تیری ستمگری

post cover

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

قسط: 34 حصہ 1

اس کو مجید چاچا کے گاؤں آئے ایک مہینہ ہوگیا تھا زندگی نے ایک دم سے پلٹا کھایا تھا وہ یہاں کے ماحول کی عادی ہرگز نہیں تھی اب نہ صرف رہ رہی تھی بلکہ بختی اماں کو کام بھی کروا دیتی تھی بختی اماں نے کبھی اسے مجبور نہیں کیا تھا کہ فلاں کام کرو یا فلاں نہ کرو ۔۔۔۔وہ غصے کی تیز ضرور تھیں مگر دل کی بہت صاف تھیں شروع شروع کے دنوں میں وہ باتوں میں ہی باتوں میں ایسی بات کر جاتی جسے منال بری طرح ہرٹ ہوتی تھی ایک دن اسے روتا دیکھ کر نہ صرف اسے منایا بلکہ معافی بھی مانگی تھی اس کی وجہ صرف اور صرف منال کی خاموشی تھی وہ کچھ بھی کہہ دیتیں وہ آگے سے کچھ بھی نہیں بولتی تھی اب تو وہ اس پہ جان چھڑکتی تھیں وہ اپنی خوشی کی خاطر ان کو بہت سارا کام کروا دیتی تھی صبح سویرے ناشتہ وہ خود تیار کرتی تھیں جب کہ وہ مانو کو سکول کےلیے تیار کرتی اور ان کے ناشتہ تیار کرنے تک وہ سارے صحن سے صفائی کرلیتی تھی
صحن کافی بڑا تھا تو اس کی سانس پھول جاتی تھی لیکن اب اس نے فرض سجمھ کر بہت سارے کاموں کہ ذمہ داری اپنے سر لے لی تھیں طویلہ بختی اماں خود صاف کرتی تھیں مال و مویشی کا کام طویلے کی صفائی بختی اماں نے اسے کبھی نہیں کہا تھا وہ نہیں چاہتی کہ اس گڑیا کو بھاری کام کرنا پڑے وہ انھیں نازک سی مومی گڑیا لگتی تھیں وہ تو جیسے ہاتھ لگانے سے بھی ڈرتی تھیں کہ کہیں وہ میلی نہ ہو جائے ان کے بس میں تو ہوتا وہ اسے کوئی کام نہیں کرواتی لیکن وہ خود منتوں سے مکھن لگا کر ان کو کام کرتی تھی وہ جانتی تھیں کہ وہ اتنے سارے کام کرکے تھک جاتی تھی کیونکہ مجید چاچا تو دو یا تین دنوں بعد گھر آتے تھے وہ اکیلی سارا کام کرتیں گھر کو سنھبالتی تھیں۔
مانو چھوٹی بچی تھی ضد کر جاتی تھی بختی اماں کبھی کبھی اس کی ضد سے تنگ پڑ جاتی تھی مانو ایسی بچی تھی جو پیار ڈھونڈنے کی کوشش کرتی تھی اسے اس میں اسے اپنا آپ نظر آیا تھا کیونکہ باتوں ہی باتوں میں بختی اماں نے اسے بتایا کہ حسن (مانو کے ابو) کی مو”ت ہارٹ اٹیک کی وجہ سے ہوئی تھی اس کے بعد انہوں نے پھر بہو کی شادی کر دی مانو جب ایک سال کی تھی اسی وقت کر دی تھی وہ تو بیٹے کی وفا”ت کے بعد جیسے زندہ لاش بن گئے تھے لیکن ان کے مسکرانے کی وجہ صرف اور صرف مانو بنی تھی جس کی مسکراہٹ ، قہقوں اور چھوٹی چھوٹی باتوں سے اس گھر کا آنگن کھل اٹھا تھا کیونکہ وہ بہت شرارتی بچی تھی اور منال کے ساتھ بہت زیادہ اٹیچ ہوگئی تھی.
ابھی دو دن پہلے کی ہی بات تھی ثمینہ بیگم کو پاگل کا بہت شدید قسم کا دورہ پڑا تھا وہ ہر چیز بری طرح بکھیر کر رکھ گئی تھیں اس سے قبل بھی اس ایک مہینے میں وہ کتنی دفعہ اس کو مار گئیں تھیں اور تو اور وہ ایک دن گھر سے باہر نکل گئی تھیں اسے اب شدید قسم کا خطرہ لاحق ہوا تھا کہ وہ رات کو کئی نکل ہی نہ جائیں وہ انھیں باندھ بھی نہیں سکتی تھیں کیونکہ اسے تکلیف ہوتی تھی ۔۔۔
رات کو وہ ان کے پاس کمرے میں سوتی تھی وہ دلیہ بنا کہ کمرے میں آئی تو وہ گم صم سی بیٹھی ہوئی تھیں جب اس نے دلیہ ان کے آگے رکھا تھا کیونکہ وہ کھانا نہیں کھاسکتی تھیں وہ انھیں کھلانے لگی تو وہ آگے سے بری طرح ہنسنے لگ پڑی تھیں منال ہکی بکی سی ان کو دیکھنے لگی اسی اثنا انھوں نے اس کی سر پہ بہت بری طرح اٹیک کیا تھا جس وجہ اس کا نماز سٹائل ڈوپٹہ کھل گیا تھا اور پھر وہ جنونی انداز میں اس کے بال کھیچھنے لگ پڑی اتنی برے انداز سے انھوں نے اس کے بال کھینچے تھے کہ منال سے چھڑانا مشکل ہوگیا تھا۔۔۔
وہ خود کو چھڑوانے کی ناکام کوشش کرتی رہی لیکن انھوں نے نہیں چھوڑا تھا منال کے سر پہ ٹھیسیں اٹھنے لگ پڑی تھی اس کی چیخ نکلی تھی اس کی چیخ نکلنے کی دیر تھی جب بختی اماں بھاگ کہ اندر آئیں تھیں اور انھوں نے بمشکل اسے چھڑوایا اور اسے کھنیچ کر باہر لے گئیں تھیں اور دروازہ زور سے بند کر دیا تھا وہ بر آمدے میں آتے ہی ان کے گلے لگ کہ خوب روئی تھی اس کا جسم کانپنے لگ پڑا تھا اس حالت میں تو وہ پہلے ہی کھینچی کھینچی سی رہتی تھیں اوپر سے اب ماں کی مار نے اسے بالکل ہی ادھ موا کر دیا تھا وہ کانپتی کانپتی وہیں لیٹ گئی تھی بختی اماں پھر اسے اپنی روم میں لے گئیں آئیں تھیں کیونکہ وہ اکیلی بر آمدے میں اسے نہیں چھوڑسکتیں تھیں مجید چاچا کام پہ گئے ہوئے تھے وہ دن بھر کی خود کو گھر کے کاموں میں لگی رہی اب اپنے ٹوٹے بکھرے وجود کو لے کر لیٹ گئی تھی ۔۔۔
یہ دودھ پتی پی لو طاقت آئے گی ۔۔۔۔وہ لیٹی ہی تھی جب بختی اماں ہمیشہ کی طرح دودھ کا کلاس پکڑے اا کو روم میں دیتی تھیں منال ان کو دیکھتیں وہ خود کچا دودھ پیتیں اور مانو بھی کچا دودھ پینے کی عادی تھی ایک دن انہوں نے اس سے دیا لیکن اس نے انکار دیا اُن کے بہت زیادہ اسرار پہ اس پہ ایک گھونٹ پہ اسے الٹی آگئی تھی اب وہ اسے روازنہ دودھ پتی دیتی تھیں کبھی کبھی اسے پینے نہیں ہوتا تو وہ صحن میں درخت کے نیچے پڑے بلی کے برتن میں ڈال دیتی تھیں بختی اماں اس کی طبعیت کے پیشِ نظر بہت خیال رکھتیں تھیں ان کو اس پہ ترس آتا تھا کہ وہ پاگل ماں کے ہاتھوں بری طرح نشانہ بنی ہوئی تھی۔
بختی اماں مانو کو میرے پاس لٹا دیں پلیز ۔۔۔۔وہ اس کے ہاتھ سے دودھ کا گلاس لے کہ جارہی تھیں جب اس نے آہستگی سے پکارا تھا۔
اپنی حالت دیکھو بچے وہ تنگ کریں گی تمھیں ۔۔۔۔انہوں نے مڑ کے جواب دیا تھا۔
نہیں وہ چھوٹی بچی ہے میں اس سے تنگ نہیں پڑتی بلکہ اس کے وجود سے سکون ملتا ہے مجھے۔۔۔ پلیز لٹا دیں نہ۔۔۔۔اس نے ملتجیانہ لہجے میں کہا تھا تو انہوں نے مانو کو آہستگی سے اٹھا کہ اس کے پاس لٹایا اور خود باہر چلی گئی تھیں۔
وہ آہستگی سے مانو کے سر پہ ہاتھ پھیرنے پہ ہاتھ پھیرنے لگی اس کے معصوم چہرے کو دیکھتے اس کے گال پہ پیار کیا تھا وہ سوتے ہوئے کسمسائی تو منال نے آہستگی سے ہاتھ پیچھے کرلیے کہ وہ جاگ نہ جائے۔۔۔۔!
وہ معصوم ابھی لاپرواہ تھی یہ نہیں پتا تھا کہ ماں باپ
کے بغیر زندگی کیسے مشکل سے گزرتی تھا عمر کا یہ حصہ ہر حسد، ہر غرض، ہر فکر سے پاک تھا اسے نہیں پتا تھا کہ ماں باپ کا سر پہ سایا کیا چیز ہوتی ہے۔۔۔؟ اس کا مشغلہ سکول جانا ، کھانا پینا، مسجد میں سیپارہ پڑھنے جانا …اور مٹی کے گھر بنانا گڑیا کی رخصتی کرنا وہ ابھی خوابوں کی زندگی میں تھی عمر بڑی ہو تو غم بھی بڑے ہوجاتے ہیں اس کا پاؤں سے بنا مٹی کا گھر بنا دیکھ کر منال کے دل میں ہوک سی اٹھتی تھی اسے اب گھر کے معنی سمجھ آئے تھے کہ گھر چیز کیا ہے۔۔۔؟
وہ ہر سوچ کو جھٹکتی سر پہ ہاتھ رکھ کہ آنکھیں موند لیں تھیں آنکھوں کے بند ہوتے چھم سے حسنال بخت کا چہرہ آنکھوں کے سامنے آیا تھا کبھی غصہ کرتے، کبھی مذاق کرتے ، کبھی سرد رویہ سے ، تو کبھی نرم روایے سے ۔۔۔۔وہ جتنا ماضی سے پیچھا چھڑاتی پھر بھی کوئی نہ کوئی سوچ اس کے آگے کسی پھن پھیلاتے ناگ کی طرح کھڑی ہوتی اس سوچ کی ہر تار ماضی سے جڑ ہوتی اور اس تار کا کنکشن جو ذرا سا غلط ہوا تو اسے عذاب کن تنہاہیوں میں مبتلا کرگیا تھا جس سے اس کی روح میں آبلے پڑ جاتے وہ اس شخص کو دور کئی پیچھے چھوڑ آئی تھی اور اب پیچھے مڑکر وہ دیکھنا نہیں چاہتی تھی
حسنال بخت نامی باب اس کی زندگی سے کب کا ختم ہوگیا تھا یہ نہیں تھا کہ وہ اسے یاد نہیں آتا تھا وہ یاد آتا تھا بہت بری طرح یاد آتا تھا ۔۔۔۔وہ اس شخص کو کم از کم اپنی زندگی میؔں بھول نہیں سکتی تھی بھلا ” حسنال بخت “بھی کوئی بھولنے والی شے تھا وہ آنکھیں بند کرتی تو وہ شخص اسے سونے نہیں دیتا ، اس کی نیندوں کو بری طرح روند کہ رکھ گیا تھا اگر کبھی بھولے بھٹکے نیند آنکھوں میں بیسرا کر بھی لیتی تو وہ خوابوں میں لفظوں کے زہر پھینکتا ہوا نظر آتا تھا سوتے جاگتے ہوئے اس کے حواس مختل رہتے تھے وہ اس کےلیے لاعلاج مرض بن گیا تھا اس ستمگر کی یادیں ہی اس کے درد دوا تھی
اس کے کانوں میں ہر روز ایک ہی گونج ہوتی کہ تم اور تمھاری ماں میرے بھائی کی قاتل ہو۔۔۔۔! وہ سوتے ہوئے اٹھ کہ بیٹھ جاتی تھی اور سوچوں میں پڑھ جاتی کہ روشنال بخت کیا پتا زندہ تھا یا نہیں۔۔۔۔۔۔! یہ سوچیں ہر وقت ایک انجانے درد میں مبتلا رہتی تھی
وہ کبھی کبھی سوچتی کہ بچے کی پیدائش پہ اسکو موت آجائے تو اس کی زندگی میں سکون آجائے کیونکہ حسنال بخت کے الفاظ چابک کی طرح اس کے دل پہ لگتے تھے ۔۔۔۔! لیکن پھر اپنی کوکھ میں جنم لیتے اس کی نشانی کا سوچ کر استغفار کرتی کہ اس کی موت نے اس کی اولاد کے چہرے سے مسکراہٹ چھین لینی ہے کہ کیسے وہ اس کے بعد اس کی طرح کمپلیکس سی زندگی گزارے گا۔۔۔۔! اس رات وہ کسی بھی طرح رک جاتی لیکن اس نے سوچا تھا کہ حسنال تو بچے کی پیدائش اسے طلاق دے کر جینے کی آخری وجہ بھی چھین لے گا۔۔۔۔! اس لیے وہ خاموش ہوکر ماں کے ساتھ چلی آئی تھی۔
****
سیاہ تار کول پہ گاڑی فراٹے بھر رہی تھی رات اپنے پر بری طرح پھیلا چکی تھی دونوں بھائی اپنی خاموشیوں میں الجھے ہوئے تھے آخر اس خاموشی کو روشنال نے توڑا تھا۔۔
اب کہاں لے کہ جاؤں ۔۔۔۔بتاؤ ۔۔۔۔روشنال بخت اسٹیرنگ پہ ہاتھ جمائے لمبی سڑک کو دیکھتے ایک نظر حسنال بخت کے مرجھائے چہرے کو دیکھتا سنجیدگی سے بولا جو کہ اس تاریکی کی عملی تصویر لگ رہا تھا۔۔
گھر لے چلیں بھائی وہ اب مجھے کئی نہیں ملے گی میں نے اس کی ناقدری کی خدا کی دی گئی نعمت کی ناشکری کی ہے تو وہ مجھے کیسے مل پائے گی۔۔خدا ناقدروں کو بہت مہلت دیتا ہے لیکن ایک وقت آتا ہے اسے نعمت چھن جاتی ہے میرے ساتھ بھی ایسا ہوا ہے۔۔!
حسنال حاکم بخت نا امید نہ ہو ۔۔۔اس رب نے ہجر لکھا ہے تو اس میں بھی کوئی مصلحت ہوگی کیا پتہ اس نے تم سے منال کو کیوں چھینا ہے۔۔۔؟کیونکہ تم اس کی بعد میں ناقدری نہ کرسکو۔۔۔! روشنال نے اسے سمجھایا تھا جدائی کا یہ روگ اس کے چہرے سے نظر آ رہا تھا وہ دن بدن کمزور ہو رہا تھا۔
بخت ۔۔۔۔۔۔ !
پتا نہیں یہ بخت ۔۔۔۔کب تک ہمارا ساتھ چھوڑے گا۔۔۔۔۔!اس بخت نے ہمیں کئی کا نہیں چھوڑا پتا نہیں یہ نام ہمارے آباؤ اجداد نے کیسے رکھ دیا ہے یہ ضرور بتا کہ جاتے کہ نیک بخت ہے یا بد بخت۔۔۔؟ ہم صرف بخت نام کے ہی ہیں دیکھیے گا ہماری بدبختی کی مثال ہماری نسلیں دے گی ۔۔۔وہ یہ کہتے کہتے طنزیہ ہوچکا تھا۔۔
سوچ سمجھ کہ بولا کرو۔۔۔۔تم تو دنیا تسخیر کرنے کا ارداہ رکھتے تھے اب اپنے مقدر پہ رو رہے ہو۔۔۔! روشنال نے ایک نظر پھر اس کے چہرے پہ نظر ٹھہرا کر نگاہیں ونڈو سکرین پہ جمالی تھیں
جن کے منہ کے آگے ناکام اور شکستہ محبتیں ٹھہر جاتی ہے نا۔۔۔۔ان کو پھر دنیا بھی بیزار اور پھیکی لگنے لگ پڑتی ہے میں آج دنیا کو تسخیر کرنے کی کوشش کروں نہ تو نہیں کرسکتا کیونکہ اس کی یادوں کی فتح ہوجاتی ہے۔۔۔۔میں اب دنیا کیا تسخیر کروں گا بھی کیا وہ مجھےتسخیر کرگئی بھائی۔۔۔وہ سر سیٹ پہ ٹکاتے آنکھیں بند کرگیا تھا۔
پھر روشنال نے کچھ کہنا مناسب نہ سمجھا گھر کی طرف ٹرن لیا تھا پہلے آفس، پھر اس کے ساتھ منال کی تلاش تھکن نے اس کی آنکھوں پہ ڈیرہ جمالیا تھا وہ اب گھر جا کہ آرام کرنا چاہتا تھا۔۔ اس کی رائٹ سائیڈ پہ درد ہونے لگا تھا روازنہ کی بے پروائی نے زخموں پر سے ٹانکے اڈھیڑ دیے تھے ۔۔!
*****
حسنال بھائی آپی کا کچھ پتہ چلا۔۔۔۔؟ وہ سیٹرھیوں پہ انھی کے انتظار میں کھڑی تھی اس کو راستہ دیتے ایک دم سے پیچھے ہوکر ہر روز والا سوال دہرایا تھا
وہ سارے پتے ختم کرکے کے گئی ہے اشنال ۔۔۔۔! میں روز اسے ڈھونڈنے کی کوشش کرتا ہوں لیکن بری طرح ناکام ہوجاتا ہوں۔۔۔ایسے لگتا ہے وہ منال نہیں میری زندگی کی الجھی ہوئی پہیلی تھی جسے میں جتنا سلجھاتا تھا وہ اتنی ہی الجھتی چلی جاتی تھی وہ میرے ساتھ تھی تب میں بدسکون رہتا تھا اب وہ مجھ سے دور ہے تب بھی مجھے سکون نہیں آتا۔۔۔۔وہ یہ کہتے ایک دم سے چپ ہوا تھا وہ ہر روز کی طرح نفی میں سر نہیں ہلا سکا بلکہ دل کا درد بتا کہ کوٹ کندھوں پہ لٹکاتا شکستہ قدموں سے چلا گیا تھا۔
کتنی بدبخت ہیں ہم دونوں بہنیں بھی ایک دوسرے سے مل ہی نہیں سکی ۔۔۔۔! اس کی تسلی ہمیشہ کی طرح ادھوری ہی رہ گئی تھی وہ اپنے بے ساختہ آنے والے امڈتے آنسوؤں صاف کر ررہی تھی جب روشنال نے قدم رکھا تھا وہ بھی بہت تھکا ہوا لگ رہا تھا اس کا آہستگی سے چلنا بتا رہا تھا کہ وہ بہت تھک گیا ہے وہ چلتا چلتا اس کے پاس آ رکا تھا
السلام علیکم۔۔۔۔ اس کو دیکھتے جلتی آنکھوں کو سکون ملا تھا
وعلیکم سلام ۔۔۔۔! آپ کی طبعیت تو ٹھیک ہے نہ۔۔۔۔! اس نے اس کے پھیکے چہرے کو دیکھ کر کسی خدشے کے تحت پوچھا اور اس کے ہاتھ سے اس کا بیگ لیا تھا۔
اس کو اپنے لیے پریشان دیکھ کر روشنال نے ایک دم سے اپنے ساتھ لگا لیا تھا۔
طبعیت تو ٹھیک ہے لیکن کندھوں پہ مسلز پرابلمز ہو رہا ہے بری طرح۔۔۔۔! اور پین بھی بہت شدید قسم کا ہے۔۔۔۔!
اس نے گردن کے پیچھے ہاتھ رکھ کہ تھکے سے لہجے میں جواب دیا تھا۔۔
ماں بابا کہاں ہیں۔۔۔۔؟نظر نہیں آ رہے۔۔۔ ! اس نے ایک طائرانہ نظر لاونج پہ ڈالتے پوچھا تھا کیونکہ وہ ہمیشہ نیچے ہی ہوتے تھے مگر آج نہیں تھے
وہ آغا جان کو ہوسپٹل لے کہ گئے ہیں اچانک سے ان کا شوگر اور بلڈ پریشر ہائی ہوگیا تھا لیکن بڑے ابو کا فون آیا تھا انھوں نے بتایا ہے اب وہ ٹھیک ہے ٹنشن کی کوئی بات نہیں ۔۔۔۔وہ آہستہ آہستہ بتانے لگی تھی۔
اوہ۔۔۔تب ہی میں کہوں آج میری زوجم میرے حصار میں اتنی پرسکون کیوں ہیں ورنہ ہر روز ایک ہی ضد ہوتی تھی۔۔” پلیز چھوڑیں مجھے کوئی آجائے گا۔۔۔” اس نے بالکل اس کے انداز میں کہا تھا۔
اچھا۔۔۔اب تو مجھے چھوڑیں۔۔۔میں آپ کےلیے کھانا گرم کرنا ہے۔۔۔!وہ پیار سے اس کے بال بکھیرتی پیچھے ہوئی تھی مگر روشنال کی گرفت سخت تھی۔۔
مجھے بھوک نہیں ہے۔۔۔حسنال نے کچھ نہیں کھایا اس کےلیے کھانا گرم کر دو۔۔۔۔؟ میں اسے کھلا کہ آتا ہوں وہ یہ کہتا اسے کچن میں لے آیا تھا۔۔
آپ پہلے سکون سے بیٹھ کر پانی پی لیں۔۔۔میں گرم کر دیتی ہوں کھانا۔۔۔! وہ اسے پانی کا گلاس تھماتی ہوئی بولی اور خود کاونٹر کے پاس جاکھڑی ہوئی تھی تو روشنال نے سر ٹبیل پہ ٹکا دیا تھا۔
کچھ دیر بعد اشنال نے کھانا اس کے آگے رکھا تو وہ بازؤں پیچھے کرتا اٹھ کھڑا ہوا تھا
کچھ دیر بعد اس نے کھانا دیا تو وہ اس کےلیے کھانا لیتا چلا گیا تھا وہ منال کے بارے میں سوچتی رہی تھی اور پندرہ منٹ تو اسی سوچوں میں بیت گیا تھا کہ اب وہ اسے مل پائیگی یا نہیں۔۔۔۔؟ جب اُس کےلیے چائے بنانے لگی تھی
اور کچھ دیر بعد دو کپ چائے کے اٹھاتے اوپر لے آئی تھی
۞۞۞
سپرمین ۔۔۔۔۔! وہ دورازہ پش کرتی اسے پکارتی ایک دم اندر آئی تھی مگر اس کو بیڈ پہ اسطرح شرٹ اور بنیان سے بےنیاز یکھا جو کوئی دوا اٹھائے کھڑا تھا وہ یکدم منہ پھیرتی سائیڈ بدل کے کھڑی ہوگئی تھی
حد ہے آپ سے بھی ۔۔۔۔۔! مطلب بندہ کچھ تو خیال کرلیتا ہے نہ۔۔۔۔! وہ تپ کر بولی تھی۔۔
ہاں واقعی تمھیں خیال کرنا چاہیے تھا کہ تمھیں ڈور ناک کرکے روم میں آنا چاہیے تھا یوں شتر بے مہار لڑکیوں کی طرح اندر نہیں آنا چاہیے تھا ۔۔۔روشنال نے اسے تپانے کی غرض سے کہا تھا۔۔۔
بھول گئے ہیں یاد کرواؤں آپ کو۔۔۔۔آپ نے ہی کچھ دن پہلے کہا تھا کہ زوجم آئندہ ڈور ناک نہیں کرنا۔۔۔۔آپ تو میرے دل کی ملکہ ہیں بنا دستک کہ گھس آیا کریں ۔۔۔۔!
اور ویسے بھی مجھے کیا پتہ تھا آپ نے سلمان کی طرح ڈولے نکالے ہوں گے ۔۔۔۔۔! پتہ ہوتا تو ساری رات نیچے بیٹھی رہتی اوپر نہ آتی ۔۔۔۔اور ویسے بھی مجھے باڈی کی نمائش کرنے والے مرد سخت زہر لگتے ہیں ۔۔۔۔وہ اتنی غصہ ہوگئی تھی کہ سائیڈ ٹیبل پہ چائے کے کپ پٹختی غصہ اتارنے لگی تھی
صیح کترینہ کیف لگ رہی ہو لگ رہا ہے کوئی شے دے مارو گی میرے سر پہ۔۔۔۔! ااس کے لال چہرے کو مزے سے کہتا اور چڑانے لگا تھا۔
اب اتنی بھی ظالم نہیں ہوں ۔۔۔۔اس نے ڈوپٹے سر پہ کرتے ہوئے کہا تھا روشنال کو لگا وہ احتیاطی تدابیر باندھ رہی ہے۔۔
مطلب تھوڑی تھوڑی ظالم ہو۔۔۔چلو اور کوئی چیز نہ مارو آنکھ ہی مار لو ۔۔۔! روشنال درد کو نظر انداز کرتا مسلسل اسے جی بھر کر دیکھنے کی خاطر بے تکی باتیں کر رہا تھا جو اس اناپرست کی فطرت کے خلاف تھا۔
اللہ پوچھے گا آپ سے ۔۔۔۔آپ مجھ معصوم کو تنگ کر رہے ہیں اور میں جا رہی ہوں نیچے ۔۔۔۔چائے پی لیجئے گا ۔۔۔وہ یہ کر جانے لگی تھی
اس کے یہ کہنے کی دیر تھی جب روشنال نے اس کے ہاتھ سے دوسرا کپ اٹھایا اور ٹرے اٹھاتی جانے لگی تھی۔
بات سنو۔۔۔۔! اس نے صرف کہا ہی نہیں تھا بلکہ اس کی کلائی پکڑی تھی اور اپنے سے کچھ فاصلے پہ بیٹھایا تھا
بیٹھو یہاں مساج کرو میرے کندھوں پہ۔۔۔۔وہ دوا اس کے ہاتھ میں تمھاتا سنجیدہ ہوکر لیٹ گیا تھا۔
وہ لیٹ گیا تھا جب کہ اشنال دوا کو گھورنے لگی تھی ۔۔۔
یہ مجھے نہیں کرنا آتا۔۔۔ آپ خود کریں ۔۔۔۔! وہ صاف لفظوں میں انکار نہیں کرسکی تھی تو اس لیے ان ڈائریکٹ کہا تھا وہ اس شخص سے گبھرا گئی تھی اور اٹھ کھڑی ہوئی تھی وہ اس کا شوہر تھا یہ کام کرنے میں وہ ہچکچاتی نہیں لیکن وہ گبھرا ضرور گئی تھی جس کا رئکشن اب روشنال دینے والا تھا
مجھے کوئی شوق نہیں تھا شدید قسم کا درد ہو رہا تھا ڈاکٹر نے کہا تھا کہ زخم کی وجہ سے کھنچاؤ ہوگا ۔۔۔۔میں نے بھی سنی ان سنی کر دی تھی اب یہ وجہ سامنے آرہی ہے ۔۔! تم جانا چاہو تو جاسکتی ہو ۔۔۔یہ کہتے اٹھ کر اس نے وائٹ بینان اٹھا لی تھی۔
میں نے انکار تو نہیں کیا ۔۔۔۔! مجھے کرنا نہیں آتا اس لیے کہا تھا میں کوشش کرتی ہوں ۔۔۔۔وہ اسے کی بنیان پہ ہاتھ رکھتی بولی تھی اور اس کے پاس بیٹھ گئی تھی اسے لگا وہ ناراض ہوگیا تھا اس میں اس بیچاری کی کوئی غلطی نہیں وہ منہ بھی تو چھوٹی چھوٹی باتوں پہ بنا لیتا تھا۔
نو نیڈ اینڈ تھینک یو ۔۔۔۔اس نے منہ بنا کہ اس کا ہاتھ ہۓایا تگا
اللہ جی ہوگئی شروع ایموشنل بلیک میلنگ ۔۔ وہ غصہ ہوئی اور بیٹھ کر اسکی مساج شروع کرنے لگی تھی وہ طرم خان بن کر مساج تو کرنے لگی مگر ہاتھوں پہ لرزش ہونے لگی تھی اس کی سانسوں کی تپش اور اس کی نگاہوں کا طلسم اس کے کام کو مشکل میں ڈال رہا تھا۔۔۔!
وہ تھوڑی دیر خاموشی سے کرتی رہی پھر ہاتھ دھونے کےلیے واشروم چلی گئی تھی واپس آئی تو وہ اب قمیض پہن کے بیڈ کے ساتھ ٹیک لگا کہ بیٹھ کہ چائے پینے میں مصروف ہوچکا تھا۔
وہ سر سے ڈوپٹہ اتار کر آہستگی سے کمفرٹ کرتی دوسری سائیڈ پہ آکہ لیٹ گئی تھی اس کے فیس ایکسرپیشن دیکھ کر اسے لگا کہ وہ ناراض ہے اس لیے پریشان سی ہوگئی تھی معصوم سے چہرہ مرجھا سا گیا تھا وہ تو اس کی مضبوط پناہ میں سونے کی عادی تھی۔
کیا ہوا ہے منہ کیوں لٹکا ہوا ہے اب تک تو بالکل ٹھیک تھی۔۔۔۔وہ چائے کا کپ سائیڈ پہ رکھتا اس کی طرف کھسک آیا تھا اور اس کے اوپر جھک کر بولا تھا۔۔
کچھ نہیں ۔۔۔۔بس نیند نہیں آ رہی مجھے ….وہ سر مزید بازؤں میں دیے بولی تھی۔۔
آئے گی بھی کیسے بری عادتیں جو ڈال دی ہے تمھیں۔۔۔! وہ اس کے بالوں سے کھیلتا طلسم زدہ لہجے میں کہنا لگا تھا ۔۔
لگتا ہے پچھتا رہے ہیں ۔۔۔۔ویسے میں نے نہیں کہا تھا بری عادتیں ڈالیں مجھے۔۔۔۔! وہ اس کے ہاتھوں کو اپنے بالوں سے پرے کرتی غصہ ہوئی اس کے بالوں کو کھینچتی ہوئی بولی۔۔
ان دونوں میں سہی ٹوم اینڈ جیری والی حرکتیں پائی جاتی تھیں لڑتے لڑتے ایسے ہو جاتے تھے جیسے دنیا میں محبت ان دونوں سے ہی شروع ہوئی ہو۔۔۔۔اور ہنستے ہنستے ایسے لڑنے مرنے پہ آمادہ ہوجاتے کہ نفرت کا لفظ ایجاد ان کےلیے کیاگیا ہو۔۔۔۔!
ایک منٹ سے پہلے آنا ہے میرے پاس تو ٹھیک ورنہ میں۔۔۔۔! وہ جو دور ہوکہ بیٹھا تھا اب آدھی ادھوری دھمکی دی تھی اسکو۔
ورنہ کیا۔۔۔۔کیا کر لیں گے ۔۔۔۔! بتائیں تو سہی ۔۔۔۔وہ اب کی بار رخ موڑتی غصے سے بولی تھی ۔۔
روشنال اس کے پاس پھر کھسکا اور اب کی بار ایک زوردار بوسہ اس کے گال پہ دیا اور اسے مکمل بازؤں کے حصار میں لے لیا تھا روشنال ساکت سی ہوگئی تھی اسکا دل دھک دھک کر رہا تھا۔۔
چھوڑیں ۔۔۔۔۔وہ اس کی گرفت سے نکلنے کی کوشش کر رہی تھی وہ ضدی ہوجاتی تھی
اچھا اب بتائیں آپ کیا کہہ رہی تھیں کہ میں پچھتا رہا ہوں آپ کو غلط عادتیں ڈال کر ۔۔۔۔۔! اور پھر کہہ رہی تھیں میں کیا کرلوں گا ۔۔۔! وہ پھر سے اسے اپنی گرفت میں مضبوط کرتا بولا تھا
میں بہت کچھ کرسکتا ہوں زوجم بھول گئیں ہیں کیا ۔۔۔اور کچھ گزرے لمحات میری سنگت میں جو آپ نے گزارے بھول گئی ہیں تو یاد کروا دوں۔۔۔!اور ضد کرنا اچھی بات نہیں ہوتی جیسے بالکونی پہ کی تھی اس دن کی طرح بہک گیا نا تو پھر کدھر جاؤ گی ۔۔۔۔۔! وہ یہ کہتا جھک کر اس کی ناک سے ناک مس کرتا پیچھے ہوا تھا۔
افف بہت بے شرم ہے آپ ۔۔۔۔! وہ اس کی بات کا اشارہ سمجھتی سر سے پاؤں تک سرخ پڑی تھی اس کہ منہ پہ ہاتھ رکھتی اس کے پاؤں پہ پاؤں مارتی اٹھ بیٹھی روشنال اس کو دیکھتا اس کو اپنی گرفت سے آزاد کیا تو اشنال ناسمجھی سے دیکھنے لگ پڑی تھی۔
تمھیں نیند نہیں آرہی مجھے تو آرہی ہے سکون کی ضرورت ہے اور وہ یہ سکون یہاں سے مل سکتا ہے۔۔۔۔! وہ یہ کہتا اس کی گود میں سر رکھ کہ لیٹ گیا تھا ۔۔
اشنال نے پھر کچھ نہیں کہا اور اس کے گھنے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگی تھی وہ شاید تھکا ہوا تھا یا اس کی نرم انگلیوں کے لمس کا جادو تھا کی وہ دیوتائی حسن رکھنے والا شہزداہ اچانک سوگیا تھا وہ سوتے ہوئے لگتا ہی اتنا پیارہ تھا کی وہ دیوانوں کی طرح اسے دیکھتی جھک کر اس کی آنکھوں پہ لب رکھ چکی تھی وہ ایسے ہی سوتا رہا تھا اشنال وارفتگی سے اسے دیکھنے لگ پڑی تھی یہ بھی سمجھ لگی کہ وہ جاگ گیا ہے ۔!
یہ رات و رات دیکھنے کا سلسلہ کب سے شروع ہوا ہے زوجم۔۔۔۔۔! آنکھوں میں چمک مگر انداز سادہ تھا ۔۔۔
تو آپ کو دیکھنے پر بھی ٹیکس دینا پڑے گا۔۔۔۔! وہ زچ ہوئی تھی
نہیں بالکل نہیں بلکہ مجھ سے لے لو جتنا لینا چاہو مگر شرط یہ ہے یوں سوتے ہوئے نہیں بلکہ میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا کرو زوجم ۔۔۔! وہ اس کو دیکھتے شریر سا بولا تھا۔
ویسے مجھے اٹھا ہی دیتی تھک گئی ہوگی ۔۔۔۔! لیٹ جاؤ۔۔۔اب اس نے فون اٹھا کر ٹائم تو دیکھا تو ساڑھے دس بج رہے تھے۔
آپ سوتے ہوئے لگ ہی اتنے اچھے رہے تھے کہ اٹھانے کا دل ہی نہیں کیا ۔۔۔۔! اس نے سادگی سے کہا تو وہ اس کی گود سے سر اٹھاتا اٹھ کھڑا ہوا تھا۔۔!
کہاں جارہے ہیں اب ۔۔۔۔۔۔۔؟ وہ اس کے یوں اچانک اٹھنے سے گبھرا گئی تھی۔۔۔
درد ہو رہا تھا کافی اس لیے نماز نہیں پڑھ سکا۔۔۔۔تم سو جاؤ۔۔۔۔وہ اپنے کپڑے الماری سے نکالتا ہوا بولا ۔۔۔۔!
میں نے تو نماز پڑھ لی ہے ۔۔۔۔۔! لیکن مجھے بھی آپ کے ساتھ نفل پڑھنے ہیں سپرمین ۔۔۔۔! آپ کے ساتھ نماز ادا کرکے سکون ملتا ہے وہ فجر کی نماز ہمیشہ اس کے ساتھ ادا کرتی تھی عشا کی نماز اس کے لیٹ آنے کی وجہ سے وہ خود ہی پڑھ لیتی تھی آج تو وہ پھر جلدی آگیا تھا۔ وہ یہ کہہ کر ڈوپٹہ اٹھاتی اٹھ کھڑی ہوئی تھی ۔۔
یہ تو اچھی بات ہے ۔۔۔۔۔! تم بیٹھو میں تب تک فریش ہو لوں۔۔۔۔! وہ یہ کہتا باتھ لینے چلا گیا تھا وہ واپس آیا تو وہ وضو کرنے چلی گئی تھی۔۔۔
پھر اس نے روشنال کے ساتھ نفل پڑھے تھے اور اس کے کندھے پہ سر رکھا تھا ہمسفر کے ساتھ تو عبادت کرنے میں اپنا ہی لطف تھا اس نے ایک دن سورہ رحمن کی فرمائش کی تو اب وہ اسے خوبصورت آواز سے روز سناتا تھا ۔۔۔۔۔! اشنال کی ہر دعا میں بہن سے ملنے کی دعا ضرور ہوتی تھی ۔۔۔۔!
******
انا۔۔۔۔۔۔میں نے آج نہیں جانا مسجد نہ۔۔۔۔۔! وہ جو پہلے اسے تیار کر چکی تھی اب اسے چھوٹے سے ڈوپٹے کا حجاب کروا رہی تھی اس کی ضد سن کر اس کی طرف متوجہ ہوئی تھی۔
میری مانو تو بہت اچھی بچی ہے نا ۔۔۔۔۔! مسجد جائیگی نا۔۔۔مسجد تو گندے بچے نہیں جاتے نہ ۔۔۔۔۔آپ تو اچھی بچی ہو نا مسجد جاؤ گی تو اللہ آپکو اتنی زیادہ چیز دے گا ۔۔۔۔! وہ ہاتھوں کے اشارے سے بازؤں کو کھولتی اسے بتا رہی تھی۔۔
انا ۔۔۔حافظ جی تو کہتے ہیں اللہ جی بڑے ہیں تو اللہ سے ادب سے بات کیا کرو ۔۔۔۔پھر آپ کیوں کہہ رہی ہیں وہ چیز دے گا ۔۔۔وہ تو چیز دیں گے ۔۔۔۔وہ تو سب سے بڑے ہیں ۔۔۔؟ اور بختی اماں تو کہتی اللہ تعالی جہنم میں ڈالیں گے۔۔۔ مانو یہ کہتے الجھی ہوئی لگ رہی تھی
ابھی تم چھوٹی ہو جب بڑی ہو گی تب بتاؤں گی۔۔۔۔! اور اللہ ایک ہے اس لیے اللہ کو آپ کہنا کفر میں شامل ہوتا ہے اور اللہ کو توُ کہنے سے ثواب ملتا ہے وہ اس کے ذہن کے آسان لفظوں میں سمجھا رہی تھی ۔۔۔!
مگر اس کی دوسری بات سن کر سوچنے لگ پڑی تھی کہ اس چھوٹی سی بچی کے ذہن میں اللہ کا ڈر ڈال دیا گیا تھا پھر بھی وہ مسجد نہیں جاتی تھی دراصل ہم اپنے بچوں کو اللہ سے ڈارتے ہیں اسے کبھی محبت سکھائی ہی نہیں جاتی تب ہی تو وہ اللہ سے دور ہوجاتے ہیں ان کے کچے ذہنوں میں ہم ڈر ہی بٹھاتے ہیں اس لیے تو وہ خدا کا خاکہ اپنے ذہن میں عجیب سا بنالیتے ہیں اگر ہم ان کو اللہ سے محبت سکھائیں نہ تو وہ اللہ ہی کو دوست سمجھیں ۔۔۔۔اور خدا کی محبت تو پھر سب محبتوں سے برتر ہوتی ہے ۔۔۔!
جب آپ جتنی ہو جاؤں گی تب بتائیں گی ۔۔۔وہ رومالی کو دونوں ہاتھوں سے پیچھے کرتی بہت معصومیت سے بولنے لگی ۔۔۔!
جب آپ مجھ جتنی ہوں گی تب آپ کو ہر چیز کی خودبخود سمجھ آئے جائے گی ۔۔۔۔! وہ اسے بتاہی رہی تھی جب محلے کے بچے حلیمہ سعدیہ اور ایک چھوٹا سا بچہ بھاگتا ہوئے آئے تھے ۔۔۔
مانو مسجد چلو۔۔۔۔۔حافظ جی مرغا بنائیں گے ۔۔۔! کچھ دیر میں اپنے ساتھ لے کے چلے گئے تھے بچوں کی بات سے اسے یاد آیا کہ مرغی اور اسکے بچے بنجرے سے باہر نکالنے ہے اس نے دھریک کے نیچے سے ہلکا سا بنچرہ اٹھایا تو وہ قلابازیاں کھاتے ماں کے ساتھ نکل پڑے تھے وہ کچھ دیر ان کو دیکھتی جھاڑوں اٹھائے صحن کی طرف آچکی تھی مسجد سے بچوں کےپڑھنے کی آوازیں آئیں تو اس نے وقت دیکھا تھا۔۔
پونے پانچ بج چکے تھے بختی اماں کے چارہ لانے سے پہلے اس نے ساری صفائی بھی کرنی تھی اور ہانڈی بھی بنانی تھی اس نے سوچا تھا وہ جلدی جلدی کرلےگی ہلکی ہلکی ہوا کی وجہ درختوں کے زرد پتے ساری صحن میں بکھرے پڑے تھے ایک دفعہ آگے ہوکر ماں کو دیکھنا مناسب سمجھا آگے ہوکر دیکھا تو وہ ایک سادہ سا بیج اٹھائے اس کے نوٹ بنا رہی تھی وہ تاسف سے سر ہلاتے پھر سے صحن میں آچکی تھی۔
منال سوچا کہ ان کے ذہن سے ہرچیز خالی ہوگئی تھی کوئی شے ان کو یاد نہیں تھی لیکن ان کے ذہن کی خالی سلیٹ پر لفظ دولت کا نشہ ابھی تک تھا اور وہ شاید مرنے تک رہنا تھا اس کی ماں ہر چیز لے کہ آئی تھی زیوارت پیسے وہ سب کے سب جوں کے توں بیگ میں پڑے ہوئے تھے وہ ہاتھ بھی مشکل سے لگاتی تھیں وہ چیزیں دیکھ کر ہی اسے وحشت ہوتی تھی اُن چیزوں نے اس کی خوشیاں چھین لی تھی سکون برباد کرکے رکھ دیا تھا ان کی وجہ سے سب کا اعتبار ٹوٹ گیا تھا۔۔۔۔اور سب سے بڑھ کر حسنال بخت جیسا محبت کرنے والا شوہر روٹھ گیا تھا ۔۔۔!
وہ صحن سے صفائی کرنے لگ پڑی تھی وہ ابھی صفائی کر ہی رہی تھی جب چوزے کے شور مچانے کی آواز سنائی دی وہ چوں چوں کر رہی تھا وہ چوزا ماں سے دور اکیلا تھا ۔۔۔اس نے دیکھا تو وہ کوا اس چوزے کے ارگرد گھاٹ لگائے بیٹھا تھا وہ اڑ کر جیسے ہی اس کے پاس پہنچتا مرغی جو اپنے گیارہ بچوں کو چھوڑتی اس تک آئی اور غضب سے اس کے آگے لڑنے مرنے کو تیار ہوگئی تھی کوا ایسے ہی بیٹھا تھا جب وہ جھپٹ کے پھر اس کو مارنے کےلیے آگے بڑھی تھی تو وہ ڈر کے اڑگیا تھا ڈرا سہما سا چوزہ ماں کے پروں کے نیچے چھپنے لگا تھا اس کو بے اختیار اپنی ماں کی یاد آئی تھی جس نے وقار جیسے کوے اور حسن آرا جیسی چیل سے بچایا تھا ماں تو ماں ہوتی ہے جیسی بھی ہو ۔۔۔۔۔۔اس کی ماں جتنی بھی بری سہی مگر اس کی آبرو کی خاطر اس سے لڑ پڑی تھی ابھی تو اس نے تو سوچا تھا ابھی تو اس کے دکھوں کی شروعات ہوئی تھی لیکن اب اس نے صبر کرنا خود پہ لازم کرلیا تھا۔۔۔
*زندگی کی کتاب میں ہر قسم کا chapter شامل ہوتا ہے، ہـر صفحہ نئی داستان سُناتا ہے…!* کسـی صفحے پر خُوشیاں بِکھری ہوتی ہیں تو کسی صفحے پر غم. اگـر آج آپ کو کسی ایسے chapter کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جہاں آپ کـے پاس صرف غم ہی غم ہیں تو یقین رکھیں یہ حالات صــرف وقتی ہیں..آپ آج کے غم پر رونے میں اِتنا وقت نہ لگائیے کہ صفحہ پلٹنـا ہی بُھول جائیں…!*یقیـــن کریں! اگلے صفحے پر خوشیاں ہاتھ پھیلائے آپ کی منتـــظر ہیں…!بــس آپ کے Move on کرنے کی دیر ہے…!*
Instagram
Copy link
URL has been copied successfully!

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

کتابیں جو آپ کے دل کو چھوئیں گی

Avatar
Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial