اور خوش بھی بہت تھی کیونکہ اولاد ہوتی تو رب کی طرف سے رحمت ہے لیکن اگر اس کی پرورش میں ذرا بھی کمی ہو جائے تو وہ زحمت لگنے لگتی ہے۔۔۔۔ !
وہ اس لیے سوچ رہی تھی کہ اگر اس سے ذرا خطا ہوگئی تو کیا اسکی اولاد اسکی طرح محرومی والی زندگی گزارے گی۔۔۔! لیکن اس نے سوچ لیا تھا کہ وہ اپنے آنے والے نسل کی اچھائی خود کو قربان کر دے گی لیکن ان کو اچھا مستقبل دے گی ۔۔وہ دعا مانگتی جائے نماز کو تہہ کرتی اٹھ کھڑی ہوئی تھی
اس نے ڈوپٹہ اتار کہ گلے میں ڈالا ۔۔۔۔! ڈریسنگ ٹیبل کے پاس کھڑے ہوکر خود کو دیکھا تھا وہ حسنال کے دلائے گئے ریڈ کلر کے فراق میں بہت پیاری لگ رہی تھی ساتھ میں میچنگ چوڑیاں بھی اس کے حسن میں اضافہ کر رہی تھیں۔ ہاتھوں پہ مہندی حسنال نے خود لگوائی تھی مہندی سے اس کے ہاتھوں پر منال حسنال بخت لکھا ہوا تھا جو کہ حسنال نے خود لکھا تھا اسے حسنال بے ساختہ پیار آیا تھا۔
اس نے پہلے بال سنوارے پھر ہلکا ہلکا میک اپ کیا ، لپ اسٹک ہونٹوں پہ لگائی اور کاجل کی دھاری آنکھوں میں لگا کہ خود پہ ایک بھرپور نظر ڈال کے وہ بیڈ کی طرف آئی تھی جہاں بہت سکون سے وہ مہرباں شخص سو رہا تھا۔۔
حسنال۔۔۔۔۔حسنال۔۔۔اس نے قریب بیٹھ کر اس کی بالوں پہ ہاتھ رکھ کہ ہلکے سے پکارا تھا۔۔
جی۔۔۔۔وہ اس کے ہاتھوں کو پکڑ کر آنکھیں بند کرکے محض اتنا ہی بولا تھا۔۔
اٹھو نہ تم لیٹ ہو جاؤ گے گیارہ تو بج گئے ہیں ۔۔۔منال نے جان بوجھ کر جھوٹ بولا تھا تاکہ وہ جلدی اٹھ جائیں ۔۔۔اور واقعی اس کا جھوٹ رنگ لایا تھا وہ جلدی سے اٹھ کہ بیٹھ گیا تھا۔۔
کیا۔۔۔۔کیا۔۔۔وہ آنکھیں کھولتا شاک ہوا تھا مگر منال کو زور زور سے ہنستا دیکھ کر اسکی کارکردگی سمجھ میں آئی تھی ..
میری قربت میں رہ کہ بہت چالاک ہوتی جا رہی ہیں آپ۔۔۔۔! وہ اسے جھٹ سے اپنے حصار میں لےگیا تھا۔
ہاں تو اور کیا ایسے تو تم نے اٹھنا ہی نہیں تھا۔۔۔! وہ پرسکون سی اس کے سینے پر سر ٹکا کر خوشی سے کہنے لگی تھی…
تھینک یو ۔۔۔مجھے اتنا بڑا گفٹ دینے کےلیے۔۔۔۔! مجھے اتنے معتبر رتبے پہ فائز کرنے کےلیے۔۔۔۔ہر اس چیز کےلیے جس کےلیے جو میرے لیے خوشی کا بحث بنا آپ نہیں جانتی کہ آپ نے مجھے کتنا خوش کیا ہے میری زندگی کو مکمل کر دیا ہے آپ نے۔۔۔۔! وہ اس کی پیشانی پہ پیار کرتا نرم سا بولا تھا۔۔۔!
Do everthing with a good hearted and expect nothing in return and you will never disoppionted….
اس نے یہ لائن انگلش میں کہی تھی پتہ ہے منال میں آپکے ساتھ کچھ برا نہیں کرپایا ۔۔۔رشتوں میں انائیں نہیں چلتی ۔۔۔ میں رشتوں کو ایمانداری سے نبھانے کا عادی ہوں آپکو معاف کیا تو اب میں خود بھی پرسکون رہتا ہوں
اور اللہ نے اس خوبصورت دل کے بدلے اتنا پیارا تحفہ بھی دیا ہے مجھے ۔۔۔۔! وہ اس کے کانوں میں رس گھول رہا تھا۔۔
(In love or always be …honest💞)
محبت میں ہمیشہ ایماندار رہیں ۔۔۔!
اور مجھے اس رشتے میں ایمانداری چاہیے ۔۔۔۔! وہ اسے بتا بھی رہا تھا اور جتلا بھی رہا تھا۔۔
اچھا ادھر آئیں تھوڑی دیر میرے ساتھ لیٹیں خود کو مجھے محسوس کرنے دیں ۔۔۔۔! وہ اس کو کھینچ کہ اپنے اوپر لٹا چکا تھا۔۔۔!
حسنال پلیز۔۔۔۔۔کچھ دیر بعد اسکے ہونٹ اپنی گردن پہ محسوس وہ گبھرا کہ رہ گئی تھی ۔۔
خاموش سو جائیں ۔۔۔۔! اب آپ کی آواز نہیں آنی چاہیے نہیں تو میں اپنے طریقے سے بند کرواؤں وہ اسے خود میں سمیٹے بند بولا ۔۔۔۔
اس کی بات سنتی منال نے جھٹ سے آنکھیں بند کیں تھیں۔
💜💜ابیہا علی شاہ💜💜
شکر ہے تم تیار ہو۔۔۔میں ویسے ہی پریشان تھی ہر چیز میں بازار سے منگوالیتی ہوں تم بس چائے بنالو۔۔۔۔!
منال حسنال کو بھیج کر پرسکون سی بیٹھی اس ہی کو سوچ رہی تھی جب ثمینہ بیگم اندر آئیں تھیں۔۔۔
کو۔۔۔کون آ رہا ہے ۔۔۔اس نے سمجھا اشنال اور روشنال لوگ آرہے ہیں لیکن ماں کی چہرے پر خوشی دیکھ کر اسے گڑبڑ لگی تھی تبھی پوچھے بغیر نہ رہ سکی تھی۔۔
ثمن اور اسکا بیٹا تمھیں دیکھنے ۔۔۔۔۔وہ لاپروائی سے بولی تھیں جیسے وہ تیار بیٹھی ہو۔۔!
امی ۔۔۔۔وہ بے یقینی سے اتنا ہی کہہ سکی آنکھیں حیرت سے پھٹ گئی تھیں وہ اٹھ کہ کھڑی ہوگئی تھی۔۔
بس اب تمھاری نوٹنکی شروع ہوئی نہ تو تم میری فطرت جانتی ہو۔۔۔۔انہوں نے اسے دھمکایا تھا۔۔
بس بہت ہوگیا امی۔۔۔۔ آپ بےشک ان کو گھر میں بلا لیں لیکن میں ابھی حسنال کو کال کرتی ہوں ۔۔۔۔! یہ کہتے اس نے فون کی تلاش میں نگاہیں ڈورائیں اور فون اٹھالیا تھا ۔۔۔
منال۔۔۔۔۔ثمینہ بیگم اسکو آگے بڑھتا دیکھ کر غصے سے آگے بڑھی تھیں اور اس کے ہاتھ سے فون لے کر دیوار پر زور سے مارا تھا منال حیرت سے جہاں کھڑی وہیں کھڑی رہ گئی تھی وہ کمرے کے بیچ و بیچ دوٹکڑے ہوتے فون کو دیکھتے پریشان ہوگئی تھی۔۔
میں جو کہہ رہی ہوں خاموشی سے مان لو۔۔۔۔اس رشتے میں تمھارا فائدہ ہو نا میرا بہت ہی فائدہ ہے انہوں نے اسکی کلائی مڑوڑ کر کہا تھا۔۔
میں بتاؤں گی حسنال کو آپ بے شک جو کچھ کر لیں۔۔۔۔ منال کی درد سے چیخیں نکلیں تھیں لیکن اس نے ہمت نہیں ہاری تھی ۔
یہ مت سمجھنا کہ تم میری کمزوری ہو تو میں تمھارے آگے نرم پڑ جاؤں گی جو عورت دولت کےلیے انی جوانی تباہ کر سکتی ہے اپنے سہاگ کو مار سکتی ہے اپنی سوکن کو مار سکتی ہے ۔۔۔۔وہ سوچو کچھ بھی کر سکتی ہے۔۔۔
سوچو میں کتنی زہریلی ہوسکتی ہوں۔۔۔۔آج دس سال بعد کا راز انہوں نے اس پہ آشکار کیا تھا۔۔۔!
تو پھر سوچ لو جو عورت دولت کےلیے اپنے سہاگ کو مار سکتی ہے تو کیا وہ اپنی بیٹی کے سہاگ کو زندہ چھوڑ سکتی ہے ۔۔۔۔۔؟ ان کا انداز بہت ہی خطرناک تھا۔
ا۔۔۔۔۔ام۔۔۔۔امی یہ ۔۔۔۔یہ سب۔۔۔۔کچچ ۔۔۔۔۔کچھ آ۔۔۔آپ نے کیا ہے نہ ۔۔۔۔۔بابا ۔۔۔کو آپ۔۔۔۔نے۔۔۔م۔ممار دیا ۔۔۔! اتنا بڑا تلخ سچ سن کر اسکا لہجہ بالکل ٹوٹ گیا تھا ماں کے زور سے پکڑنے سے چوڑیاں ٹوٹ چکی تھی ۔۔۔کلائیوں میں سے خو*ن آر رہا تھا ۔۔۔
اسے آج اس چوٹ کی تکلیف نہیں ہو رہی تھی جتنی ماں کا بھیانک روپ کھلنے پہ درد ہو رہا تھا۔۔۔۔آنکھوں سے آنسوؤں کے ساتھ کاجل بھی بہہ رہا تھا ۔۔۔۔
آج وہ کھل کر رونا چاہتی تھی لیکن اسے آنسوؤں نہیں آ رہے تھے۔۔۔!
Instagram
Copy link
URL has been copied successfully!

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

کتابیں جو آپ کے دل کو چھوئیں گی

Avatar
Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial