قسط: 30
جل پریوں کی صرف ملکہ میں یہ قابلیت ہوتی ہے کہ وہ اپنی نسل بڑھا سکے..
اس کے لئے اسے کسی نر یا مرد کی ضرورت نہیں ہوتی..
ان کا پیٹ تک کا جسم عورت کا ہوتا ہے اور اس سے نیچے ان کی شکل مچھلی سے مشابہ ہوتی ہے..
بابا کی بات سن کر مجھے یاد اگیا..
تولیدی عمل کے لیے زیادہ تر تولیدی عمل کا انحصار اس کے جسم میں موجود ایک انڈے کا سپرم کے ساتھ ملاپ ہونے سے ہی شروع ہوتا ہے۔
مگر کچھ جانوروں کی بعض اقسام ایک بچے کو خود سے جنم دینے کا نظام بھی رکھتے ہیں اس کو پارتھینوجینسس کہتے ہیں..
علمِ حیوانات یا زوالوجی کی یہ اصطلاح یونانی زبان سے لی گئی ہے اور اس زبان میں پارتھینوس کا معنی کنوارا ہونے کے ہیں جبکہ جینیسس کا مطلب اوریجن یا ابتدا یا پیدائش ہے..
جل پریوں میں بھی ایسا ہی کوئی نظام تھا جس کی وجہ سے وہ حاملہ ہوسکتی تھیں اور بچے کی پیدائش عمل میں اسکتی ہوگی..
کیونکہ صرف ان کی ملکہ میں یہ خصوصیت پائی جاتی ہے اس لئے ان کی نسل کم ہوتے ہوتے معدوم ہونے کے قریب پہنچ چکی ہے..
ہزاروں سال قبل ان کی نسل کے کئی قبیلے زیر سمندر اباد تھے مگر وقت گزرنے کے ساتھ ان کی تعداد میں کمی ہوتی گئی..
ان کی عمر چونکہ صرف چند سو سال ہوتی ہے اس لئے ملکہ بھی اپنی نسل کو اس تیزی سے نہیں بڑھا سکتی..
اسی وجہ سے ان کے لئے اس بات میں کشش ہوگی کہ وہ انسانی روپ میں اسکیں اور ملکہ کے علاوہ عام جل پریاں بھی اپنی نسل بڑھا سکیں..بابا اپنی بات مکمل کر کے خاموش ہوگئے..
ٹھیک ہے بابا..انسانی روپ میں کیسے ائیں گی جل پریاں میں نے بابا سے سوال کیا..
بابا نےگہری نظروں سے مجھے دیکھا..
زہریلے سانپوں کی ایک نسل کنگ کوبرا ہوتی ہے..
کنگ کوبرا ناگ یا ناگن کی عمر طویل ہوتی ہے مگر ہزاروں میں سے کوئی ایک ہی سینکڑوں سال کی زندگی پاتا ہے..
وہ سانپ اپنے زہر سے شکار کو ہلاک نہیں کرتا بلکہ اسے زندہ نگل جاتا ہے اس لئے اس کا زہر استعمال نہیں ہوپاتا ہے..
سینکڑوں سالوں میں وہ زہر جم کر ایک سیاہ پتھر کی صورت اختیار کرلیتا ہے…
اس پتھر کو ناگ منی کہتے ہیں..
ایسا ناگ یا ناگن اسی ناگ منی کی مدد سے ہی اپنا روپ بدلنے پر قادر ہوتے ہیں اور انسانی روپ اختیار کر سکتے ہیں..
میں نے اپنے علم سے جانا ہے اس وقت دنیا میں صرف ایک ہی ناگن ہے جو اکشادھاری ہے..
وہ ناگن افریقہ کے ایک جنگلی قبیلے کی سردار ہے جو سانپوں کے پجاری ہیں..
اس ناگن کے پاس وہ ناگ منی موجود ہے وہی ناگ منی تم جل پریوں کی ملکہ کو دے سکتے ہو…
اس ناگ منی کی مدد سے وہ انسانی روپ حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گی…
اور مردوں سے ملاپ کر سکیں گی جس سے ان کی نسل میں تیزی سے اضافہ ممکن ہے..
یعنی مجھے افریقہ جانا پڑے گا اور وہ ناگ منی حاصل کرنا پڑے گا..
اس کے بعد میں سمندر کی گہرائی میں موجود جل پریوں کی ملکہ کے پاس جائوں گا…
پھر اس کے جسم کا پانی حاصل کر کے نیکرومس جائوں گا..
وہاں ان سے جنگ ٹالنے کے عوض جل پریوں کی ملکہ کے جسم سےحاصل ہونے والا پانی دوں گا ان کو دوں گا..
اس دوران مجھے سردار کی بیٹی نیکتی کو قابو کرنا ہے اور اس سے شادی کرنی ہے..
کیا میں ٹھیک سمجھا ہوں میں نے سوالیہ نظروں سے بابا کی طرف دیکھا…
ہاں..اگر تم اپنی طاقتوں کے ساتھ یہ سب کرتےتو اسان تھا…
مگر ناں ہی ناگ قبیلے میں ناں ہی سمندر کی گہرائی میں اور ناں ہی پاتال میں…
تم اپنی طاقتیں کہیں استعمال نہیں کر پائو گے ان سارے کاموں میں یہی ایک مشکل سب سے بڑی ہے کہ تمھارے پاس ان سب مسائل سے نمٹنے کے لئے بہت محدود طاقتیں ہونگی..
اس کے بعد بابا نے مجھے تفصیل سے ناگن, جل پریوں کی ملکہ اور نیکرومس کےحوالے سے ہدایات دیں..
اور میں بابا کا اشیرباد لے کر افریقہ کے سفر پر روانہ ہوگیا..
جہاں میرا واسطہ سینکڑوں سال سے زندہ انسانی روپ میں موجود اکشادھاری ناگن سے پڑنے والا تھا..
میں فضاء میں بلند افریقہ کے جنگل کی طرف بڑھ رہا تھا..
بابا کی ہدایت کے مطابق میں ایک لمبے تڑنگے انسانی روپ میں تھا مگر میرا رنگ سیاہ کے بجائے تانبے کیطرح تھا جس میں سیاہی جھلک رہی تھی..
میرا سارا جسم برہنہ تھا اور زیریں حصے پر چمڑے کا ایک مختصر ٹکڑا بندھا تھا..
سر پر پروں کا تاج اور چہرے اور جسم پر مختلف نقش و نگار..
اس وقت میں ایک افریقی وچ ڈاکٹر کا روپ دھارے ہوئے تھا..
وچ ڈاکٹر افریقہ میں روحوں کےنمائندہ اور مقدس سمجھے جاتے ہیں…
وچ ڈاکٹر کو کوئی بھی قبیلہ کس قسم کا نقصان پہنچانے سے گریز کرتا ہے..
بابا نے کوئی عمل کیا تھا جس سے میں افریقی زبان سمجھنے پر قادر ہوگیا تھا اور میری ذات پر گہری دھند تھی..
بابا نے یقین دہانی کروائی تھی کہ وہ ناگن یا کوئی بھی جادوگر کسی صورت میرے دل کا حال نہیں جان سکے گا..
مگر میری طاقتیں صرف جنگل پہنچنے تک تھیں..
ایک بار میں جنگل میں داخل ہوجاتا تو طاقتوں کے حوالے سے بے یارومددگار ہوجاتا..
انھی خیالوں میں گم میں جنگل تک پہنچ گیا..
جیسے ہی میں جنگل میں داخل ہوا میری نادیدہ ہونے کی شکتی ختم ہوگئی اور ۔