حصار عشق

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

قسط: 13

” وہ کچن میں کھڑی آٹا گوندھ رہی تھی باہر سے مسلسل گھنٹی کی آواز سن کر وہ چولھے کی آنچ دھیمی کرتی ہاتھ دھو کر اپنے دوپٹے سے صاف کرتی ہوئی دروازے کی طرف بڑھی ۔۔۔۔ آ رہی ہوں بھئی صبر نام کی کوئی چیز نہیں ہے کیا ؟؟؟ نہ جانے کون ہے جو گھنٹی پا ہاتھ رکھ کر ہٹانا ہی بھول گیا ہے ۔۔۔۔ وہ چلتے ہوئے بڑبڑاتی جا رہی تھی ۔۔۔ ایک تو امی پتہ نہیں کہا چلی گئی ہیں ۔۔۔۔ کون ہے ؟؟؟ اس نے بند دروازے کے پیچھے سے ہی پوچھا ان کے گھر کی تربیت ہی اس انداز میں کی گئی تھی کہ وہ بنا پوچھے دروازہ نہیں کھولا کرتی تھیں “-
” ثوبیہ بیٹا میں پھوپھو ہوں دروازہ کھولو !!! “-
” پھوپھو اس کے لب سر گوشی میں ہلے سر پر دوپٹہ اوڑھ کر ثوبیہ نے دروازہ کھولا سامنے پھوپھو کی پوری فیملی کھڑی تھی اس کی تو آنکھیں پھیل گئیں انوار پھوپھا نے تو رشتہ ہی توڑ دیا تھا پھر اچانک یہاں کیسے ؟ “-
” اب کیا یہیں کھڑا رکھو گی یا اندر آنے کا نہیں بھی کہو گی ؟؟ ربیان کی چہکتی آواز پر اس نے سر جھٹک کر ان لوگوں کو اندر آنے کا راستہ دیا “-
” اسلام وعلیکم !! ثوبیہ نے ہی سلام کرنے میں پہل کی “-
” وعلیکم اسلام !! کیسی ہو میری بچی پھوپھو نے اسے گلے لگایا “-
” میں ٹھیک ہوں پھوپھو آپ سنائیں آپ کیسی ہیں ؟؟؟ آپ لوگ کھڑے کیوں ہیں ؟؟؟ بیٹھ جائیں میں امی بابا کو بلاتی ہوں انہیں لاؤنج میں رکھے صوفے پر بیٹھنے کا بول کر ثوبیہ خود عاتکہ اور مبشر صاحب کو بلانے کے لیے چلی گئی “-
” بابا امی پھوپھو کی فیملی آئی ہے ۔۔ ثوبیہ نے کمرے میں دستک دے کر اجازت ملنے پر اندر داخل ہو کر بتایا مبشر حسین بیڈ پر بیٹھے اخبار پڑھ رہے تھے جبکہ عاتکہ ان کے دفتر کے کپڑے استری کر رہی تھیں ثوبیہ کی بات پر ان دونوں چونک کر پہلے ایک دوسرے کو دیکھا پھر ثوبیہ کو دیکھا ۔۔۔ آپ دونوں آ جائیں وہ لاؤنج میں بیٹھے ہیں ۔۔۔۔ ثوبیہ انہیں بتا کر خود واپس کچن میں چلی گئی “-
–––––––––––––––––––––––––––
” اسلام وعلیکم !!! عاتکہ مبشر حسین کے ساتھ لاؤنج میں آئیں وہاں سائرہ آپا ( مبشر حسین کی بہن) انوار علی اور ان کے دونوں بچے ربیان اور رائقہ موجود تھے “-
” وعلیکم اسلام !! سائرہ آپا اٹھ کر عاتکہ سے ملیں مبشر حسین بھی انوار علی سے مل کر بیٹھ گئے ۔۔۔ مومانی میں ثوبیہ کے پاس جاتی ہو رائقہ اٹھ گئی “-
” ہاں جاؤ بیٹا وہ کچن میں ہے ۔۔۔ عاتکہ کے کہنے پر رائقہ چلی گئی “-
” مبشر میں تم سے اپنی امانت لینے آئی ہوں ۔۔۔ آج انکار نہیں سنوں گی سائرہ آپا نے بات شروع کی”-
” میں سمجھا نہیں آپا کیسی امانت ؟ وہ تو انہیں ورثہ میں ان کا حصہ بھی دے چکے تھے”-
” ارے اتنی جلدی بھول گئے میں ثوبیہ کی بات کر رہی ہو ۔۔۔۔ میں اور تمھارے بھائی صاحب چاہتے ہیں اب ہم ربیان اور ثوبیہ کی شادی کردیں ۔۔۔ ان کی بات پر مبشر حسین کے ساتھ ساتھ عاتکہ نے بے اختیار ان کی طرف دیکھا خدا جانے اب ان لوگوں کے ذہن میں کونسی کھچڑی پک رہی تھی”-
–––––––––––––––––––––––––––
” کیسی ہو بھابھی جان ؟؟ رائقہ نے کچن میں داخل ہو کر چائے بناتی ثوبیہ کو چھیڑا اس کے چہرے کی مسکراہٹ ثوبیہ کو تو بلکل سمجھ نہیں آئی بلا وجہ مسکرا رہی تھی “-
” رائقہ پلیز مجھے بھابھی مت کہو ۔۔۔ اس کے منہ سے اپنے لیے بھابھی سن کر ثوبیہ کے زخم ہرے ہوئے “-
” میں تو تمھیں بھابھی ہی کہتی تھی اب بھی بھابھی ہی کہونگی مقابل بھی ڈھیٹ مٹی کی تھی”-
” تمھیں کچھ چاہیئے ؟ ثوبیہ نے اس کی فضول کو اگنور کر کے کچن میں آنے کا جواز پوچھا “-
” نہیں مجھے کچھ نہیں چاہیئے ۔۔۔ ماریہ نہیں دکھ رہی کالج گئی ہے کیا وہ آس پاس دیکھ کر آئی تھی ؟ ویسے تمھاری نئی نویلی بھابھی بھی کہیں نظر نہیں آ رہی ابھی تک ان کے ہاتھ کی مہندی اتری نہیں کیا ؟ صاف طنز کیا گیا تھا “-
” نہیں وہ لوگ گھر میں نہیں ہیں بھیا ایمان کو لے کر گاؤں گئے ہیں ماریہ بھی ان لوگوں کے ساتھ ہی گئی ہے ۔۔۔۔ ثوبیہ نے چائے کپ میں انڈیلتے ہوئے رائقہ کو جواب دیا ۔۔۔۔ تمھاری چائے یہیں رکھ دوں یا تم باہر سب کے ساتھ ہی پیو گی ؟؟ ثوبیہ نے چائے کے ساتھ لوازمات رکھتے ہوئے اس سے پوچھا جس کا منہ ثوبیہ کے جواب سن کر بگڑ چکا تھا “-
” نہیں !! میں باہر ہی جا رہی ہوں ۔۔۔ جس کا پتہ کرنے آئی تھی وہ تو گھر میں ہی نہیں تھا تو اس کے یہاں رکنے کا کوئی فائدہ نہیں بلاوجہ ثوبیہ کے ساتھ دماغ کھپانا پڑتا رائقہ اپنا بگڑا ہوا منہ لے کر باہر نکل گئی “-
” اسے اچانک کیا ہوا ابھی تو بہت مسکرا رہی تھی ۔۔۔ خیر مجھے کیا ثوبیہ کندھے اچکا کر ٹڑے اٹھاتی اس کے پیچھے چل پڑی”-
–––––––––––––––––––––––––––
” لیکن آپا آپ لوگ تو یہ رشتہ ختم کر چکے ہیں پھر اچانک شادی کی بات کہاں سے آ گئی مبشر حسین نے تو ثوبیہ کے لیے رشتے دیکھنے بھی شروع کر دیے تھے “-
” بول دینے سے بھی بھلا خون کے رشتے ختم ہوتے ہیں ۔۔۔ ارے وہ تو تمھارے بھائی صاحب اس وقت ناراض تھے اس لیے ایسا بول گئے تم تو جانتے ہو نہ رائقہ میں جان بستی ان کی ۔۔۔ خیر جو ہونا تھا ہو گیا بیتی باتوں کو بھول جاؤ ہم سب مل کر تاریخ لینے آئیں ہیں ۔۔۔ آج تو میں تاریخ لے کر ہی جاؤنگی بس !!! کوئی چوں چرا نہیں سنوں گی سائرہ آپا نے اپنا فیصلہ سنایا ۔۔۔۔ رائقہ اپنی بگڑی ہوئی صورت لے کر خاموشی ان پاس جا بیٹھی جبکہ اس کے پیچھی آتی ثوبیہ کے قدم ان کی بات پر تھمے تھے “-
” شکر ہے اللہ کا پھوپھو کو اپنی غلطی کا احساس تو ہوا مجھے پتہ تھا ربیان مجھے نہیں چھوڑ سکتا وہ بہت محبت کرتا ہے مجھ سے ۔۔۔ اس نے منا ہی لیا پھوپھا کو ۔۔۔ ثوبیہ کا دل تو خوشی سے جھوم اٹھا بچپن سے ہی وہ ربیان سے شادی کے خواب سجا چکی تھی اب اس کی تکمیل ہوتے دیکھ کر دل خوشی سے سر شار ہو رہا تھا ۔۔۔۔ بس اب امی بابا کوئی رولا نہ ڈال دیں یہ سوچ کر وہ تھوڑی سی اداس ہوئی ۔۔۔ اچھا اچھا سوچو ثوبیہ اچھا ہی ہوگا بری سوچوں پر دو حرف بھیج کر وہ اندر داخل ہوئی “-
” آپا آج ہی کیسے تاریخ دے دیں آپ کو ابھی تو میرا احتشام گھر میں ہی نہیں وہ آ جائے پھر اس سے مشورہ کر کے آپ کو بتائیں گے عاتکہ نے بات ٹالنا چاہی کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے وہ ہر پہلو پر غور کرنا چاہتی تھیں اس طرح زرا بات پر رشتہ ختم کر دینا پھر جوڑ لینا کوئی اچھی عادت تو نہ تھی “-
” بھابھی جی وہ آپ کا بیٹا ہے ثوبیہ کا سگا بھائی نہیں ہے میرا نہیں خیال کے اس کے مشورے کی ضرورت ہوگی ثوبیہ مبشر کی بیٹی تو بہتر وہ اپنی بیٹی کا فیصلہ خود کرے ویسے بھی وہ کسی غیر میں نہیں بلکہ اپنی سگی پھوپھو کے گھر ہی جا رہی ہے انوار علی جو کب سے خاموش تماشائی بنے بیٹھے تھے بول پڑے ۔۔۔ ان کا احتشام کو غیر کر دینا عاتکہ کو ایک آنکھ نہ بھایا اسی احتشام کو اپنے ہاتھوں سے نکلتا دیکھ کر انہوں نے رشتہ ختم کیا تھا تب انہیں یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ وہ ثوبیہ کا منہ بولا بھائی ہے اس پر زبردستی نہیں کی جا سکتی ۔۔۔ کتنے مطلبی لوگ تھے اب بھی اس رشتے میں ان کا کوئی مفاد ہی چھپا تھا “-
” ثوبیہ جاؤ میری بچی تم کھانا بناؤ آج ہم سب ساتھ ہی کھانا کھائیں گے ۔۔۔ آج تو تمھاری شادی کی تاریخ لے کر ہی جاؤنگی ۔۔۔ سائرہ پھوپھو نے ٹیبل پر چائے رکھتی ثوبیہ سے کہا تو وہ شرما کر وہاں سے چلی گئی “-
–––––––––––––––––––––––––––
ماریہ اور ایمان احتشام کے ساتھ آج گاؤں گھومنے کے لیے نکلی تھیں احتشام تو کیسی حال انہیں ساتھ لے جانے کی لیے تیار نہیں تھا لیکن دادا سائیں نے اس سے کہا کہ وہ ہسپتال کا کام دیکھنے جا رہا انہیں بھی ساتھ لے جائے واپسی پر وہ ملازم کو بھیج کر انہیں بلاوا لیں گے ۔۔۔۔ ان دونوں نے تو زیبا کو بھی ساتھ چلنے کا کہا لیکن زیبا نے ساتھ چلنے سے صاف انکار کر دیا اسے تقریب کی تیاری دیکھنی تھی ۔۔۔ آج ایمان اور احتشام کے لیے دادا سائیں نے گھر میں تقریب رکھی تھی تاکہ ان کے قریبی رشتے دار ایمان سے مل لیں”-
” وہ لوگ پیدل ہی چل رہی تھیں کیونکہ ہسپتال کی زمین زیادہ دور نہیں تھی ۔۔۔۔ راستے میں گاؤں کی خواتین سے ان کی ملاقات ہوئی سب خوش دلی سے ایمان سے مل رہے تھے اور اسے دعائیں بھی دے رہے تھے ان دونوں کو بڑا مزا آ رہا تھا ایک خاتون نے تو ان دونوں کو بالوں میں لگانے کے لیے خوبصورت سا پراندہ تحفے کے طور پر دیا تھا اس میں شیشے لگے ہوئے تھے ان دونوں کو ہی وہ بہت پسند آیا تھا “-
” ماری یہاں کتنی خوبصورتی ہے نا ۔۔۔ ایمان نے اشتیاق سے آس پاس خوبصورت ہرے بھرے لہلہاتے کھیتوں کو دیکھ کر ساتھ چلتی ماریہ سے کہا ایمان پہلی بار گاؤں دیکھ رہی تھی اسے یہ سب بہت اچھا لگ رہا تھا وہ دونوں ساتھ چل رہی تھی جبکہ احتشام ان دونوں سے تھوڑا آگے تھا “-
“ہممم بہت خوبصورت ہے ۔۔۔ مایہ بھی آس پاس دیکھتے ہوئے بولی ۔۔۔ ماری تم پہلے بھی کبھی آئی ہو ؟”-
” ہاں نہ جب بھیا کی شادی ۔۔۔۔ ماریہ کچھ بولتے بولتے رکی ۔۔۔۔ میرا مطلب ایک بار بھیا کے ساتھ آئی تھی وہ قدرے سنبھل کر بولی “-
” لیکن ابھی تو تم نے شادی کہا تھا ایمان الجھ گئی “-
” ہاں میں نے شادی ہی کہا ہے وہ دلاور بھائی کی شادی پر آئی تھی بھیا کے ساتھ ماریہ نے بات سنبھالی ۔۔۔۔ بات کرتے کرتے وہ لوگ زمینوں پر پہنچ گئے “-
” اسلام وعلیکم !! شہرام انہیں دیکھ کر ان کی طرف آیا ۔۔۔ کیسا ہے میرا یار ؟ وہ مسکرا کر احتشام کے گلے لگا ۔۔۔ میں ٹھیک ہوں شہری تو بتا ؟؟ “-
” میں بھی بلکل ٹھیک ہوں الحمدللہ ۔۔ ارے واہ بھابھی کو بھی ساتھ لایا ہے “-
“کیسی ہیں آپ بھابھی ؟؟ میں آپ کا دیور احتشام کا دوست شہرام نے مسکرا کر ایمان سے خیریت پوچھی اور اپنا تعارف بھی کروانے کے ساتھ ساتھ ماریہ کو دیکھا جو ان کی باتوں سے لاپرواہ بنی آس پاس کے نظارے دیکھنے میں گم تھی “-
” جی میں ٹھیک ہوں ۔۔۔ ایمان مبہم سا مسکرا کر جواب دیا “-
” وہ دیکھو ایمی امرود کا درخت آ جاؤ امرود توڑتے ہیں !! ماریہ جو کب سے اس امرود کے درخت کو پر شوق نظروں سے دیکھ رہی تھی ایمان کو ہلا کر بولی “-
” بھیا ہم دونوں وہاں جا رہےماریہ نے کچھ فاصلے پر نظر آتے درختوں کی جانب اشارہ کیا اور ایمان کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے ساتھ لے گئی”-
” احمد تونے نکاح کر لیا اور مجھے بتایا تک نہیں ۔۔۔ ایسے دوست ہوتے ہیں شہرام نے شکوہ کیا “-
” فضول نہ بولا کر شہری تجھے میں سب کچھ بتا چکا ہوں کہ کس وجہ سے نکاح کرنا پڑا زیادہ بابا سائیں کی طرح ادکاری مت کر ۔۔۔ کوئی خوشی سے نہیں کیا ہے جو سب کو دعوت نامہ بھیجتا احتشام نے اسے جھڑک دیا ۔۔۔۔ چل دکھا مجھے ہسپتال کہا تک بنوایا ہے ۔۔۔ احتشام آگے بڑھا تو شہرام بھی منہ بناتا اس کے پیچھے ہو لیا “-
–––––––––––––––––––––––––––
” ماریہ ایک بات پوچھوں تم سے لیکن پلیز برا مت ماننا ایمان جانے کیوں تمہید باندھنے لگی وہ دونوں امرود کے درخت کے نیچے نیچے بچھی چارپائی پر بیٹھی امرود کھا رہی تھی جو انہیں مالی نے توڑ کر دیے تھے “-
” ہاں پوچھو ۔۔۔۔سب خیر ہے نہ ایسی بھی کیا بات ہے جس پر میں برا مان جاؤنگی ماریہ بھی سنجیدہ ہوئی”-
” ماریہ ہم جب سے یہاں آئے ہیں میں نوٹس کر رہی ہوں کہ دادا سائیں اور بھابھی کے علاوہ کوئی مسٹر شوہر !!! آ آ آ میرا مطلب تمھارے بھیا کو کوئی پسند نہیں کرتا ایسا کیوں ہے ؟؟ یہاں تک کہ سجاول انکل بھی ناراض دکھائی دیتے ہیں حالانکہ وہ بابا ہیں ۔۔۔۔ مبشر انکل اور ثوبیہ آپی بھی ان سے ناخوش رہتی ہیں ایسا کیوں ہے ؟ ایمان جو کافی وقت سے سب کے رویے محسوس کر رہی تھی پوچھ بیٹھی “-
” ایمی بڑی لمبی کہانی ہے پر چلو تمھیں بتا دیتی ہوں “-
“( امی بتاتی ہیں کہ سجاول انکل سے انکی شادی مجبوری میں ہوئی تھی دادا سائیں اور میرے نانا بہت گہرے دوست تھے جس دن امی کی شادی تھی اس دن برات آنے سے پہلے ہی لڑکے والوں نے یہ کہہ کر معزرت کرلی کہ ان کا بیٹا یہ شادی نہیں کرنا چاہتا وہ اپنی پسند سے کہیں اور شادی کر چکا ہے یہ خبر سن کر میرے نانا کے تو ہاتھ پیر پھول گئے ساری تیاریاں مکمل تھیں مہمان آ چکے تھے برات نا آنے پر لاکھوں سوال اٹھنے تھے نانا سائیں بہت پریشان تھے انہیں کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کیا کریں تب دادا سائیں نے سجاول انکل سے کہا کہ وہ امی سے نکاح کر لیں ان کے دوست کی عزت رکھ لیں لیکن سجاول انکل کسی حال رضا مند نہیں ہو رہے تھے وہ پہلے ہی شادی شدہ تھے نانا سائیں نے انکل کے آگے ہاتھ جوڑ ڈالے آخر کار انہوں نے مجبور ہو کر امی سے شادی کر لی لیکن جب امی رخصت ہو کر ان لوگوں کے ہمراہ گھر پہنچی تو ایک نیا طوفان برپا ہو گیا فرزانہ آنٹی نے بہت ہنگامہ کیا دادا سائیں نے بڑی مشکل سے سب کو سمجھا بجھا کر چپ کرا دیا جیسے تیسے ایک سال بعد بھیا کی پیدائش ہوئی اب تو فرازنہ آنٹی بلکل ہی آگ بگولہ ہوگئیں کیونکہ امی کے ہاں بھی بیٹا پیدا ہوا تھا بس اسی دن سے ان کے دل میں ماں کے لیے نفرت مزید بڑھ گئی ۔۔۔ انہوں نے سجاول انکل کو امی اور بھیا کے پاس جانے سے روک دیا سجاول انکل امی اور بھیا سے بلکل کاتعلق ہوگئے امی نے اپنے لیے تو خاموشی اختیار کر لی لیکن جیسے جیسے بھیا بڑے ہونے لگے وہ امی سے سوال کرنے لگے کہ ان کے بابا دلاور بھائی سے پیار کرتے ہیں ان سے کیوں نہیں کرتے امی نے سجاول انکل کو اس بات کا احساس دلانے کی کوشش کی بھیا بھی ان کی اولاد وہ کیوں اس کے چھوٹے سے ذہن میں فرق ڈال رہیں یہ بات سمجھنے کے بجائے وہ امی سے لڑنا شروع ہو گئے ۔۔۔ وقت گزرتا گیا بھیا آٹھ سال کے ہوگئے لیکن ان کے بیچ کے فاصلے ، لڑائی ، جھگڑے بڑھتے ہی گئے نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ دونوں ایک دوسرے کی شکل تک نہیں دیکھنا چاہتے تھے ۔۔۔ ایک دن دادا سائیں نے امی اور سجاول انکل کو اپنے پاس بٹھا کر پوچھا کہ وہ دونوں اس رشتے کو نبھانا چاہتے ہیں یا نہیں کوئی ایک فیصلہ کر لیں کیونکہ ان کے جھگڑوں سے بھیا کا ذہن بہت متاثر ہو رہا ہے ۔۔۔ سجاول انکل نے صاف صاف کہہ دیا کہ وہ اس رشتے کو ختم کرنا چاہتے ہیں امی بھی اس بات پر متفق ہوئی دادا سائیں نے ان دونوں کی علیحدگی کرادی ۔۔ امی بھیا کو لے کر نانا کے گھر چلی گئیں کچھ وقت بعد نانا نے امی کی شادی میرے بابا سے کردی میرے بابا شہری تھے وہ امی کو ساتھ لے کر شہر آ گئے امی بھیا کو اپنے ساتھ لے جانا چاہتی تھیں لیکن اچانک ہی سجاول انکل کے اندر کا باپ جاگ گیا انہوں نے زبردستی بھیا کو اپنے پاس رکھ لیا بھیا روتے رہے لیکن سجاول انکل کو کوئی فرق نہ پڑا ۔۔۔ یہاں میرے بابا کی پہلی بیوی سے ان کی بیٹی ثوبیہ آپی تھیں وہ بھی بھیا کو کسی صورت ساتھ رکھنے پر رضا مند نہیں تھے امی بھیا کو چھوڑ کر جانے پر مجبور ہو گئیں بھیا گاؤں میں ہی رہ گئے فرزانہ آنٹی کو اپنی سوتن کا بیٹا ایک آنکھ نہ بھاتا تھا سجاول انکل تو پہلے سے ہی لا پرواہ تھے صرف دادا سائیں ہی بھیا سے پیار اور ان کا خیال رکھتے تھے ۔۔۔ بھیا امی کو یاد کر کے بہت روتے تھے پھر جب وہ سولہ سال کے ہوئے انہیں کالج میں داخلہ لینا تھا گاؤں میں کالج نہ ہونے کے باعث انہیں شہر میں امی کے پاس آنے کا موقع مل گیا لیکن سجاول انکل نے صاف منع کر دیا کہ وہ امی کے پاس نہیں جا سکتے اپنی پڑھائی چھوڑ کر ان کے ساتھ زمینیں سنبھالیں پڑھنے لکھنے سے کچھ نہیں ہوتا لیکن بھیا بھی ان کے رویے برداشت کرتے کرتے ضدی ہو چکے تھے انہوں ان کی ایک نہ سنی اور شہر چلے گئے بس اس دن کا دن تھا اور آج کا دن ہے سجاول انکل نے اس بات کو انا کا مسئلہ بنا لیا ہے ان کا کہنا ہے بھیا نے ان کے منہ پر لات ماری ہے وہ ان کی نا فرمان اولاد ہیں “-
” لیکن ایمی شہر آ کر بھی میرے بھیا کو امی کا ساتھ نصیب نہ ہوا ۔۔۔ میرے بابا نے بھیا کو ساتھ رکھنے سے صاف انکار کر دیا ان کا کہنا تھا بھیا ثوبیہ آپی کے کچھ نہیں لگتے ان کی بیٹی جوان ہو رہی ہے وہ انہیں ساتھ نہیں رکھ سکتے بھیا اداس ہو گئے لیکن ان کی پڑھائی بھی بہت ضروری تھی دادا سائیں نے شہر میں ہی ان کے لیے ایک فلیٹ لے کر دے دیا بھیا وہاں شہرام کے ساتھ رہنے لگے ۔۔۔ مجھے یاد ہے اس وقت میں آٹھ سال کی تھی بھیا ہر اتوار کو ہم سے ملنے آتے تھے میرے اور آپی کے لیے ڈھیر ساری چیزیں لاتے تھے بھیا نے کبھی مجھ میں اور آپی میں فرق نہیں کیا وہ بہت اچھے ہیں ایمی !!! “-
” انہوں نے اتنا مشکل وقت گزارا ہے اسی وجہ سے اتنے کھڑوس ہیں ماریہ سے سارا قصہ سننے کے بعد ایمان اپنی آنکھیں صاف کرتی ہوئی بولی احتشام کے بارے میں جان کر اس کی آنکھوں میں آنسوں آ گئے “-
” ہممم۔ ۔۔۔۔۔ ان کے کھڑوس ہونے کی صرف یہی وجہ نہیں ہے بلکہ وہ حادثہ ہے جس کے بارے میں تم بھی جانو گی تو رو پڑو گی یہ باتیں ماریہ نے دل میں کہی تھیں “-
” چلو اب گھر چلتے ہیں تمھیں تیار بھی ہونا ہے دیر ہو گئی تو فرازانہ آنٹی بہت غصہ ہو نگی ماریہ اٹھی تو ایمان بھی اس کے ساتھ چل پڑی “-
” بھیا ہمیں گھر جانا ہے ۔۔۔ آپ ہمیں گھر بھیجوا دیں ماریہ نے احتشام کے پاس آ کر کہا وہ مزدوروں کو کچھ سمجھا رہا تھا احتشام نے بات ختم کر کے جیب سے فون نکالا اتنی دیر میں انہیں گھر کا ملازم آتا ہوا دکھائی دیا وہ دونوں جانے لگیں ماریہ ایمان سے دو قدم آگے تھی “-
” آآ آ ہ ایمان زور چیخی گیلی مٹی پر پیر رکھنے کی وجہ سے اس کا پیر پھسل گیا اس سے پہلے وہ زمین بوس ہوتی احتشام نے اس کا ہاتھ تھام کر گرنے سے بچایا اس کی چیخ سن کر ماریہ بھی پلٹ کر دیکھنے لگی ایمان کا ایک بازو احتشام کے ہاتھ میں تھا اور دوسرا ہوا میں وہ زور سے آنکھیں میچیں کھڑی تھی جبکہ احتشام اسے ہی دیکھ رہا “-
” کیا ہوا بھابھی آپ ٹھیک تو ہیں ماریہ جان بوجھ کر ایمان کو احتشام کے سامنے بھابھی کہہ کر پکارتی تھی اور احتشام کے ماتھے پر بل پڑ جاتے تھے “-
” شکر ہے اللہ کا میں بچ گئی ۔۔۔ ورنہ تو میری کمر ٹوٹ جاتی احتشام نے اسے سیدھا کھڑا کر کے اس کا بازو چھوڑا تو وہ دل پر ہاتھ رکھ کر شکر ادا کرنے لگی “-
” تم بچی نہیں میرے بھیا نے تمھیں بچایا ہے بلکل فلموں والے ہیرو کی طرح ماریہ نے فخریہ گردن اکڑائی “-
” تم دونوں کی بکواس ہوگئی ہو تو جاؤ یہاں سے ۔۔۔ صبح سے پیچھے پڑ کر دماغ خراب کیا ہوا ہے ۔۔ دونوں ہی عقل سے فارغ ہو چلو بھاگو یہاں سے ۔۔۔ ایمان نے ماریہ کو جواب دینے کے لئے لب کھولا ہی تھا کہ احتشام کی ڈانٹ پر اس کا منہ اتر گیا “-
“ہنہ کھڑوس کہیں کے … وہ دل ہی دل احتشام کو لقب سے نوازتی آگے بڑھ گئی “-
Instagram
Copy link
URL has been copied successfully!

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

کتابیں جو آپ کے دل کو چھوئیں گی

Avatar
Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial