قسط: 32
مجھے اندازہ ہوگیا تھا کہ وہ میری جان کے درپے نہیں ہے..
بابا کی دان کی ہوئی شکتیوں کی وجہ سے وہ میرے دل میں جھانکنے اور میری اصلیت جاننے سے قاصر تھی..
اگر وہ اپنے اصلی روپ میں اکر مجھ پر حملہ کرتی تو میرے لئے بچ نکلنا ناممکن ہوجاتا..
میرے لئے یہی بہتر تھا کہ اسے دھوکے میں رکھ کر شکار کیا جائے..
اس کے نشیب و فراز اتنے حسین اور خطرناک تھے کہ میری جگہ کوئی بھی ہوتا تو بہک کر اس کا شکار بن جاتا..
تم ایسے لیٹو گی تو میری نیت تم پر خراب ہوجائے گی..
تو کرلو ناں خراب تمھیں کس نے روکا ہوا ہے اس نے قاتل مسکراہٹ سے کہا..
میں نے مسکراتے ہوئے اسے دیکھا تو میری شہ پا کر وہ کھسکتی ہوئی میرے پاس اگئی..
میں درخت سے ٹیک لگا کر زمین پر بیٹھا ہوا تھا..
اس نے اگے جھک کر جیسے ہی اپنا چہرہ میرے نچلے جسم پر جھکایا… میں نے بجلی کی تیزی سے پہلو میں لٹکے ہوئے خنجر کو تھاما اور اگلے ہی لمحے وہ خنجر پشت کی جانب سے اس کی دل میں بھونک کر اسے نیچے تک چیر دیا..
جنگل کی فضاء اس چڑیل کی بھیانک اور کربناک چیخوں سے گونج اٹھی..
اس کا جسم بری طرح تڑنے مڑنے لگا تھا اور وہ اپنے اصلی روپ میں ارہی تھی..
یہ خنجر بابا کی عنایت تھی اور میرا واحد ہتھیار بھی..
کوئی عام خنجر اس چڑیل کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا تھا…
مگر اس پر بابا نے کوئی خاص عمل کیا تھا جس کی وجہ سے اس سے گھائل ہونے والا کوئی بھی ہوتا خواہ جن و انس یا کوئی اور مخلوق اس کا بچ نکلنا ممکن نہیں تھا..
میں نے خنجر اس کے جسم سے نکال لیا اور اسے پیچھے جھٹک دیا.
فضاء میں بدبودار سڑانڈ پھیل رہی تھی اور اس کا وجود تیزی سے گلتا سڑتا جارہا تھا..
چند منٹوں میں اس کی جگہ پر صرف ہڈیوں کا ایک ڈھانچا رہ گیا تھا..
ماحول میں اس قدر تعفن پھیلا ہوا تھا کہ مجھے ابکائی ارہی تھی..
میں وہاں سے اٹھا اور جنگل میں اگے کی طرف بڑھ گیا..
ابھی میں کچھ دور ہی گیا تھا کہ مجھے احساس ہوا کہ کوئی میرے پیچھے ارہا ہے..
میں نے رک کر چاروں طرف نظر دوڑائی مگر کسی کو بھی دیکھنے میں ناکام رہا..
چاروں طرف اتنا گھنا جنگل اور جھاڑیاں تھیں کہ کسی کی موجودگی کا پتہ چلنا بہت مشکل تھا..
مجھے جنگلی درندوں کا بھی خوف تھا خاص کر شیر اور سیاہ چیتے کا جو گھات لگا کر حملہ کرتے ہیں..
میں نے اگے بڑھنے کے لئے قدم بڑھایا ہی تھا کہ ہر طرف سے ننگ دھڑنگ وحشی نمودار ہوئے اور انھوں نے مجھے چاروں طرف سے گھیر لیا..
ان کے ہاتھوں میں تیر کمان اور بھالے نظر ارہے تھے اور چہرے پر عجیب و غریب نقش و نگار..
حیرت انگیز طور پر ان کا رویہ جارحانہ نہیں تھا مگر وہ مجھے گھیر کر کھڑے تھے..
ان میں سے ایک ممتاز نظر انے والا شخص اگے بڑھا اور میرے قریب اگیا..
ہم مسائی قبیلے سے ہیں وچ ڈاکٹر..
اس نے اپنی زبان میں بات کا اغاز کیا..
ہم نے دیکھا تم نے اس بلاء کا شکار کیا جو سینکڑوں جانیں لے چکی تھی..
اس کا اشارہ یقینا اس چڑیل کی طرف تھا..اور وہ لوگ چھپ کر میرا اسے مارنا دیکھ چکے تھے..
ہم ایک مصیبت میں ہیں کیا تم ہماری مدد کرو گے اور تمھارا نام کیا ہے عظیم وچ ڈاکٹر..
ٹوماگا..میں نے اپنے ذہن میں انے والا پہلا نام دوہرا دیا..
کس مصیبت میں ہو تم لوگ اور میں اپنے ایک کام کے سلسلے میں سفر میں ہوں..
ہمارا قبیلہ زیادہ دور نہیں میری درخواست ہے کچھ دیر کے لئے تم ہمارے مہمان بنو…
اور ہمیں اس مصیبت سے چھٹکارہ دلوا دو…
یقینا تمھارے پاس جادو کی شکتیاں ہیں…
ورنہ اس بلاء کو مارنا کسی عام انسان کے بس میں نہیں تھا..
ٹوماگا ہماری عورتیں بانجھ ہوگئی ہیں اور ہمارے مرد بنجر..
ہمارے قبیکے پر کالی شکتیاں مسلط ہوگئی ہیں ہم لوگ..
میں ایک شرط پر تمھارے قبیلے میں چلنے کے لئے تیار ہوں میں نے اس کی بات کاٹ دی..
اگر تم مجھے میری منزل پر پہنچنے میں مدد کرو تو اس کے بدلے میں قبیلے میں جا کر تمھارا مسئلہ حل کرنے کی کوشش کر سکتا ہوں..
تمھاری منزل ٹوماگا..
اس نے سوالیہ نظروں سے میری جانب دیکھا..
ہاں..ناگ قبیلہ..مجھے ناگ قبیلے تک جانا ہے جس کی سردار ایک عورت ہے..
میری بات سن کر اس کے چہرے پر خوف و ہراس کے تاثرات ابھر ائے..
ٹوماگا..اس قبیلے سے اس جنگل کے سارے قبیلے دور رہتے ہیں..
وہ کالی شکتیوں کے مالک ہیں اور ہم میں سے کوئی اس قبیلے میں جانے کی ہمت نہیں کر سکتا..
نہیں قبیلے نہیں جانا ہے تم میں سے کوئی صرف میری اس قبیلے سے کچھ دور تک رہنمائی کر دے اور واپس اجائے بس..
ٹھیک ہے..یہ ممکن ہے..اس نے گہرا سانس لیا..میں مسائی کا سردار تماکا ہوں…
اگر تم نے میرے قبیلے کا مسئلہ حل کر دیا تو میرا وعدہ ہے ہم تمھیں وہاں تک پہنچا دیں گے..
ٹھیک ہے پھر چلو..میں نے کہا..
کچھ دیر چلنے کے بعد ہم ایک تیس چالیس جھونپڑیوں پر مشتمل قبیلے میں داخل ہوئے..
جگہ جگہ ننگ دھڑنگ بچے کھیل رہے تھے اور مرد اور عورتیں روزمرہ کے کام کاج میں مصروف نظر ارہی تھیں..
سردار مجھے لے کر ایک نسبتا بڑی جھونپڑی کی طرف بڑھ گیا جو کچھ فاصلے پر تھی..
سردار میں نے مسائی قبیلے کے بارے میں سنا ہے مگر یہ تو بہت چھوٹا سا قبیلہ ہے…
اندر گھانس پھونس سے بنے بستر پر بیٹھنے کے بعد میں نے سردار سے پوچھا..
ہاں ٹھیک کہا تم نے مسائی خانہ بدوش ہیں اور بہت سی جگہوں پر موجود ہیں..
یہ اسی قبیلے کی ایک شاخ ہے ہم یہاں کچھ وقت پہلے ہجرت کر کے ائے ہیں…
اور جب سے یہاں ائے ہیں ہم پر کالی طاقتیں مسلط ہوگئی ہیں اور ہماری عورتیں بانجھ اور مرد بنجر ہوگئے ہیں..
اس بات کا کیا مطلب ہے سردار..مجھے ذرا تفصیل سے بتائو میں نے کہا..
ٹوماگا..ہمارے مرد اب اپنی عورتوں سے تعلق قائم نہیں کرپاتے اور ان سے بیزار ہوگئے ہیں اسی طرح عورتوں میں بھی وہ حس ختم ہوگئی ہے..کوئی عورت بھی اپنے مرد کو قریب نہیں انے دیتی ہے…
جب یہ نہیں ہوگا تو ہماری نسل اگے کیسے چلے گی…
میں یہ عجیب و غریب مسئلہ سن کر سردار کو حیرت سے دیکھتا رہ گی