قسط: 26
اگلی صبح میں نے اٹھ کر اپنی طاقتوں کی مدد سے کاموں کا جائزہ لیا..
چچا اور تاشین کی نگرانی میں دعوت کے انتظامات زورو شور سے جاری تھے..
عام مہمانوں کے لئے میدان میں پیچھے الگ انتظام کردیا گیا تھا اور قبائلی سرداروں, کاہنوں اور خاص مہمانوں کے لئے اگلی طرف نشستوں کا اہتمام کیا گیا تھا..
ہمارے قبیلے کے کاہن نے معزز بزرگوں کی نو ٹولیاں بنا دی تھیں اور انھیں تحائف دے دئے گئے تھے..
ہر ٹولی الگ الگ قبیلے میں جا کر دعوت کا پیغام دے کر اتی..
میں نے ارشانہ پر نظر دوڑائی..
ارشانہ اپنا کام مکمل کر کے واپس اچکی تھی…
اس دینا ناتھ اور کامنی دیوی کی بد روحیں اس نے جلا کر راکھ کر دی تھیں اور اپنی نگرانی میں گھر کو محفوظ بنا کر ائی تھی..
اب وہ میرے دوسرے اور سب سے اہم کام پر جانے کی تیاری کر رہی تھی اور اپنی مدد کے لئے وہ قبیلے کے دو جنگجوئوں کو بھی ساتھ لے کر جارہی تھی..
وہ پورا دن میں نے انتظامات کا جائزہ لینے اور مختلف لوگوں سے ملاقات میں گزارا..
ہر شخص کو تجسس تھا کہ اس طرح کی دعوت ماضی میں کبھی نہیں ہوئی..
ناں ہی سارے قبائل اس طرح اکٹھے ہوئے ہیں..
بجائے میں دوسرے قبیلے کے سردار سے مل کر مسئلے کو حل کرتا میں نے اس سمیت تمام قبائل کو دعوت پر بلا لیا تھا..
وہ بھی ایسے موقعے پر جب قبیلہ جنگ کے دہانے پر تھا..
چچا اور تاشین ملاقات کے لئے ائے تو انھوں نے میری واپسی پر خوشی کا اظہار کیا..
میں نے اپنی طاقتوں کی مدد سے جان لیا کہ چچا کے دل میں میرے لئے کوئی عناد نہیں اور وہ حقیقی طور پر خوش ہیں..
مگر تاشین صرف دکھاوا کر رہا تھا اور ظاہری طور پر خوشی کا اظہار کر رہا تھا..
وہ قبیلے کا مایہ ناز جنگجو تھا اور ہر طرح کے فنون اور ہتھیاروں کا ماہر تھا..
ہمارے قبائل میں یہ اصول تھا کہ اگر دو قبیلوں کے درمیان اجتماعی جنگ ہوگی تو جادو کا استعمال نہیں کیا جائے گا صرف ہتھیاروں سے مدد لی جا سکتی ہے..
اگر کوئی قبیلہ جادو اور دیگر طاقتوں کی مدد سے فتحیاب ہوجائے تو باقی تمام قبائل مل کر اس کا محاسبہ کرتے ہیں..
مگر ہزاروں سالوں میں ایسا کوئی موقع نہیں ایا تھا کہ قبائل میں اپس میں جنگ ہوئی ہو..
چھوٹے موٹے معاملات اور مسائل کو باہمی مشاورت سے حل کر لیا جاتا تھا..
تاشین کو میں نے اخری کوشش کے طور پر سمجھایا تھا کہ خونی رشتوں میں صرف وہ اور چچا ہی ہیں اور میرے لئے محترم اور قابل قدد ہیں..
اپس کے اختلافات یا ناراضگیاں اس حد تک ناں جائیں کہ ہم ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہوجائیں..
مگر میرا سمجھانے کا الٹا اثر ہوا بجائے اس کے کہ تاشین میری بات سمجھتا اس کے دل میں یہ خیال اور مظبوطی سے جڑ پکڑ گیا کہ طاقتوں اور لڑائی کے معاملے میں وہ مجھ سے برتر ہے اور کسی بھی وقت وہ مجھے سرداری کے لئے چیلنج کر سکتا ہے..
قبائلی قانون کے تحت قبیلے کا کوئی بھی شخص جو خود کو سردار سے طاقتور اور برتر سمجھتا ہو وہ کسی وقت بھی سردار کو لڑائی کی دعوت دے سکتا تھا..
ایسی کسی بھی لڑائی کا اختتام کسی ایک فریق کی موت پر ہوتا تھا اور ہارنے والے کا تمام اسباب حتی کہ اس کی رشتے دار عورتیں اور بیوی تک سردار کے زیر استعمال اجاتی تھی..
تاشین شادی شدہ تھا اور ایک خوبصورت بیوی کا مالک تھا..
اس کی لڑنے اور جنگ کرنے کی صلاحیت کو ارد گرد کے قبائل بھی تسلیم کرتے تھے..
اس نے اپنی زندگی کے سینکڑوں برس جادو اور طاقتوں کو بڑھانے میں لگائے تھے..
مجھے امید تھی کل کے بعد اس کے خیالات بدل جائیں گے..
قبیلے کے کاہن اور دیگر بزرگ بھی دعوت کا پیغام دے کر واپس ائے تو میں نے ان سے ملاقات کی..
وہ بھی اس دعوت کے مقصد کو سمجھنے سے قاصر تھے..
کاہن ہاموس کا خیال تھا کہ میں نے ناسمجھی میں غلطی کی ہے..
جب تمام قبائل جمع ہونگے تو کوئی بھی سردار یا طاقتور شخص مجھے سرداری کے لئے لڑائی کی دعوت دے سکتا ہے..
قبیلے سے ہمیشہ دور رہنے کے باعث ناں تو میں جادو کی طاقتوں میں مظبوط ہوں اور ناں ہی لڑائی اور جنگ میں طاق..
میں نے ان سب کو تسلی اور کچھ ہدایات دے کر رخصت کردیا..
دعوت کا وقت رات کا تھا اس لئے مشعلوں اور روشنی کے لئے الگ سے انتظامات کرنے پڑے تھے..
ایک وسیع و عریض میدان میں یہ سارے انتظامات کئے جارہے تھے..
سب سے اگے قبیلے کے کاہن کی نشت ہوتی اور اس کے پیچھے ترتیب سے باقی سارا قبیلہ براجمان ہوتا..
تمام قبائل کے جھنڈے لگا کر ان کی جگہیں مخصوص کردی گئی تھیں..
ہمارے قبیلے اور کاہن کی جگہ عین درمیان میں تھی..
ان سارے قبائل کے عین سامنے صرف سرداروں کی نشستیں تھیں اور وہ بھی قبائل ہی کی ترتیب سے لگائی گئیں تھیں..
تاشمر کے سردار کی نشست ایک خاص مقصد کے تحت میں نے اپنے ساتھ دائیں جانب رکھوائی تھی…
میں مختلف کاموں اور تیاریوں کا جائزہ لینے اور قبیلے کے عام لوگوں کے ساتھ وقت گزارتا رہا..
اخرکار دعوت کا وقت اگیا اور قبائل کی امد کے اثار نظر انے لگے..
میدان کے شروع میں کاہن اور دیگر بزرگوں مہمانوں کو خوش امدید کہنے کے لئے موجود تھے ان کے ساتھ پھولوں کے گلدستے لئے چھوٹی بچیاں بھی تھیں..
میں اپنی رہائش گاہ پر اگیا اور دعوت کے لئے تیار ہونے لگا..
میں نے ارشانہ کو حکم دیا تھا جب تمام مہمان اجائیں تو مجھے اطلاع کردی جائے..
تمام لوگ مقررہ وقت پر باپندی سے پہنچ گئے تو ارشانہ میرے پاس اگئی..
سردار..تمام مہمان اگئے ہیں اور اپ کا انتظار ہورہا ہے..
اچھی لگ رہی ہو ارشانہ اس چمڑے کے لباس میں..میں نے مسکراتے ہوئے کہا..
اپ کا حسن نظر ہے سردار..
تم میری نشت پر پیچھے کھڑی رہو گی اور میرے نمائندے کی حیثیت سے تمام معاملات کو دیکھو گی..
کھانے یا پوری تقریب کے دوران کسی قسم کی بدمزگی یا کوئی مسئلہ پیدا ناں ہو خیال رکھنا..
ٹھیک ہے سردار ارشانہ نے جھک کر تعظیم دی اور میں چلتا ہوا رہائش گاہ کی سے باہر اگیا..
میرا رخ میدان کی طرف تھا جہاں سب لوگ موجود تھے ارشانہ مودبانہ انداز میں مجھ سے ایک قدم پیچھے چل رہی تھی..
سراداران کی نشست کے قریب ہی ایک کافی بڑے اور اونچے پتھر کا انتظام کیا گیا تھا جس پر چڑھ کر تمام لوگوں سے مخاطب ہوا جا سکتا تھا..
میں چلتا ہوا اس پتھر کے قریب ایا اور فضاء میں معلق ہوکر اس پتھر پر کھڑا ہوگیا..
میری طرف سے تمام قبائل کے سرداران,کاہن,بزرگوں اور تمام قبیلے والوں کو خوش امدید..میں نے بولنا شروع کیا..
میں اپنی اور اپنے قبیلے کی طرف سے اپ سب کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ اپ لوگوں نے ہماری دعوت کو شرف قبولیت بخشا..
اج کی اس دعوت کا مقصد کچھ اہم اعلانات ہیں جو تمام قبائل کے لئے ہیں اور خاص طور پر تاشمر قبیلے کے لئے..
تمام قبائل کے علم میں ہے کہ سمانتن اور تاشمر قبیلے کے درمیان ایک معاملہ تنازعے کی وجہ بنا ہوا ہے جس کی وجہ سے دونوں قبائل جنگ پر امادہ ہیں..
کیا ایک معمولی تنازعے کے لئے ہم ہزاروں لوگوں کو جنگ میں جھونک دیں اور قتل و غارت کا بازار گرم کردیں..
یہ بات یہ سوال اج کی اس دعوت کی وجہ بنا..
سمانتن اور تاشمر قبیلوں کے کاہنوں اور تمام لوگوں کی کوششوں کے باوجود ان دو لوگوں کو تلاش نہیں کیا جا سکا جو اس تنازعے کی وجہ تھے حتی کہ تمام قبائل مل کر بھی انھیں تلاش کرنے سے قاصر رہے..
میں نے ایک نظر تاشمر قبیلے کے سردار کی طرف دیکھا جس کے چہرے پر شدید غصے کے تاثرات تھے..
معاملہ اس کی بیوی کا تھا اور اسے سارے قبیلوں کے سامنے رسوا ہونا پڑ رہا تھا..
اگر یہ معاملہ حل ناں ہوا تو دونوں قبیلے ایک بے مقصد جنگ پر امادہ ہیں..
ایسا نہیں ہونا چاہئے ناں اج اور ناں ہی ائندہ کبھی..
اس لئے سب سے پہلے میں اس مسئلے کو حل کرتا ہوں اسکے بعد ایک اہم اعلان کروں گا..
ارشانہ..میں نے ارشانہ کو اواز دی..
کچھ ہی دیر میں کچھ جنگجوئوں کے ساتھ نمودار ہوئی ان کے درمیان میں اگ کے دائروں میں قید تاشمر سردار کی بیوی اور سمانتن قبیلے کا نوجوان تھے.
میں بابا کی دی ہوئی اپنی طاقتوں کی مدد سے ان دونوں کو تلاش کر چکا تھا..
اور ارشانہ میرے اسی کام کے لئے دو جنگجوئوں کے ساتھ قبیلے سے باہر گئی تھی..
دونوں کو دیکھ کر تاشمر کا سردار اپنی نشت سے کھڑا ہوگیا اور اس کی تلوار میان سے باہر اچکی تھی..