حصار عشق

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

قسط: 16

” اگلے دن ہی وہ لوگ گاؤں سے واپسی کے لیے نکل گئے رات کو عاتکہ نے اسے فون پر بتایا تھا کہ مبشر حسین نے اسی ماہ ثوبیہ کی شادی کی تاریخ پکی کر دی ہے جس کی بہت سی تیاری کرنی ہی ۔۔۔۔ اگر وہ ایمان کے ساتھ کچھ وقت وہاں رکنا چاہے تو رک جائے لیکن ماریہ کو واپس بھیج دے وہ اکیلے اتنے کام نہیں سنبھال سکتیں !! “-
” وہ کون سا اپنی مرضی سے ایمان کو لایا تھا اس نے موقع کو غنیمت جان کر دادا سائیں سے واپسی کی اجازت لے لی “-
–––––––––––––––––––––––––––
” شادی کی تیاریاں عروج پر تھیں ماریہ اور ثوبیہ تو شاپنگ اور پالر کے چکر لگاتے لگاتے گھن چکر بنی ہوئیں تھیں ان دونوں کو بازار کبھی احتشام تو کبھی مبشر حسین لے جاتے تھے عاتکہ کا کبھی دل کرتا تو ساتھ چلی جاتیں ورنہ گھر کے کاموں میں ہی مصروف رہتیں ایمان کو بھی کئی بار انہوں نے ساتھ بھیجنے کی کوشش کی لیکن وہ ہر بار یہ کہہ کر ٹال دیتی کہ وہ کیا کرے گی جا کر اسے شاپنگ کا کوئی خاص آئیڈیا نہیں ہے ۔۔۔ ثوبیہ تو شروع سے ہی اسے ساتھ رکھنا پسند نہیں کرتی تھی اس کے لیے تو ایمان کا انکار اچھا ثابت ہوا تھا ۔۔۔۔ عاتکہ نوٹس کر رہی تھیں وہ جب سے گاؤں سے واپس آئی تھی چپ چپ رہنے لگی تھی ۔۔۔ عاتکہ نے کئی بار اس سے بات کرنے کا سوچا لیکن مصروفیات کو وجہ سے وہ بات ہی نہیں کر سکیں “-
” عشاء کا وقت ہونے والا تھا جب عاتکہ کچن کے کاموں سے فارغ ہو کر اس کے کمرے میں آئی تھیں ایمان اس وقت قرآن پاک کی تلاوت کر رہی تھی انہیں آتے دیکھ کر اس نے قرآن پاک بند کر کے رکھا “-
” ایمان !!! بیٹا مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے !! آج وہ تہیہ کر کے آئی تھیں کہ ایمان سے بات کر ہی رہیں گی ثوبیہ ، ماریہ احتشام کے ساتھ پالر گئی ہوئیں تھی جبکہ مبشر حسین لاؤنج بیٹھے خبریں دیکھ رہے تھے “-
” ایمان تمھارے اور احتشام کے بیچ کچھ ہوا ہے کیا ؟؟؟ یا گاؤں میں کسی نے تم سے کچھ کہا ہے ؟؟؟ بتاؤ مجھے ۔۔۔ تم لوگ جب سے واپس آئے ہو میں نوٹس کر رہی ہوں تم بہت اپ سیٹ ہو ۔۔۔ کوئی بات ہوئی ہے وہاں ؟؟ انہوں نے اپنا خدشہ ظاہر کیا “-
” نہیں امی کچھ بھی نہیں ہوا ۔۔۔ کسی نے مجھ سے کچھ نہیں کہا آپ بلاوجہ پریشان ہو رہی ہیں وہ زبردستی مسکرائی”-
” میں بلا وجہ پریشان نہیں ہو رہی ہوں کوئی بات تو ہے جس نے تمھارا دل دکھایا ہے ورنہ تم اتنی خاموش اور اداس تو ہر گز نہیں رہتی تھی ۔۔۔۔ کیا بات ہے میرا بچہ بتاؤ مجھے ؟؟ انہوں نے محبت سے اس کا اداس چہرہ اپنے ہاتھوں میں بھرا … ان کی اتنی محبت پر ایمان کا دل کیا پھوٹ پھوٹ کر روئے اور انہیں بتائے کہ وہ ان کے بیٹے سے کتنی شدید محبت کرتی ہے لیکن اس دشمن جاں نے اس کی بے پناہ محبت کو یہ کہہ کر ٹھکرا دیا کہ یہ محض اس کا بچپنا ہے ۔۔۔ لیکن وہ خاموش رہی وہ جانتی اس کے بتانے پر عاتکہ احتشام کو سمجھائیں گی کہ وہ اس رشتے کو نبھائیں اور وہ ان کی بات نہیں ٹالے گا ایمان ایسا نہیں چاہتی تھی اسے پتہ تھا وہ اس کی شکل تک نہیں دیکھنا چاہتا تھا “-
” امی ایسی کوئی بات نہیں ہے کسی نے مجھ سے کچھ نہیں کہا وہ نظریں جھکا کر بولی “-
” احتشام نے کچھ کہا ہے نہ ؟؟ ایمان !! ادھر دیکھو !! میری طرف عاتکہ نے اس کا چہرہ اونچا کیا اس کی آنکھوں کی نمی دیکھ کر وہ سمجھ گئیں احتشام نے ہی کچھ کہا ہے ۔۔۔ لیکن ایمان نے نفی میں سر ہلا کر یہ کہہ دیا کہ اس نے کچھ نہیں کہا “-
” تم نہیں بتانا چاہتی تو مت بتاؤ !!! میں احتشام سے ہی پوچھتی ہوں ایسا کیا کہا ہے جو میری بچی ہسنا مسکرانہ ہی بھول بیٹی ہے ۔۔۔ ایمان میرا بچہ میں نے تمھیں صرف بیٹی کہا ہی نہیں ہے بلکہ بیٹی مانا بھی ہے تم میرے لیے بلکل ماریہ کی طرح ہو ۔۔۔ آنے دو آج احتشام کو میں کھینچتی ہوں اس کے کان تم پریشان نہ ہو میں ڈانٹوں گی اسے !!! ان کا اتنا کہنا تھا کہ اس کا ضبط جواب دے گیا اور وہ ہچکیوں سے رو دی اسے اس طرح بلکتا دیکھ عاتکہ تو سہی معنوں میں بوکھلا گئیں “-
“امی میں بہت محبت کرتی ہوں ان سے ، میں نہیں رہ سکتی ان کے بنا ۔۔۔۔۔ لیکن انہیں میری محبت بچپنا لگتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ عاتکہ کی آغوش میں مامتا کے احساس پا کر وہ اپنے اور احتشام کے درمیان ہونے والی ساری باتیں انہیں تفصیل سے بتا گئی”-
” امی پلیز آپ ان سے کچھ مت کہیے گا میں زبردستی ان کے سر پر مسلط نہیں ہونا چاہتی ۔۔۔۔ آپ مجھ سے وعدہ کریں !! کہ آپ ان سے کچھ نہیں کہیں گی ۔۔۔۔ آپ اچھی طرح جانتی ہیں زبردستی کے رشتے نہیں چلتے ، زبردستی کسی کے گھر میں تو پھر بھی جگہ بنائی جا سکتی ہے لیکن دل میں نہیں ایمان اپنے آنسوں صاف کرتی ہوئی ان کا ہاتھ تھام کر بولی “-
” لیکن ایمان بیٹا مجھے ایک بار بات تو کرنے شاید اسے سمجھ میں آ جائے ۔۔۔۔ وہ تمھارا شوہر مزاق نہیں ہے یہ رشتہ “-
” امی پلیز !! میں آپ کو کہہ رہیں ہوں نہ آپ کچھ نہیں بولیں گی “-
” ٹھیک ہے جیسی تمھاری مرضی ۔۔۔۔۔ اب رونا تو بند کرو !!! عاتکہ اس کے آنسوں صاف کر کے محبت سے اس کا ماتھا چوم گئیں “-
“ایمان کی بات بجا تھی وہ خود زبردستی کے رشتے میں رہیں تھیں ان سے بہتر یہ بات کون جان سکتا تھا بھلا ۔۔۔۔۔۔ ان دونوں کے معاملے کو اللہ کے سپرد کرتے انہوں نے بھی چپ سادھ لی “-
–––––––––––––––––––––––––––
وہ کب سے بیڈ پر چت لیٹا چھت کو گھور رہا تھا دن بھر آفس پھر مارکیٹ میں اپنی بہنوں کے ساتھ سر کھپانے کے باوجود نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی “-
” دائیں طرف کروٹ لے کر اس نے کمبل سر تک تان کر کان پر تکیہ رکھا کہ شاید نیند آ جائے لیکن نہ دائیں بائیں کروٹیں بدلتے بدلتے بھی گھنٹوں گزر گئے مگر نیند نا آئی تھک ہار کر وہ اٹھ بیٹھا کمبل سرکاتے وہ بیڈ سے اترا صوفے پر پڑی اپنی لیدر کی جیکٹ پہن کر وہ کمرے سے نکل گیا اس کا ارادہ لان میں چہل قدمی کرنے کا تھا سیڑھیاں عبور کرتے وہ لاؤنج سے گزر ہی رہا تھا جب سسکیوں کی آواز پر اس قدم رکے تھے آواز ایمان کے کمرے سے آ رہی تھی کمرے کا دروازہ مکمل طور بند نہیں تھا تھوڑا سا کھلا ہوا تھا احتشام نے آگے بڑھ کر دیکھا وہ جائے نماز پر بیٹھی ہوئی رو روہی تھی “-
” اے میرے اللہ !! تجھے تیرے حبیب کا واسطہ ہے تو میرے شوہر کے دل میں میرے لیے محبت ڈال دے یا میرے دل سے ان کے لیے محبت نکال دے ۔۔۔۔ اے میرے اللہ تو میرے دل کا حال جانتا ہے تو مجھے ستر ماؤں سے بھی زیادہ پیار کرتا ہے میرے حال پر رحم کر ، میں بہت اذیت میں ہوں وہ شخص میرے جینے کی وجہ بن گیا ہے ، لیکن وہ کسی اور کو چاہتا ہے ،کون ہے وہ کہاں ہے وہ جسے وہ چاہتا ہے میں نہیں جانتی بس میں تجھ سے اتنی التجا کرتی ہوں کہ توں اس کا دل میرے لیے نرم کردے تا کہ میں پورے خشوع وخضوع کے ساتھ تیری عبادت کر سکوں ، جب تک مجھے ان کا ساتھ نصیب نہیں ہوگا میں اسی طرح اس کے عشق کے حصار میں قید رہوں گی میرا دل تیری عبادت میں بھی بار بار اس کی طرف مائل ہوگا ، تو مجھ پر رحم کر دے ، میں نے تو پاک محبت کی ہے کیونکہ میں نے نامحرم سے نہیں بلکہ اپنے محرم سے محبت کی ہے ، مجھ پر رحم کر دے ، مجھے میرے احتشام دے دے میرے اللّٰہ ۔۔۔۔ وہ روتے ہوئے سجدے میں گر گئی “-
” احتشام الٹے پیر واپس کمرے میں آگیا “-
” کیا وہ واقعی میں مجھ سے اتنی محبت کرتی کہ مجھے اللہ سے مانگ رہی ہے ؟؟ اس نے خود سے پوچھا “-
” نہیں !!! ملک احتشام احمد یہ تمھاری غلط فہمی ہے کوئی تم سے محبت نہیں کرتا ، بھول گئے کیا حریم تمھیں چھوڑ کر چلی گئی ہے ، اور تمھارا باپ وہ تو آج بھی تمھاری شکل دیکھتے ہیں بپھر جاتا ہے ، وہ بھی تمھارے ساتھ مزاق کر رہی ہے ، جب تم اس سے دل لگا لوگے تو وہ بھی تمھیں چھوڑ جائے گی وہ تو ہے تم سے چھوٹی یہ اس کا بچپنا ہے ۔۔۔ دماغ نے فوراً منفی جواب دیا “-
” احتشام وہ کم عمر ہے چالاکیوں سے پاک سیدھی سادی صاف دل کی اس کی محبت سچی ہے اسی لیے تو اللہ سے مانگ رہی ہے تمھیں ، تم تو خوش قسمت ہو جو محبوب بن گئے ہو اس کے ، کسی کو چاہنے سے چاہے جانے کا احساس زیادہ خوبصورت ہوتا ہے محب بن کر اپنا آپ بھلانا پڑتا ہے جبکہ محبوب پر سب کچھ نچھاور کر دیا جاتا ہے ۔۔۔ دل نے اس کی محبت کی سچائی کی گواہی دی “-
” دل و دماغ کی جنگ میں وہ بری طرح پھنس گیا تھا ایک طرف ایمان کے آنسوں ، تو دوسری طرف اس کی بچپن سے اب تک کی زندگی میں رونما ہونے والے واقعات جو اسے اب تک یہی احساس دلاتے آئے تھے کہ وہ اہم نہیں ہے “-
” دل و دماغ کی جنگ میں جیت کس کی ہونی تھی یہ وقت ہی جانتا تھا لیکن ایک بات تو طے تھی کہ اب اسے نیند تو ہرگز نہیں آنی تھی “-
–––––––––––––––––––––––––––
” بھیا کیا آپ کھانے کے بعد مجھے اور ایمی کو مارکیٹ لے چلیں گے ؟؟ ایمی کے لیے برات کا جوڑا لینا ہے اس وقت وہ سب کھانے کھا رہے تھے تب ماریہ نے احتشام سے کہا آج شام ثوبیہ کی مہندی تھی اس کی تیاریوں کی وجہ سے ہی آج وہ آفس نہیں گیا تھا “-
” ماریہ ابھی تم لوگوں کی خریداری مکمل نہیں ہوئی ۔۔۔۔ آج مارکیٹ جانا ممکن نہیں ہے ابھی ہم نے تمھاری پھوپھو کی طرف ثوبیہ کا جہیز بھیجنا ہے ۔۔۔۔ پھر مہندی کی تیاری بھی کرنی ہے تم لوگوں یہ کام پہلے ہی مکمل کرنے چاہیے تھے نہ مبشر حسین تنک کر بولے “-
” لیکن بابا ایمی کیا پہنے گی ؟؟ ماریہ نے اعتراض کیا “-
” نئے ڈریس کی بلکل بھی ضرورت نہیں ہے ماریہ ابھی گاؤں جاتے ہوئے تو آپ لوگوں نے اتنے کپڑے دلائے تھے وہ ویسے ہی رکھے ہیں ان میں سے ہی کوئی پہن لونگی ایمان نے صاف انکار کر دیا جب اپنے شوہر پر ہی اس کا کوئی حق نہیں تھا تو اس کے پیسوں پر بھلا کیسا حق جو وہ شاپنگ کر کے اڑا دیتی ویسے بھی اس کا دل ٹوٹا ہوا تھا اور جب دل کا موسم ہی اچھا نہ ہو تو باہر کے موسم بے معنی ہوتے ہیں “-
“اس کے انکار پر احتشام نے اس کی طرف دیکھا دونوں کی نظریں ملی تو ایمان نے نظریں پھیر لیں ۔۔۔ اس کی آنکھوں میں اداسیوں کا جہاں آباد تھا بلکل ویسے ہی جیسے احتشام کی اپنی آنکھوں میں تھا اگر وہ اکیلا تھا تو ایمان تو اس سے بھی زیادہ اکیلی تھی اس کے پاس تو پھر عاتکہ ، ماریہ ،دادا سائیں تھے جو اس سے بے لوث محبت کرتے تھے اس کے اپنے خونی رشتے تھے ۔۔۔۔ لیکن ایمان اس کو تو کوئی بھی نہیں تھا صرف ماریہ کی دوستی کی بنا پر وہ یہاں تھی ۔۔۔۔ اس کا کوئی اپنا صرف اس وجہ سے نہیں تھا کہ اس نے غلط راستے کو چھوڑ ہدایت کا راستہ اختیار کیا تھا اس نے اسلام قبول کیا تھا ۔۔۔۔ جب سے وہ لوگ گاؤں سے واپس آئے تھے احتشام کا آج اس سے سامنا ہوا تھا ورنہ تو وہ خود ہی اس کے سامنے نہیں آتی تھی اسے اس طرح اداس دیکھ کر اس وقت پہلی بار احتشام کے دل کو کچھ ہوا تھا “-
” لیکن ایمی ۔۔۔ ابھی ماریہ نے احتجاج کرنے کی کوشش کی ہی تھی کہ ثوبیہ بول پڑی “-
“کیا ہو گیا ماریہ ٹھیک ہی تو کہہ رہی ہے یہ اتنے کپڑے ہیں اس کے پاس ان میں سے ہی کچھ پہن لے گی کون سا اس کی شادی ہے جو اسے ہر حال میں نئے کپڑے چائیے تم کیوں اتنا پریشان ہو رہی ہو ثوبیہ نے تیکھی نظروں سے ایمان کو دیکھا “-
” ایمان کھانا ختم کر کے خاموشی سے اپنے کمرے میں چلی گئی ماریہ افسوس سے اسے جاتا دیکھ کر رہ گئی “-
” تم کہاں جا رہے ہو ؟؟ “-
” عاتکہ نے اسے کھانے ختم کر کے باہر جاتے ہوئے دیکھا تو پوچھ لیا “-
” ایک ضروری کام یاد آ گیا ہے ماں ۔۔۔۔ جلدی آ جاؤنگا وہ بول کر نکل گیا “-
–––––––––––––––––––––––––––
” ایمان نے مہندی کے حساب سے گرین کلر کا شلوار قمیض زیب تن کیا تھا جس کے گلے ، آستینوں ، اور دامن پر زری اور شیشے کا نفیس سا کام ہوا تھا شوکنگ پنک کلر کا دوپٹہ اوڑھے ، ہلکے میکپ کے ساتھ بالوں میں پراندہ لگائے ( یہ وہی پراندہ تھا جو گاؤں کی خاتون نے تحفے میں دیا تھا ) , کانوں میں چھوٹے چھوٹے جھمکے ، ہاتھوں میں گجرے پہنے وہ بہت پیاری لگ رہی تھی یہ پھولوں کے گجرے عاتکہ نے خود اس کے لیے منگوائے تھے “-
” عاتکہ نے اسے کچن سے مٹھائی لانے کے لیے بھیجا تھا وہ کچن سے مٹھائی لے کر نکل ہی رہی تھی کہ سیڑھیاں اترتے احتشام کو دیکھ کر رک گئی “-
” سفید رنگ کے کرتے شلوار میں کندھے پر کالے رنگ کی مردانہ شال پھیلائے بالوں کو نفاست سے سیٹ کیے بائیں ہاتھ میں گھڑی پہنے وہ پوری وجاہت لیے سیڑھیاں اترتا ایمان کا دل دھڑکا گیا “-
” رکو !!
” ایمان جو اس کے آخری سیڑھی پر قدم رکھنے پر وہاں سے پلٹنے لگی تھی اس کی آواز سن کر رک گئی “-
” یہ دے کر دس منٹ میں اوپر کمرے میں آؤ میں انتظار کر رہا ہوں اس کا اشارہ مٹھائی کی طرف تھا “-
” کیوں ؟؟
” وہ پوچھے بنا نہ رہ سکی “-
“احتشام جو اسے کمرے میں آنے کا بول کر دوبارہ اوپر جانے لگا تھا اس کی بات سن کر پلٹا ماتھے پر تیوری ڈالے ایمان کو گھورا “-
“کیا مطلب کیوں !! کھا نہیں جاؤں گا تمھیں ، اور ہاں دس منٹ کا مطلب ہے دس منٹ !! جلدی آؤ وہ کہہ کر اوپر چلا گیا “-
” ایمی جلدی لے آؤ دیر ہو رہی ہے ماریہ نے اسے آواز دی تو وہ مٹھائی لے کر آگے بڑھ گئی “-
–––––––––––––––––––––––––––
” پورے دس منٹ بعد وہ بڑی مشکل سے جان بچا کر اس کے کمر میں آئی احتشام دونوں ہاتھ پیچھے باندھے بیڈ کے آگے کھڑا شاید اس کے ہی آنے کا انتظار کر رہا تھا وہ بھی قدم با قدم چلتی اس کے پیچھے آ کر رک گئی اس کی موجود گی وہ محسوس کر چکا تھا لیکن پلٹا نہیں “-
” کیوں بلایا ہے آپ نے مجھے ؟؟ “
” اسے ہنوز خاموش کھڑا دیکھ کر وہ خود ہی پوچھ بیٹھی “-
” یہ لو !! “
” احتشام نے بیڈ پر رکھا شاپنگ بیگ اس کی جانب بڑھایا تو وہ نا سمجھی سے اسے دیکھنے لگی “-
” یہ کیا ہے ؟؟ “
” ایمان بیگ تھامنے کی زحمت ہی نہیں کی “-
” تمھارے کپڑے ہیں کل برات میں یہی پہننا ہے تمھیں !! وہ سکون سے بولا”-
“احتشام شام میں بڑی مشکل سے وقت نکال کر اس کے لیے خرید کر لایا تھا جب سے لایا تھا تب سے ہی دینا چاہ رہا تھا لیکن ایمان اسے نظر ہی نہیں آئی تھی “-
” مجھے ضرورت نہیں ہے !!”-
” وہ انکار کرتی واپس جانے کے لیے مڑی کہ احتشام نے اس کا بازو پکڑ کر اپنی جانب کھینچا اور اسے سنبھلنے کا موقع دیے بنا اسے بیڈ پر بٹھایا کر اس کے دائیں بائیں دونوں جانب ہاتھ رکھ کر اس کی راہیں مسدود کر دیں “-
” ایمان ہکا بکا سی اس کی کاروائی دیکھ رہی تھی جو اس پر جھکا ہوا تھا اس کے کلون کی دلفریب خوشبو ایمان کے حواسوں پر طاری ہونے لگی”-
” میں نے تم سے نہیں پوچھا کہ تمھیں ضرورت ہے یا نہیں یہ میرا حکم ہے کل تم یہی پہنو گی وہ بھی بنا کسی چو چراں کے !!!
وہ ایمان کے چہرے کے قریب اپنا چہرہ کیے دانت پیستے ہوئے بولا “-
” اس کی سانسوں کی تپش سے ایمان کی دھڑکنیں بے ترتیب ہونے لگی “-
“یااللہ !! یہ بندہ میری جان لے لے گا کسی دن ایک تو اتنا خوبصورت ہے اوپر اتنا ہی مغرور اور کھڑوس بھی !!
“وہ بنا پلکیں جھپکائے یک ٹک سی اسے دیکھتی دل میں سوچ رہی تھی “-
” تم سن رہی ہو ؟؟ میں کیا بول رہا ہوں ؟؟
” ایمان کو مسلسل خود کو گھورتے دیکھ کر احتشام نے سیدھا کھڑا ہو کر اس کے آگے ہاتھ لہرایا “-
” جی جی !! وہ ہوش میں آتی ہوئی بولی اور ہڑبڑا کر اٹھنے لگی لیکن جگہ نہ ہونے کے باعث احتشام سے ٹکرا گئی ایمان کا پیرا پھسلا خود کو گرنے سے بچانے کے لیے وہ احتشام کی قمیض مٹھیوں میں بھینچ گئی اس سے پہلے کے احتشام اسے اور خود کو سنبھال پاتا وہ بھی ایمان کے ساتھ کھنچتا بیڈ پر گر گیا ۔۔۔۔ اب حالت کچھ ایسی تھی کہ ایمان نیچے اور احتشام اس کے اوپر تھا “-
” ایمان تو ڈر کے مارے آنکھیں موند گئی کہ اب اس کھڑوس بلا سے خیر نہیں “-
” احتشام سب کچھ بھولے مبہوت سا اسے دیکھنے لگا لرزتی پلکیں ، پنک لپسٹک سے پوشیدہ ہونٹ چہرے پر بکھری بالوں کی لٹیں وہ بلا شبہ بے حد حسین تھی ۔۔۔۔۔ وہ ان لمحوں میں قید ہو گیا دل میں ایک الگ سے جزبات رونما ہونے لگے “-
” اوپس !!
“سوری سوری میں نے کچھ نہیں دیکھا ماریہ آنکھوں پر ہاتھ رکھ کر فوراً پیچھے کو مڑ گئی” –
“وہ احتشام کو بلانے آئی تھی چونکہ دروازہ تھوڑا سا کھلا ہوا تھا اس لیے بنا دستک دیے اندر چلی آئی “-
” وہ دونوں جو ایک دوسرے میں مگن تھے اس کی آواز پر ایمان نے جھٹ سے آنکھیں کھولیں احتشام اس کے اوپر سے ہٹ کر دور ہو کر کھڑا ہوا ۔۔۔۔ اس کے اٹھتے ہی ایمان بھی دوپٹہ سنبھالتی اٹھ گئی “-
” بھیا میں پیچھے مڑ جاؤں ؟؟ “-
” مڑ جاؤ !! تمیز بھول گئی ہو تم ؟؟؟ یہ کونسا طریقہ ہے بلا اجازت کمرے میں گھسے چلے آؤ احتشام نے اپنی خفت مٹانے کے لیے اسے گھرکا “-
“بجائے شرمندہ ہونے کے ماریہ میڈم الٹا لبوں پر شریر مسکراہٹ لیے معنی خیز نظروں سے ایمان کو دیکھنے لگی “-
” وہ جن نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی ایمان کے لیے اس سے نظریں ملانا دوبھر ہو رہا تھا”-
” دونوں سہیلیاں ہی عقل سے فارغ ہیں زرا تمیز نہیں بے وقوف کہیں کی !!!”-
” وہ دونوں کو القابات سے نوازتا خود کمرے سے باہر نکل گیا “-
” ایمان بھی فوراً احتشام کے پیچھے نکلی کہ کہیں ماریہ چھیڑ چھیڑ کر اس کی درگت ہی نہ بنا دے “-
” ایمان کی پھرتی پھر ماریہ کی ہنسی نکل گئی ۔۔۔ لیکن وہ دل سے خوش تھی کہ اسے کے بھیا اور بیسٹ فرینڈ کا رشتہ نارمل ہونے لگا تھا “-
Instagram
Copy link
URL has been copied successfully!

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

کتابیں جو آپ کے دل کو چھوئیں گی

Avatar
Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial