جن زاد

post cover

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

قسط: 34

وہ عورتیں خوشی کا اظہار کر رہی تھیں..

بہت مشکل سے میں ان سب سے جان چھڑوا پایا..
ناشتہ سردار کی جھونپڑی میں کرنے کے بعد میں دو مسائی جنگلیوں کے ساتھ ناگ قبیلے کے طرف روانہ ہوگیا..
اگلے دو دن سفر میں گزرے..
ہم پھل پرندوں اور جنگلی جانوروں کا شکار کر کے انھیں بھون کر کھاتے رہے..
اگ جلانے کے لئے چقماق پتھر کے استعمال میں مسائی طاق تھے..
راستے میں ہمارا مختلف قبائل سے بھی سامناہوا..
مگر کوئی قابل ذکر واقعہ پیش نہیں ایا..
یہ تیسرے دن دوپہر کی بات ہے ہم جنگل کے ایک انتہائی گھنے حصے سے گزر رہے تھے..
ہماری نظر ایک چٹان پر پڑی جو کافی بلند تھی..
ہم لوگ کچھ ارام کرنے کی غرض سے چٹان کی طرف بڑھ گئے..
نیکسٹ کہنے والے اب سے بناء کسی وارننگ کے گروپ سے بین ہوجائیں گے..
وہاں پہنچ کر دونوں مسائی اپنے بھالے اور تیر کمان لے کسی جنگلی جانور کا شکار کرنے نکل گئے..
میں چٹان سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا..
میں مسلسل سفر میں تھا اور اتنا زیادہ چلنے کا عادی نہیں تھا..
دوسرا انسانی روپ میں میرا بدن ان طاقتوں کا حامل نہیں تھا جو مجھے اپنے اصلی روپ میں حاصل تھیں..
میں شدید تھکن کا شکار تھا..
مجھے اندازہ نہیں ہوا جانے کب میری انکھ لگ گئی..
اچانک مجھے اپنی پنڈلی پر شدید چبھن اور تکلیف کا احساس ہوا اور میری چیخ نکل گئی..
یہ کوئی مٹیالے رنگ کا سانپ تھا جس نے مجھے کاٹا تھا..
عام طور پر سانپ کے کاٹنے سے اتنی زیادہ تکلیف کا احساس نہیں ہوتا..
مگر اس سانپ کے دانت نوکیلے کم اور موٹے زیادہ تھے..
جنھوں نے میری پنڈلی میں اچھی خاصے سوراخ کر دئے تھے..
سانپ مجھے ڈسنے کے بعد تیزی سے سرسراتا ہوا جھاڑیوں میں غائب ہوگیا تھا..
میں نے خنجر نکال کر پنڈلی پر گہرا کٹ لگایا تاکہ زہر خون کے ساتھ خارج ہو…
اور چمڑے کی پٹی کی مدد سے میں نے اپنی ٹانگ کو کس کر باندھ لیا تاکہ زہر اوپر کی طرف جانے کی شدت کم ہوجائے..
مگر شاید یہ کوئی بہت زیادہ زہریلا سانپ تھا..
میرا جسم سن ہورہا تھا اور انکھوں کے گرد اندھیرا چھارہا تھا..
میں نے خود کو سنبھالنے کی بہت کوشش کی مگر ناکام رہا اور میرا ذہن اندھیرے میں ڈوبتا چلا گیا..
میری انکھ کھلی تو مجھے ہر چیز گھومتی ہوئی محسوس ہوئی..
اہستہ اہستہ مجھے سب کچھ یاد انے لگا..
مجھے سانپ نے کاٹ لیا تھا اور میں بیہوش ہوگیا تھا..
مگر یہ وہ جگہ نہیں تھی..
میں نے سر گھما کر دیکھنے کی کوشش کی..
میں کسی پہاڑی غار یا کھوہ میں پتھر کی چٹان پر لیٹا ہوا تھا اور میری پنڈلی پر کوئی خاص قسم کے پتے لپیٹے گئے تھے..
غار کے ایک کونے میں ایک عجیب گول سا پتھر ایک چبوترے نما چیز میں نصب تھا..
ایک طرف ایک پتھر ہی کا دیا روشن تھا جس میں شاید کسی جانور کی چربی جلا کر روشن کیا گیا تھا کیونکہ ہرطرف چربی جلنے کی بو پھیلی ہوئی تھی..
اس پتھر کے سامنے ایک ننگ دھڑنگ جوگی نما ایک شخص التی پالتی مارے انکھیں بند کئے شاید پوجا میں مصروف تھا..
میرا حلق پیاس کے مارے شدید خشک ہورہا تھا..
میں نے بمشکل اواز دی..پانی..
میری اواز سن کر وہ جوگی وہاں سے اٹھا..
ور ایک کونے میں چمڑے کے مشکیزے سے…
پتھر کے ایک پیالے میں پانی بھر کر میرے پاس لے ایا اور مجھے سہارا دے کر بٹھا دیا..
پانی پی کر کچھ جان میں جان ائی تو میں نے اس سے سوال کیا..کون ہو تم اور میں کہاں ہوں..
میرا نام نندا ہے اور تم چٹان کے پاس زمین پر بیہوش پڑے ہوئے تھے.
تمھاری چیخ کی اواز سن کر میں باہر نکلا تھا اور تمھیں اٹھا کر یہاں لے ایا..
میرے ساتھ دو ساتھی تھے..
نہیں وہاں کوئی نہیں تھا..نندا نے جواب دیا..
تم یہاں اکیلے..اور تم مقامی بھی نہیں..میں نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا..
ہاں میرا تعلق پندوستان سے ہے اور میں لنگایت ہوں..
لنگایت..یہ کوئی قبیلہ ہے…میں نے سوال کیا..
باھویں صدی عیسوی میں کنچوری راجوڑی راجہ بجل کے زمانے میں.. بسو نام کے ایک برہمن نے جین دھرم کے مقابلے میں لنکایت مت کا پرچار کیا تھا…
اسے راجہ بجل نے اپنا مشیر بنالیا تھا..
ان کا عقیدہ تھا کہ شیو نے اپنی روح کو دو حصوں لنگ اور جسم میں تقسیم کردیا ہے…
اس لیے یہ لنگ کو چاندنی کی ڈبیا میں بند کرکے اپنے گلے میں پہنتے تھے..
انھوں نے لنگم کی پوجا کرنا شروع کی اور یہ انکے ماننے والے لنگم یا لنگ کی نسبت سے لنگایت کہلاتے ہیں…
اس طرح لنگ پوجا کو مقبولیت حاصل ہوئی اور رفتہ رفتہ…
شیو کے مندروں میں شیو کی مورتی کے بجائے لنگم کی پوجا ہونے لگی جو اب تک جاری ہے..
شیو کی پوجا دو طرح کی ہوتی ہے ایک دکشنا کار اور دوسری باما کار.. دکشنا کار والے جانوروں کی قربانی کرتے ہیں اور کالی کو چنڈی مانتے ہیں..
باما کار مارگی کہلاتے ہیں وہ پوشیدہ طور پر پوجا کرتے ہیں وہ عورت کی یونی کو پوجتے ہیں.. شراب پیتے ہیں اور گوشت کھاتے ہیں زناکاری کرتے ہیں…
شیو تو تم لوگوں کے دیوتا تھے شاید میں نے اس کی بات سن کر کہا اور لنگ کی پوجا کا کیا مقصد..
ہاں درست کہا تم نے شیوجی دیوتا ہیں اور لنگ پوجا کی وجہ یہ ہے…
ایک بار ﭘﺎﺭﺑﺘﯽ دیوی ﺍﭘﻨﮯ ﺑﺎﭖ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮔﺌﯿﮟ ﺟﮩﺎﮞ ﺍﻥ ﯾﮕﯿﮧ ‏ یعنی ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﮨﻮ رہی تھی…
اﺱ ﯾﮕﯿﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻼﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﻭﮨﺎﮞ بﺎﭖ ﺳﮯ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﺟﮭﮕﮍﺍ ﮨﻮﺍ ﭘﺎﺭﺑﺘﯽدیوی ﻏﺼﮧ ﻣﯿﮟ ﺁﮐﺮ ﺍﺳﯽ ﮨﻮﻥ ‏یعنی ﺍﻻﺅ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺩ ﮐﺮ ﺟﻞ ﻣﺮﯾﮟ..
ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺷﯿﻮ ﭘﺮﯾﺸﺎﻧﯽ کے عالم ﻣﯿﮟ ﭘﮩﺎﮌﻭﮞ ﭘﺮ ﺑﺮﮨﻨﮧ ﮔﮭﻮﻡ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ…
ﭘﮩﺎﮌﻭﮞ ﭘﺮ ﺭﺷﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﻨﯽ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺭﮦ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ.. ﺷﯿﻮ ﮐﻮ ﺑﺮﮨﻨﮧ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻋﻮﺭﺗﯿﮟ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺷﮩﻮﺕ ﺳﮯ ﻣﻐﻠﻮﺏ ﮨﻮﮐﺮ ﻣﮩﺎﺩﯾﻮ ﺳﮯ ﻟﭙﭧ ﮔﺌﯿﮟ..
ﯾﮧ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺭﺷﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﻨﯽ ﺳﺨﺖ ﻧﺎﺭﺍﺽ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺷﯿﻮ ﮐﻮ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺳﻨﺎﺋﯿﮟ ﺟﺎﮨﻞ، ﺑﮯ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﻋﺎﺻﯽ ﯾﮧ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ…
اﻧﮩوں ﻧﮯ ﺷﯿﻮ ﮐﻮ ﺷﺮﺍﭖ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﺗﻤﺎﺭﺍ ﻟﻨﮓ ﮐﭧ ﮐﺮ ﭘﺎﺗﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﭼﻼ ﺟﺎﺋﮯ..
ﯾﮧ ﮐﮩﺘﮯ کی دیر تھی ﻣﮩﺎﺩﯾﻮ ﮐﺎ ﻟﻨﮓ ﮐﭧ ﮐﺮ ﮔﺮﺍ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﺗﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ..
ﻣﮩﺎﺩﯾﻮ ﮐﮯ ﻟﻨﮓ ﮐﮯ ﮐﭩﻨﮯ ﺳﮯ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺷﮑﻞ ﺧﻮﻓﻨﺎﮎ ﮨﻮﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﺗﯿﻨﻮﮞ ﻟﻮﮎ ﯾﻌﻨﯽ ﭘﺮﺗﮭﻮﯼ، ﭘﺎﺗﺎﻝ ﺍﻭﺭ ﺳﻮﺭﮒ ﻣﯿﮟ ﺁﻓﺘﯿﮟ ﺁﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﮔﺌﯿﮟ..
ﭘﮩﺎﮌ ﺟﻠﻨﮯ ﻟﮕﮯ، ﺩﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﺘﺎﺭﮮ ﮔﺮﻧﮯ ﻟﮕﮯ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﺭﺍ ﻧﻈﺎﻡ درہم ﺑﺮﮨﻢ ﮨﻮﮔﯿﺎ..
ﻣﻨﯽ، ﺭﺷﯽ ﺑﮭﯽ ﮨﺮﯾﺸﺎﻥ ﮨﻮﮔﺌﮯ ﮐﮧ ﮨﻢ ﻧﮯ ﯾﮧ ﮐﯿﺴﺎ ﺷﺮﺍﭖ ﺩﮮ ﺩﯾﺎ…
رﺷﯽ ﻭ ﻣﻨﯽ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺩﯾﻮﺗﺎ ﻭﺷﻨﻮ ﮐﻮ ﻟﮯ ﮐﺮ ﻣﮩﺎﺩﯾﻮ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﺁﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ ﮨﻢ ﺳﮯ ﻏﻠﻄﯽ ﮨﻮﮔﺌﯽ ﮨﮯ ﮨﻤﯿﮟ ﻣﻌﺎﻑ ﮐﺮﺩﻭ ﮨﻢ ﺍﭘﻨﺎ ﺷﺮﺍﭖ ﻭﺍﭘﺲ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ…
ﻟﻨﮓ ﮐﻮ ﭘﮭﺮ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﺪﻥ ﺳﮯ ﭘﯿﻮﺳﺖ ﮐﺮو..
ﻣﮩﺎﺩﯾﻮ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺑﻐﯿﺮ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﮨﻢ ﮐﻮ ﻟﻨﮓ ﮐﯽ ﮐﯿﺎ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮨﮯ.. ﺩﯾﻮﺗﺎﺅﮞ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ..
ﺳﺘﯽ ‏یعنی ﭘﺎﺭﺑﺘﯽ ﺟﯽ ﻧﮯ ﭘﮭﺮ ﮨﻤﺎﭼﻞ ﮐﮯ ﯾﮩﺎﮞ ﺟﻨﻢ ﻟﯿﺎ ﮨﮯ..
ﻭﮦ ﭘﮭﺮ ﺳﮯ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺑﯿﻮﯼ ﺑﻨﮯ ﮔﯽ..
ﻣﮩﺎﺩﯾﻮ ﻧﮯ ﺳﻦ ﮐﺮ ﮐﮩﺎ ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﺳﺐ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻟﻨﮓ ﮐﯽ ﭘﻮﺟﺎ ﮐﺮﻭ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﮨﻢ ﻟﻨﮓ ﮐﻮ ﻟﮕﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ..
ﻭﺷﻨﻮ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺩﯾﻮﺗﺎﺅﮞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮨﺎﮞ ﮨﻢ ﺳﺐ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﻟﻨﮓ ﮐﯽ ﭘﻮﺟﺎ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ..
ﺳﺐ ﺩﯾﻮﺗﺎ ﭘﺎﺗﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﻟﻨﮓ ﮐﯽ ﭘﻮﺟﺎ ﮐﯽ..
ﺍﺱ ﺳﮯ ﻣﮩﺎﺩﯾﻮ ﺧﻮﺵ ﮨﻮﮐﺮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺁﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﮨﻢ ﺍﺱ ﭘﺮﺳﺘﺶ ﺳﮯ ﺧﻮﺵ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﺭﺩﺍﻥ یعنی ﺍﻧﻌﺎﻡ ‏ﻣﺎﻧﮕﻮ..
ﺳﺐ ﺩﯾﻮﺗﺎﺅﮞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺍﺏ ﺗﯿﻨﻮﮞ ﻟﻮﮐﻮﮞ ﮐﻮ ﺳﮑﻮﻥ ﺩﻭ…
اﻭﺭ ﺍﭘﻨﺎ ﻟﻨﮓ ﻟﮕﺎﻟﻮ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﺁﺋﻨﺪﮦ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﮭﮕﺘﯽ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﯿﮟ ﮔﮯ..
اﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﯾﮏ ﻟﻨﮓ ﺑﻨﺎﮐﺮ ﺍﺳﮯ ﻧﺼﺐ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﺁﺋﻨﺪﮦ ﺍﺳﯽ ﮐﯽ ﭘﻮﺟﺎ کیاﮐﺮﻭ..
اس کے بعد بے شمار لنگ بنا کر دنیا میں پھیلا دئیے گئے تاکہ لوگ ان کی پوجا کریں..
ہندوستان ﻣﯿﮟ ﺷﯿﻮ ﮐﮧ ﻟﻨﮓ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﺻﺮﻑ ﻟﻨﮓ ﭘﻮﺟﺎ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﻋﻮﺭﺗﯿﮟ ﺍﻭﻻﺩ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﭘﻮﺟﺎ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﯿﮟ..
ﯾﮧ ﻟﻨﮓ ﺷﯿﻮ ﻟﻨﮓ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﯾﻮﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﻮﺳﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﺑﻠﮑﮧ ﮐﺴﯽ ﺍﯾﺴﯽ ﺟﮕﮧ ﺍﺳﺘﺎﺩﮦ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻋﻮﺭﺕ ﺍﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﯾﻮﻧﯽ ﮐﻮ ﻟﮕﺎ ﺳﮑﮯ..
اسی ﻃﺮﺡ ہندوستان ﻣﯿﮟ ﻧﺎﮔﺎﮦ ﺳﺎﺩﮬﻮ ﯾﻌﻨﯽ ﻧﻨﮕﮯ ﺳﺎﺩﮬﻮﮞ ﮐﺎ ﺑﮍﺍ ﺍﺣﺘﺮﺍﻡ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻟﻨﮓ ﮐﻮ ﮐﯿﺎ ﻋﻮﺭﺗﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﻣﺮﺩ ﺳﺐ ﻋﻘﯿﺪﺕ ﺳﮯ ﭼﻮﻣﺘﮯ ﮨﯿﮟ..
نندا اپنی بات مکمل کر کے خاموش ہوگیا اور میں اس فحش اور ناقابل یقین کتھا کو سن کر حیران ہورہا تھا مگر یہی فحاشی اس کی مذہبی عقائد پر مبنی تھی اس لئے چاہ کر بھی میں اپنے دل میں انے والے خیالات کا اظہار نہیں کرپایا..
Instagram
Copy link
URL has been copied successfully!

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

کتابیں جو آپ کے دل کو چھوئیں گی

Avatar
Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial