قسط: 37
میرے سامنے وہی کمرہ نما جگہ تھی جس کا نندا نے بتایا تھا..
اس غار نما کمرے میں ایک پتھر کی تخت نما مسہری تھی جس پر گھانس پھونس کا بستر تھا..
کمرے میں اور کوئی قابل ذکر چیز موجود نہیں تھی..
وہ ناگن اس جگہ صرف ہوس پوری کرنے اتی تھی..
میں نے شکر ادا کیا کہ اس وقت وہاں کوئی موجود نہیں تھا ورنہ یقینا میں نظر میں اجاتا..
کمرے میں کوئی ایسی جگہ موجود نہیں تھی جہاں میں چھپ کر وقت گزار سکتا..
میں پیچھے ہٹ کر واپس سرنگ میں اگیا..
مجھے یہیں اس ناگن کا انتظار کرنا تھا..
جہاں سرنگ کا اختتام ہورہا تھا اور کمرہ شروع ہورہا تھا..
وہاں سے اس پتھر کے تخت تک پندرہ قدم کا فاصلہ تھا..
میری نظر میں یہ فاصلہ بہت زیادہ تھا..
مجھے اس تخت تک پہنچ کر حملہ کرنے میں چند لمحے لگتے..
مگر وہ چند لمحے فیصلہ کن ہوتے اور اس میں لازمی میں اس ناگن کی نظر میں اجاتا..
میں تیر کمان بھی استعمال کرتا جو کہ اول تو میرے پاس تھا نہیں اور ہوتا بھی تو اس سے ناگن کا کچھ نہیں بگڑتا..
اس کمرہ نما غار کی دوسری طرف جو دروازہ تھا میں اس میں داخل ہونے کا سوچنے لگا..
شاید وہاں کوئی ایسی جگہ ہو جہاں چھپا جا سکتا ہو اور حملہ کرنے میں اسانی ہو..
مگر وہاں خطرہ یہ تھا اگر زیادہ پہرے دار موجود ہوئے تو سارا پلان چوپٹ ہوجاتا..
مجھ سے غلطی ہوئی تھی..
نندا کے پاس موجود جادوئی پیالے میں مجھے اس کمرے اور اس سے ملحقہ جگہ کا جائزہ بھی لینا چاہئے تھا..
مگر اب کچھ نہیں ہوسکتا تھا..
دو دن کے انتظار کے بعد یہ موقع ہاتھ ایا تھا اور میں اسے ضائع کرنے کا متحمل نہیں ہوسکتا تھا..
میرے پاس نادیدہ ہونے کی شکتی ہوتی تو یہ سب بہت اسان ہوجاتا اس طاقت کی غیر موجودگی میں مجھے شدید مشکل پیش اتی..
وہ ناگن اتنا اسان شکار ہوتی تو اتنے بڑے قبیلے پر حکمران ناں ہوتی..
میں انھی سب سوچوں میں گم تھا کہ وقت ختم ہوگیا..
مجھے وہ ناگن کمرے میں داخل ہوتی نظر ائی..
غار میں ملگجا اندھیرا تھا اور اس میں اس ناگن کی انکھوں سے سنہری روشنی پھوٹ رہی تھی..
اس نے ایک برہنہ سفید فام کا ہاتھ تھاما ہوا تھا اور وہ چلتی ہوئی اس پتھر کی مسہری کی طرف ارہی تھی..
وہ میری سوچ سے بھی زیادہ حسین چہرے اور قاتل خدوخال کی مالک تھی..
اس نے جسم کو ڈھانپنے کے لئے چمڑے کا مختصر لباس زیب تن کیا ہوا تھا جس کا حجم ناں ہونے کے برابر تھا..
وہ لباس بجائے ستر پوشی کے اور جذبات بھڑکانے والا تھا..
مگر سب سے اچھی بات یہ تھی کہ اس کے قدم لڑکھڑا رہے تھے..
نندا کی اس بات پر مجھے یقین نہیں تھا کہ مدہوش ہوگی..
کیونکہ وہ بذات خود زہریلی ناگن تھی اس کے زہریلے وجود پر کسی شراب کا اثر ہونا ممکن نظر نہیں اتا تھا..
مگر میں اپنی انکھوں سے اس کے لڑکھڑاتے قدموں کو دیکھ رہا تھا..
شاید یہ کوئی خاص شراب یا مشروب تھا جس نے اس ناگن کو بھی مدہوش کردیا تھا..
سفید فام کی حالت بھی اس سے مختلف نہیں تھی..
دونوں لڑکھڑاتے ہوئے مسہری پر ایک دوسرے کے اوپر تقریبا ڈھیر ہوگئے..
سفید فام تو پہلے ہی برہنہ تھا مسہری پر اتے ہیں اس ناگن نے بھی برہنگی کا لباس اوڑھ لیا..
اس کے بعد اس غار نما کمرے کی اس پتھر کی مسہری پر ہوس کا کھیل شروع ہوگیا..
مجھے کسی مناسب موقعے کا انتظار تھا..
اور وہ موقع مجھے نہیں مل پارہا تھا..
مجھے سمجھ نہیں ارہی تھی کہ کس طرح اس ناگن سے نظر بچا کر میں اس کے قریب پہنچ سکتا ہوں..
وقت تیزی سے گزرتا جارہا تھا..
میرے لئے یہ بات بھی باعث حیرت تھی کہ ایک زہریلی ناگن کس طرح ایک عام انسان سے تعلق قائم کر سکتی ہے..
یا تو انسانی روپ میں انے کے بعد اس کے زہریلے روپ میں تبدیلی اجاتی ہے..
یا پھر اپنی شکتیوں کی مدد سے وہ اس کا توڑ کرتی ہے..
دونوں کا ہوس کا کھیل جاری تھا اور میں کشمکش میں مبتلا تھا..
وقت میرے ہاتھ سے پھسلتا جارہا تھا میں یہ موقع ضائع کردیتا تو ناں جانے دوبارہ کب ممکن ہوپاتا..
اخرکار میں نے رسک لینے کا فیصلہ کر لیا..
بابا کا دیا ہوا خنجر میں نے نوک کی طرف سے تھام لیا اور میں زمین پر بیٹھے ہوئے اس کمرے میں داخل ہوگیا..
خنجر کو نوک کی طرف سے تھامنے کا مقصد یہ تھا کہ اگر ناگن کی مجھ پر نظر پڑ جاتی..
تو میں دور سے خنجر اس کی طرف پھینک کر حملہ کر سکتا تھا..
اگرچہ ناگن کی میری طرف پشت تھی اور وہ اس سفید فام پر سوار تھی مگر مجھے یقین نہیں تھا کہ میں اس کے قریب پہنچ کر اس پر حملہ کر پائوں گا..
میں دھیرے دھیرے مسہری کی طرف کھسک رہا تھا اور میرے دل کی دھڑکن تیز ہورہی تھی..
شاید دو یا تین قدم کا فاصلہ رہ گیا ہو میں اپنی جگہ سے دھیرے سے کھڑا ہوا تھا..
اچانک ناگن کو جیسے جھٹکا سا لگا اور اس نے پلٹ کر میری طرف دیکھا..
شاید اس کےاحساسات نے اسے بتادیا تھا کہ کمرے میں کوئی اجنبی بھی موجود ہے..
میں نے خنجر کو دستے کی طرف سے تھاما اور چھلانگ لگا کر تقریبا اڑتا ہوا اس کی طرف گیا..
اس کے پلٹنے اور میرے اس پر چھلانگ لگانے کے درمیان شاید ایک لمحے کا بھی وقت نہیں لگا..
میرا خنجر اس کے بھاری بھرکم اور قیامت خیز سینے میں عین دل کے مقام پر پیوست ہوچکا تھا..
کمرے میں اس کی چیخ گونجی مگر میں نے انتظار کئے بناء خنجر نکالا اور اس کی شہ رگ کاٹ دی..
سرخ خون کے فوارے اس سفید فام کو بھگو رہے تھے مگر وہ نشے کی شدت سے اتنا مدہوش تھا کہ اس سے انکھیں کھولنا بھی مشکل ہورہا تھا..
یہ شاید چند لمحوں کی بات تھی..
اس ناگن کو جدوجہد کرنے کا موقع ہی نہیں دیا تھا میں نے..
چند لمحوں میں ہی اس کا جسم اپنی ہئیت تبدیل کرنے لگا اور اب اس سفید فام کے جسم سے ایک سیاہ رنگ کا سانپ لپٹا نظر ارہا تھا..
میں نے اس ناگن کو زمین پر پھینک دیا..
کچھ دیر وہ زمین پر بل کھاتی رہی اخرکار اس نے دم توڑ دیا..
میں نے پھرتی سے اس کے سر پر چیرا لگایا اور گوہر مقصود پالیا..
سیاہ رنگ کا چمکدار ناگ منی پتھر میرے ہاتھ میں تھا..
سرنگ کے دروازے پر اب حبشیوں کی اوازیں گونج رہی تھیں..
شاید وہ ناگن کی اواز سن کر اس طرف بڑھ رہے تھے..
میں بھاگتا ہوا واپس اسی سرنگ میں داخل ہوگیا جہاں سے میں ایا تھا..
میں اپنی پوری جان سے بھاگ رہا تھا کیونکہ اگر حبشی صورتحال کا اندازہ کر لیتے تو میری تکا بوٹی بنانے میں لمحہ ناں لگاتے..
اخرکار میں اس دروازے سے باہر نکلا جو نندا نے کھولا تھا تو میری جان میں جان ائی..
میں دروازے سے نکل کراندازے سے سیدھا بھاگتا ہوا اس طرف بڑھا جس طرف سے نندا مجھے لے کر ایا تھا ۔۔۔۔۔