قسط: 23
اگلے ہی لمحے میں اپنے اصلی روپ میں اچکا تھا..
اپنی تمام طاقتوں کے ساتھ..
جن زاد..شاشین..یہی میرا اصل تھا..
ارشانہ ستائشی نظروں سے مجھے دیکھ رہی تھی..
میں نے انکھیں بند کیں اور اپنے ابائو اجداد کا تصور کیا..
جہاں سے ہماری قوم اور ہماری نسل کی ابتداء ہوئی تھی..
کروڑوں برس قبل کے مناظر میری انکھوں کے سامنے سے گزرنے لگے..
زمین اگ کا گولا تھی.
ہر طرف پگھلا ہوا لاوا ابل رہا تھا..
پھر اہستہ اہستہ وہ لاوا ٹھنڈا ہونا شروع ہوا..زمانے گزرتے چلے جارہے تھے..
پھر اگ کے شعلوں سے ہماری نسل کی ابتداء ہوئی..اود ہم دنیا بھر میں پھیلنے لگے..
تب انسانوں کا کوئی وجود نہیں تھا ہر طرف صرف جنات کی نسلیں تھیں جو بڑھ رہی تھیں..
میں نے قبیلوں کو بنتے اور ختم ہوتے دیکھا..
دنیا کےمختلف حصوں میں پھیلتے ہوئے دیکھا..
مگر میری تلاش ابھی بھی جاری تھی..
بہت دیر بعد میں اپنا مطلوبہ مقصد حاصل کرپایا..
ہرطرح سے تسلی کر کے میں نے اخرکار انکھیں کھول دیں..
ارشانہ منتظر نظروں سے میری طرف دیکھ رہی تھی..
کیا میں جان سکتی ہوں سردار اپ کس چیز کی تلاش میں تھے..
ارشانہ نے اندازہ لگا لیا تھا کہ میں کاہن کی انگوٹھی اور اپنی طاقتوں کی مدد سے کسی خاص چیز کی تلاش کر رہا تھا..
ہاں..ہمیں بہت لمبا سفر طے کرنا ہے ارشانہ..مجھے یقین ہے میں اپنے مقصد میں کامیاب رہوں گا..
صبح کا اجالا نمودار ہوگیا ہے کچھ کھانے کا انتظام کرو پھر ہم سفر پر روانہ ہونگے..
ہم نے پھل کھا کر پانی سے پیاس بجھائی اس کے بعد میں اور ارشانہ فضاء میں بلند ہوگئے..
میرا رخ کوہ ارارات کی طرف تھا..
اس کے نزدیک ترکی, ایران اور روسی ارمینیا کی سرحدیں ملتی ہیں..
کوہ ارارات دو چوٹیوں پر مشتمل ہے…
دونوں چوٹیوں کے درمیان سات میل کا فاصلہ ہے…
بڑی چوٹی کی انتہائی بلندی 16945 فٹ ہے…
چھوٹی چوٹی کی ڈھلوان ہموار اور مسلط ہے اور اس کی انتہائی بلندی 12877 فٹ ہے…
ان دونوں چوٹیوں کے قریب دور دور تک کوئی اور چوٹی اتنی بلند نہیں ہے..
دونوں چوٹیاں لاوے اور آتشی چٹانوں سے بنی ہیں…
کسی زمانے میں یہاں آتش فشانی کا عمل ہوتا تھا مگر اب اس پر ہر وقت برف جمی رہتی ہے..
میری منزل وہی بڑی چوٹی تھی..
طویل سفر کے بعد میں اور ارشانہ اس بڑی چوٹی پر پہنچ گئے..
ارشانہ کو میں نے ابھی تک کوئی تفصیل نہیں بتائی تھی اس لئے وہ حیران تھی..
مگر میرے ایک بار کہنے کے بعد اس نے دوبارہ کوئی سوال نہیں کیا تھا..
چوٹی برف سے مکمل ڈھکی ہوئی تھی..
میں نے اپنی طاقت کو استعمال کرنا شروع کیا تو برف درمیان سے پھٹ گئی اور اس میں ایک دراڑ نمودار ہوگئی..
ہم دونوں فضاء میں معلق ہوکر اس دراڑ میں داخل ہوگئے..
چوٹی سے چند سو فٹ نیچے پہنچ کر میں رک گیا اور اپنے دائیں طرف کے پتھروں کی دیوار میں موجود ایک کھوہ کی طرف بڑھ گیا..
چند لمحوں بعد ہم اس کھوہ میں داخل ہوچکے تھے..
یہاں ملگجا سا اندھیرا تھا..
چند قدم چلنے کے بعد وہ کھوہ دائیں طرف مڑ گئی..
مزید کچھ دیر اگے بڑھنے پر ہم ایک وسیع غار نما جگہ پر پہنچ گئے..
اس غار کے عین درمیان میں ایک تابوت موجود تھا جو ہوا میں معلق تھا..
میں نے ارشانہ کو وہیں رکنے کا اشارہ کیا اور چلتا ہوا اس تابوت کی طرف بڑھ گیا..
یہ پتھر کا ایک بہت بڑا تابوت تھا جو پتھر ہی کے تراشے ہوئے ایک ڈھکن سے بند تھا..
میں نے کاہن کی انگوٹھی سے مدد لی اور ایک عمل پڑھنا شروع کردیا…
چند لمحوں بعد اس تابوت کا ڈھکن ایک طرف سرک گیا..
میں وہیں کھڑا انتظار کرتا رہا..
کچھ دیر میں اس تابوت میں ایک شخص اٹھ کر بیٹھ چکا تھا جس کی داڑھی برف کی طرح سفید اور چہرہ جھریوں بھرا تھا..
اس نے گردن موڑ کر میری طرف دیکھا اور تابوت سے باہر نکل ایا..
خوش امدید باباطارانوس..میں تعظیما جھک گیا اور سر اور نظریں جھکا لیں..
تو اخر تم اگئے اور تم نے مجھے جگا دیا…بابا کی گھمبیر اواز غار میں گونجی..
میں خاموشی سے نظریں جھکائے کھڑا رہا..
جب میں اس تابوت میں سویا تھا تب تم پیدا بھی نہیں ہوئے تھے..
میرے علم نے مجھے بتایا تھا کہ ایک دن تم ائو گے اور مجھے اس تابوت میں جگا دو گے..
بابا میں…میں نے بولنا چاہا مگر بابا نے میری بات کاٹ دی..
میں جانتا ہوں تمھارے یہاں انے کا مقصد شاشین..
مگر کچھ پانے کے لئے کچھ کھونا بھی پڑتا ہے..
تم جو چاہتے ہو تمھیں مل جائے گا…مگر…بابا نے بات ادھوری چھوڑ دی..
مگر کیا بابا..میں نے نظریں اٹھائیں..
جب تم اپنا کام ختم کر لو تو تم یہیں میرے پاس واپس ائو گے اور میرا وہ مقصد پورا کرو گے جس کے لئے میں نے ہزاروں برس انتظار کیا ہے شاشین…
اگر میں اپ کے کسی کام اسکا تو میری خوش نصیبی ہوگی بابا..
نہیں شاشین..شاید جب تم واپس ائو تب تمھاری سوچ اس سے مختلف ہو..
اس لئے تم مجھے وعدہ دو تم اپنا کام مکمل کر کے لوٹ کر ائو گے اور میرا کام مکمل کرو گے..
میں وعدہ کرتا ہوں بابا..میں نے انکساری سے کہا..
میں جانتا تھا اس وعدے کا کیا مطلب اور حیثیت ہے..
اگر میں اسے توڑتا تو جل کر راکھ ہوجاتا..
ٹھیک ہے میرے پاس ائو..بابا نے کہا..
میں نظریں جھکائے چلتا ہوا بابا کے پاس پہنچ گیا..
منہ کھولو..انھوں نے کہا تو میں نے اپنا منہ کھول دیا..
بابا نے اپنے تیز ناخن سے سیدھے ہاتھ کی تیسری انگلی پر کٹ لگایا اور وہ انگلی میرے منہ میں ڈال دی..
نمکین خون کا ذائقہ مجھے زبان پر محسوس ہوا..
میں نے وہ خون زبان سے چاٹ کر اپنے حلق میں اتار لیا تو بابا نے انگلی میرے منہ سے نکال دی..
جائو اب اور اپنا کام ختم ہوتے ہی واپس پلٹ انا یاد رکھنا…
دیر مت کرنا..میرے پاس وقت بہت کم ہے..
میں نے بابا کی بات سن کر ان کا ہاتھ تھام کر بوسہ دیا اور الٹے قدموں چلتا ہوا پیچھے ہٹتا چلافراط