قسط: 49
میں نے نرمی اور اہستگی سے ملکہ کو بانہوں میں کچھ دیر لے کر خود سے الگ کردیا..
شکریہ شاشین..تم صرف میرے نہیں ہماری پوری نسل کے محسن ہو..
تمھارا یہ احسان ہم ہمیشہ یاد رکھیں گے..
ملکہ میری شکرگزار تھی کہ میں نے احسان کیا ہے مگر حقیقت یہ تھی کہ اس میں میرا مفاد تھا..
یا شاید میرا نہیں میری پوری نسل کی بقاء کا سوال تھا..
میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ یہ سب اس طرح سے ہوگا..
کوئی جن زاد میری زندگی میں اس طرح ائے گا اور سب کچھ بدل دے گا..
میں جانتی ہوں یہ ناممکن ہے…
مگر کاش تم ہمیشہ کے لئے یہاں رک سکتے..
میں اب ہر طرح سے تم سے تعاون کرنے کو تیار ہوں..
تم جو چاہو حاصل کرسکتے ہو..
یہ کہتے ہوئے ملکہ کی انکھیں حیاء سے جھک گئیں..
ابھی صبح ہونے میں کچھ وقت تھا ملکہ اور میں بستر پر اگئے..
اگلا ایک ہفتہ میں نے ملکہ کے ساتھ گزارا..
چلہ مکمل ہونے کی رات ہی میں نے اپنا کام مکمل کرلیا تھا..
اب مجھے صرف انتظار تھا کہ پانی کا قطرہ جو سیپ میں محفوظ کیا گیا ہے وہ موتی کی شکل اختیار کر لے..
اخر وہ دن بھی اگیا اور میری محنت کا پھل مجھے مل گیا..
سیپ سے نکلا ہوا موتی میرے ہاتھ میں تھا جو ہماری بقاء کی ضمانت تھا..
ملکہ اداس تھی اور شاید یہ فطری بات تھی..
مگر مجھے جانا ہی تھا ابھی بھی میرے ذمے سب سے اہم کام باقی تھا..
میں نے ملکہ سے رخصت چاہی اور دوبارہ انے کی کوشش کرنے کے وعدے پر اس نے مجھے گلے لگا کر رخصت کیا..
پوری رات سفر کے بعد جب میں کوہ ارارت بابا کی غار میں پہنچا تو ایک حیرت میری منتظر تھی..
بابا کی غار میں پہلے سے ہی کوئی اجنبی موجود تھا..
اسکی شکل اور حلیہ مکمل طور پر انسانوں جیسا تھا..
مگر بابا کے پاس کسی انسان کا کیا کام..
میں چلتا ہوا بابا کی طرف بڑھا اور تعظیم پیش کی..
بات چیت سے علم ہوا کہ وہ نیکروس سردار کا باختیار نمائندہ ہے جس کے پاس سرداری کی مہر موجود تھی اور وہ جنگ کا پیغام لایا تھا..
بابا اسے قائل کر چکے تھے صرف میرا انتظار تھا..
میں نے موتی نکال کر بابا کی طرف بڑھا دیا..
اس موتی کو ازمانے کے بعد نیکروس اور ہماری نسل کی طرف سے بابا کے درمیان ایک تحریری معاہدہ طے پاگیا..
جس کی رو سے نیکروس ائندہ کبھی ہم پر حملہ نہیں کریں گے اور ناں ہی ہماری نسل سے کبھی جنگ کریں گے..
اس کے جانے کے بعد بابا مجھ سے مخاطب ہوئے..
شاشین میرا کام مکمل ہوچکا ہے..
اب تمھیں میری جگہ سنبھالنی ہے..
بابا نے انکھیں بند کر کے کچھ پڑھا تو غار کے اس کمرے میں ایک تابوت نمودار ہوگیا..
اس تابوت میں لیٹ جائو..شاشین…
میں نے حیرانگی سے بابا کو دیکھا مگر انکار یا سوال پوچھنے کی جرات نہیں کر سکا..
بابا کے حکم پر میں ہاتھ سینے پر باندھ کر اس تابوت میں لیٹ گیا..
اس کے بعد بابا نے وہ معاہدہ میرے ہاتھوں میں تھما دیا اور اپنی کلائی پر ایک کٹ لگا کر اسے میرے ہونٹوں پر رکھ دیا..
اسے پی لو شاشین میری تمام طاقتیں تم میں منتقل ہوجائیں گی..
مگر ان طاقتوں کو تمھارے جسم کا حصہ بننے میں کچھ وقت لگے گا..
تب تک تم اس تابوت میں رہو گے دنیا و مہافیا سے بے خبر..
جیسے ہی تمھارا جسم اور روح ان طاقتوں کو قبول کر لے گی تمھاری انکھ کھل جائے گی..
تب تم اپنے فیصلے کرنے میں ازاد ہوگے..
اور بابا اپ..
تمھارے تمام سوالوں کے جواب بھی تمھیں تب ہی مل جائیں گے..
میں نے بابا کی کلائی پر اپنے ہونٹ لگا دئیے اور اس بہتے ہوئے خون کو حلق سے نیچے اتار لیا..
اس کےساتھ ہی مجھے محسوس ہواجیسے ہرطرف اندھیرا چھا گیا ہے..
اہستہ اہستہ میرے حواس میرا ساتھ چھوڑنے لگے..
اخری احساس جو مجھے ہوا وہ تابوت کے ڈھکن کا بند ہونا تھا..
اس کے بعد میرا ذہن اندھیروں میں ڈوب گیا..
جانے کچھ وقت تک کے لئے یا شاید ہمیشہ کے لئے..
ختم شد