قسط: 20
کیا مطلب ہے اس بات سے تمھارا کنول..
مطلب اپ جب مجھے بانہوں میں لیتے ہیں اور پیار کرتے ہیں تو مجھے بہت زیادہ سکون اور تحفظ کا احساس ہوتا ہے..
میں اپ کے قابل نہیں ہوں..
ناں ہی کبھی اپ کی ہمسفر بننے کی خواہش رکھی ہے..میں اپنی حیثیت جانتی ہوں..
مگر میں اپ کی زندگی میں رہنا چاہتی ہوں بس..
اپ ملازم بنا کر رکھیں, باندی بنا لیں یا کوئی بھی حیثیت دیں مجھے قبول ہوگا..
بس اپ سے صرف اپ کا ساتھ اور اپ کا پیار چاہئے..
کنول..مجھے سمجھ نہیں ارہی تمھاری بات کا کیا جواب دوں..
میرا باپ جنوں کے ایک قبیلے کا سردار تھا..
اس نے انسانوں میں سے ایک عورت سے شادی کی تھی جس کے نتیجے میں ہزاروں سال قبل میری پیدائش ہوئی تھی..
پیدائش کے وقت میری ماں اس تکلیف کو برداشت نہیں کر پائی اور جان ہار گئی..
مجھے بابا خامن نام کے ایک شخص نے پال پوس کر بڑا کیا..
میں نے ہزاروں برس کی دنیا دیکھی ہے..
جب میں جن کے روپ میں تھا تو جو حسین چہرہ مجھے بھاتا تھا میں اسے حاصل کرلیتا تھا..
ایسے ہی ایک چہرے کو دیکھ کر جب میں اسے حاصل کرنے پہنچا اور اس کے جسم میں داخل ہوا..
تو اس کے بدھ بھشکو باپ نے میری شکتیاں چھین کر مجھے انسانی روپ میں قید کردیا..
نیپال سے ہندوستان بھٹکتا ہوا کچھ عملیات کی مدد سے میں نے نادیدہ ہونے اور ایک ادھ شکتی اور حاصل کرنے میں کامیاب ہوا..
مگر میں ناں ہی اپنے اصلی روپ میں انے پر قادر ہوں اور ناں ہی اپنی طاقتیں واپس حاصل کرسکتا ہوں..
میرا قبیلہ بہت دور پہاڑوں کے دامن میں اباد ہے اور وہ اس وقت مشکل میں ہے..
دوسری طرف مجھے اپنی شکتیاں حاصل کرنے کے لئے افریقہ کے جنگلات کا رخ کرنا پڑے گا..
شاید تمھیں میری باتیں ناقابل یقین لگیں مگر اس کا ایک ایک لفظ بالکل سچ ہے..
تمھاری عمر چند سال ہوگی دس بیس پچاس سو سال بس..
پھر..اسکے بعد تم نہیں رہو گی مگر میری زندگی جاری رہے گی..
میں نے جس انسان سے محبت کی اسے اخرکار کھو دیا کیونکہ انسانوں کی عمر محدود ہوتی ہے..
اس لئے میں نے ایک طویل عرصے پہلے فیصلہ کیا تھا..
کہ میں اب کسی انسان کو اپنی زندگی میں شامل نہیں کروں گا سوائے وقتی تسکین کے..
کنول حیرت اور بے یقینی سے میری باتیں سن رہی تھی..
ناقابل یقین ہے یہ سب کچھ شاشین مگر اپ کہ رہے ہیں تو یقینا یہ سب کچھ سچ ہوگا..
بہت انوکھا اور بہت خوفزدہ کردینے والا سچ..
پھر بھی اگر ایسا ہے تو بھی میں اپنی باتوں پر قائم ہوں جب تک میں زندہ ہوں..
اپ کی زندگی میں شامل رہنا چاہتی ہوں..
بے شک اپ وقتی تسکین کے لئے شامل رکھیں یا کسی اور حیثیت سے یہ کہتے ہوئے کنول کی انکھیں حیاء سے جھک گئیں..
میں نے اسے بازوئوں میں لے کر چوم لیا..
مجھے ایسا لگتا تھا کہ انسانی روپ میں انے کے بعد…
میری سوچ, خیالات حتی کہ ہر چیز میں تبدیلی ائی ہے اور میں انسانوں کی طرح ہی سوچنے اور زندگی گزارنے لگا ہوں..
مجھے نہیں پتہ تھا کہ اپنے اصلی روپ میں انے کے بعد کیا ان سب چیزوں میں کوئی تبدیلی ائے گینیا نہیں..
اس کا جواب انے والا وقت ہی دے سکتا تھا..
کنول فوزیہ کو تم اپنے پاس سلا لینا اور ثناء کو امی کے ساتھ سونے دینا..
اگر کوئی مسئلہ ہو یا بات ہو تو تم اسے سنبھال سکتی ہو..
ہاں میں نے بھی یہی سوچا تھا کنول نے جواب دیا..
کنول کیا یہ بہتر نہیں کہ تم کسی سے شادی کر لو اور..
میں اپ سے محبت کرتی ہوں شاشین..
میں کسی کو بھی اپنی زندگی میں شامل کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی کنول نے میری بات کاٹ کر کہا..
اپ مجھے اپنی زندگی میں شامل نہیں کرنا چاہتے تو کوئی بات نہیں مگر ائندہ یہ بات مت کیجئے گا..
اپ کے علاوہ میری زندگی میں کبھی کوئی نہیں ائے گا..
ارے یہ بات نہیں ہے کنول..میں تو بس..
اچھا ٹھیک ہے چھوڑو یہ موضوع وقت ائے گا تو فیصلہ کر لیں گے..
فیصلہ ہوچکا ہے شاشین..میں فیصلہ کر چکی ہوں بس..
اور میری بات کی کوئی اہمیت نہیں میں نے کہا..
اپ میری جان مانگ لیں شاید لمحہ بھی ناں لگائوں سوچنے میں..
مگر میرے دل میں میری روح کی گہرائیوں میں صرف اپ ہیں…
اور یہ جگہ میں کبھی کسی اور کو نہیں دوں گی ناں ہی میں ایسا کچھ چاہتی ہوں..
اچھا ٹھیک ہے..میں نے اسے چوم کر اپنے ساتھ لپٹا لیا..
کنول میرے ساتھ لپٹی دیر تک باتیں اور لاڈ پیار کرتی رہی..
رات کا کھانا کھا کر میں سونے کے لئے لیٹ گیا اور کنول بھی لاڈ پیار سے شب بخیر کہ کر سونے چلی گئی..
جانے کتنی دیر گزری تھی سوئے ہوئے کہ کنول نے مجھے جھنجھوڑ کر جگا دیا..
شاشین..شاشین..اٹھیں..فوزیہ کی حالت خراب ہورہی ہے..
میں کنول کے ساتھ بھاگتا ہوا نیچے کمرے میں پہنچا تو فوزیہ بستر پر لیٹی ہوئی تھی اور اس کا جسم بری طرح جیسے مڑ تڑ رہا تھا..
اس کے حلق سے عجیب سی اوازیں نکل رہی تھیں..
میں نے اور کنول نے اسے سنبھالنے کی کوشش کی مگر اس کی کیفیت بڑھتی جارہی تھی..
میں نے انکھیں بند کر کے ترکن کی انگوٹھی سے مدد لینے کی کوشش کی..
کنول بھاگ کر جائو اور برف لے کر ائو..
فوزیہ کے جسم کو اب جھٹکے لگنا شروع ہوگئے تھے اور میں تمام تر کوشش کے باوجود اسے کنٹرول کرنے اور سنبھالنے میں ناکام تھا..
کنول اس کے سینے پر جو نشان ہے اس پر برف سے ٹکور کرو..
جب تک وہ نشان ٹھنڈا نہیں ہوگا اس کی کیفیت تبدیل نہیں ہوگی..
کنول بھاگتی ہوئی گئی اور برف لے کر اگئی..
فوزیہ نے کھلے گلے کی قمیض پہنی ہوئی تھی کنول نے اسے نیچے کر کے نشان دیکھنے کی کوشش کی مگر ناکام رہی قمیض کے نیچے ہونے کی ایک حد تھی..
اس نے بے بسی سے میری طرف دیکھا..
فوزیہ عمر میں کنول سے شاید ایک دو سال ہی چھوٹی تھی اور بھرپور جسمانی خدوخال کی مالک تھی..
کنول میرے اتنا پاس انے کے باوجود کبھی اتنا بے باک نہیں ہوئی تھی کہ بے لباس ہو اور یہ تو اس کی چھوٹی بہن تھی..
ثناء کو بلوا لو..مگر دیر مت کرو..فورا برف ملنا شروع کرو..
اپ دوسری طرف دیکھیں ذرا..
میں نے کنول کے کہنے پر اپنا منہ دوسری طرف کرلیا..
ٹھیک ہے چند لمحوں بعد کنول کی اواز ائی..
اس کا ایک ہاتھ فوزیہ کی قمیض کے اندر تھا اور وہ ہاتھ میں برف لئے اسے مسل رہی تھی..
میرے دوسری طرف دیکھنے کے دوران اس نے یقینا قمیض اٹھا کر اس کے نشان کی جگہ دیکھی ہوگی..
شاشین وہ نشان اگ کی طرح سرخ ہورہا ہے..کنول کے چہرے پر پریشانی کے تاثرات تھے..
کوئی بات نہیں بس کچھ دیر میں اس کی رنگت بدل جائے گی..
تم برف ملتی رہو اس پر..
فوزیہ کی حالت سنبھلنے میں ادھا پونا گھنٹہ گزر گیا..
اہستہ اہستہ دورے کی شدت کم ہونا شروع ہوئی اور فوزیہ اپنے حواس میں واپس انے لگی..
جب اس کی طبیعت مکمل طور پر سنبھل گئی تو میں کنول اور فوزیہ کو تسلی دے کر واپس اوپر اپنے کمرے میں اگیا..
ابھی مجھے اکر لیٹے ہوئےکچھ دیر ہی گزری تھی کہ مجھے محسوس ہوا کہ کمرے میں کوئی اور بھی موجود ہے..
میں نے انکھیں کھولیں تو مجھے حیرت کا جھٹکا لگا..
انتہائی خوبصورت اور حسین ایک لڑکی میرے بیڈ سے کچھ دور کھڑی مجھے گھور رہی تھی..