قسط: 40
نندا نے دیوار کی جڑ میں موجود ایک پتھر دبایا..
تو گڑگڑاہٹ کی اواز کے ساتھ دیوار کے عین درمیان میں ایک دروازہ نمودار ہوگیا..
ہم دونوں اس دروازے سے اندر داخل ہوگئے..
اگے ایک سرنگ تھی جو ہاتھوں سے تراشی گئی تھی..
اس سرنگ کا اختتام ایک بہت چھوٹے سے غار نما کمرے پر ہوا..
جہاں کسی طرف سے ہوا کا گزر ناں ہونے کی وجہ سے گھٹن کا احساس ہورہا تھا..
نندا کے بتائی ہوئی دیوار کے ساتھ ایک کافی بڑا چوکور پتھر موجود تھا جو تقریبا تین فٹ کے قریب اونچا تھا..
اس پتھر سے مزید چار پانچ فٹ اوپر دیوار میں ایک دو ڈھائی فٹ بڑا گول پتھر نصب تھا..
جس کے عین درمیان میں ایک سوراخ موجود تھا..
ٹوماگا..میں صرف تجرباتی طور پر ماضی میں جانا چاہتا ہوں..
تم چند منٹ بعد اس لنگ کو واپس نکال لینا تو میرا جسم واپس پلٹ ائےگا..
ٹھیک ہے نندا..میں نے مختصر جواب دیا..
نندا لنگ کو ہاتھ میں تھامے اس پتھر پر چڑھ گیا…
کچھ پڑھ کر جیسے ہی اس نے لنگ کو اس گول پتھر کے سوراخ میں جڑ تک داخل کیا..
ایک بجلی کوندنے جیسی اواز گونجی اور نندا کا جسم جیسے پہلے سفید لہروں کی صورت ہوا اسکے بعد وہ لہریں اس چکردار پتھر سے ٹکرائیں اور غائب ہوگئیں..
اگر میں اپنی انکھوں سے یہ ناں دیکھتا تو شاید کبھی یقین ناں کرپاتا..
نندا کا جسم اس پتھر پر سے لہریں بن کر غائب ہوچکا تھا..
اگلے چند منٹ میں نے بے چینی سے ٹہلتے ہوئے گزارے..
اخرکار میں اس پتھر پر چڑھ گیا اور لنگ کا پچھلا سرا تھام کر اسے واپس کھینچ لیا..
لنگ کو باہر نکال کر میں پتھر سے نیچے کود گیا..
جیسے ہی میں نے لنگ باہر نکالا وہی بجلی کے کوندنے کی اواز گونجی..
اس پتھر پر لہریں سی نظر ائیں اور اگلے ہی لمحے نندا کا جسم اس پتھر پر نظر انے ایا..
میں نے اگے بڑھ کر نندا کو تھام لیا جو برف کی طرح ٹھنڈا ہورہا تھا اور اس کے ہونٹ نیلے پڑ چکے تھے..
اس کے چمڑے کے لباس پر بھی جابجا برف نظر ارہی تھی..
میں نے نندا کو زمین پر لٹا دیا اور اس کے ہاتھ پائوں کی مالش کرنے لگا..
نندا کی سانس اکھڑ رہی تھی اور وہ بیہوشی کی کیفیت میں تھا..
اگلا ایک گھنٹہ نندا کو زندگی کی طرف واپس لانے میں گزرا..
غار میں موجود چقماق پتھر کی مدد سے میں خشک گھانس پھونس اور لکڑیاں جلا کر اس کے جسم کا درجہ حرارت نارمل کرنے میں کامیاب ہوا..
مجھے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ نندا کے ساتھ کیا ہوا ہے..
اس لنگ اور یونی کی مدد سے وہ کس علاقے اور کس دور میں پہنچا تھا..
جہاں اتنی شدید برف اور ٹھنڈ موجود تھی جس نے نندا کا یہ حال کردیا تھا..
میرے دماغ میں اٹھنے والے تمام سوالات کے جوابات نندا ہی دے سکتا تھا جو ابھی تک زمین پر بیہوش پڑا تھا..
نندا کی سانس بحال ہوچکی تھی مگر بیہوشی ختم نہیں ہورہی تھی..
میں نے وقت گزاری کے لئے لنگ تھام لیا..
یہ ایک فٹ کا پتھر کا بنا لنگ تھا جو چار پانچ انچ موٹا تھا..
اس کی ایک طرف سنسکرت میں کچھ تحریر تھا…
اور نچلی طرف ایک جیسے فاصلے سے اوپر سے نیچے تک چھوٹی چھوٹی لکیریں لگی ہوئی تھیں..
میں نے گنتی کی تو ان لکیروں کی کل تعداد اٹھارہ تھی..
مجھے ان لکیروں کی وجہ سمجھ نہیں ائی..
لنگ پر ان لکیروں اور سنسکرت کی اس عبارت کے سوا کچھ نہیں تھا..
میں نے اسے ایک طرف رکھ دیا..
نندا کو ہوش میں لانے کے سارے جتن میں کر چکا تھا اب صرف اس کے ہوش میں انے کا انتظار کر سکتا تھا..
اچانک غار کے دہانے کی طرف شور شرابے اور جنگلیوں کی اوازیں انا شروع ہوگئیں..
یقینا یہ اسی ناگ قبیلے کے جنگلی تھے جو اخرکار غار تک پہنچ گئے تھے..
میرا دل جیسے اچھل کر حلق میں اگیا..