قسط: 16
ترکن کی انگوٹھی سے علم ہوا..
یہ ناگ قبیلے سے تھی جو افریقہ میں اباد تھا..
مگر اس قبیلے تک پہنچنا اور اس ناگن کو حاصل کرنا جان جوکھم کاکام تھا..
*”ایک اور اہم بات ہر روز یا دوسرے دن کسی بھی ناول کی قسط نہیں ائے گی انے کو ہر روز دو اسکتی ہیں نہیں تو یہ بھی ممکن ہے دس دن میں ایک ائے یہ مصروفیت اور موڈ پر ہے اس لئے اپ سب اس کی عادت ڈال لیں جو نہیں ڈال سکتے یہ عادت ان سے عاجزانہ گزارش ہے میرے ناولز پڑھنا چھوڑ دیں یا مکمل ہونے کا انتظار کرلیا کریں بجائے کمینٹس میں بار بار پوچھنے سے..”*
اگر میرے پاس اڑنے کی شکتی ہوتی تو میں اسانی سے وہاں جا سکتا تھا..
مگر صرف نادیدہ ہونے کی شکتی یا ترکن کی انگوٹھی کے سہارے ناں ہی وہاں جانا ممکن تھا اور ناں اس ناگن تک پہنچنا..
شاید ابھی میرے نصیب میں اپنی شکتیوں کو حاصل کرنا نہیں لکھا تھا..
نصیب کو کوشش سے بدلا جا سکتا ہے مگر اس کے لئے بھی وقت درکار تھا..
یعنی فی الحال فوری طور پر یہ ممکن نہیں تھا..
وہ ناگن بھی بے پناہ شکتیوں کی مالک تھی..
*”اخری اور سب سے اہم بات مجھے نفرت کی حد تک چڑ ہے نیکسٹ کہنے سے خواہ وہ پسند کی وجہ سے کہیں یا اگلی قسط کی بے صبری کی وجہ سے اور اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو عنقریب نیکسٹ کہنے والے بناء وارننگ گروپ سے بین ہوجائیں گے.
امید ہے تمام لوگ ان باتوں کا خیال رکھیں گے..”*
اگر میں وہاں پہنچ بھی جاتا تو بھی اس ناگن سے جیتنا اسان نہیں تھا..
میں نے بہتر سمجھا اس موضوع کو فی الحال دماغ سے نکال دیا جائے..
میں نے ڈرائیور کا تصور کیا تو وہ کسی مضافاتی علاقے میں ایک گھر میں موجود تھا اور ایک لڑکی کو قائل کر رہا تھا..
مگر لڑکی خوفزدہ تھی اور اس کے ساتھ انے پر تیار نہیں تھی..
میں نے انکھیں بند کرلیں اور ارام کرنے لگا..
تقریبا ایک گھنٹے بعد ہٹ کا دروازہ بجا تو میں نے اٹھ کر دروازہ کھول دیا..
ڈرائیور کے ہاتھ میں کچھ پیکٹس تھے اور ساتھ میں چادر میں لپٹی ہوئی ایک لڑکی..
ڈرائیور نے وہ کھانے وغیرہ کے پیکٹ میز پر رکھ دئے شراب میں پیتا نہیں تھا اس لئے اسے لانے سے بھی منع کیا تھا تو پیکٹس میں یقینا کھانا ہوگا..
بابو جی یہ کنول ہے..
پہلی بار ہے ناں تو تھوڑی سی گھبرائی ہوئی ہے..
میں صبح سات بجے اجائوں گا اسے واپس لینے اس کے چہرے پر مکروہ قسم کی مسکراہٹ تھی..
میں نے ایک بڑا نوٹ اس کے حوالے کیا اور دروازہ لاک کرلیا..
کنول ایزی ہوجائو اور کھانا لگائو مجھے بھوک لگی ہے..
کنول نے چادر اپنے جسم اورچہرے پر بری طرح لپیٹی ہوئی تھی..
میری بات سن کر وہ اٹھی اور میز کی طرف بڑھ گئی جہاں کھانے کے پیکٹ موجود تھے..
اس کے ہاتھوں اور جسم میں واضح کپکپاہٹ میں محسوس کر رہا تھا..
کھانے کے پیکٹ اس نے لاکر بستر پر رکھ دئے یہ ڈسپوزیبل تھے ساتھ میں کولڈ ڈرنک..
مجھے شدید بھوک لگی تھی میں نے کھانا شروع کردیا..
کنول ایک طرف کھڑی تھی چادر سے صرف اس کی انکھیں نظر ارہی تھیں اس لئے اس کے تاثرات کا اندازہ کرنا مشکل تھا..
کھانا کھا لو بھوک لگی ہے تو پھر ٹھنڈا ہوجائے گا..میں نے اسے مخاطب کیا..
نہ..نہیں..مجھے..بھوک نہیں..
پھر بھی کھا لو..
ہم دونوں صبح تک یہیں ہیں کیا ایسے ہی چادر میں لپٹی کھڑی رہو گی..
میں کھا نہیں جائوں گا تمھیں ناں تمھاری مرضی کے بناء تمھیں ٹچ کروں گا فکر مت کرو سکون سے کھانا کھائو..
میری بات سن کر اس نے میری انکھوں میں دیکھا..
شاید وہ یقین اور بے یقینی کی کیفیت سے گزر رہی تھی..
ڈرتے ڈرتے وہ بیڈ کی سائیڈ پر ٹک گئی..
میں تیسری بار کہ رہا ہوں کھانا کھا لو پھر ڈانٹ کر کہوں گا تو رونا شروع کردو گی..
میری بات سن کر اس نے ڈرتے ڈرتے چہرے سے چادر ہٹا دی مگر اور مضبوطی سے جسم پر لپیٹ لی..
موٹی موٹی انکھوں اور خوبصورت چہرے کی مالک کنول کی عمر مجھے پچیس چھبیس سال لگی..
اسکی انکھوں میں ڈر اور خوف کا ایک سمندر موجزن تھا..
وہ جانتی تھی کہ یہاں کس لئے لائی گئی ہے..
مجھے اس کے حالات جاننے کا موقع نہیں ملا تھا اس کی جگہ کوئی بھی لڑکی ہوتی جو پہلی بار ایسے کسی معاملے میں ایسی کسی جگہ پر ائی ہوتی تو اتنی ہی خوفزدہ اور پریشان ہوتی..
میرا نام شاشین ہے..کھانا کھائو..
نام سن کر اس کی انکھوں میں کچھ حیرانگی کے تاثرات ابھرے..
مگر اس نے بحرحال کھانا شروع کردیا تھا..
کھانا کھانے کے دوران خاموشی رہی اس کے بعد اس نے سب کچھ سمیٹ کر واپس میز پر رکھ دیا اور بستر کے ایک طرف کچھ دور اکر کھڑی ہوگئی…
اب بحرحال اس نے اب چہرہ نہیں چھپایا تھا اور کچھ ارام دہ محسوس ہورہی تھی..
مسئلہ یہ تھا کہ کمرے میں صرف یہی ایک بیڈ تھا اور کوئی کرسی وغیرہ موجود نہیں تھی یا شاید یہاں انے والوں کو صرف بستر اور بیڈ ہی کی ضرورت ہوتی تھی..
اس طرف اجائو کنول میں نے اسے اپنے برابر میں بستر پر انے کا اشارہ کیا..
میں پہلے کہ چکا ہوں پھر کہ رہا ہوں پرسکون ہوجائو اگر تم نہیں چاہو گی تو میں تمھاری مرضی کے بناء تمھیں ہاتھ نہیں لگائوں گا..
باتیں کرنا چاہو تو ٹھیک ہے اگر ناں چاہو تو بتا دو میں سوجاتا ہوں..
نہیں نہیں..ٹھیک ہے..اس نے شاید میری بات پر یقین کرلیا تھا اور میرے برابر میں اکر بیڈ سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی..
میں علم نجوم جانتا ہوں اور اس کے ذریعے میں کسی بھی شخص کے بارے میں سب کچھ جان سکتا ہوں..
کیا میں حساب لگا کر تمھارے بارے میں کچھ بتائوں اگر تمھیں پسند ہو تو..
یہ سب جھوٹ ہوتا ہے..
مجھے اس پر یقین نہیں..
اپ کو اس نے میرے بارے میں پہلے سے سب بتایا ہوا ہوگا..
کنول کا اشارہ ڈرائیور کی طرف تھا..
ہاں مگر وہ سب کچھ نہیں بتا سکتا ناں ہی تمھاری ذاتی زندگی یا زندگی کے خفیہ گوشوں کے بارے میں..
یہ تو کوئی بھی نہیں بتا سکتا..کنول نے کہا..
میں بتا سکتا ہوں ناں..کہا تو ہے میں علم نجوم جانتا ہوں میں نے مسکراتے ہوئے کہا..
مجھے یقین نہیں..کنول نے کہا..
چلو اگر میں نے بتا دیا سب کچھ جو دنیا میں تمھارے علاوہ کوئی ناں جانتا ہوا تو تم کم سے کم اپنی یہ چادر اتار کر ایک طرف رکھ دو گی اور ارام اور سکون سے مجھ سے بات کروگی..منظور..
ہاں..اس نےہچکچاتے ہوئے کہا..مگر ایسی باتیں جو میرے علاوہ دنیا میں کوئی ناں جانتا ہو..
میں تمھاری مہینے والی تاریخوں کا بھی بتا سکتا ہوں اتنی پرسنل تو چند باتیں ہی ہونگی ناں..
میری بات سن کر اس کے چہرے پر شرم کے تاثرات ابھر ائے..
اچھا بتائیں..میں سن رہی ہوں..
تاریخ کا بتائوں..میں نے شرارتی لہجے میں کہا..
ہاں بتائیں..اگر بتا دیا..کنول کچھ کہتے کہتے رک گئی..
میں نے انکھیں بند کیں اور ذہن میں کنول کا تصور کیا..
تمھاری تاریخ دو دن پہلے ختم ہوئی ہے..
اب خاموش رہو اور مجھے باقی حساب لگانے دو…
میں نے کہ کر انکھیں دوبارہ بند کرلیں مگر اس کا منہ حیرانگی سے کھل چکا تھا..
تمھارے باپ کا انتقال اس وقت ہوا تھا جب تم کالج میں تھیں اور بیالوجی کی کلاس میں تمھیں اطلاع دی گئی تھی..میں نے انکھیں بند کر کے ہی بولنا شروع کیا..
تمھارے علاوہ تمھاری دو بہنیں اور ایک بھائی بھی تھا جو سب سے چھوٹا تھا..
باپ کے مرنے کے چند دن بعد گھر سے باہر کھیلتے ہوئے وہ گم ہوگیا تھا یا اغواء ہوگیا تھا اور اس کا اج تک کوئی سراغ نہیں ملا..
جس گھر میں تم لوگ ہو تمھارا اپنا ہے اور تمھاری ماں کپڑے سلائی کر کے تم لوگوں کی پرورش کرتی رہی ہے..
تم گھر کا خرچ چلانے کے لئے اسکول میں نوکری کرنے پر مجبور ہوئیں اور ہر جگہ کبھی پرنسپل کبھی ساتھی ٹیچرز کی جانب سے جنسی ہراسگی کا سامنا کرنے کی وجہ سے تم کئی اسکول بدل چکی ہو..
تین سال پہلے ایک اسکول میں پرنسپل نے اور ٹائم کا بہانہ بنا کر تمھیں اسکول میں روکا تھا…
اور کوئی مشروب پلا کر تمھاری عزت کو داغدار کردیا تھا مگر یہ واقعہ تم اج تک کسی کو بتا نہیں پائیں…
ناں ہی اس کے خلاف کچھ کر پائیں صرف خاموشی سے اسکول چھوڑ دیا تھا…
مگر تم اب کنواری نہیں رہی ہو..
میں نے اپنے بازو پر کنول کے ہاتھ کی گرفت محسوس کی اس نے سختی سے میرا بازو جکڑا ہوا تھا..
کئی لڑکوں نے تمھیں محبت کا جھانسا دینے کی کوشش کی تم نے ایک دو سے دوستی بھی رکھی مگر کسی کو بھی باتوں سے اگے نہیں بڑھنے دیا..
پچھلےکچھ عرصے سے تمھاری ماں شدید بیمار ہے اور اس کے علاج کے پیسے نہیں تمھارے پاس..
اس ڈرائیور سے تمھارا تعلق اس وقت قائم ہوا جب تم نے اسکول کی نوکری پر انے جانے کے لئے وین لگوائی تھی تو یہی تمھیں اور کچھ دیگر ٹیچرز کو لاتا لے جاتا تھا..
تم اج کل پھر بیروزگار ہو ماں بھی اتنی بیمار ہے کہ بستر سے اٹھنے بیٹھنے سے قاصر ہے اور گھر میں فاقے چل رہے ہیں..
اسی ڈرائیور نے تمھیں پیسوں کے لئے یہ راہ دکھائی اور اج تمھیں لے کر یہاں اگیا ہے..
میں نے انکھیں کھول دیں..
مزید بتائوں..میں نے کنول کی انکھوں میں دیکھا..
مگر وہاں صرف انسوئوں کی نمی تھی..
اس نے میرا بازو ابھی تک جکڑا ہوا تھا..
میں نے اہستگی سے اپنا بازو چھڑوا کر اس کے کندھے پر رکھ کر اسے ساتھ لپٹا لیا..
اس بار اس نے کوئی مزاحمت نہیں کی تھی..
تم فکر مت کرو کنول میں تمھارے ساتھ تمھاری مرضی کے بناء کچھ نہیں کروں گا..
ناں ہی میں اتنا گھٹیا اور نیچ ہوں کہ کسی کی مجبوری یا ضرورت سے فائدہ اٹھائوں..
رہ گیا تمھاری ماں کا علاج اور گھر کے حالات تو اس کے لئے مجھ سے جو ہوسکا میں ضرور کروں گا..