قسط: 27
بیٹھ جائیں سردار..میں نے تاشمر قبیلے کے سردار کو مخاطب کر کے کہا..میری بات ابھی مکمل نہیں ہوئی اور..
یہ دونوں میرے مجرم ہیں اور میں انھیں اسی وقت سزا دوں گا..سردار نے میری بات کاٹ دی..
میں اپنی بات دوہرا رہا ہوں سردار تم ہمارے قبیلے میں مہمان کی حیثیت سے موجود ہو..
مجرموں کا فیصلہ قانون کے مطابق ہوگا مگر میری درخواست ہے کچھ دیر صبر کر لو اور میری بات مکمل ہونے دو..
تاشمر کا سردار تلوار تھامے اپنی نشت سے نیچے اتر ایا اور ان دونوں کی طرف بڑھنے لگا..
ارشانہ اور ہمارے قبیلے کے جنگجوئوں نے ان دونوں کو اپنے حفاظتی حصار میں لے لیا..
میں اخری بار کہ رہا ہوں درمیان سے ہٹ جائو یہ میرے مجرم ہیں اور میں انھیں یہیں اسی وقت سزا دوں گا..تاشمر کا سردار ہٹ دھرمی پر اتر ایا تھا..
تاشمر کے لوگ اپنی نشستوں سے کھڑے ہوگئے تھے اور ماحول میں تنائو پیدا ہوگیا تھا.
ہر طرف شور برپا تھا ہر شخص اپنی رائے رے رہا تھا..
میں نو قبیلوں کے سامنے تمھیں تمھارے قبیلے کی سرداری کے لئے لڑائی کی دعوت دیتا ہوں اور قانون کے مطابق اس لڑائی کا فیصلہ ہونے تک تم اپنا کوئی فیصلہ اپنے قبیلے پر بھی مسلط نہیں کر سکتے..
میری اواز سن کر سب کو جیسے سانپ سونگھ گیا..
ہزاروں کا مجمع جیسے ساکت ہوگیا ہو..
ہمارے قبیلے کے کاہن, بزرگوں حتی کہ تاشین کی نظروں میں بھی شدید حیرانگی کے تاثرات تھے..
تاشمر ایک جنگجو قبیلہ تھا اور اس کے لوگ بے رحم اور جلاد صفت سمجھے جاتے تھے..
اس قبیلے کا سردار یقینا اس قابل تھا کہ وہ ان وحشیوں کی سرداری سنبھال سکتا اسی لئے وہ سرداری کے منصب پر تھا اور یقینا لڑائی, طاقت اور جادو میں مہارت رکھتا تھا..
وہ عمر اور تجربے میں بھی مجھ سے بہت زیادہ تھا.ایسے میں میرا اسے سرداری کے لئے چیلنج کرنا ہر ایک کے لئے ناقابل فہم تھا..
مجمعے میں صرف ارشانہ ایسی تھی جو پرسکون تھی اور اس کےچہرے پر مسکراہٹ تھی…
تاشمر کا سردار ٹھٹھک کر رک گیا تھا..
اس کے چہرے پر شدید غصے کے ساتھ حیرت کے تاثرات تھے..
تم..کل کے جن زاد..تم مجھ سے لڑو گے..تم مجھے سرداری کے لئے مبازرت کی دعوت دے رہے ہو سردار کو اپنی انکھوں اور کانوں پر شاید یقین نہیں ارہا تھا..
ابھی میں جواب دینے ہی لگا تھا کہ ہمارے قبیلے کا کاہن کھڑا ہوگیا..سردار ہمارے مہمان ہیں اور ہمارے لئے قابل احترام ہیں یہ معاملہ افہام و تفہیم سے بھی حل کیا..
نہیں..قانون کی رو سے اس نے مجھے مبارزت کی دعوت دی ہے اور میری سرداری پر دعوی کیا ہے یا اسے مجھ سے لڑنا پڑے گا یا اپنی سرداری سے میرے حق میں دست بردار ہونا پڑےگا..تاشمر کے سردار نےکاہن کی بات کاٹ کر کہا..
میں فضاء میں بلند ہوا اور سردار سے چند گز کے فاصلے پر اکر کھڑا ہوگیا..
ہم دونوں امنے سامنے درمیان میں تھے اور ہمارے ایک طرف تمام تمام قبائل کے لوگ اور دوسری طرف تمام قبائل کے سرداران موجود تھے..
سب لوگ حیرانگی, تجسس اور جوش سے اس لڑائی کو دیکھنے کے لئے بے چین تھے..
پیچھے ہٹ جائو میں نے ارشانہ کو اشارہ کیا..
وہ اور جنگجو دونوں قیدیوں کے ساتھ کافی فاصلے پر پیچھے ہٹ گئے..
مجمعے پر سناٹا طاری تھا..
ہم دونوں کے درمیان اگر کوئی تیسرا شخص کسی بھی قسم کی مداخلت کرے گا تو سزا کا حقدار ہوگا میں نے گونجتی ہوئی اواز میں کہا..
یہ کہ کر میں سردار کی طرف متوجہ ہوگیا..
تم حملہ کرو میں نے منتظر ہوں میں نے مسکرا کر تاشمر سردار سے کہا..
تم ابھی نوجوان ہو میں تمھیں موقع دیتا ہوں حملے میں پہل کرو تاکہ تمھارے دل میں کوئی حسرت ناں رہے..تاشمر سردار نے چیخ کر جواب دیا..
میں ہاتھ باندھے اپنی جگہ کھڑا مسکراتا رہا..
یہ حرکت کسی بھی مخالف کو غصہ دلانے کے لئے کافی تھی..
اور تاشمر قبیلے کے وحشی اور جنگجو سردار نے میری توقع کے مطابق رد عمل دیا..
وہ تلوار سونت کر میری طرف بڑھا اور اپنی پوری طاقت سے تلوار کا وار میری گردن پر کیا..
اس کی تلوار میری گردن سے گزر گئی مگر میں اپنی جگہ کھڑا مسکراتا رہا..
اچھا..تو تم جادو سے کام لو گے..
سردار نے کوئی عمل پڑھا اور تلوار پر پھونک ماری تو اس کی تلوار اگ کے شعلے میں تبدیل ہوگئی..
اس بار اس نے پہلے سے زیادہ شدت سے میری گردن پر وار کیا تھا..
کئی لوگوں کی چیخوں کی اواز ائی تلوار دوبارہ میری گردن سے گزر گئی تھی مگر میں ہاتھ باندھے سہی سلامت کھڑا مسکرا رہا تھا..
اس بار سردار کے چہرے پر حیرت کے ساتھ تھوڑی سی گھبراہٹ بھی نمودار ہوگئی تھی..
اس نے پلٹ کر اپنے قبیلے کے کاہن کی طرف دیکھا..اور میری طرف دوبارہ متوجہ ہوگیا..
اب کی بار اس نے تلوار میان میں رکھ لی اور انکھیں بند کر کے کوئی عمل پڑھنے لگا..
چند لمحوں بعد اس نے انکھیں کھولیں اور اپنے بازو میری طرف پھیلا دئے..
اگلے ہی لمحے اس کی انگلیوں نے اگ اور لاوا اگلنا شروع کردیا..
میں جس جگہ کھڑا تھا وہ لاوا مجھ پر گرنے لگا اور اگ اور پگھلے ہوئے گرم لاوے کے ڈھیر نے میرے سارے وجود کو ڈھک لیا..
اس بار مجھے جھٹکا لگا تھا اور میں اپنی جگہ لڑکھڑایا تھا..
مجھے لڑکھڑاتا دیکھ کر تاشمر قبیلے والوں کے خوشی سے معمور جنگی نعروں کی اوازیں گونجی تھیں اور ہمارے قبیلے کے اور دیگر بے شمار لوگوں کی چیخیں نکل گئی تھیں..
یہ اخری منظر تھا جو میں نے دیکھا اس کے بعد میرا پورا وجود اگ اور لاوے سے ڈھک چکا تھا..
میں نے چند لمحے انتظار کیا سب لوگوں کو یقین ہوچکا تھا کہ اس لاوے میں دفن ہوکر میرا وجود راکھ بن چکا ہوگا..
سردار تین حملے کر چکا تھا..
اب میری باری تھی..
اگ اور لاوا اہستہ اہستہ میرے وجود سے ہٹنے لگا..
میں نے انگلی کے اشارے سے اسے گول لپیٹنا شروع کیا اور اسے دائرے کی شکل میں لاکر اس کا رخ تاشمر کے کاہن کی طرف کردیا..
مجھے اگ اور لاوے سے زندہ سلامت نکلتے دیکھ کر میرے قبیلے والے خوشی سے بے قابو ہوچکے تھے اور تمام سردار بھی حیرت سے اپنی نشستوں پر کھڑے ہوچکے تھے..
میری انگلی کے اشارے سے اس اگ اور لاوے نے اس کاہن کو اپنے حصار میں لے لیا تھا..
تاشمر قبیلے کا کاہن تمام قبیلوں میں سب سے طاقتور سمجھا جاتا تھا..
میں نے انگلی کے اشارے سے اسے ہوا میں معلق کیا اور وہ اگ اور لاوے کے حصار میں اپنے سردار کے قریب پہنچا تو میں نے اسے چھوڑ دیا..
کاہن تم نے قانون توڑا ہے سب کے سامنے تسلیم کرو اسی لمحے کہ تم نے اپنے سردار کی مدد کی ہے اور ہماری لڑائی میں مداخلت کی ہے ورنہ تم اپنے اس حربے میں پس کر راکھ ہوجائو گے..
میری بات سن کر کاہن نے بجائے عقل سے کام لینے کے کوئی عمل پڑھنا شروع کردیا..
تاشمر کا سردار حیرانگی سے مجھے دیکھ رہا تھا..
اس سمیت سب کے لئے یہ ناقابل یقین بات تھی میں نے کاہن کو میدان میں بلوا لیا تھا اور اب وہ دونوں میرے مقابل تھے..
کاہن نے کوئی عمل پڑھ کر میری طرف پھونکا..
اگلے ہی لمحے اگ سے بنے سیاہ بچھو مجھ پر حملہ اور ہوگئے..
یہ سینکڑوں کی تعداد میں تھے جن کا جسم اگ سے بنا ہوا تھا..
میں نے انگلی سے اشارہ کیا تو وہ تمام بچھو کاہن کی طرف پلٹ گئے اور کاہن کے اگ اور لاوے کے حصار میں داخل ہوگئے..
اگلے ہی لمحے ماحول کاہن کی کربناک چیخوں سے گونج اٹھا..
کاہن نے ناں صرف اس لڑائی میں دخل اندازی کی ہے بلکہ اپنی بیٹی اور سردار کی بیوی کو پناہ دینے میں بھی اسی کا ہاتھ تھا..میں نے گھمبیر اواز میں سب کو مخاطب کر کے کہا..
کاہن کا جسم لمحوں میں راکھ کا ڈھیر بن چکا تھا مگر میرا قائم کردہ اگ اور لاوے کا گول حصار اسی جگہ موجود تھا جہاں چند لمحے پہلے کاہن تھا خ…
اب وہاں صرف اس کی راکھ بچی تھی..اس کے مرتے ہی تمام بچھو غائب ہوچکے تھے..
میں نے اشارہ کیا تو اس حصار نے اب تاشمر کے سردار کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا..
میں چاہتا تو سردار پل بھر میں راکھ ہوجاتا..
مہر…میں نے اپنا ہاتھ پھیلا دیا..
تاشمر کا سردار ہار چکا تھا..
سردار سر جھکائے چلتا ہوا میری طرف بڑھا اور اپنے گلے میں پڑی سرداری کی مہر اتار لی..
میں نے انگلی کا اشارہ کیا تو اگ اور لاوے کا حصار غائب ہوگیا..
میں نے اس کی زندگی بخش دی تھی..
وہ میرے سامنے گھٹنوں کے بل جھکا اور اپنی سرداری کی مہر میرے ہاتھ پر رکھ دی..
دس قبیلوں کا سب سے طاقتور کاہن اگر میرے مقابلے میں ایک لمحہ بھی نہیں ٹھر پایا تھا تو کسی اور کا مجھ سے مقابلہ کر کے جیتنا تو ممکن ہی نہیں تھا..
میں نے اس سے سرداری کی مہر لے لی..
پورا مجمع سناٹے میں ڈوبا ہوا تھا..
میں..اپنے سردار اعلی ہونے کا اعلان کرتا ہوں..اور باقی تمام اٹھ قبائل کےسرداروں کو سرداری حاصل کرنے کے لئے مبازرت کی دعوت دیتا ہوں..
تمام سردار یا اپنی سرداری کی مہریں مجھے سونپ دیں یا مجھ سے مقابلے کے لئے تیار ہوجائیں..
چاروں طرف ہجوم میں شور شرابا برپا ہوگیا تھا..
اج تک اتنا بڑا دعوی کسی نے نہیں کیا تھا کہ ایک وقت میں مبازرت کی دعوت دی ہو اور ایک ہی وقت میں تمام قبائل کی سرداری پر حق جتایا ہو..
یہ سب کے لئے ناقابل یقین تھا..
تمام قبائل کے لوگ اپنے اپنے سردار کے فیصلے کے منتجن زاد
قسط نمبر : 28
تحریر ارشد احمد
بیٹھ جائیں سردار..میں نے تاشمر قبیلے کے سردار کو مخاطب کر کے کہا..میری بات ابھی مکمل نہیں ہوئی اور..
یہ دونوں میرے مجرم ہیں اور میں انھیں اسی وقت سزا دوں گا..سردار نے میری بات کاٹ دی..
میں اپنی بات دوہرا رہا ہوں سردار تم ہمارے قبیلے میں مہمان کی حیثیت سے موجود ہو..
مجرموں کا فیصلہ قانون کے مطابق ہوگا مگر میری درخواست ہے کچھ دیر صبر کر لو اور میری بات مکمل ہونے دو..
تاشمر کا سردار تلوار تھامے اپنی نشت سے نیچے اتر ایا اور ان دونوں کی طرف بڑھنے لگا..
ارشانہ اور ہمارے قبیلے کے جنگجوئوں نے ان دونوں کو اپنے حفاظتی حصار میں لے لیا..
میں اخری بار کہ رہا ہوں درمیان سے ہٹ جائو یہ میرے مجرم ہیں اور میں انھیں یہیں اسی وقت سزا دوں گا..تاشمر کا سردار ہٹ دھرمی پر اتر ایا تھا..
تاشمر کے لوگ اپنی نشستوں سے کھڑے ہوگئے تھے اور ماحول میں تنائو پیدا ہوگیا تھا.
ہر طرف شور برپا تھا ہر شخص اپنی رائے رے رہا تھا..
میں نو قبیلوں کے سامنے تمھیں تمھارے قبیلے کی سرداری کے لئے لڑائی کی دعوت دیتا ہوں اور قانون کے مطابق اس لڑائی کا فیصلہ ہونے تک تم اپنا کوئی فیصلہ اپنے قبیلے پر بھی مسلط نہیں کر سکتے..
میری اواز سن کر سب کو جیسے سانپ سونگھ گیا..
ہزاروں کا مجمع جیسے ساکت ہوگیا ہو..
ہمارے قبیلے کے کاہن, بزرگوں حتی کہ تاشین کی نظروں میں بھی شدید حیرانگی کے تاثرات تھے..
تاشمر ایک جنگجو قبیلہ تھا اور اس کے لوگ بے رحم اور جلاد صفت سمجھے جاتے تھے..
اس قبیلے کا سردار یقینا اس قابل تھا کہ وہ ان وحشیوں کی سرداری سنبھال سکتا اسی لئے وہ سرداری کے منصب پر تھا اور یقینا لڑائی, طاقت اور جادو میں مہارت رکھتا تھا..
وہ عمر اور تجربے میں بھی مجھ سے بہت زیادہ تھا.ایسے میں میرا اسے سرداری کے لئے چیلنج کرنا ہر ایک کے لئے ناقابل فہم تھا..
مجمعے میں صرف ارشانہ ایسی تھی جو پرسکون تھی اور اس کےچہرے پر مسکراہٹ تھی…
تاشمر کا سردار ٹھٹھک کر رک گیا تھا..
اس کے چہرے پر شدید غصے کے ساتھ حیرت کے تاثرات تھے..
تم..کل کے جن زاد..تم مجھ سے لڑو گے..تم مجھے سرداری کے لئے مبازرت کی دعوت دے رہے ہو سردار کو اپنی انکھوں اور کانوں پر شاید یقین نہیں ارہا تھا..
ابھی میں جواب دینے ہی لگا تھا کہ ہمارے قبیلے کا کاہن کھڑا ہوگیا..سردار ہمارے مہمان ہیں اور ہمارے لئے قابل احترام ہیں یہ معاملہ افہام و تفہیم سے بھی حل کیا..
نہیں..قانون کی رو سے اس نے مجھے مبارزت کی دعوت دی ہے اور میری سرداری پر دعوی کیا ہے یا اسے مجھ سے لڑنا پڑے گا یا اپنی سرداری سے میرے حق میں دست بردار ہونا پڑےگا..تاشمر کے سردار نےکاہن کی بات کاٹ کر کہا..
میں فضاء میں بلند ہوا اور سردار سے چند گز کے فاصلے پر اکر کھڑا ہوگیا..
ہم دونوں امنے سامنے درمیان میں تھے اور ہمارے ایک طرف تمام تمام قبائل کے لوگ اور دوسری طرف تمام قبائل کے سرداران موجود تھے..
سب لوگ حیرانگی, تجسس اور جوش سے اس لڑائی کو دیکھنے کے لئے بے چین تھے..
پیچھے ہٹ جائو میں نے ارشانہ کو اشارہ کیا..
وہ اور جنگجو دونوں قیدیوں کے ساتھ کافی فاصلے پر پیچھے ہٹ گئے..
مجمعے پر سناٹا طاری تھا..
ہم دونوں کے درمیان اگر کوئی تیسرا شخص کسی بھی قسم کی مداخلت کرے گا تو سزا کا حقدار ہوگا میں نے گونجتی ہوئی اواز میں کہا..
یہ کہ کر میں سردار کی طرف متوجہ ہوگیا..
تم حملہ کرو میں نے منتظر ہوں میں نے مسکرا کر تاشمر سردار سے کہا..
تم ابھی نوجوان ہو میں تمھیں موقع دیتا ہوں حملے میں پہل کرو تاکہ تمھارے دل میں کوئی حسرت ناں رہے..تاشمر سردار نے چیخ کر جواب دیا..
میں ہاتھ باندھے اپنی جگہ کھڑا مسکراتا رہا..
یہ حرکت کسی بھی مخالف کو غصہ دلانے کے لئے کافی تھی..
اور تاشمر قبیلے کے وحشی اور جنگجو سردار نے میری توقع کے مطابق رد عمل دیا..
وہ تلوار سونت کر میری طرف بڑھا اور اپنی پوری طاقت سے تلوار کا وار میری گردن پر کیا..
اس کی تلوار میری گردن سے گزر گئی مگر میں اپنی جگہ کھڑا مسکراتا رہا..
اچھا..تو تم جادو سے کام لو گے..
سردار نے کوئی عمل پڑھا اور تلوار پر پھونک ماری تو اس کی تلوار اگ کے شعلے میں تبدیل ہوگئی..
اس بار اس نے پہلے سے زیادہ شدت سے میری گردن پر وار کیا تھا..
کئی لوگوں کی چیخوں کی اواز ائی تلوار دوبارہ میری گردن سے گزر گئی تھی مگر میں ہاتھ باندھے سہی سلامت کھڑا مسکرا رہا تھا..
اس بار سردار کے چہرے پر حیرت کے ساتھ تھوڑی سی گھبراہٹ بھی نمودار ہوگئی تھی..
اس نے پلٹ کر اپنے قبیلے کے کاہن کی طرف دیکھا..اور میری طرف دوبارہ متوجہ ہوگیا..
اب کی بار اس نے تلوار میان میں رکھ لی اور انکھیں بند کر کے کوئی عمل پڑھنے لگا..
چند لمحوں بعد اس نے انکھیں کھولیں اور اپنے بازو میری طرف پھیلا دئے..
اگلے ہی لمحے اس کی انگلیوں نے اگ اور لاوا اگلنا شروع کردیا..
میں جس جگہ کھڑا تھا وہ لاوا مجھ پر گرنے لگا اور اگ اور پگھلے ہوئے گرم لاوے کے ڈھیر نے میرے سارے وجود کو ڈھک لیا..
اس بار مجھے جھٹکا لگا تھا اور میں اپنی جگہ لڑکھڑایا تھا..
مجھے لڑکھڑاتا دیکھ کر تاشمر قبیلے والوں کے خوشی سے معمور جنگی نعروں کی اوازیں گونجی تھیں اور ہمارے قبیلے کے اور دیگر بے شمار لوگوں کی چیخیں نکل گئی تھیں..
یہ اخری منظر تھا جو میں نے دیکھا اس کے بعد میرا پورا وجود اگ اور لاوے سے ڈھک چکا تھا..
میں نے چند لمحے انتظار کیا سب لوگوں کو یقین ہوچکا تھا کہ اس لاوے میں دفن ہوکر میرا وجود راکھ بن چکا ہوگا..
سردار تین حملے کر چکا تھا..
اب میری باری تھی..
اگ اور لاوا اہستہ اہستہ میرے وجود سے ہٹنے لگا..
میں نے انگلی کے اشارے سے اسے گول لپیٹنا شروع کیا اور اسے دائرے کی شکل میں لاکر اس کا رخ تاشمر کے کاہن کی طرف کردیا..
مجھے اگ اور لاوے سے زندہ سلامت نکلتے دیکھ کر میرے قبیلے والے خوشی سے بے قابو ہوچکے تھے اور تمام سردار بھی حیرت سے اپنی نشستوں پر کھڑے ہوچکے تھے..
میری انگلی کے اشارے سے اس اگ اور لاوے نے اس کاہن کو اپنے حصار میں لے لیا تھا..
تاشمر قبیلے کا کاہن تمام قبیلوں میں سب سے طاقتور سمجھا جاتا تھا..
میں نے انگلی کے اشارے سے اسے ہوا میں معلق کیا اور وہ اگ اور لاوے کے حصار میں اپنے سردار کے قریب پہنچا تو میں نے اسے چھوڑ دیا..
کاہن تم نے قانون توڑا ہے سب کے سامنے تسلیم کرو اسی لمحے کہ تم نے اپنے سردار کی مدد کی ہے اور ہماری لڑائی میں مداخلت کی ہے ورنہ تم اپنے اس حربے میں پس کر راکھ ہوجائو گے..
میری بات سن کر کاہن نے بجائے عقل سے کام لینے کے کوئی عمل پڑھنا شروع کردیا..
تاشمر کا سردار حیرانگی سے مجھے دیکھ رہا تھا..
اس سمیت سب کے لئے یہ ناقابل یقین بات تھی میں نے کاہن کو میدان میں بلوا لیا تھا اور اب وہ دونوں میرے مقابل تھے..
کاہن نے کوئی عمل پڑھ کر میری طرف پھونکا..
اگلے ہی لمحے اگ سے بنے سیاہ بچھو مجھ پر حملہ اور ہوگئے..
یہ سینکڑوں کی تعداد میں تھے جن کا جسم اگ سے بنا ہوا تھا..
میں نے انگلی سے اشارہ کیا تو وہ تمام بچھو کاہن کی طرف پلٹ گئے اور کاہن کے اگ اور لاوے کے حصار میں داخل ہوگئے..
اگلے ہی لمحے ماحول کاہن کی کربناک چیخوں سے گونج اٹھا..
کاہن نے ناں صرف اس لڑائی میں دخل اندازی کی ہے بلکہ اپنی بیٹی اور سردار کی بیوی کو پناہ دینے میں بھی اسی کا ہاتھ تھا..میں نے گھمبیر اواز میں سب کو مخاطب کر کے کہا..
کاہن کا جسم لمحوں میں راکھ کا ڈھیر بن چکا تھا مگر میرا قائم کردہ اگ اور لاوے کا گول حصار اسی جگہ موجود تھا جہاں چند لمحے پہلے کاہن تھا خ…
اب وہاں صرف اس کی راکھ بچی تھی..اس کے مرتے ہی تمام بچھو غائب ہوچکے تھے..
میں نے اشارہ کیا تو اس حصار نے اب تاشمر کے سردار کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا..
میں چاہتا تو سردار پل بھر میں راکھ ہوجاتا..
مہر…میں نے اپنا ہاتھ پھیلا دیا..
تاشمر کا سردار ہار چکا تھا..
سردار سر جھکائے چلتا ہوا میری طرف بڑھا اور اپنے گلے میں پڑی سرداری کی مہر اتار لی..
میں نے انگلی کا اشارہ کیا تو اگ اور لاوے کا حصار غائب ہوگیا..
میں نے اس کی زندگی بخش دی تھی..
وہ میرے سامنے گھٹنوں کے بل جھکا اور اپنی سرداری کی مہر میرے ہاتھ پر رکھ دی..
دس قبیلوں کا سب سے طاقتور کاہن اگر میرے مقابلے میں ایک لمحہ بھی نہیں ٹھر پایا تھا تو کسی اور کا مجھ سے مقابلہ کر کے جیتنا تو ممکن ہی نہیں تھا..
میں نے اس سے سرداری کی مہر لے لی..
پورا مجمع سناٹے میں ڈوبا ہوا تھا..
میں..اپنے سردار اعلی ہونے کا اعلان کرتا ہوں..اور باقی تمام اٹھ قبائل کےسرداروں کو سرداری حاصل کرنے کے لئے مبازرت کی دعوت دیتا ہوں..
تمام سردار یا اپنی سرداری کی مہریں مجھے سونپ دیں یا مجھ سے مقابلے کے لئے تیار ہوجائیں..
چاروں طرف ہجوم میں شور شرابا برپا ہوگیا تھا..
اج تک اتنا بڑا دعوی کسی نے نہیں کیا تھا کہ ایک وقت میں مبازرت کی دعوت دی ہو اور ایک ہی وقت میں تمام قبائل کی سرداری پر حق جتایا ہو..
یہ سب کے لئے ناقابل یقین تھا..