قسط: 31
میں اب انسانی روپ میں تھا اور میں اپنی زیادہ تر طاقتوں سے محروم ہوچکا تھا..
میرے ہاتھ میں ایک بڑی برچھی نما چیز تھی جس سے جھاڑیاں اور درخت وغیرہ کاٹ کر اگے بڑھا جا سکتا تھا..
مجھے اس جنگل کے عین درمیان میں پہنچنا تھا جہاں ناگ کا پجاری قبیلہ اباد تھا..
اس قبیلے کی پہچان وہاں ایک پتھر کی چٹان تھی جس کے سرے پر پتھر ہی سے ناگ دیوتا کی مورت تراشی گئی تھی..
یہ دن کا وقت تھا مگر جنگل بے حد گھنا اور تاریک تھا..
انتہائی گھنے درختوں نے سورج کی روشنی کو ڈھک دیا تھا اور زمین پر جھاڑیوں اور گھانس پھونس کی کثرت تھی..
میں برچھی کی مدد سے جھاڑیاں کاٹتا اور راستہ بناتا ہوا اگے بڑھ رہا تھا..
بابا مجھے بتا چکے تھے کہ ان جنگلوں میں ادم خور درخت ہیں جو انسان کو منٹوں میں اپنی گرفت میں لے کر چٹ کر جاتے ہیں..
ایسے ایسے حشرات ہیں کہ کاٹ لیں تو لمحوں میں موت واقع ہوجائے..
تیزابی دلدلیں, خونخوار جانور غرض ہر قدم پر خطر تھا..
میں جنگل میں اگے بڑھتا رہا..
تھک جاتا تو رک کر ارام کرلیتا اور بھوک لگنے پر درختوں کے پھلوں سے گزارہ کر رہا تھا..
شام ہونے والی تھی اور کوئی قابل ذکر واقعہ پیش نہیں ایا..
میرے پاس موجود طاقتیں بہت محدود تھیں…
اگر کسی شخص یا جادوگر نے روپ بدلا ہوا ہو..
تو اپنی شکتیوں کی مدد سے میں اس شخص کی حقیقت کو جان سکتا تھا..
میں گھپ اندھیرے میں بھی دیکھنے پر قادر تھا..
کوئی بھی میری اصلیت یا دل کا حال نہیں جان سکتا تھا..
ان کے علاوہ بھی چند طاقتیں میرے پاس تھیں مگر یہ سب اس خطرناک جنگل میں کافی نہیں تھیں..
خاص کر اس اچھادھاری ناگن کے لئے جو انسانی روپ میں اچکی تھی اور قبیلے کی سردار بھی تھی..
میں تھک کر ایک گھنے درخت سے ٹیک لگا کر ارام کر رہا تھا جب میرے کانوں میں چھن چھن کی اواز گونجی..
اس جنگل میں ایسی اواز بالکل ناقابل یقین تھی..
میں سیدھا ہوکر بیٹھ گیا..
ایسا لگ رہا تھا کوئی چلتا ہوا میری طرف ارہا ہے اور اس کے قدموں سے یہ اواز ارہی ہے..
میں نے چاروں طرف دیکھا مگر مجھے کوئی نظر نہیں ایا..
میں نے پلٹ کر درخت کے پیچھے دیکھنے کی کوشش کی..
مگر وہاں بھی کچھ نہیں تھا..
جیسے ہی میں سیدھا ہوا چونک گیا..
میرے عین سامنے چند گز کے فاصلے پر ایک حسین و جمیل عورت موجود تھی..
کمر سے نیچے گھنے لمبے بال..
خوبصورت چہرہ, سرخ رنگ کا لبادہ جو ہوا میں لہرا رہا تھا..
مگر یہ عورت اس جنگل میں کیا کر رہی تھی..
ناں ہی وہ حبشی تھی ناں ہی اس کا لباس جنگلیوں والا تھا..
پھر یہ عورت کون ہے..
میں نے اپنی شکتیوں کی مدد لی اور جھٹکے سے اٹھ کر کھڑا ہوگیا..
مجھے یقین نہیں ایا..
مگر میری شکتیاں مجھے غلط نہیں بتا سکتی تھیں..
وہ ایک خونخوار چڑیل تھی جو اس وقت مجھ سے چند گز دور موجود تھی اور پیار بھری نظروں سے مجھے دیکھ رہی تھی..
پاکستان میں چڑیل کو “پچھل پیری“ کہتے ہیں مگر چڑیل اور پچھل پیری میں فرق ہوتا ہے..
پچھل پیری کے پائوں پیچھے کی طرف مڑے ہوتے ہیں جبکہ چڑیل مکمل طور پر انسانی روپ اپنانے پر قادر ہوتی ہے اور اسے پہچاننا ممکن نہیں ہوتا..
بنگلہ دیش میں چڑیل کو ”پیتنی یا شخچنی“ اور ملائیشیا اور انڈونیشیا میں پونتیاناک کہا جاتا ہے…
بھارت و پاکستان میں چڑیل کا لفظ انگریزی زبان کے لفظ “وچ” کے لیے استعمال ہوتا ہے…
انگریزی میں “وچ” جادوگرنی یا ڈائن کو کہتے ہیں جس کے پاس شیطان کی دی ہوئی خصوصی طاقت موجود ہوتی ہے..
چڑیل کے حوالے سے دنیا کے مختلف خطوں اور قوموں میں الگ الگ کہانیاں رائج ہیں..
جنوبی مشرقی ایشیا میں چڑیل اس کو مانا جاتا ہے جو آیا دوران زچگی یا ”دوران نجاست“ مر گئی ہو…
مرزاپور کے کورواسوں کا کہنا ہے کہ اگر کوئی عورت زچگی کے کمرے میں مرتی ہے وہ چڑیل بن جاتی ہے…
پتاریوں اور مجھواروں کا کہنا ہے کہ اگر کوئی عورت دوران زچگی یا دوران حیض مرجاتی ہے تو وہ چڑیل بن جاتی ہے اور سفید لباس میں ملبوس ایک خوبصورت عورت کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے…
بھویار کہتے ہیں اگر کوئی لڑکی بیس دن کی عمر سے قبل ہی مر جاتی ہے تو وہ چڑیل بن جاتی ہے…
مغربی بھارت گجرات میں لوگوں کا عقیدہ ہے کہ اگر کوئی عورت غیر فطری موت مرتی ہے تو وہ چڑیل بن جاتی ہے..
چڑیل اپنے اصلی روپ میں انتہائی بدصورت اور لٹکے ہوئے پستان والی ہوتی ہے جس کی زبان کالی ہوتی ہے اور موٹے اور کھردرے ہونٹ اس کو مزید بد شکل بنا دیتے ہیں…
اس کا پیٹ مٹکا نما باہر نکلا ہوتا ہے, درندوں جیسے ہاتھ اور بد وضع اور غیر ضروری طور پر لمبے بال ہوتے ہیں..
چڑیل زیادہ تر جنگل, ویران جگہوں, قبرستان، مقبرے، غیر آباد گھر، بیت الخلا اور غلیظ جگہوں پر دیکھی جاتی ہے..
چڑیل مردوں کو بہلاتی پھسلاتی ہے اور پھر اپنے جام میں پھنسا کر یا تو ان کو ماردیتی ہے یا پھر ان سے جنسی تسکین حاصل کرتی ہے اور منہ سے ان کا جوہر حیات پی پی کر چند دنوں میں ہی ان کو بوڑھا بنا دیتی ہے..
میرے ذہن میں چڑیل سے متعلق ساری حقیقتیں پل بھر میں اکر گزر گئیں..
یہ میری زندگی کا پہلا موقع تھا کہ میرا سامنا کسی چڑیل سے ہوا تھا وہ بھی ایسے موقعے پر جب میں انسانی روپ میں تھا اور اپنی زیادہ تر شکتیوں سے محروم ہوچکا تھا..
میں نے غیر محسوس طریقے سے اپنے پہلو میں ہاتھ مارا وہاں چمڑے کی میان میں خنجر موجود تھا..
مگر چڑیل کو اس طرح حملہ کر کے ختم نہیں کیا جا سکتا تھا..
لڑکی..کون ہو تم اور یہاں اس جنگل کیا کر رہی ہو..میں نے اونچی اواز میں سوال کیا..
میری بات کے جواب میں وہ دھیرے دھیرے قدم اٹھاتی ہوئی میرے نزدیک اگئی..
میں لکڑیاں اکٹھی کرنے اپنے قبیلے سے باہر نکلی تھی مگر..
میرے پیچھے ایک جنگلی جانور لگ گیا اور میں اس سے جان بچا کر بھاگتی ہوئی راستہ بھول کر اس طرف نکل ائی..اس کی اواز میں کھنکھناہٹ تھی..اور انکھوں میں بے بسی اور مجبوری نظر ارہی تھی..
اس کی کہانی مظبوط تھی اور اداکاری بھی لاجواب..
مگر میں اس کی حقیقت جان چکا تھا…
مگر میں فی الحال اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا تھا…
اس لئے میں نے انجان بن کر اس کی اس کہانی میں اس کا ساتھ دینے کا فیصلہ کر لیا..
بھوک لگی ہے تو کچھ کھائو گی..میں نے اپنے پاس موجود پھلوں کی طرف اشارہ کیا..
میں جانتا تھا چڑیلیں سوائے غلاظت کے کچھ نہیں کھاتیں..اور اس کے جواب نے میری بات کی تصدیق کر دی..
نہیں میں بہت دیر سے جنگل میں بھٹک رہی ہوں اور کافی سارے پھل کھائے ہیں میں نے..مجھے بالکل بھوک محسوس نہیں ہورہی..
شام ہوگئی ہے اندھیرا ہونے والا ہے اور مجھے ڈر لگ رہا ہے کیا تم مجھے ایک رات کے لئے اپنے ساتھ رکنے کی اجازت دو گے..
صبح ہوتے ہی میں چلی جائوں گی..اس نے امید بھری نظروں سے میری طرف دیکھا..
انکار کا کوئی سوال ہی نہیں تھا میرے انکار کی صورت میں وہ کوئی اور بہانہ تراش لیتی..
اگر میں سختی سے اسے بھگا دیتا تو وہ چھپ کر مجھ پر حملہ کرتی اور میری جان لینے کے درپے ہوجاتی…
اس لئے بہتر یہی تھا کہ میں انجان بن کر اس کا ساتھ دیتا رہوں..
ہاں تم رک سکتی ہو صبح تک..
میرا قبیلہ جنگل میں بہت دور ہے میں ایک خاص جڑی بوٹی کی تلاش میں بھٹک رہا ہوں..
میں بات کرتے ہوئے واپس درخت سے ٹیک لگا کر زمین پر بیٹھ گیا..
اوہ اچھا..میں بہت تھک گئی ہوں میں کچھ دیر لیٹ جائوں..
ہاں لیٹ جائو تمھاری مرضی..میں نے جواب دیا..
اور وہ قتالہ ایک خطرناک پوز میں زمین پر نیم دراز ہوگئی..
یہ اس کی چال تھی لیٹنے میں اس کے جسم کے اوپری اور نچلے نشیب و فراز لبادے سے جھانکتے نظر ارہے تھے اور ۔