قسط: 12
ناشتے کی ٹیبل پر سب کچھ معمول کے مطابق تھا بس ایہاب اور حورم کی کمی تھی
کیونکہ صبح پانچ بجے کی فلائٹ سے حورم ایہاب کے ساتھ پاکستان جاچکی تھی
احسان اسے کبھی بھی اکیلا نہیں بھیجتا تھا وہ ہمیشہ ایہاب یا وصی کے ساتھ ہی جاتی تھی
جبکہ اگر یہاں پر آنا ہوتا تو بھی وہ ماہر یا ساحر کے ساتھ ہی آتی تھی اور وہ خوشی سے یہ کام سر انجام دیتے
کیونکہ اسی بہانے باقی سب سے بھی ملاقات ہوجاتی تھی
“مام کہاں ہیں”
حفضہ کی غیر موجودگی دیکھ کر اسنے احسان کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
“کچن میں ہے اور اسکے ناشتے کی فکر مت کرو اسنے صبح حورم کے ساتھ کھا لیا تھا”
اسکی بات سن کر وہ اپنا سر ہلاتے ہوئے اپنی جگہ سے اٹھا
“تمہارا پارسل آیا تھا تمہارے کمرے میں رکھوا دیا ہے”
اپنی جگہ سے اٹھ کر اسنے عائشہ کے کان میں سرگوشی کی
جو اسکی بات سن کر حیرت سے اسکی طرف دیکھنے لگی اسکا کون سا پارسل آگیا
اسنے تو کچھ آرڈر بھی نہیں کیا تھا ارتضیٰ اسکا ناشتہ خراب کرچکا تھا اور اب جب تک وہ اس پارسل کو دیکھ نہیں لیتی تب تک اسکی بےچینی ختم نہیں ہونی تھی
“میں ابھی آتی ہوں”
تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر وہ اٹھنے لگی
جب میشال کی گھورتی نظروں نے اسے دوبارہ بیٹھنے پر مجبور کردیا
“پہلے ٹھیک سے ناشتہ کرو پھر جہاں جانا ہو چلی جانا”
میشال کی بات پر وہ بےدلی سے ناشتہ کرنے لگی
جبکہ اسکا بگڑا موڈ دیکھ کر وہ مسکراتے ہوئے کچن کی طرف چلا گیا
وہ پارسل حمزہ نے بھیجا تھا اسے اس بات کا یقین تھا مگر یہ بات وہ کسی سے کہہ نہیں سکتا تھا
وجہ سب نے یہی کہنا تھا کہ اس لڑکے نے عائشہ کو یہ سب کیوں بھیجا اور اس بات کا جواب دینے کا اسکا فلحال کوئی ارادہ نہیں تھا
رہی بات عائشہ کی تو اسکے چھوٹے سے ذہہن میں یہ بات ہر گز نہیں آنی تھی کہ اسے پارسل کس نے بھیجا ہوگا
°°°°°
کچن میں داخل ہوتے ہی اسنے وہاں کھڑی حفضہ کو اپنے حصار میں لیا جو اسکی اس حرکت پر مسکرا کر اسے دیکھنے لگی
“مائی ڈئیر مام آخری بار پوچھ رہا ہوں زریام بھائی سے آپ بات کریں گی یا پھر یہ قدم میں خود اٹھا لوں”
اسکی بات سنتے ہی حفضہ کی مسکراہٹ غائب ہوئی
اپنا چہرہ موڑ کر اسنے ارتضیٰ کی جانب دیکھا جو اسکی بات سننے کا منتظر تھا
“ارتضیٰ کیوں بچوں کی طرح ضد لگا کر بیٹھے ہو”
“ضدی تو میں ہمیشہ سے ہوں”
“لیکن اس بار تم غلط جگہ ضد لگا رہے ہو میری جان تم دنیا کی کسی بھی لڑکی کا نام لو گے میں اسے تمہارے لیے لے آؤں گی لیکن حورم کو نہیں لاسکتی”
“مجھے صرف حورم چاہیے آپ کیوں نہیں سمجھ رہی ہیں حورم شاہ میری زندگی ہے آپ مجھے بتائیں آپ بات کریں گی یا پھر میں خود بات کروں”
اسکا ضدی لہجہ دیکھ کر حفضہ نے ایک پل کے لیے اپنی آنکھیں بند کیں اور پھر ہولے سے اپنا سر ہلادیا
“ٹھیک ہے میں زریام سے بات کروں گی لیکن وہ انکار ہی کرے گا”
“انکے انکار کو اقرار میں بدلنا میرا کام ہے آپ بس بات کیجیے”
اسکے ماتھے پر اپنے لب کر وہ تیز تیز قدم اٹھاتا وہاں سے چلا گیا اور وہ کتنی دیر تک بےبسی کی کیفیت میں وہیں کھڑی رہی
اسے پتہ تھا کہ زریام تو کیا حویلی کا کوئی فرد اس رشتے کے لیے نہیں مانے گا حتیٰ کے پریشے بھی نہیں جس کی ارتضیٰ میں جان اٹکی رہتی تھی
“کوئی تو راستہ ہوگا جو ارتضیٰ کو اپنے قدم پیچھے پر مجبور کردے”
یہ خیال زہہن میں آتے ہی وہ چونکی
ہاں راستہ تو تھا اگر حورم کسی اور کی ہوجاتی تو شاید ارتضیٰ اپنے قدم پیچھے ہٹا لیتا
°°°°°
دبے پاؤں وہ اندر داخل ہوئی جب پہلی نظر وہاں بیٹھے زریام کی پشت پر گئی
جو اپنے سامنے ٹیبل پر کاغذات پھیلائے نہ جانے کون سے حساب کتاب کررہا تھا
مسکراتے ہوئے وہ صوفے کے قریب گئی اور آگے بڑھ کر زریام کی دونوں آنکھوں پر اپنے نرم ہاتھ رکھ دیے
اپنی آنکھوں پر اسکے ہاتھ محسوس کرکے زریام کے چہرے پر جاندار مسکراہٹ نمودار ہوئی
حورم آنے والی تھی یہ بات وہ پہلے سے جانتا تھا اگر نہ بھی پتہ ہوتا تو بھی اپنی بیٹی کا لمس وہ اچھے سے محسوس کرلیتا تھا
“حورم میری جان”
اسکا ہاتھ اپنی آنکھوں سے ہٹا کر زریام اپنی جگہ سے اٹھا اور اسے سختی سے خود میں بھیج لیا
“کیسا لگا سرپرائز”
“بہت پیارا”
اسکے بالوں میں ہاتھ پھیر کر زریام نے مسکراتے ہوئے اسکی پیشانی پر اپنے لب رکھے اور اسے واپس اپنے سینے سے لگا کر حوریب کو آواز دینے لگا
یقینا اب اسنے سارے گھر میں شور مچا دینا تھا کیونکہ اسکی بیٹی جو واپس آئی تھی
°°°°°
اپنی پسندیدہ جگہ پر بیٹھی وہ اپنے نئے کھلونوں سے کھیل رہی تھی جو حورم اسکے لیے لائی تھی جب ازمیر کی آواز اسکے کانوں میں پڑی
“عائزل چندہ”
ازمیر کی آواز سن کر اسنے منہ بگاڑ کر اسکی طرف دیکھا جو اسے ڈسٹرب کررہا تھا
“میرا ایک کام کرو گی”
ہاتھ میں پکڑا بیگ سائیڈ پر رکھ کر وہ اسکے پاس بیٹھ گیا
“میں کھیل رہی ہوں ازمیر لالا”
“ہاں تو کھیل لینا منع کس نے کیا ہے بس ایک کام کردو دیکھو اس کام کے بدلے میں تمہیں یہ انعام بھی دوں گا”
اسنے سائیڈ پر رکھے بیگ میں سے ایک چھوٹا سا بوکس نکالا اور اسے کھول کر عائزل کے سامنے کردیا اس میں چاکلیٹ ڈونٹس تھیں
“یہ میرے لیے ہے”
“ہاں بلکل بس تم ایک کام کردو یہ بیگ اپنی منت آپی کو دے آؤ ان سے کہنا سمبھال کر رکھے”
“آپ خود کیوں نہیں دے رہے”
“کیونکہ میں باہر جارہا ہوں تم دے آؤ”
بیگ اسکی گود میں رکھ کر وہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا کیونکہ اسے پتہ تھا کہ عائزل نے اسکا کام اب خود کردینا تھا
“اس میں ہے کیا”
اس نے بیگ میں منہ ڈالا اور پیک شدہ باکس دیکھ کر ازمیر سے پوچھنے لگی جس پر وہ گہرا سانس لے کر رہ گیا
“ایک ضروری چیز ہے”
اب اس معصوم کو کیا بتاتا کہ بیگ میں کیا چیز تھی
“آپ انہیں خود کیوں نہیں دے کر آئے”
“کیونکہ یہ کام تم زیادہ اچھے سے کرسکتی ہو”
اب اسے کیا بتاتا بیگ میں موجود چیز دیکھ کر یقیناً منت کے چہرے پر سرخی چھا جاتی جسے دیکھ کر اسکا دل بے ایمان ہوجاتا
°°°°°
اسنے مصروف سے انداز میں بجتے فون کو ایک نظر دیکھا اور اٹھا کر کال پک کرلی
“اسلام و علیکم حفضہ آنٹی”
“وعلیکم سلام زریام کیسے ہو تم”
“بلکل ٹھیک ہوں آپ سنائیں”
“الحمدللہ بلکل ٹھیک”
اسنے گہرا سانس لے کر اپنی بات کا آغاز کیا جسے کے لیے زریام کو فون کیا تھا
“زریام حورم بتارہی تھی کہ اسکے لیے رشتہ آیا ہے”
“جی نور نے بتایا ہے گھر کی خواتین کل ہی گئی تھیں کافی تعریف کررہی تھیں کہ لڑکا بہت اچھا ہے نور نے حورم کی تصویر دکھائی دی انہیں بھی وہ پسند آگئی اور اب چونکہ حورم یہاں آگئی ہے تو پھر وہ لوگ اسے دیکھنے کے لیے آنا چاہ رہے ہیں”
“تو پھر تم نے کیا سوچا اس بارے میں” اسنے جلدی سے پوچھا
“ابھی تو سوچ ہی رہا ہوں ظاہر سی بات ہے میں اپنی بیٹی کو ایسے ہی تو کسی کے ساتھ رخصت نہیں کردوں گا نہ”
“زریام میں چاہتی ہوں کہ اگر سب کچھ ٹھیک لگے تو تم کچھ وقت میں ہی حورم کا نکاح کر دو”
اسکی بات سن کر زریام چونکا
“کیوں”
اب وہ اس کیوں کا جواب کیسے دیتی
“زریام ارتضیٰ حورم سے شادی کرنا چاہتا ہے”
حیرت کا پہاڑ ہی تو تھا جو اس وقت زریام شاہ کے سر پر گرا تھا
“کیا کہہ رہی ہیں آپ دماغ ٹھیک ہے ارتضیٰ کا کیا وہ رشتوں کا لحاظ بھول چکا ہے”
“زریام وہ آج سے نہیں بہت پہلے سے اسے پسند کرتا ہے مجھے لگتا تھا شاید وقت کے ساتھ وہ سمجھ جائے لیکن وہ اپنی بات سے پیچھے ہٹنے کو تیار ہی نہیں ہے ایسے میں بس دو ہی راستے ہیں یا تو تم ارتضیٰ اور حورم کی شادی کے لیے مان جاؤ”
“ہر گز نہیں”
اسکی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی زریام چیخ اٹھا
“یا پھر حورم کا نکاح کسی اور کے ساتھ کردو کیونکہ اسی طرح وہ حورم سے دور ہوسکتا ہے”
“ارتضیٰ جو کرنا چاہتا ہے کرلے مجھے پرواہ نہیں ہے اسکی ضد میں آکر نہ تو میں اپنی بیٹی اسے دے سکتا ہوں نہ ہی اسکے ڈر کی وجہ سے اپنی بیٹی اتنی جلدی کسی غیر کو تھما سکتا ہوں”
“تم ارتضیٰ کو نہیں جانتے ہو زریام اگر وہ اپنی ضد پر آجائے تو کسی کی نہیں سنتا خود کو نقصان پہنچانے سے بھی پیچھے نہیں ہٹتا ہے میری بات مانو اگر رشتہ مناسب ہے تو حورم کا نکاح کردو رخصتی بھلے بعد میں رکھ لینا”
اسکی بات کا بنا کوئی جواب دیے زریام نے کال کاٹ دی اور اپنی دکھتی کنپٹی سہلانے لگا
اسے پچھتاوا ہو رہا تھا اسنے کیوں حورم کو پڑھائی کرنے کے لیے وہاں بھیجا
اگر اسے ارتضیٰ کی نیت کا زرا سا بھی اندازہ ہوتا تو وہ کبھی بھی حورم کو وہاں نہ بھیجتا
°°°°°
“کیا تم نے یہ ٹھیک کیا حفصہ”اسکے فون رکھتے ہی بیڈ پر بیٹھے احسان نے سنجیدگی سے پوچھا
اگر ارتضیٰ کو یہ سب پتہ چل جاتا تو نہ جانے وہ کیا کر گزرتا
“ہاں احسان ابھی کے لیے یہی ٹھیک ہے”
“جانتی ہو نہ اگر ارتضیٰ کو پتہ چل گیا تو کیا ہوگا”
“میں نہیں جانتی کہ کیا ہوگا پر جو بھی ہوگا کم از کم اس سے تو اچھا ہی ہوگا جو ارتضیٰ چاہتا ہے”
“حفضہ”
اسنے کچھ کہنا چاہا لیکن حفضہ اسکی بات نہیں سن رہی تھی
“غلطی ہماری ہے احسان ہمیں ارتضیٰ کو اتنے لاڈ میں نہیں پالنا چاہیے تھا اگر وہ کوئی ضد کرتا تو ضروری تو نہیں تھا کہ اسکی ہر ضد پوری کردی جاتی”
“اب ان باتوں کا کوئی فائدہ نہیں ہے حفضہ”
“ہاں اب ان باتوں کا بھلا کیا فائدہ”
اسنے گہرا سانس لیا اور سارے برے خیالوں کو جھٹک کر بیڈ پر جاکر بیٹھ گئی
°°°°°
“منت آپی”
دروازہ کھول کر وہ کمرے میں داخل ہوئی جب وہاں کھڑی منت کو دیکھ کر اسکی چیخ نکلی
“آہ”
“شش عائزل یہ میں ہی ہوں اس کالے چہرے کے پیچھے میرا وہی خوبصورت چہرہ ہے”
اسے خاموش کروا کر منت نے اپنے چہرے کی طرف اشارہ کیا
جس پر اس وقت بلیک ماسک لگا ہوا تھا
“یہ کیا لگایا ہوا ہے”
“یہ بلیک ماسک ہے تمہارے بھی لگاؤں” اسکے پوچھنے پر عائزل نے جلدی سے اپنا سر نہ میں ہلایا
کہیں منت سچ میں ہی اسکے ماسک نہ لگادے
“اچھا بتاؤ کوئی کام تھا”
“یہ ازمیر لالا نے بھیجا ہے آپ کے لیے”
“اچھا تم کھولو میں ہاتھ دھو کر آتی ہوں”
اسکی بات سن کر وہ اپنا سر ہلاتے ہوئے بیگ میں سے وہ بوکس نکال کر اسے کھولنے لگی
“منت آپی یہ تو آپ کے لیے بہت چھوٹا ہے”
اسنے واشروم سے نکلتی منت سے کہا جو حیرت سے عائزل کے ہاتھ میں موجود اس شارٹ ڈریس کو دیکھ رہی تھی
“اف ازمیر تمہیں بھری دنیا میں یہی ایک چیز ملی تھی گفٹ دینے کے لیے”
“یہ میرے لیے نہیں ہے عائزل میری دوست کی بیٹی ہے تو ازمیر سے اسکے لیے منگوایا تھا “
اسنے عائزل کے ہاتھ سے وہ ڈریس لیتے ہوئے اسے بتایا جو اسکی بات سمجھ کر اپنا سر ہلا گئی
‘کسی کو بتانا مت تمہارا اور میرا سیکریٹ ہے”
“نہیں میں کسی کو نہیں بتاؤں گی”
اسنے جلدی سے کہا جس پر وہ مطمئن ہوگئی
ورنہ ممکن تھا کہ اسنے یہ بات سب کو بتا دینی تھی
کہ ازمیر اسکی دوست کی بیٹی کے لیے ایک شارٹ ڈریس لایا تھا
ازمیر کا تو کچھ نہیں جانا تھا وہ خود ضرور پھنس جاتی کیونکہ سب جانتے تھے کہ اسکی ساری دوستیں اسی حویلی میں موجود ہیں
“لیکن یہ پہنتے کیسے ہیں میں بھی پہن کر دیکھوں”
اسکی بات کا اس سے پہلے منت کوئی جواب دیتی
دروازہ کھلا اور اندر داخل ہوتی ماہیم کو دیکھ کر منت نے جلدی سے اس ڈریس کو اپنے پیچھے چھپالیا
یہ الگ بات تھی کہ ماہیم اس ڈریس کو پھر بھی دیکھ چکی تھی اور اب گھورتی نظروں سے اسے ہی دیکھ رہی تھی
اسکی گھورتی نظریں دیکھ کر منت نے دل میں کتنے ہی ناموں سے ازمیر کو نوازا تھا
جو اسکے لیے یہ مصیبت چھوڑ کر خود غائب ہوگیا یقیناً اب ماہیم کے ہاتھوں اسکی شامت پکی آنی تھی