قسط: 17
میں نے اسے سینے سے لگا لیا..
وہ بچوں کی طرح بلک بلک کر رو رہی تھی..
میں بہت دیر اس کی کمر سہلاتا رہا اور اسے پرسکون کرتا رہا..
اخرکار اس کی ہچکیاں تھم گئیں..
میں نے اس کا چہرہ ہاتھوں میں لے کر اس کا ماتھا چوم لیا..
تم بالکل فکر مت کرو میں تمھارے ساتھ ہوں..
میں پوری کوشش کروں گا تمھارے سارے مسائل حل کر سکوں..
اپ کہاں رہتے ہیں..کیا کرتے ہیں..کنول نے انکھیں پونچھتے ہوئے سوال کیا..
فی الحال تو کہیں نہیں..مگر اج کل میں لے لوں گا کوئی گھر..
اپ بہت امیر ہیں کیا..کنول نے حیرانگی سے کہا..
ہاں کہ سکتی ہو اتنا مت سوچو میرے بارے میں..
میں نے ایک بڑا نوٹ نکال کر سائیڈ میں رکھ کر باقی سارے پیسے اس کی طرف بڑھا دئے..
یہ سنبھال لو اپنے پاس اور سکون سے سوجائو دو تین گھنٹے بعد وہ لینے اجائے گا تو گھر چلی جانا..
ان پیسوں سے راشن ڈلوائو اور ماں کی دوائیں لو اس کے علاوہ گھر سے نکلنے کی ضرورت نہیں..
میں اج کل میں ائوں گا تمھارے گھر پھر اگے زندگی کا فیصلہ کریں گے..
اپ کو میرا گھر..
میں پتہ کرلوں گا اسے چھوڑو تم..
لیٹو..میں نے اسے بستر پر لٹا دیا اور خود بھی برابر میں لیٹ گیا..
میں سیدھا لیٹا ہوا تھا اور کنول کروٹ کے بل میری طرف تھی..
چادر وہ اب اتار چکی تھی اور پرسکون نظر ارہی تھی..
مجھے یقین نہیں ارہا اب تک دنیا میں ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں..
مجھے اج تک جو مرد بھی ملا اسے صرف میرے جسم سے غرض رہی صرف مفاد پرست لوگ..
مجھے ہنسی اگئی..میں اسے کیا بتاتا کہ میں انسان نہیں ہوں..
اپ ہنس رہے ہیں..
ہاں بس ایسے ہی..
میں بالکل اچھا نہیں ہوں اور بہت سی لڑکیاں میری زندگی میں ائی ہیں..
میں پہلے اس بات کا خیال نہیں رکھتا تھا کہ کوئی مجبور ہے یا ضرورت مند مجھے جو پسند اتی تھی میں اسے حاصل کر لیتا تھا..
مگر پھر مجھے احساس ہوا کہ طاقت ہونے کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ اپ جائز ناجائز کا فرق بھول جائیں..
یہ طاقت جو اپ کو عطا ہوتی ہے کسی وقت بھی اپ سے چھن سکتی ہے اور اپ بے یارومددگار رہ جاتے ہیں..
تب میری ذات میں تبدیلی واقع ہوئی اور شاید میں بدل گیا..
مگر میرے اندر کا حیوان اج بھی زندہ ہے اور وہ حیوان ہر مرد میں موجود ہوتا ہے جس کا مقصد صرف اور صرف عورت کو اپنی حوس کے لئے استعمال کرنا ہوتا ہے..
ماحول, وقت, تربیت اور تعلیم سے لوگ اس حیوان کو قابو میں رکھتے ہیں مگر یہ ہوتا ہر مرد میں ہے..
مرد دھوکےباز ہوتے ہیں..
عورت کو حاصل کرنے کے لئے وہ شادی سے لے کر محبت تک ہر کھیل کھیلتے ہیں..
جہاں انھوں نے عورت کو حاصل کرلیا وہیں ان کی نام نہاد محبت ختم ہوجاتی ہے اور پھر..
تو ان سے بچا کیسے جاسکتا ہے..کنول نے میری بات کاٹ کر سوال کیا..
کبھی کسی کی ظاہری خوبصورتی, رنگ روپ اور مال دولت پر مت جائو..
اگر کوئی شخص دل کا اچھا ہے عورت کی عزت کرنا جانتا ہے وعدہ خلاف نہیں زبان کا پابند ہے خاندانی اطور رکھتا ہے مگر خوبصورت نہیں یا زیادہ مالدار نہیں تو وہ اس شخص سے ہزار گنا بہتر ہوگا جو ظاہری اور دنیاوی مال و دولت کے باوجود سیاہ باطن رکھتا ہو..
کنول کا ایک بازو میرے سینے پر اچکا تھا اور انکھیں پرسکون انداز میں بند ہوگئی تھیں..
میں نے اس کی طرف کروٹ لی تو اس نے انکھیں کھول دیں..
میں نے اپنا بازو سیدھا کر کے اس کا سر اپنے بازو پر رکھ لیا اور اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگا..
سکون سے سوجائو..
کنول نے اسودگی سے انکھیں بند کرلیں..
میں ہمیشہ سے غلط تھا عورت استعمال کرنے کی چیز نہیں ہوتی..
ناں ہی ہر عورت کے لئے ایک جیسی سوچ رکھنی چاہئے..
شاید میں اپنی جسمانی طلب پوری کر کے بھی پرسکون ناں ہوتا جتنا سکون اپنے بازو پر سر رکھے لیٹی اس لڑکی کو دیکھ کر محسوس کر رہا تھا..
میں نے اس کا ماتھا چوم لیا..
اس بار اس نے انکھیں نہیں کھولیں تھیں..
کچھ دیر اورگزری تو وہ کروٹ کے بل ہی میرے سینے میں سما چکی تھی..
سنیں..اس کی اواز سنائی دی..
میں اس قابل نہیں ہوں اور اپ جان چکے ہیں کنواری بھی نہیں ہوں..
مگر میں خود کو اپ کو سونپ رہی ہوں..اپ کو کسی بات سے نہیں روکوں گی..
میں نے اس کا چہرے دیکھنا چاہا مگر اس نے سختی سے مجھے جکڑا ہوا تھا اور اپنا چہرہ میرے سینے میں چھپایا ہوا تھا..
اپ نے مجھے عزت دی..مان دیا..احساس کیا..میں اس کا قرض نہیں چکا سکتی..
پاگل لڑکی اگر میں نے تمھیں حاصل کرنا چاہا ہوتا تو تم مجھے نہیں روک سکتی تھیں..
چند لمحوں کی جسمانی لذت سے بہت بہتر یہ سکون ہے اور تمھارا بھروسہ ہے جو میرے لئے قیمتی ہے سوجائو اب خاموشی سے بس..
اگلے دو تین گھنٹے کنول کے میری بانہوں میں ارام کرتے گزرے..
اخرکار وقت گزر گیا اور ہٹ کا دروازہ بجا..
میں نے کنول کو چوم کر ہٹا دیا..
وہ اٹھ کر بیٹھ گئی اور چادر لپیٹ لی..
میں نے دروازہ کھول دیا وہی ڈرائیور دروازے پر اپنی غلیظ مسکراہٹ لئے موجود تھا..
میں نے ایک اور بڑا نوٹ اس کی طرف بڑھا دیا..
مجھے شہر چھوڑ دو اور اسے اس کے گھر چھوڑ ائو..
کچھ دیر بعد میں ٹیکسی میں شہر کی طرف جارہا تھا کنول پچھلی سیٹ پر موجود تھی..
شہر میں ایک جگہ میں ٹیکسی رکوا کر کنول کو الوداع کہ کر اتر گیا..
ابھی صبح کا وقت تھا اور بازار میں اکا دکا دکانیں ہی کھلی تھیں..
میں نے ایک دکان کی اڑ میں منتر پڑھا اور نادیدہ ہوگیا..
اب میرا رخ بازار میں موجود بینک کی طرف تھا..
نادیدہ حالت میں میرا وجود لطیف صورت میں تھا اس لئے اسانی سے بینک کے دروازے میں سے گزر گیا..
کچھ دیر کی تلاش کے بعد میں بینک کے مین لاکر میں داخل ہوچکا تھا جہاں الماریوں میں ہر طرح کے چھوٹے بڑے نوٹوں کی گڈیاں قرینے سے لگی ہوئی تھیں..
الماریاں لاک تھیں مگر میرے لئے ان لاکس کی کوئی اہمیت نہیں تھی..
قریبی دکان سے میں نے ایک بڑا بیگ نکال لیا تھا اور بینک کے باہر ایک ٹھیلے کی اڑ میں رکھا ہوا تھا..
اگلے ایک گھنٹے میں بڑے نوٹوں کی گڈیاں لا لا کر اس بیگ میں بھرتا رہا..
جب بیگ منہ تک بھر گیا تو ایک گڈی میں نے جیب میں رکھی اور بیگ کی زپ بند کر کے اسے اٹھایا اور پوچھتا پچھاتا ایک ہوٹل تک پہنچ گیا..
یہ صاف ستھرا تھری اسٹار ہوٹل تھا..
ہوٹل پہنچ کر میں نے کمرہ بک کروایا جو تیسری منزل پر تھا..
ادھے گھنٹے بعد میں نہا دھو کر بستر پر لیٹا اور انکھیں بند کر کے گہری نیند میں ڈوب گیا..
جار ی ہے۔
کنول میرے کندھے پر سر رکھے بلک رہی تھ