قسط: 15
” اس کے سر میں ہونے والے شدید درد کی وجہ سے اس کی آنکھ کھلی تھی بخار اب بھی تھا جسم بری طرح دکھ رہا تھا اس نے جیسے ہی اپنے ہاتھ سے دکھتے سر کو دبانا چاہا اپنا ہاتھ ایمان کی گرفت میں اور اسے خود سے چپکا دیکھ کر اس کے ماتھے پر بل پڑے ۔۔۔ اس نے زور سے اپنا ہاتھ کھینچ کر اس کے ہاتھ سے چھڑایا اور ایمان کو خود سے دور دھکیلا ایمان جس کی ابھی ابھی آنکھ لگی تھی اس کی حرکت سے ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی وہ رات بھر اس کے سرہانے بیٹھی جاگتی رہی تھی کہ کہیں اسے کیسی چیز کی ضرورت نہ ہو جائے “-
” مسٹر شوہر آپ اٹھ گئے !! وہ اسے جاگتا دیکھ کر اس کے خود کو دھکیلنے والی حرکت فراموش کر کے بولی ۔۔۔ آپ کو تو ابھی بھی بخار ہے ایمان نے ماتھا چیک کیا !!! آپ آرام کریں میں ابھی آپ کے لیے سوپ بنا کر لاتی ہو !! پھر آپ کو میڈیسن بھی تو دینی ہے وہ خود سے بولتی پھرتی سے بیڈ سے اتری اور کچن میں جانے کے ارادے سے باہر نکل گئی “-
–––––––––––––––––––––––––––
” ایمان تم صبح صبح کچن میں کیا کر رہی ہو ؟؟ زیبا کچن میں داخل ہوئی ایمان کو صبح صبح کچن میں دیکھ کر اسے اچھی خاصی حیرت ہوئی”-
” بھابھی وہ میں مسٹر شوہر کے لیے سوپ بنا رہی ہوں وہ سوپ میں سبزیاں دال رہی تھی بلکل اسی طرح جس طرح فون میں وڈیو چل رہی تھی “-
“صبح صبح کس لیے سوپ بنا رہی ہو ؟؟ سب خیریت تو ہے ؟؟ زیبا کو لگا اس نے کچھ غلط سن لیا ہے اسی لیے دوبارہ پوچھ لیا”-
” مسٹر شوہر کے لیے ۔۔۔ وہ مصروف سی بولی”-
” اس کے منہ سے احتشام کا عجیب و غریب نام پر زیبا کا فلک شگاف قہقہ گونجا … مسٹر شوہر !!! ہا ہا ہا وہ اس کا جملہ دوہراتی ہنستی جا رہی تھی ایمان حیران پریشان سی اسے دیکھنے لگی اس نے کونسا لطیفہ سنایا تھا جو اس کی ہنسی نہیں رک رہی تھی “-
” ایمان یہ مسٹر شوہر کیا ہوتا ہے ؟؟ زیبا نے بڑی مشکل سے اپنی ہنسی کو قابو کیا ۔۔۔ یا تو کوئی شوہر کا نام لیتا ہے یا پھر گاؤں میں ہماری طرح سائیں بولتا ہے ۔۔۔ تم نے بلکل ہی عجیب سا نام رکھ دیا آدھی انگلش آدھی اردو مسٹر شوہر یا ہا ہا زیبا پھر ہنسی تو ایمان بچاری شرمندہ سی ہو گئی “-
” وہ بڑے ہیں نہ مجھ سے !! مجھے ان کا نام لینا اچھا نہیں لگتا اس لیے میں نے یہ نام رکھ لیا !! اس نے اپنا ہی جواز پیش کیا “-
” کوئی بات نہیں اچھا نام ہے میں تو بس ایسے ہی تمھیں پریشان کرنے کے لیے ہنس رہی تھی ۔۔۔۔۔ تم اسی نام سے بلایا کرو بہت اچھا اور نیا بھی ہے ۔۔۔ زیبا نے لب دبا کر خود کو مسکرانے سے باز رکھا ۔۔۔۔۔ اس کی بات سن کر ایمان جو تھوڑی نروس ہو گئی تھی پھر سے نارمل ہو گئی”-
” یہ صبح صبح سوپ کیوں بنا رہی ہو ؟؟ ناشتہ نہیں کرنا کیا ؟؟؟ ۔۔ یا میرے دیور جی نے فرمائش کی ہے ۔۔ زیبا نے اسے کہنی ماری احتشام کے ذکر پر اس لبوں پر شرمیلی سے مسکان پھیل گئی “-
” وہ بھابھی مسٹر شوہر کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے “-
” کیا ہوا احمد کو رات تک تو بلکل ٹھیک تھا زیبا بھی سن کر پریشان ہوئی “-
” رات کو ہی اچانک سے ان کی طبیعت خراب ہوئی ہے الٹیاں ہوئیں اور بخار بھی ہے اسی لیے سوپ بنا رہی ہوں تا کہ انہیں میڈیسن دے سکوں سوپ کا علاوہ اور کچھ تو مجھے بنا نہیں آتا اس لیے سوپ بنانے لگی ۔۔۔ اس کا منہ اترا تھا کہ اسے کوکنگ کیوں نہیں آتی ۔۔۔۔ آپ دیکھئے گا بھابھی میں جلد ہی سب سیکھ لونگی وہ پر جوش تھی سیکھنے کے لئے “-
” ہممم انشاء اللہ ۔۔۔۔ ایمان میں بھی تمھارے ساتھ چلو احمد سے اس کی طبیعت پوچھ لونگی “-
” ضرور چلیں بھابھی اس میں پوچھنے والی کیا بات ہے ایمان سوپ پیالے میں انڈیلتے ہوئے رک کر مسکرا کر بولی “-
” بھابھی آپ کے پاس بخار کی کوئی میڈیسن ہے تو دے دیجیئے !! رات کو ڈھونڈے پر بھی روم میں میڈیسن باکس اسے کہیں نہیں ملا تھا “-
” اممم دادا سائیں کے روم میں ہوگی میں ابھی لے کر آتی ہوں ۔۔۔۔ تم تب تک سوپ لے جا کر پلاؤ ۔۔۔ زیبا شمشیر ملک کے کمرے کی طرف گئی تو وہ سوپ لیے اپنے کمرے کی جانب چل دی “-
–––––––––––––––––––––––––––
” وہ اس کے لیے سوپ لے کر آئی تو وہ آنکھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے لیٹا تھا”-
“یہ لیں مسٹر شوہر گرما گرم سوپ پی لیں ۔۔۔ پھر آپ کو دوا بھی لینی چلئیے شاباش جلدی سے اٹھ جائیے !! ٹرے سائیڈ میں رکھ کر اس نے بچوں کی طرح بچکارتے ہوئے اس کا کمبل ہٹایا جس پر وہ بھڑک اٹھا “-
” کیا مسئلہ ہے تمھارے ساتھ ؟؟ کیوں تنگ کر رہی ہو ؟؟؟ وہ غصے سے اٹھ بیٹھا ابھی وہ اسے کچھ سناتا کہ دروزاے پر دستک دے کر دادا سائیں زیبا کے ساتھ اندر داخل ہوئے انہیں دیکھ کر وہ خاموشی سے بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا “-
” کیا ہوا احمد میرے شیر !! شمشیر ملک کو جیسے ہی زیبا سے خبر ملی کہ اسے بخار ہے تو ان سے رہا نہ گیا وہ فوراً اس کے ساتھ چلے آئے احتشام میں ان کی جان بستی تھی اسے زرا سی بھی تکلیف پہنچتی تھی وہ بے حد پریشان ہو جاتے تھے “-
” کچھ نہیں دادا سائیں بس زرا سا بخار ہے !! نقاہت کے باعث اس کے چہرہ سرخ ہو رہا تھا”-
” نہیں دادا سائیں زرا سا بخار نہیں زیادہ بخار ہے اور الٹیاں بھی ہوئیں ہیں ۔۔۔۔ یہ دیکھیں میں سوپ لائیں ہوں ان کے لیے !!! آپ انہیں سمجھائیں کہ جلدی سے سوپ پی لیں ٹھنڈا ہو رہا ہے !! میں نے کہا تو مجھے ڈانٹنے لگے ایمان بچاری سی شکل بنا کر کہا .. اس کی بیوقوفانہ شکایت پر جہاں دادا سائیں اور زیبا نے اپنی مسکراہٹ دبائی وہیں احتشام نے اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا جس پر وہ سٹپٹا کر ادھر ادھر دیکھنے لگی”-
” احمد کتنی بری بات ہے ایمان بیٹی اتنے پیار سوپ بنا کر لائی ہے تم کیوں بچی کو ڈانٹتے ہو ۔۔ چلو اٹھو !! شاباش جلدی سے پیو اور دوا لو ۔۔۔ دادا سائیں نے ایمان کی طرف داری کرتے ہوئے کہا “-
” احمد تمھیں تو قدر کرنی چاہئیے اتنی خدمت گزار بیوی ملی ہے ، تم بلاوجہ ہی میری چھوٹی سی دیورانی پر اتنا غصہ کر رہے !!! زیبا اور دادا سائیں کی طرف دار پر ایمان تو خوشی سے جھوم اٹھی”-
” میرے ہاتھ سلامت ہیں میں خود سے پی سکتا ہوں !! ایمان سوپ سے بھرا چمچہ اس کے منہ کے قریب لائی تو اس نے اپنے ہاتھ لہرائے “-
” میں نے اپنے ہاتھ اچھی طرح دھوئے ہیں ۔۔۔ ڈیٹول سوپ سے اور برتن بھی دھو کر لائی ہوں آپ بیمار نہی ہونگے ٹینشن نہ لیں !! “
” وہ بھی ضدی تھی ناچار دادا سائیں کی موجود کی وجہ سے احتشام کو اس کے ہاتھ سے ہی سوپ پینا پڑا ، ایمان نے اسے دوا دی تو دادا سائیں اسے آرام کی تاکید کرتے چلے گئے زیبا کو ناشتہ بنانا تھا اس لیے وہ پہلے ہی جا چکی تھی “-
” ایمان برتن وغیرہ کچن میں رکھ کر واپس آئی تو بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے ، آنکھیں بند کیے اپنے دکھتے سر کو آہستہ آہستہ خود ہی دبا رہا تھا “-
” آپ کے سر میں درد ہے ؟؟ لائیں میں دبا دیتی ہوں !! بلکل ٹھیک ہو جائے گا وہ بیڈ کی دوسرے سائیڈ سے آ کر احتشام کے سر پر اپنا ہاتھ رکھا تو وہ چیخ اٹھا”-
” ہاتھ ہٹاؤ اپنا !! ایک بار میں بات تمھارے سمجھ میں نہیں آتی کیا میں نے کہا ہاتھ ہٹاؤ !! جب ایمان نے اس کے کہنے پر بھی اپنا ہاتھ نہیں ہٹایا تو احتشام نے ایمان کا ہاتھ پکڑ کر دور جھٹکا وہ ہکا بکا سی اس کے اچانک بدلتے ہوئے رویے کو دیکھنے لگی “-
” میں تو بس آپ کا سر دبا رہی ہوں ایمان ڈرتے ہوئے بولی “-
” میں نے کہا کچھ بھی کرنے کو !! مجھے تمھاری کوئی مدد نہیں چاہیئے بلکہ مجھے کسی کی بھی مدد نہیں چاہیئے ۔۔ اور یہ تم کیا دادا سائیں سے میری شکایت کر رہی تھی میں تمھیں ڈانٹتا ہوں ؟؟ حرکتیں دیکھی ہیں تم نے اپنی بلا وجہ رات سے میرے گلے پڑ رہی ہو ؟؟؟ احتشام نے جھپٹ کر اس کے دونوں بازوؤں سمیت دبوچا جس پر وہ درد سے کراہنے لگی “-
” مجھے درد ہو رہا ہے !! اس کی آنکھیں نمکین پانیوں سے بھرنے لگی احتشام کی پکڑ ہی اتنی سخت تھی “-
” مجھے بھی ایسے ہی درد ہوتا ہے جب جب تم میرے قریب آتی ہو ۔۔۔ جب میں نے یہ دیوار ہمارے بیچ بنا دی تھی پھر کس سے پوچھ کر تم نے توڑی ؟؟اس کا اشارہ بیڈ پر تکیوں سے بنائی کمزور سی دیوار کی طرف تھا “-
” آپ کی طبیعت بہت خراب ہورہی تھی ۔۔۔ آپ نیند میں بڑبڑا رہے تھے کسی حریم کو پکار رہے تھے ۔۔۔ میں تو بس آپ کا خیال رکھنے کی کوشش کر رہی تھی اس کی سخت پکڑ پر ایمان تکلیف سے بلبلاتی اس کے سینے پر ہاتھ رکھتی اسے دور دھکیلنے لگی “-
” بخار ہوا تھا ، مر تو نہیں رہا تھا نہ ۔۔۔ تم سمجھتی کیا ہو خود کو ؟؟؟ یہ سب کر کے کیا ثابت کرنا چاہتی ہو ؟؟ جس طرح زبردستی میری زندگی میں شامل ہو گئی ہو اسی طرح میرے دل میں بھی جگہ بنا لو گی !!! لیکن یہ تمھاری غلط فہمی ہے ایمان !!! میں تمھیں ایک لمحہ بھی برداشت نہیں کر سکتا !! دور رہا کرو مجھ سے ۔۔۔ میں مر بھی جاؤں جب بھی میرے قریب نہ آنا !! وہ درشتگی سے چیخا “-
” اللہ آپ کو میری بھی عمر دے دے !!! اس کے منہ سے مرنے کی بات سن کر ایمان کی جان نکلنے کو ہوئی ۔۔۔ آپ بہت ظالم زرا میری پرواہ نہیں کہ میں آپ کے بنا کیسے رہونگی ۔۔۔ احتشام میں آپ سے بہت محبت کرتی ہوں ( نہ جانے کب وہ اسے چاہنے لگی اسے خود بھی معلوم نہ ہو سکا لیکن یہ سچ تھا وہ اس سے محبت کرتی تھی ) میں نہیں رہ سکتی اب آپ کے بنا وہ محبت سے اس کے چہرے کو اپنے ہاتھوں کے پیالے میں بھر کر روتے ہوئے بولی اتنی تکلیف تو اسے اسلام قبول کرنے پر اپنے باپ سے مار کھاتے ہوئے بھی نہیں ہوئی تھی جتنی اس کے منہ مرنے کی بات سن کر ہورہی تھی “-
” تمھارے دماغ تو خراب نہیں ہو گیا ؟؟ اپنی عمر دیکھو مشکل سے بیس سال کی ہوگی چلی ہیں محبت کرنے مطلب پتہ ہے محبت کا ؟؟ ۔۔۔ ڈیرھ ماہ ہوا ہے ابھی اس رشتے کو محبت کیسے ہو گئی اتنی جلدی ؟؟ اپنے بچپنے کو محبت کا نام دینے کی ضرورت نہیں ہے !!! احتشام نے اپنے چہرے سے اس کے ہاتھ جھٹک کر اس کی محبت کا مذاق اڑایا “-
” محبت ہونے کو ایک لمحہ ایک نظر بھی کافی ہوتی ہے مسٹر شوہر اور نہ ہونے کو پوری زندگی بھی کم پڑ جاتی ہے ۔۔۔۔۔ محبت نہ وقت دیکھتی ہے نہ جگہ نہ ہی عمر وہ تو بس ہو جاتی ہے ۔۔ مجھے خود نہیں پتہ چلا کب کیسے ہوئی لیکن مجھے اپنے شوہر سے بے پناہ محبت ہے ۔۔۔ آنسوں ٹپ ٹپ کرتے اس کی آنکھوں بہہ رہے تھے اس لہجے ، لفظوں اور آنکھوں سے چھلکتی محبت نے ایک پل کو تو احتشام احمد کو ششدر کر دیا “-
” دیکھو ایمان میں نے مجبوری میں تمھاری حالت پر ترس کھا کر تم سے نکاح کیا تھا میرے دل میں صرف تمھارے لیے ہمدردی تھی جسے تم نے نہ جانے کیا سمجھ لیا مجھے تم میں زرا برابر بھی دلچسپی
نہیں ہے !!!
“اب کی بار وہ زرا تحمل سے بولا”-
“اس کے الفاظ ایمان کے دل پر چابک کی طرح لگ رہے تھے مگر وہ غلط بھی تو نہیں کہہ رہا تھا سچ یہی تھا ان کا رشتہ مجبوری میں جڑا تھا ۔۔۔۔ لیکن نکاح تو نکاح ہی ہو تھا نہ ، کسی نے ان سے زبردستی تو نہیں کروایا تھا اور زبردستی نکاح تو اسلام جائز ہی نہیں ہے “-
” میں سب جانتی ہوں لیکن دل کے ہاتھوں مجبور ہوں !!! “
” وجہ جو بھی ہو مسٹر شوہر لیکن نکاح تو نکاح ہی ہوتا ہے نہ !!! آپ تو پیدائشی مسلمان ہیں ، مسلمان گھرانے میں پرورش ہوئی ہے آپ اس رشتے کی اہمیت مجھ سے زیادہ جانتے ہیں … پلیز آپ اس رشتے کو ایک موقع دے کر دیکھیں میں کبھی آپ کو مایوس نہیں کرونگی ، ہم ساتھ میں ایک اچھی زندگی گزاریں گے اس نے منت بھرے لہجے میں کہا “-
” تمھیں ایک بار میں بات سمجھ میں نہیں آتی کیا ؟؟ عقل سے فارغ ہو ؟؟ جب میں نے کہا مجھے کسی کے ساتھ نہیں رہنا تو سمجھ کیوں نہیں آرہی تمھیں میری بات !!
” تم کیوں میرے سر پر سوار ہو رہی ہو ؟؟ میں تمھاری شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتا !! اس سے پہلے میں غصہ میں تمھیں کوئی تکلیف دوں اسی وقت میرے سامنے سے چلی جاؤ اور آئندہ اپنی شکل نہ دکھانا جاؤ یہاں سے ۔۔۔۔ جاؤ !!! وہ غصے سے دھاڑا … ایمان سہم کر منہ پر ہاتھ رکھ کر اپنی سسکیوں کو گلا گھونٹتے ہوئے وہاں سے چلی گئی “-
–––––––––––––––––––––––––––
” وہ روتے ہوئے کمرے سے نکلی تھی آنسوں بہانے کے لیے اسے کوئی خالی جگہ چاہیے تھی اسی لیے خاموشی چھت پر آگئی ۔۔۔۔ کافی دیر گزرنے کے بعد ماریہ اسے ڈھونڈتے ہوئے چھت پر آئی تھی ایمان کو گھٹنوں میں منہ چھپائے بری طرح سسکتے دیکھ کر وہ بھی پریشان ہوئی ۔۔۔ اس نے کئی بار ایمان سے وجہ جاننے کی کوشش کی لیکن ایمان نے یہ کہ کر انکار کر دیا کہ اسے اپنی فیملی کی بہت یاد آ رہی ہے ، یہ سن کر ماریہ مطمئن تو پتا نہیں لیکن خاموش ضرور ہوگئی ۔۔۔۔ اس نے سارا دن ماریہ اور گھر والوں کے سامنے خود کو ممکنہ حد تک نارمل رکھنے کی کوشش لیکن دل اندر سے رو رہا تھا ۔۔۔۔ دن تو اللہ اللہ کر کے گزر گیا لیکن رات وہ کمرے میں جانے کے بجائے ماریہ کے پاس آ گئی “-
” ماریہ میں آج تمھارے ساتھ سو جاؤں ؟؟ پلیز مجھے آنٹی ( ولما ) کی بہت یاد آرہی ہے !! “-
” ماریہ کی آنکھوں میں سوال دیکھ کر اس نے وضاحت دی “-
” ایمی میری جان !! اتنی اداس مت ہو مجھے تمھیں روتا دیکھ کر خود بھی رونا آنے لگا ہے !! “
” ماریہ نے اس کا ہاتھ تھام کر اسے اپنے پاس بیڈ پر جگہ دی اس کے اترے ہوئے چہرے سے ماریہ کو بھی عاتکہ کی یاد ستانے لگی تھی ۔۔۔۔۔ ہفتہ ہونے کو آ رہا تھا انہیں گاؤں آئے ہوئے وہ کہاں اتنے وقت ان کے بنا رہتی تھی “-
” ماری ! تم اپ سیٹ مت ہو !!! میں ٹھیک ہوں !! بس یار اب سونا چاہتی ہوں ۔۔۔ صبح تک نارمل ہو جاؤں گی !!! وہ بیزاری سے بولی فلحال وہ سب سے دور ہونا چاہ رہی تھی”-
” ٹھیک ہے !! تم سو جاؤ !! اور بلکل پریشان نہ ہونا میں تمھارے ساتھ ہوں “-
” ماریہ کی اپنائیت پر وہ چاہ کر بھی مسکرا نہ سکی ۔۔۔ خاموشی سے اٹھ کر دوسری طرف آکر لیٹ گئی اس کے لیٹتے ہی ماریہ نے لائٹ آف کردی “-
” کروٹ کے بل لیٹے وہ کب سے خاموشی سے آنسو بہا رہی تھی ۔۔۔۔ جب اسے یقین ہو گیا کہ ماریہ سو چکی ہے تب اٹھ کر وضو کر کے جا نماز بچھا کر اللہ کو رو رو کر اپنا حال دل سنانے لگی “-
–––––––––––––––––––––––––––
” ماں ہلکا سا بخار تھا ۔۔۔ اب تو بہتر ہوں ۔۔۔۔ آپ اتنا پریشان مت ہوں ۔۔۔ میں ٹھیک ہوں !! “
” وہ اس وقت بیڈ پر نیم دراز کان سے فون لگائے کب سے عاتکہ کو مطمئن کرنے کی کوشش کر رہا تھا “-
” جب تمھیں ہزار بار کہا ہے سردیوں میں زیادہ پہن اوڑھ کر رکھا کرو !!! پتہ بھی کتنی جلدی بیمار ہو جاتے ہو !!! لیکن مجال ہے جو تم میری بات پر کان دھرو ؟؟ “
” اسپیکر پر عاتکہ کی ناراض سی آواز ابھری “-
” ایمان کو فون دو میں اسے سمجھاتی ہوں !!! تم نے سننی نہیں ہے میری کوئی بات !!! “
” ماں میں ٹھیک ہوں …. ابھی تھوڑی دیر پہلے ٹیمپریچر چیک کیا ہے نارمل ہے !! “
“اس نے انہیں ٹالنا چاہا اب وہ انہیں کیا بتاتا کہ اس نے صبح صبح ہی ان کی ایمان کی اچھی خاصی عزت افزائی کر کے اسے روم سے نکالا ہے “-
“احتشام تم ایمان کو فون دو !! اب کی بار وہ زرا زور دے کر بولیں “-
” ماں وہ روم میں نہیں ہے !!! ماریہ کے ساتھ ہے !! اس نے اندازے سے بتایا اس وقت وہ زیبا کے کمرے میں تو موجود ہونے سے رہی “-
” اچھا ٹھیک ہے !!! لیکن تم اپنا بہت خیال رکھو اور ان دونوں کا بھی !!! “
“عاتکہ نے اس سے تھوڑی دیر باتیں کرنے کے بعد کال کاٹ دی “-
” میں نے شاید کچھ زیادہ ہی سنا دیا !!! جب کافی وقت گزرنے کے بعد بھی وہ کمرے میں نہیں آئی تو وہ غیر معمولی طور پر اس کے بارے میں سوچنے لگا “-
“لیکن اسے بھی تو سمجھنا چاہیے بخار میں انسان ویسے ہی چڑچڑا ہو جاتا ہے اوپر سے شدید سر درد نے میرا مزید دماغ خراب کر رکھا تھا ، وہ خود بھی تو چپکنے سے باز نہیں آتی ، خیر جو بھی ہوا میں کیوں سوچ رہا ہوں اس کے بارے میں !! مجھے اس کے لیے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں وہ جہاں بھی ہے ، بس مجھ سے دور ہے یہی کافی ہے !! وہ اس کے خیال کو جھٹک گیا “-
” حریم میں تمھاری جگہ کبھی کسی کو نہیں دونگا !! وہ آنکھیں موند کر تصور میں حریم سے مخاطب ہوا اور اسی کی یادوں میں کھونے لگا “-