قسط: 33
ان کو بخت ولا آئے دو دن ہوگئے تھے سب کچھ سکون سے تھا اشنال اب بہت بہتر ہو رہی تھی اس کی وجہ روشنال کی دی گئی توجہ اور پیار محبت تھا۔
روشنال جب آفس جاتا تو پیچھے سے ماں کو سختی سے اشنال کا خیال رلھنے کی تنقید کر کے جاتا تھا اور واپسی پہ بھی وہ سائے کی مانند اشنال کے ساتھ رہتا تھا کیونکہ اسے اب اپنی خالہ پر بالکل بھی بھروسہ نہیں تھا وہ جب آتا تھا تو ایک پل بھی اسے اپنی نظروں سے اوجھل نہیں ہونے دیتا تھا آج ہی وہ ماں سے اشنال کا کہہ کر گیا تھا ثمینہ بیگم تو اشنال کو اتنا نکھرا ہر وقت موقعے کی تاک میں رہتی تھیں لیکن اُن کو موقع مل نہیں رہا تھا دوسری طرف جلن سے ان کا برا حال تھا انھیں کوئی دُکھ کوئی پچھتاوا نہیں تھا کہ انھوں نے اپنی بیٹی کی زندگی میں زہر گھول دیا تھا حوس اور لالچ نے ان کی آنکھوں میں پٹی تو بہت پہلے ہی باندھ دی تھی لیکن وہ مزید اندھے کنویں میں جارہی تھی جہاں دھوکے اور پچھتاوے کے علاوہ کچھ بھی نہیں تھا ۔۔
اشنال سے ان کے حسد کا جزبہ چھوٹے ہوتے وقت سے تھا مگر وہ جس طرح سب کی زندگیاں خراب کر رہی تھی انھیں نہیں پتہ تھا کہ ایک وقت ان پہ ایسا آئے گا جب دکھ اور پچھتاوے کے علاوہ ان کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا وہ منال پہ بھی پکی نظریں رکھتی تھیں کہ کہیں دونوں بہنیں آپس میں پھر سے ٹھیک نہ ہو جائیں کہیں ان کے خون کی کشش دونوں کو آپس میں کھینچتی ہوئی نہ لے جائے ۔۔۔اور منال کو تو وہ روم سے باہر نکالنے کو تیار نہیں تھیں وہ اپنے جرم کا پتہ بھی لگانے دینا چاہتی تھی
کیونکہ انھیں بیٹی کا بالکل بھروسہ تھا بقول اُن کے وہ ڈرتی کسی سے نہیں تھی لیکن اپنی حقیقت کھلنے کا ڈر ان کو بھی تھا اس لیے وہ منال کو نیند کی گولیاں دے رہی تھیں بغیر یہ سوچے کہ اس بچاری کا کتنا متاثر رہا ہے ان کی اس نیچ حرکت کی وجہ سے۔۔۔۔ان کی دوست کا بیٹا جس دن رشتے دیکھنے آئے تھے اس دن منال کو حسنال کمرے میں لے کہ گیا پھر پانپ بعد غصے سے کوئی ڈاکومنٹس اٹھا کہ چلا گیا اس کے بعد وہ واپس نہیں آیا تھا اس لیے ثمینہ بیگم کو اس کی طرف سے کوئی ٹنشن نہیں تھی ۔۔۔
ویسے تو اشنال دو دن سے رات کو نیچے ہی سوتی تھی لیکن وہ اس کو صرف ڈرا دھمکا کہ شہر والے بنگلہ جو کبیر صاحب کے نام تھا اس کے بعد وارثت میں اشنال کو ملا تھا وہ اپنے نام کرانا چاہتی تھیں لیکن وہ مناسب موقع کی تلاش میں تھیں کیونکہ وہ گھر ان کو کھٹک رہا تھا اور اوپر سے آغا جان کی زبان پہ دو دنوں سے اشنال بخت کا ذکر دیکھ کر ان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ جادو کی چھڑی سے اشنال کو غائب کر دیں
لیکن کم ازکم ابھی یہ ان کے بس میں نہیں تھا لیکن ایک بات ان کو کھٹک رہی تھی کہ اشنال اتنی خوش ہونے کے باوجود بھی اپنے پہلے کمرے میں کیوں سوتی تھی۔۔۔۔!
۞۞۞۞
روشنال بچے کھانا کھالو۔۔۔۔۔پھر کام کرتے رہنا۔۔۔! وہ لاونج میں لیپ ٹاپ پہ کام کر رہا تھا وہ جب سے آفس سے آیا تھا مصروف مصروف سا کام کر رہا تھا ثمینہ بیگم نے اسے بہت دیر سے کام کرتے دیکھ کر پکارا تھا۔
جی امی بس دومنٹ آر رہا ہوں ۔۔۔۔! لیکن پہلے یہ تو بتائیں اشو کہاں نظر آ رہی ۔۔۔! اس نے اشنال کا بہت فکرمندی سے پوچھا تھا۔
ابھی تو ادھر ہی میرے ساتھ کھانا رہی تھی دیکھو آغا جان کے کمرے میں نہ چلی گئی ہو۔۔۔! وہ کچن کی طرف جاتی مصروف سے انداز میں کہنے لگیں۔۔۔!
اچھا میں اشو کو دیکھ لوں گا آپ پہلے یہ بتائیں حسنال ایسے ہی دیر سے گھر آتا تھا۔۔۔۔مطلب یہ کہ ہم دو دن سے گھر آئے ہوئے ہیں وہ بالکل بھی گھر نہیں آیا اور نہ نظر آرہا ہے۔۔۔۔۔وہ ان کے پیچھے کچن میں گیا اور پانی نکال کہ ماں سے بھائی کا پوچھا تھا۔۔۔
پہلے بھی ایسے ہی آتا تھا کبھی دو دن بعد ، کبھی تین دن بعد ۔۔۔۔یا پھر رات کو دیر سے ہی آتا تھا لیکن چکر لگاتا رہتا تھا میں خود اس لڑکے کی حرکتوں سخت نالاں ہوں ۔۔! جینا حرام کر رکھا ہے اس لڑکے نے ہمارا۔۔۔وہ بات کرتے کرتے سخت برہم ہو رہی تھیں ۔۔۔۔!
اچھا امی کیوں پریشان ہوتی ہے بچہ تھوڑی ہے جتنا وہ ناسمجھ نظر آتا ہے اتنا وہ ہے نہیں وہ بہت سمجھدار ہے ۔۔۔۔اپنے اچھا برا وہ بہتر جانتا ہے ۔۔۔وہ اب کندھوں سے تھاما یہ کہتا پرسکون کر رہا تھا۔۔
میں تو ماں ہوں نا میرے لیے وہ معصوم بچہ ہے وہ جتنا بھی سمجھ دار ہوجائے میرے لیے وہ ناسمجھ ہی ہے۔۔۔!
وہ اپنا دھیان نہیں رکھتا ۔۔۔اپنی پرواہ نہیں کرتا ۔۔۔رسکی وہ ایک نمبر کا ہے۔۔۔۔! وہ سخت برہم نظر آر رہی تھیں۔۔!
اچھا امی چھوڑیں یہ بتائیں منال اور خالہ نظر نہیں آرہی میرا مطلب ہے وہ ٹیبل پہ نہ تو ہمارے ساتھ کھانا کھاتی ہیں اور نہ بات کرتی آپ سے نظر آتی ہیں کوئی بات ہوئی ہے گھر میں اتنا روکھے سب میں آپس میں کیوں ہے۔۔۔؟ اول تو خالہ نیچے آتی ہی نہیں مگر جب وہ مجھے نظر بھی آتی ہیں ہر وقت ان کی آنکھوں میں غصہ ہی رہتا ہے۔۔
وہ ماں سے بات کھل کر نہیں کہہ پا رہا تھا لیکن وہ دو دن سے سب کے روکھے لہجے نوٹ کر رہا تھا ۔۔اس لیے وہ ماں کے سامنے دل کی بات زبان پہ لے آیا تھا۔۔۔
مجھے نہیں پتہ ۔۔۔میری بہن ہے مجھ سے بھی بات نہیں کرتی وہ مجھے ایسے سمجھتی ہے جیسے میں اس کی دشمن ہوں ۔۔۔اور منال کا مجھے خود نہیں پتہ اسے احساس کراونے کی کوشش میں کچھ زیادہ ہی تلخ ہوگئی تھی اس کے ساتھ ۔۔۔کہ وہ سدھر جائے۔۔۔اور وہ سدھر بھی گئی ہے ۔۔۔لیکن دو دن سے میں نے خود اسے دیکھا ہی نہیں ہے۔۔۔
تہمینہ بیگم کاونٹر سے چیزیں اٹھاتی بولی تھی جبکہ روشنال پیچھے کرسی پہ بیٹھا ان کی باتیں سن رہا تھا۔
کیا مطلب کونسا احساس کروایا ہے آپ نے۔۔۔۔! وہ الجھتا ہوا معاملے کو سمجھنے کی کوشش کرتا بولا تھا۔
کوئی نہیں اتنی بڑی بات۔۔۔تم اشنال کو جاکہ کے دیکھو ۔۔۔۔وہ ہماری کوئی اپنی بات تھی وہ اس کے چہرے کو الجھتا دیکھ کر بات کو ٹال گئیں تھیں اگر وہ خوشخبری سن لیتں تو ان کے پاؤں تو زمین پہ ہی نہ ٹکتے تھے ۔۔۔!
جبکہ وہ بھی مزید کیے بغیر اپنے روم میں چلا گیا تھا۔
۞۞۞۞
آغا جان ۔۔۔۔آپی نظر نہیں آتی مجھے ۔۔۔۔؟ وہ تو روم سے باہر ہی نہیں نکلتی وہ ان کے پاس بیڈ پہ بیٹھتی کب سے باتیں تھیں۔۔
ہوگی اپنے کمرے میں ۔۔۔۔لیکن آپ اسے دور ہی رہو تو اچھا ہے میری بچی۔۔۔ ! وہ فکرمند سے ثمینہ بیگم کی فطرت کو بھانپتے ہوئے کہنے لگے تھے۔۔
لیکن کیوں آغا جان۔۔۔آپ ایسا کیوں کہہ رہے ہیں آپ تو آپی سے محبت کرتے ہیں پھر آپ مجھے ان سے دور رہنے کا کیوں کہہ رہے ہیں۔۔ وہ الجھ کر رہ گئی تھیں
اس لیے تو کہہ رہا ہوں ۔۔۔۔اس کی ماں کو تم دونوں اکھٹی بیٹھی بھی نظر آگئی نہ ۔۔۔! تو وہ تمھارے ساتھ کچھ کر ڈالے گی۔۔۔۔وہ اسے بہلا تو رہے تھے لیکن وہ خود بہت پریشان تھے کیونکہ منال جو ہر روز ان کو دوائی دے کر جاتی ان سے اپنے دل کا حال بیان کرتی ۔۔۔۔ان کی سنتی لیکن وہ دوسرا دن اس کو دیکھ نہیں پارہے تھے وہ اس کے کمرے میں جانے کا سوچ ہی رہے تھے جب روشنال ان کے کمرے میں آیا تھا۔۔
آغا جان السلام علیکم ۔۔۔روشنال نے پہلے ان کے کمرے میں ڈور کو پش کرکے اجازت چاہی تھی اورپھر ان کو سلام کیا تھا۔۔۔
وعلیکم سلام ۔۔۔۔دونوں دادا پوتی نے اکھٹے کہا تھا وہ جھک کر آغاجان کو ملنے کی کوشش میں وہ اشنال کے قریب آگیا تھا۔
اچھا جی دونوں دادا پوتی کے درمیان کیا راز و نیاز ہو رہے تھے روشنال نے آغا جان سے کچھ فیصلے پہ بیٹھی اشنال پر بھرپور نگاہ ڈالتے ہوئے کہا تھا اور ان سے جھک کر ملنے لگا۔۔۔
اس کو اپنے قریب اور اسکی مردانہ وجائت دیکھ کر روشنال کی سانس مٹھی میں آگئی تھی کلون کی مہک اسے اپنے حواسوں میں چھائی ہوئی محسوس ہوئی تھی اس نے اٹھنا چاہا جب روشنال پیچھے ہوگیا تھا اس نے سکون کی سانس لی تھی وہ اچھی خاصی پیچھے تقریبا بیڈ کے کونے پہ جاٹکی تھی تاکہ روشنال بیٹھ سکے۔۔۔۔۔!
روشنال اس کا ججھکنا اور شرمانہ محسوس کررہا تھا اس کے گال بہت زیادہ ریڈ ہو رہے تھے وہ نہایت ہی دلچسپی سے اسے دیکھنے لگا تھا۔۔
وہ مجھے بھول گیا تھا امی کہہ رہی ہیں کھانا کھالیں آپ دونوں نیچے آکر ۔۔۔۔وہ ٹیبل لگا رہی ہیں۔۔۔! اس نے تہمینہ بیگم کا پیغام اسے دیا تھا۔۔
نہیں پتر پہلے تو میں نماز ادا کروں گا۔۔۔پھر نیچے آؤں گا تم دونوں جاؤ۔۔۔۔میں بیس منٹ تک آتا ہوں نماز پڑھ کے ۔۔۔میں بعد میں کھالوں گا۔۔۔!ا نہوں نے فلحال انکار کر دیا تھا۔
آغا جان کوئی بات نہیں ہے آپ ۔۔۔میں آپ کو کھانا یہ ہی دے گی۔۔۔۔آپ بے شک نیچے نہ آئے۔۔۔۔! روشنال کچھ جواب دیتا ہی کہ وہ پہلے بول پڑی تھی اسے پتہ تھا آغا جان زیادہ اوپر نیچے آ نہیں سکتے تھے۔۔۔!
یہ کی نہ سمجھ داری والی بات میرا پتر ۔۔۔۔! وہ ہنس کر اشنال کو دیکھ کر کہتے اس کا سر تھپکتے وضو کرنے کےلیے چلے گئے تھے۔۔ جبکہ اشنال جھینپ کر رہ گئی تھی
اگر شرما لیا ہو تو چلیں نیچے۔۔۔۔! وہ جو اپنے ہاتھوں کو دیکھ کر سر جھکا کر شرما رہی تھی وہ اسے دیکھتا ٹوکے بنا نہ رہ سکا تھا ۔۔
اس کی بات سن کر اشنال جلدی سے اٹھنے لگی جب وہ جھک کر اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھ گیا تھا۔
یہ تم رات کو چھپتی کیوں پھرتی ہو مجھ سے۔۔۔۔؟ روشنال نے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر آہستگی سے کہا تھا۔۔۔
جی کیا مطلب۔۔۔۔! وہ ناسمجھی سے اس پہ ایک نظر اسے دیکھتے سہم کر بولی تھی۔۔
مطلب زوجم ۔۔۔اچھی بیویوں کی طرح آج رات روم میں آجانا نہیں تو میں برے شوہروں کی طرح تمھارے روم میں آجاؤں گا۔۔!وہ اسے پچھلے دو دن سے اپنے روم میں سونے کا حوالہ دیتا ہوا بولا تھا وہ انتظار کرتا مگر وہ آتی نہیں وہ جب اس کے کمرے میں جاتا تو اس کا روم لاکڈ ملتا تھا اس لیے وہ آج اسے تنقید کر رہا تھا۔
وہ۔۔۔۔وہ نیچے جانا ہے نا۔۔۔۔پلیز مجھےجانے دیں ۔۔۔وہ اسکا حصار اپنے ارگرد محسوس کرتی گبھرا کر بولی تھی۔۔
اوکے جاؤ۔۔۔۔۔لیکن آج رات ہمارے روم میں نہ آئی تو میں برا پیش ہوں گا۔۔۔میں دو دن سے دیکھ رہا ہوں آپ مجھ سے چپھتی پھر رہی ہے اور مجھ سے برداشت نہیں کہ آپ یوں مجھ سے دور دور رہ کر میرے غضب کو دعوت دیں۔۔۔اس لیے آج آخری دفعہ وارن کر رہا ہوں آج سے میرے روم میں آنا ہے تو آنا ہے۔۔۔۔!
اب جاؤ شاباش۔۔۔وہ اس کو سانس روکے بیٹھے دیکھ کر ہاتھ اس کے کندھے سے ہٹا گیا تھا اس کے ہاتھ ہٹانے کی دیر تھی جب وہ بھاگ کر باہر نکلی تھی کہ وہ پھر سے نہ پکڑ لے۔۔۔۔روشنال اس کی سپیڈ دیکھ کر سر جھٹک کر مسکراتا اس کے پیچھے نکلا تھا۔۔
۞۞۞۞۞
ثمینہ بیگم اپنا اور منال کا کھانا نکال کر اوپر لے جارہی تھیں تہمینہ بیگم ان کو دیکھ کر نفی میں سر جھٹکتی
صرف افسوس کرہی سکی تھی کیونکہ وہ اتنا عجیب منہ بنا کر جارہی تھی ایسے لگتا تھا کہ وہ ان کی بہن نہیں کوئی اجنبی عورت ہوں ۔۔۔۔!
وہ ان کے پاس سے گزرتی اشنال کے پاس کچن میں چلی آئیں تھیں جو سب کو چائے دینے کے بعد برتن دھو رہی تھی۔۔۔
اشنال تم بس کرو ۔۔۔۔میں خود کرلوں گی رات کافی ہوگئی ہے تم سو جاؤ جا کہ۔۔۔۔تہمینہ بیگم نے اسے کافی رات ہوتے دیکھ کر کہا تھا۔۔۔
نہیں بڑی امی کوئی بات نہیں میں کرلیتی ہوں ۔۔۔۔تھوڑا سا ہی رہ گیا آپ آرام کریں ویسے بھی سارا دن آپ نے ہی کام کیا ہے۔۔۔۔آپ تھک گئی ہوں گی آج میں دن میں سورہی ہوں اب مجھے نیند نہیں آرہی اس لیے کام کر رہی ہوں۔۔۔۔!
اس نے انھیں مطمن کیا تھا اس کو ان کی فکر تھی کیونکہ سارا د وہ کام کرتی رہیں تھیں وہ انھیں بھیج کر پھر سے کام کرنے لگ پڑی تھی ۔۔
وہ کام کر ہی رہی تھی جب اسے روشنال کی دھمکی یاد آئی تھی وہ جھرجھری لے کر رہ گئی تھی اس کا انداز بہت سخت تھا اسے ڈر بھی لگا تھا کیونکہ وہ جب چائے بنا رہی تھی اس نے آنکھوں ہی آنکھوں میں اسے کچھ یاد کروایا تھا لیکن وہ جان بوجھ کر انجان بن گئی تھی۔۔لیکن اب پھر سے اس کی دھمکی یاد آئی تو وہ بےچین سے ہوئی مگر پھر وہ ہر سوچ کو جھٹکتی کام کرکے آج ھر اپنے روم میں چلی گئی تھی کیونکہ اسے لگا رات ہوگئج ہوگی اور وہ سوگیا ہوگا وہ اپنے پہلے والے توم میں آئی جو اس کا اپنا روم تھا اسے نہیں پتہ تھا کہ وہ اس کو چھوٹی سی بات سمجھ کر اگنور کر کتنی بڑی غلطی کرچکی تھی ۔۔۔!
وہ اپنے روم میں آئی ہاتھ منہ دھو کہ لوشن وغیرہ لگایا تھا اور نائٹ سوٹ چینج کرکے آکہ احتیاط سے ڈور بند کیا لاک کرنے کی یاد ہی نہیں رہی اسے وہ واپس آتی بک ریک سے کچھ بکس اٹھاتی کاوچ پہ بیٹھ کہ ان میں سے ایک کتاب ہسڑیک انفارمشین منتخب کرکے پڑھنے لگی کیونکہ نیند تو اسے آ نہیں رہی تھی اس لیے ایک ٹوپک پڑھا تو پھردل جمعی سے متوجہ ہوچکی تھی ۔۔
۞۞ابیہا علی شاہ ۞۞
روشنال اس کا اننظار کرتے کرتے تھک گیا تھا اب اس کو شدید قسم کا غصہ آر رہا تھا سو گیارہ بج گئے تھے وہ روم میں نہیں آئی تھی وہ سوچ رہا تھا کہ وہ اس کے ضبط کا امتحان لے رہی ہے اس نے اس کی بات نہیں مانی تھی یعنی اُس کی بات کی کوئی اہمیت نہیں تھی وہ پچھلے ڈیڑھ گھنٹہ سے اس کا ویٹ کرتے کرتے تھک گیا تھا آخر وہ سیلپر پہنتا اٹھ کھڑا ہوا تھا اس سے حساب کتاب کرنے جو کہ جانے انجانے اس کے غصے کو جگا چکی تھی۔۔۔۔۔!
وہ سٹرھیوں سے نیچے اترتا اس کے روم کی طرف آیا تھا جو کہ بند تھا اس نے ناک کیا تھا۔۔
اشنال جو بک پڑھ رہی تھی دستک کی آواز سن کر اس کی سانسیں حلق میں آگئی تھیں وہ آرام سے اترتی دروازے تک پہنچی تھی کہ وہ آہستگی سے لاک کردیں گی وہ سمجھے سو گئی ہے اور واپس چلا جائے گا ۔۔۔وہ بنا چپل کے ایڑھی اٹھاتی بک اٹھائے دروازے کی طرف آئی تھی روشنال کے ناک کرنے میں اب شدت آئی تھی اشنال بہت سہمی ہوئی تھی وہ ہمت کرکے سانس روکے دراوزے تک پہنچی ہی تھی ابھی اس نے دروازے کے ہنیڈل پر ہاتج ہی رکھا کہ دوسری طرف باہر کی جانب سے اس نے زور لگایا کہ اندر کھینچا تھا۔۔
روشنال کے ہنیڈل کو زور سے دبانے سے دروازہ کھل گیا تھا دوسری طرف کھڑی اشنال کے کانپتے ہاتھ سے کتاب زمین پہ گری تھی ۔۔
اشنال کو اپنی سانسیں فنا ہوتی محسوس ہو رہی تھی اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے اُس نے دروازہ کھولا اور اندر داخل ہوا تھا۔۔۔
وہ کانپتی ہوئی دروازے کے پیچھے پردے کے پیچھے پلر کی اوٹ میں چھپی تھی دھڑکینں منتشر، ہاتھ کانپتں ،دل دھڑ دھڑ پسلیوں سے باہر آنے کو بےتاب ہوا تھا۔۔
اشنال۔۔۔۔! اس کی ایک آواز پہ اسے لگا یہ اس کی آخری سانس ہے اس کی نافرمانی پہ لی گئی فقط آخری سانس۔۔۔!
اس کی ہرنی جیسی آنکھوں سے آنسوؤں بھی باہر نکل کر آنے کو بے تاب ہوئے تھے روشنال ویسے تو سمجھ پاتا کہ وہ کہاں لیکن زمین پہ گری کتاب اس کی آس گواہی کی دلیل تھی ۔۔۔
اس کی آنکھوں میں پہلے غصہ تھا غصے سے سردمہری اتنی جلدی آئی کہ اس کی رنگت پہ سرخی چھاگئی تھی وہ زمین سے بک اٹھاتا ۔۔۔۔۔ہلتے ہوئے پلر کو اٹھاتا تو دیکھتا رہ گیا تھا وہ کانپ رہی تھی وہ عجیب سرد مہری سے اسے دیکھنے لگ پڑا تھا غصہ کئی دور جا سویا تھا تو کیا وہ اب بھی اسے ڈرتی ہے۔۔۔۔؟
اشنال اس کے چہرے کے کھدرے تاثرات دیکھتی پلر سے ہٹتی دیوار کو چھوڑتی آہستگی سے پیچھے ہوئی تھی۔۔۔!
ایک کی نگاہ میں گلہ تو دوسرے کی نگاہ میں خوف تھا۔۔
دونوں ہی ایک دوسرے کے سمجھنے سے قاصر تھے ایک کا دل بالکل زیرو کی سپیڈ سے دھڑک رہا تھا۔۔۔
نہ احساس نہ جذبہ ، بالکل جامد احساسات بالکل چہرے کی بے مہر۔۔۔۔جبکہ دوسرے فرد کا دل زوروں کی سپیڈ پہ تھا خوف ، ہراس اپنی نافرمانی کا ڈر ۔۔۔۔۔! وہ ایسے کھڑے تھے جسے ان کا واسطہ ہی نہ ہو۔۔۔۔
آخر اس انا کے مارے شخص کو ہوش آیا تھا اس نے ایک نظر اس سہمی ہرنی پہ ڈالی اور اس کی طرف قدم بڑھایا تھا جو کہ آنکھیں بند اور کانپتے ہونٹوں سے کوئی ورد کر رہی تھی ۔
کیا کہا تھا بولو میں نے ۔۔۔۔! اس نے دھیمی سنجیدہ چل چلتے اس کی طرف قدم بڑھایا تھا۔۔
وہ۔۔۔۔وہ۔۔۔۔مم۔۔۔میں۔۔ اشنال سے کوئی بات نہیں اس کی سرد کی آنکھوں سے ڈرتی وہ منمنا کر رہ گئی تھی وہ اس شخص کو بالکل نہیں سمجھ پا رہی تھی جو پل میں تولہ اور پل میں ماشا تھا۔۔
کیا۔۔۔۔وہ۔۔۔۔وہ لگا کہ رکھی ہے کیا بکواس کر کے گیا تھا میں ۔۔۔۔! میری ویلیو کیا ہے تمھاری نظر میں ۔۔۔! سیدھا جواب چاہیے مجھے اشنال بخت ۔۔۔!
وہ سرد لہجے میں کہتا ایک قدم اس کی طرف بڑھاتا ہوا بولا تھا۔
اشنال کی جان بالکل مٹھی میں آگئی تھی ایک تو بغیر ڈوپٹے کہ اس شخص کے سامنے کھڑا ہونا اسے گناہ لگ رہا تھا دوسرا اس کے اتنے شدید تاثرات کی توقع نہیں تھی۔
وہ سہمی چڑیا کی طرح غیر محسوس میں پیچھے کی طرف ہو رہی تھی وہ پیچھے پیچھے ہوتی جارہی تھی جبکہ روشنال اس کی طرف قدم بڑھا رہا تھا آخر کار وہ صوفے پہ جاگری تھی۔
جواب چاہیے مجھے میرے سوال کا مسز اشنال۔۔۔۔تاثرات سخت ۔۔۔۔ہنوز سرد آنکھیں اس پہ جمی ہوئیں۔۔۔۔وہ اس پہ جھک کہ ہلکی سی غراہٹ میں بولا تھا وہ آیا تو بہت غصے میں تھا مگر اس کے نازک وجود اور من موہنے روپ کو دیکھتا اس کے ارگرد خواب ناک سا طلسم کھینچنے لگا تھا وہ نائٹ سوٹ پہنے ہوئے اس کو اپنے حواسوں میں چھائی ہوئی معلوم ہوئی تھا وہ پہلے کی طرح شبِ خوابی کے لباس میں ملبوس اسے اپنی چھوٹی سی گڑیا لگی تھی جو بنا اجازت کے اس کے روم میں گھس آیا کرتی تھی آج وہ اس لباس میں کمفرٹیبل محسوس کر رہی تھی۔۔
اس کی نگاہوں میں سرد پن کی جگہ اب خماری سی اترنے لگی تھی وہ اس کی ہرنی زدہ آنکھوں میں ڈوب سا گیا تھا وہ بھول گیا تھا کہ وہ اپنی بات کے مسترد ہوجانے کا سوال و جواب کرنے آیا تھا ۔۔
اس کا اتنا عجیب ردِ عمل دیکھ کر اشنال نے منہ کے آگے ہاتھ رکھ لیا تھا اس کی پاس سے کلون اور سیگریٹ کی مخصوص مہک آرہی تھی ۔۔
وہ کانپ رہی تھی مگر اس ستمگر کو کوئی پروا نہیں تھی مگر آج اتنے دنوں بعد وہ پھر سے ظالم بنا ہوا تھا۔۔۔!
مجھے آ۔۔۔۔۔آپ۔۔پ کے روم میں نہیں جانا۔۔۔۔پلیز مج۔۔مجھے چھوڑ دیں۔۔۔! وہ پیچھے کو ہوتی خوف سے بھرپور لہجے میں بولی ۔۔۔۔!
اور کیوں نہیں جانا۔۔۔۔۔! اس کو بری طرح سے ڈرا ہوا دیکھ کر وہ نرمی سے بولا تھا۔
نہیں جانا تو بس جانا۔۔۔وہ اب کی پھر ضدی ہوئی تھی اس کی بات سن کر روشنال کا سارا خمار پل میں اڑن چھو ہوا تھا اس کا جواب اور انکار سنتے آنکھوں میں پہلے سے مزید سختی آگئی تھی ساری بےتابی ۔۔۔۔سارا طسم اس کے ایک انکار سے ٹوٹا تھا ۔
اٹھو ۔۔۔۔۔۔اس کے لہجے میں سختی اور قطعیت دونوں تھی اشنال یہ سن کر وقت کی دیر کیے بغیر اٹھی تھی
چلو۔۔۔۔! وہ پھر سے ایک لفظ کہتے پیچھے ہٹا تھا۔۔اشنال ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگ پڑی تھی۔۔۔
اپنے روم میں چلو مسز اشنال ۔۔۔بہت ہوگیا چھپن چھپائی کا کھیل مگر اب نہیں اب میں اپنے کمرے کے علاوہ کئی جاتا ہوا نہ دیکھوں سمجھ آئی میری بات آئندہ احتیاط رکھنا۔۔۔۔کان کھول کر سن لو اور اپنے اس ننھے سے دماغ میں ذہن نشین کرلو۔۔۔کہ تم نے آئندہ میرے ہی روم میں رہنا ہے۔۔۔۔! اس نے بہت ضبط سے کہا تھا کیونکہ وہ مسلسل اس کا ضبط آزما رہی تھی۔۔
وہ اس کو اسے ایسا ہی کھڑا دیکھ کر بازوں سے پکڑتا نکلا تھا۔۔۔
وہ اسے تقربیاً کھنچھتے ہوئے اپنے روم میں لے کر آیا تھا
اور بیڈ پہ بیٹھایا تھا اور دور ہٹ گیا تھا وہ اس کے بیڈ پہ بیٹھانے کے ساتھ ہی اٹھی تھی ۔۔۔۔۔!
وہ اس کے تاثرات بالکل بھی نہیں سمجھ پا رہا تھا وہ غصہ کنٹرول کرتا آگے پیچھے گھومنے لگا تھا جب واپس پلٹ کر اس کی طرف دیکھا تو اپنی غلطی کا احساس ہوا تھا اس کی اس روم میں آتے ہی آنکھیں خالی ہوچکی تھیں وہ خالی خالی نظروں سے کمرے کو دیکھ رہی تھی اس کی
آنکھیں وحشت بھری ہوگئی تھی وہ پنکھے دبیز پردوں فرش بیڈ کو دیکھ نہیں بلکہ گھور رہی تھی خاموش خاموش خالی نگاہوں سے ۔۔۔۔۔! اس کی آنکھوں کی ویرانی دیکھ روشنال ڈر سا گیا تھا۔
اشو۔۔۔۔اس نے ہاتھ سے اس کا چہرہ نرمی سے پکڑا تھا وہ سہم کر پیچھے ہوگئی تھی جیسے اسے پیچان نہ پا رہی ہو۔۔۔!
اشو۔۔۔۔اشو۔۔۔بات سنو کیا ہوا ہے ۔۔۔۔روشنال کا سرد چہرے کے تاثرات اس کے چہرے کو تھپتھاتے فکرمندی میں ڈھلے تھے۔۔۔!
اس نے کوئی رنسپونس نہیں دیا وہ انہی ویران آنکھوں سے اسے دیکھتی بے چینی سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی وہ اٹھ کر صوفے پر بیٹھ گئی تھی روشنال نہایت ہی پریشانی سے اسے دیکھ رہا تھا جو اب فرش پہ خالی جگہ
کو گھورتی کرید رہی تھی ۔
اشو یار یہ تمھیں اچانک سے کیا ہوگیا ہے سوری یار کیا بہت زیادہ غصہ ہوگیا تھا بہت ڈانٹ دیا ہے تمھیں ۔۔۔وہ اٹھ کر اب اس کے پاس صوفے پہ اس کے قریب بیٹھا نہایت ہی فکرمندی سے پوچھنے لگا تھا۔
وہ۔۔۔۔۔وہ۔۔۔ج۔۔۔جگہ دیکھ رہے ہیں۔۔۔۔و۔۔۔۔وہاں ۔۔۔۔مم۔۔۔میں نے سپرمین کو کھویا تھا۔۔۔۔اس رات می۔۔۔میری زندگی کی خوفناک رات تھی وہ۔۔۔۔وہاں اس رات میں نے اپنے مان کو ٹوٹتے دیکھا تھا ا۔۔۔۔اس رات لوگ جیت گئے تھے۔۔۔منال آپی ج ۔۔جیت گئی تھیں ۔۔۔ممم۔۔۔میں ہار گئی تھی ۔۔۔۔سب کچھ ۔۔۔۔۔میں ۔۔۔۔شاید اس روم ۔۔۔میں نہیں آرہی تھی مم۔۔۔میں بھولنا چاہتی تھی بلکہ بھول چکی تھی لیکن ۔۔۔آ۔۔۔آپ نے یاد کروا دیا۔۔۔! یہاں میں بدنصیب اسی جیسی رات کی سیاہی میں سب کچھ کھو دیا تھا۔۔پتہ ہے میرا خاندان ہے ہی بخت کا سکندر ہے شاید بہترین قسمت لکھوایا کہ آیا ہے لیکن میرا مقدر برانہیں تھا شاید میں بری تھی۔۔۔وہ یہ کہتے سسک پڑی تھی آنکھوں سے موٹے موٹے آنسو نکل آیا تھا۔
؎چھوٹے چھوٹے جو گلے تھے بخت کے ساتھ
رفتہ رفتہ بڑے وقت ہوگئے وقت کے ساتھ
ابیہا علی شاہ
توجہ سے اس کی بات سنتے روشنال بخت کا دل پل کےلیے ڈھڑکنا چھوڑ گیا تھا اس کے دل چیر شکوہ پہ وہ ساکت ہوا تھا اس کے ہاتھ سے غیراردای طور پہ پیچھے ہٹا لیا تھا وہ یہ کیسے بھول گیا تھا کہ عورت کسی چیز کو بھول سکتی ہے۔۔۔۔؟ جتنا اس نے درد دیا تھا وہ بھولتی تو کد چیز کو۔۔۔۔! فرقان نے صیح کہا تھا کہ عورت بھولتی بالکل بھی نہیں ہے ۔۔۔۔! اس نے سوچ لیا تھا کہ وہ اسے بہت ہی احیتاط سے سمیٹ کر رکھے گا۔ ۔اس کی زندگی میں جو خلا اس کی وجہ سے آیا تھا وہ اس خلا کو پر کرے گا۔۔۔!
اشو۔۔۔۔۔سوری ۔۔۔۔۔پلیز چپ ہو جاؤ ۔۔۔۔اس نے جیسے عرض کی اور اس کا رخ اپنی طرف کیا تھا اس نے اسے خود میں سمیٹ لیا تھا اور آہستگی سے تھپکنے لگا تھا وہ اس کے بالوں کو سمیٹتا اسے اپنی گود میں کھینچ چکا تھا اس کے جوڑے بال جو اس کے سہمنے اور ڈرنے اور آگے پیچھے لگنے سے کھل چکے تھے وہ آہستگی سے انھیں سمیٹنے لگا تھا اس نے بلاوجہ غصہ کیا تھا اسے نہیں پتہ تھا کہ وہ اس کے کمرے میں آنے سے اتنی ڈر کیوں رہی تھی وہ اس کے بہت ہی احتیاط سے سہلانے کی وجہ سےکچھ حد تک نارمل ہوگئی تھی۔۔۔! اب اس کی آنکھوںکج رونق کچھ حد تک بحال ہوگئی تھی وہ اسے نرمی سے اٹھائے بیڈ پہ لے کہ آیا اور اسے بیڈ پہ لٹایا کر
اس کے بیٹھ کر اس کے سر پہ ہاتھ رکھے دیوانوں کی طرح اس پہ جھک کر اس کو دیکھنے لگا اس کے گال پہ اس کی آنسو موتیوں کی طرح چمک رہے تھے
؎ آنسو تیرے رخسار پہ لگتے ہیں ایسے
چاند پہ بارش ہو شدت سے جیسے
وہ جھک کر اس کے آنسوؤں پہ لب رکھتا بے اختیار ہوا تھا وہ ہلکے سے اس کے ساتھ لٹینے کے انداز میں بیٹھ کہ اس کے بالوں کو سلا رہا تھا ایک بے اختیار ہوتا آنسوؤں اس کے گال پہ گرا تھا۔۔
سوری ۔۔۔۔ہر چیز کےلیے۔۔۔! ہر ستم کےلیے۔۔۔۔! ہر ڈانٹ کےلیے۔۔۔۔! وہ دل میں مخاطب ہوا تھا آنکھوں سے آنسوؤں کی حالت کو دیکھ کر بہہ نکلے تھے۔۔
اس کی آنکھوں میں چمکتی نمی دیکھ کر اور اپنے چہرے پہ آنسوؤں کا قطرہ دیکھ کر اشنال کو اپنی غلطی کا احساس ہوا تھا وہ جو اسے دیکھ رہی تھی وہ دھک رہ گئی تھی اس اونچے لمبے مرد کی آنکھوں میں آنسوؤں سے اسے لگا اس نے بے اختیاری میں ہی سہہ اس دیوتاوں سے شخص کو پریشان کر دیا ہے کیونکہ وہ اس کا بہت خیال رکھنے لگا تھا وہ جب سے یہاں آئی تھی اس شخص کی نگاہوں اپنے لیے فکر اور محبت دیکھی تھی اسے اپنے آپ پہ غصہ آیا کہ وہ کیوں ماضی کا ذکر اسے پریشان کر دیتی تھی اپنے پہ جھکے اس کو دیکھا تو پیچھے ہوتی اٹھ بیٹھی تھی اسے پتہ تھا کہ وہ اس کی طبعیت دیکھ کر پریشان ہوا ہے اور اپنے ستموں پہ وہ بہت ندامت محسوس کر رہا تھا وہ اب بہت بدل گیا تھا کہ وہ اس کا شوہر تو بالکل بھی نہیں رہا تھا پہلے کی طرح اس کا خیال رکھنے والا اور اسے نرمی سے۔۔
سوری۔۔۔۔۔سپرمین ۔۔۔۔۔سوری ۔۔۔۔وہ اٹھ کر اس کا چہرے اپنے ہاتھوں کے پیالوں پہ لے گئی تھی آپ میری وجہ سے پریشان ہیں نا۔۔۔۔؟
نہیں تمھارا حق ہے ۔۔۔۔! تمھیں شکوہ کرنا چاہیے اشو تمھیں میرا گریبان پکڑ کر اپنے زخموں کا بدلہ لینا چاہیے تھا پتہ ہے کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ تمھاری جگہ کوئی اور لڑکی ہوتی تو کب کی چھوڑ کر جاچکی ہوتی ۔۔۔۔! طلاق کا علحیدہ سے مطالبہ کرتی ۔۔۔۔اور کوٹ کے علحیدہ سے چکر لگواتی ۔۔۔۔وہ صیح کرتی ۔۔۔۔سچ بات تو یہ ہے کہ ہم جیسے مرد چھوٹی عمر اور معصوم بیویوں پہ رعب جمانا حق سمجھنے لگتے ہیں یہ نہیں سوچتے کہ ان کا دل بھی ہے ہمیں ان کا خوف اتنا اٹریکٹ کرتا ہے کہ پھر اسے ڈرانا تو ہم جیسے کمظرف مردوں پہ فرض ہو جاتا ہے
ہم خود کو حق پہ سمجھتے ہیں بیویوں کو پردے میں چھپا کر رکھنے تک تو بات ٹھیک ہوتی ہے کہ کسی مرد کی نظر اس پہ نہ پڑے ۔۔۔۔لیکن یہ نہیں دیکھتے کہ وہ کیا سمجھ رہی ہوگی ۔۔۔۔! اس وفادار بیوی کا دم پردے سے تو نہیں گھٹتا ہوگا لیکن پابندیوں سے تو گھٹتا ہوگا۔۔۔!
میں تم سے شادی سے پہلے تو بہت براڈ مائنڈ تھا تمھیں خود شاپنگ پہ لے کے جانا۔۔۔۔کبھی تمھاری ڈریسنگ پہ کوئی تینقد نہ کرنا شاید اس وقت تم صرف میرے لیے میری کزن تھی اور تم پہ حق نہیں تھا اس وقت لگتا تھا تم سے ذرا سا بھی سخت لہجہ رکھا تو تم ٹوٹ کر ریزہ ریز ہ ہوجاؤ گی کوئی دل کی بات کوئی فرمائش نہیں کرو گی تمھارا روٹھنا مجھے تکلیف دیتا تھا لیکن شادی کے بعد پہ تمھیں اپنی قید پہ رکھنا شروع ہوگیا تھا شاید تم زیادہ پیاری لگنے لگی تھی اس لیے دل میں ایک ڈر سا خوف سا تھا کہ اگر تم سے نرمی سے بات کی تم خفا ہو جاؤں گی ناراض ہو کر چلی جاؤ گی۔۔۔۔جب تم اپنی اہمیت جانو گی تو ضد کرکے ہر جائز اور ناجائز خواہشات پوری کرواؤں گی پھر ذرا سی لڑائی پہ تو روٹھ کر علحیدہ ہوجانے کی ضد کروگی اس ڈر کی وجہ سے خود کو خود سے خفا اور تمھیں توڑتا چلا گیا یہ شاید تمھاری اعلیٰ ظرفی ہے تم مجھے پریشان نہیں دیکھ سکتی ورنہ میں نے تو ہر حد پار کر دی لیکن اس عظیم ذات کی قسم کھا کہ کہتا ہوں کہ میں تم سے محبت ۔۔۔!
پلیز سپرمین بس اب ہمیں مجھے کوئی صفائی نہیں دیں گے میری فکر اور کئیر آپکی آنکھوں میں نظر آتی ہے اس لیے آئندہ ہم دونوں میں سے کوئی ماضی کو نہیں کریدے گا۔۔۔۔آج کے لیے معافی دیں ۔۔۔۔نہ آئندہ آپ مجھے ڈانٹے گے اور نہ ہی کوئی روڈ بہیو سے بات کریں گے ۔۔۔۔ ! وہ اس کی بات ٹوکتی بات کہتی چلی گئی تھی۔۔
اوکے زوجم ۔۔۔۔۔لیکن لاسٹ ٹائم سوری فار ایوری تھنگ ۔۔۔۔۔وہ اس کی بات سنتا معصوم سے لہجے میں کہتا کانوں پہ ہاتھ رکھے تھے۔۔
پھر سے سوری ۔۔۔۔وہ خفگی سے کہتی تھوڑی سے اونچی ہوتی اس کی کشادہ پیشانی پہ لب رکھ کہ اسکو انمول کر گئی تھی اور اس کے گلے پہ بازوں ڈال کر بڑے مان سے
اس کے سینے پہ سر رکھ گئی روشنال نے جھک کر اس کے ماتھے کو چھوکر زور سے اسے اپنا آپ میں بھینچا تھا وہ کمفرٹ اپنے اور اس کے اوپر ایزی ہوکر لیٹا تھا اس کے بالوں کو سہلانے لگا کہ وہ سو جائے اور اس کے انگلیوں کے لمس سے وہ سچ میں نیند میں چلی گئی تھی ۔۔
اور وہ پھر وہ کے سوئے چہرے کو دیکھ کرسوچتا رہ گیا تھا کہ عورت اتنے ظرف والی کیسے ہوتی ہے ۔۔۔۔؟
عورت اگر سنوارنے پہ آجائے تو مرد کی زندگی سنوار دیتی ہے لیکن اگر تباہ کرنے پہ آئے تو اس کی نسلوں کو تباہ کر دیتی ہے ایسا سبق چھوڑ کہ جاتی ہے کہ اس کی نسلیں وہ سبق یاد رکھتی ہیں۔۔!
لیکن وہ جان گیا تھا یہ عورت بہت ہی عظیم تھی جو نہ صرف اسے معاف کر چکی تھی بلکہ اس کی سنگت میں رہنے کو تیار تھی۔۔۔۔!
۞۞۞۞۞۞
جگر یار تیری بائیک کی کیز اندر پڑی ہوئیں تھیں ۔۔۔۔وہ رات ساڑھے بارہ بجے پروگرام کرکے مائیک سسٹم کو سمیٹ رہی تھا ان کی تاروں کو آپس میں الجھائے کے کور کرتا اٹھا ہی تھا۔۔
جب اس کا دوست احمر آیا تھا اور اس کو چابیاں اسے تمھائی تھیں ۔۔۔۔!
تو گھر کےلیے نکل رہا ہے تو مجھے بھی ساتھ لے چل کیوں میری گاڑی صبح خراب ہوگئی تھی لوکل پہ آیا تھا احمر نے س کو چیزیں سمٹتیں دیکھ کر کہا تھا جہاں سٹوڈیو کےلیے سب چیزیں سمیٹی جاچکی تھی مگر اور بھی نیوز کاسٹر ان کے گولیک سکون سے بیٹھے ہوئے تھے جیسے ان کا ٹھانہ یہ ہی ہو ۔۔۔!
تو اتنی تہمیدیں کیوں باندھ رہا ہے چمپازی ۔۔۔خود جاؤں گا تو تجھے بھی ساتھ لے جاؤں گا بس اس کو پیک کرلوں پھر چلتے ہیں۔۔۔
چل اب۔۔۔۔تقربیاً پانچ منٹ وہ کوور کرتا لیپ ٹاپ اٹھاتا اسے پکارتا باہر نکلا تھا۔۔۔۔!
حسنال نے بائیک سٹارٹ کی تو پیچھے آبیٹھا تھا وہ مین روڈ پہ نکلے تھے اب ہجوم سڑکوں پہ لوگوں کا کم ہو رہا تھا ۔۔
آج جلدی کھانا کھایا ہے اور بول بول کہ ایسا لگ رہا ہے دماغ نہیں پیٹ خالی ہوگیا ہے اس لیے پیٹ میں چوہے دوڑ رہے ہیں احمر جو بہت کھاتا تھا بولے بغیر نہ رہ سکا تھا لگتا وہ حسنال کی طرح ہی تھا دونوں کی فزیک سیم تھی وہ حسنال کی طرح بہت ہی ہنس مکھ انسان تھا جتنا بھی سریس رہنے کی کوشش کرتا مگر پروگرام کے دوان بھی ہنس پڑتا تھا۔۔
اب تو سوچ رہا ہوگا بیٹا کہ میں تجھے کھانا کھلاؤں تو حر*امی انسان سوچ لے میں اتنا اچھا ہوں نہیں۔۔۔! بھوکا تو میں بھی ہوں بول بول کر تو ساری انرجی ویسٹ ہوگئی اس لیے خود بھی کھا اور مجھے بھی کھلا۔۔۔!
حسنال سمجھ گیا کہ اس کا اشارہ کسی ریسٹورنٹ کی طرف تھا اس لیے ہنس کر اس کی غلط فہمی دور کرنی چاہی تھی اور ایک ہاتھ سے ہیلمٹ سیٹ کیا تھا۔۔۔
کمینہ انسان ہے ایک نمبر کا ۔۔۔۔۔! میں تو معصوم سا چھڑا چھانٹ بندہ ہوں اس لیے تجھے کہہ رہا ہوں تجھے تو تیری بیوی کھانا کھلا دے گی میری اماں تو پہلے لیٹ جانے ہر سو جوتے مارے گی ۔۔۔۔پھر دو روٹیاں کھانے کی دیں گی وہ جان بوجھ کر دکھی آتمہ بن تھا۔۔
ہاں ۔۔۔۔بیوی نے تو میری سو کیا لاکھ جوتے لگائے ہیں میری وفا پہ۔۔۔۔! اس کے منہ سے بیوی کا نام سن کر اس نے لب بھینچ لیے تھے اور بائیک کی سپیڈ تیز کی تھی۔۔۔
چل یار چھوڑ کر ۔۔۔۔گھر ہی کھالوں گا ہر چیز بند ہی ہو رہی ہے ویسے بھی ماں کی ڈانٹ اور کھانا دونوں کھانے کا اپنا ہی مزہ ہے ۔۔۔۔وہ ہنس کر کہتا اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھ گیا تھا جب کہ حسنال کا موڈ ایسا آف ہوا کہ پھر کوئی بات نہیں سنجیدگی سے بائیک چلانے لگا حالانکہ بھوک اسے بھی بہت لگ رہی تھی ۔۔۔!
وہ اسے اس کے گھر کے باہر چھوڑتا خود بائیک کی سپیڈ تیز کرتا گھر کی طرف ریٹرن لیا تھا ۔۔
۞ٔ۞۞۞۞۞
وہ بنا قدموں کی چاپ لیے روم میں آیا لیپ ٹاپ ٹیبل پہ رکھ شوز اتارتا فریش ہونے چلا گیا تھا فریش ہو کہ ٹاول سے بال ڈاف کرتا کہ بیڈ کی طرف آیا تو آگے وہ سو رہی تھی جب وہ آیا تھا تو اس کی طرف دھیان نہیں دیا مگر اب پورجہ توجہ سے دیکھا تھا بکھرے بال ، اور الجھے حلیے میں کمفرٹ تانے پیٹ پہ ہاتھ رکھے سو رہی تھی وہ لگ ہی اتنی معصوم رہی تھی کہ وہ کوئی بات ذہن میں رکھے بنا دن بھر کی تھکن کے باوجود اس کے قریب بیٹھ گیا تھا اور اس کے نقش کو ازبر کرنے لگا تھا وہ بھول گیا تھا کہ اس نے کتنی غلط باتیں کی تھیں وہ بھول گیا تھا کہ وہ وقار کو پسند کرتی ہے۔۔۔وہ بھول گی تھا کہ اسے قدم چاٹنے کو کہے تھے ۔۔۔
یاد رہا تو بس اتنا کہ وہ اس کے سامنے تھی اور اس کے لیے کتنی اہم تھی ۔۔۔اسے یاد رہا تو بس اتنا کہ وہ اس کے بچے کی ماں بننے والی ہے۔۔۔۔وہ جھک کر ایک قسم کی بے ہوش پڑی منال کہ ناک پہ لب رکھ گیا تھا۔۔۔! تھا۔۔۔۔بابا کچھ دیر اس محسوس کرنے لگا تھا۔۔۔
تم میرا وہ سکون ہو جو مجھے بےسکون کر دیتی ہو ۔۔۔۔وہ اس پہ جھکے کہہ رہ تھا ۔۔
کچھ پل اس کو دیکھتے اس کے کندھوں کے دونوں اطراف پہ تکیے پہ ہاتھ رکھے وہ اس کے بھورے بکھرے بالوں کو دیکھتا رہا پھر جھک کر نہایت ہی عقیدت سے وہاں ہونٹ رکھے تھے ان بالوں سے اس کو عشق تھا۔۔
وہ بے اختیار ہونے لگا مگر پھر دیوار پہ لگتے ہتھوڑے کی طرح اس کی باتیں اسے وحشتوں میں دکھیل گئی تھی وہ پیچھے ایسے ہوا جیسے کسی گرم چیز کو چھوالیا ہو۔۔۔!
اسے اپنی بے اختیاری پہ غصہ آیا تھا اس کے اندر عجیب سی جنجھلائٹ سی اترنے لگی تھی اس کے اندر غصیلے تاثرات اٹھانے لگے تھے۔۔۔
اے اٹھو ۔۔۔۔مجھےکھانا لاکر دوں ۔۔اسے اس کا سکون ہضم نہیں ہوا تو اسے جنجھوڑ کہ رکھ دیا تھا مگر وہ پھر بھی نہ اٹھی تھی وہ اٹھتی بھی کیسے نیند کی گولیوں کا جاندار اثر تھا جو ثمینہ اسے دودھ میں یا کھانے میں دیتیں تھی۔
منال ۔۔۔۔۔اٹھو میں کیا کہہ رہا ہوں ہری اپ ۔۔۔! اب کی بار زور سے بازوؤں سےپکڑ کر اسے اٹھایا تھا اس کے سختی سے جھنجھوڑنے اور بازوؤں سے پکڑ کر اٹھایا تھا۔۔۔
کک۔۔۔کیا ہے ۔۔۔۔۔۔وہ یہ کہہ کر پانچ سیکنڈ کےلیے آنکھیں کھولتی پھر سے آنکھیں موند چکی تھی۔۔۔۔
اٹھ کہ مجھے کھانا دو منال۔۔۔۔۔! حسنال نے اب کی بار اسے کندھے سے پکڑ کر بیٹھایا تھا وہ اس کی اونچی آواز سنتی آنکھیں کھول کر پھر ایک لمحے دیکھا اور پھر اس کے کندھے پہ آگری تھی اس کے سارے بال اس کے منہ پہ گرے تھے۔۔۔
حسنال کو اس کی اتنی گہری نیند دیکھ کر اتنا غصہ آیا کہ اس کی کمر پہ ہاتھ رکھ کہ کھڑا کیا تھا۔۔۔! وہ تھوڑی سے آنکھیں کھول کر اٹھی مگر اس سے پہلے وہ زمین بوس ہوتی حسنال نے اسے اٹھ کر بازؤں کے گھیرے میں لیا اور اسے بیڈ پہ لٹایا تھا پہلے اس کا دل کیا جگ پانی کا اس کے اوپر گرا کہ اس کو جگائے لیکن بقول اس کے اس کو اپنے بچے کی پروا تھی اس لیے اس کو پھر سے بیڈ پہ لٹاتے کمفرٹ سیٹ کرکے خود نیچے کی طرف گیا تھا۔۔۔
بھوک کی وجہ سے اس کا برا حال تھا وہ اس لیے کھانا کھانے کچن میں چلاآیا تھا اسے افسوس ہو رہا تھا کاش وہ احمر کے ساتھ کھانا کھالیتا لیکن اس وقت تو اس پہ غصہ سوار تھا لیکن ہاٹ پاٹ میں روٹی دیکھ کر اس نے سکون کا سانس لیا تھا روٹی تو ایک تھی لیکن اس کےلیے کسی نعمت سے کم نہیں تھی وہ فریج سے سالن نکال ہلکا سا گرم کرکے شکر کے کھانے لگا تھا۔۔پھر کیبنٹ سے کافی نکال کہ اپنے لیے بنا کہ لائٹ آف کرتا چلا گیا تھا۔۔
****
روشنال آفس گیا ہوا تھا ثمینہ بیگم ابھی ابھی اوپر گئی تھی شام کا ٹائم تھا روشنال آنے والا تھا مگر ثمینہ بیگم کو اپنا پلان کم وقت میں بھی سلجھتا دکھائی دے رہا تھا۔۔
ثمینہ بیگم نے بہن کو اوپر جاتے دیکھا تو انکے دل میں کمینی سی خوشی ہوئی تھی انھیں پتہ تھا وہ اب لیٹ آئے گی اس لیے دارز سے پ”سٹل اٹھایا اور الماری سے گھر کے ڈاکومنٹس اٹھائے جو وہ رات کو آغا جان کے لاکر سے نکال کہ لائی تھی انھوں نے سوچا تھا کہ وہ محض دھمکی دے کر گھر اپنے کروالیں گی اس لیے دونوں چیزیں ڈوپٹہ کے نیچے دبائے وہ نکلی تھیں۔
رشتوں کو چار چیزیں بری تباہ و برباد کرکے رکھ دیتی ہیں دولت ، غرض ، انا اور حسد ۔۔۔۔اس سے رشتے تباہی کے دہانے پہ پہنچ جاتے ہیں ایک چیز بھی انسان کے اندر ہو نہ تو رشتوں میں ڈاریں پڑ جاتی ہیں سب سے بری شے ہی دولت ہوتی ہے جو باقی تین چیزوں کے لانے کا سبب بنتی ہیں دولت ہی کی وجہ سے انا غرض اور حسد جیسی بیماریاں جنم لیتی ہیں۔۔۔دولت ہی بھائی کو بھائی کا دشمن بنا دیتی ہے اصل فساد کی جڑ تو دولت ہی ہے یہ نہ ماں باپ دیکھتی ہے نہ بہن بھائی دیکھتی ہے اور نہ ہی کوئی اور رشتہ دیکھتی ہے جو ہر چیز ہر جذبے پہ غالب آجاتی ہے دولت ہر چیز کو بری طرح متاثر کرتی ہے۔۔۔! یہ رشتوں کو مار کہ رکھ دیتی ہے مسمار کر دیتی ہے اسی دولت کی وجہ سے رشتوں کی عمارتیں کمزور ہوجاتی ہیں یہ سب کو مارتی ہے اور آخر میں صرف موت ہی اسکا خاتمہ کرتی ہے۔۔۔!
اب پتہ نہیں بخت ولا میں دولت کا پرچار رہنا یا رشتوں کا یہ وقت نے ہی بتانا تھا۔