حصار عشق

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

قسط: 18

” وہ آج بھی سڑکوں مارا مارا پھر رہا تھا پچھلے دس دنوں سے وہ یہی تو کر رہا تھا لیکن ہر بار کی طرح اس بار بھی وہ ناکام ، نامراد ہی رہا ۔۔۔ تھک ہار کر اس نے فٹ پاتھ پر بنے پتھر کے تھڑے پر بیٹھ کر ہاتھوں میں سر گرا لیا رات کا پہر ، جنوری کا اوائل سردیاں عروج پر تھی ایسے میں وہ صرف ٹی شرٹ پہنے ہوئے بے حس بنا ہوا تھا “-
” کسی کو ڈھونڈ رہے ہو ؟؟ “-
” اپنے برابر سے انجان آواز پر اس نے چونک کر سر اٹھایا “-
” بزرگ نے ایک نظر اس خوبصورت جوان مرد کو دیکھا جس کی آنکھیں حد درجے تک سرخ ہو رہی تھیں بلکل ایسے جیسے وہ خود کو رونے سے باز رکھنے کی جدو جہد میں ہو ۔۔۔۔ وہ بزرگ اسے کئے روز سے کسی کو ڈھونڈتے دیکھ رہے آج اس کے پاس چلے آئے”-
“اپنے برابر میں ایک عمر رسیدہ شخص کو دیکھ کر وہ ٹھٹھک گیا ۔۔۔ وہ بزرگ شخص مسکرا کر اسے ہی دیکھ رہے تھے ۔۔۔ اس نے دوبارہ ہاتھوں میں سر گرا لیا “-
” پتہ نہیں وہ کہاں چلی گئی ہے !!! ہر جگہ ڈھونڈ چکا ہوں کہیں نہیں مل رہی ۔۔۔۔۔ وہ بھی مجھے باقی لوگوں کی طرح اکیلا کر گئی !!! میں جسے بھی چاہتا ہوں وہ مجھے پتا نہیں کیوں چھوڑ کر چلا جاتا ہے ، کوئی میرا نہیں بنتا !! کوئی مجھ سے پیار نہیں سب مجھے چھوڑ جاتے ہیں ۔۔۔ وہ ہنوز ہاتھوں میں سر گرائے بولے جا رہا تھا”-
” اس کے لہجے میں چھپے درد کو بابا جی نے با آسانی محسوس کیا “-
” یہ دیکھیں میرے ہاتھ بلکل خالی ہیں !!! کوئی نہیں ہے میرا !! اب کی بار اس نے سر اٹھا کر اپنے دونوں ہاتھوں کو ان کے آگے کیا بزرگ نے دیکھا وہ باقاعدہ رو رہا تھا شاید اس کا ضبط ٹوٹ گیا تھا “-
” بیٹے ایک نہ ایک دن تو سب نے ہی چھوڑ جانا ہے کوئی کسی کے ساتھ ہمیشہ نہیں رہ سکتا !! تم اللہ سے دل لگا لو بس وہی ہمیشہ ساتھ رہتا ہے !! اپنے بندوں کو اکیلا نہیں چھوڑتا بابا جی نے انتہائی نرمی سے کہا “-
” وہ بھی مجھ سے پیار نہیں کرتا ۔۔۔ وہ ان لوگوں کو مجھ سے لے لیتا ہے جن سے میں پیار کرتا ہوں اس نے بھی مجھے چھوڑ دیا ہے !!! وہ مایوس ہو رہا تھا “-
” تو اس سے محبت کرتا ہے ؟؟ “-
” ان کے سوال پر وہ نظریں جھکا گیا ۔۔۔ جبکہ بزرگ کے لبوں پر تبسم بکھر گیا “-
” وہ تو اپنے ہر بندے سے محبت کرتا ہے ۔۔۔۔ دن میں پانچ مرتبہ وہ ہمیں یاد کرتا ہے مگر ہم ہی نہیں جاتے اس کے بلاوے پر ، اس نے ہمیں نہیں چھوڑا ہے ۔۔۔ ہم نے اسے چھوڑ دیا ہے ۔۔۔۔ تو اللہ سے دل لگا ۔۔۔ اس سے مانگ وہ اپنے بندوں کو سنتا ہی تیری بھی سنے گا !! بس شرط یہ ہے کہ مانگنے والے کو اس کی دین پر یقین ہو ۔۔۔ تو بھی مانگ اس کے آ گے رو وہ تیری ضرور سنے گا تو اس کی طرف ہاتھ بڑھا وہ تجھے تھام لے گا ۔۔۔۔ بزرگ نے مسکرا کر کہا وہ خاموشی سے ان کا چہرہ تکتا رہا “-
” وہ جانے کہاں کھو گئی ہے !! میں نے ہر جگہ تلاش کیا نہیں مل رہی !!! پل پل ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ایمان کی یاد اور فکر اسے تڑپاتی جا رہی تھی “-
” کون تھی وہ تیری معشوقہ ؟؟ یا وہ جو آج کل کی نوجوان لڑکے لڑکیوں کو بغل میں لیے چلتے ہوئے بڑے فخر سے بتاتے ہیں !! انگریزی میں کیا کہتے ہیں اسے؟؟؟ اممم بابا جی نے ذہن پر زور ڈالا ۔۔۔۔ہاں “گرل فرینڈ” یاد آنے پر بابا جی ہنس کر بولے “-
“نہیں !! وہ میری بیوی ہے !!! بابا جی کی بات پر وہ بھی ہلکا سا مسکرا کر بولا !! “-
” اچھا !!! خیر تو پریشان نہ ہو مل جائے گی تیری بیوی انشاء اللہ !!! وہ احتشام کے کندھے پر ہلکا سا دباؤ ڈال کر بولے “-
” چل آ جا بیٹا اس کا بلاوا آ گیا ہے ۔۔۔ عشاء کی اذان کی آواز سن کر بابا جی کھڑے ہو گئے اسے بھی اپنے ساتھ چلنے کا کہا ۔۔۔۔ کچھ دیر یونہی بیٹھنے کے بعد وہ بھی ان کے پیچھے چل دیا “-
” چار سال ۔۔۔۔ پورے چال سال بعد آج وہ اللہ کے گھر کے باہر کھڑا تھا ۔۔۔۔ چار سال سے اس نے سجدہ نہیں کیا تھا ۔۔۔ جب سے حریم اسے چھوڑ کر گئی تھی اس نے اللہ سے بھی رشتہ توڑ لیا تھا “-
” آ جا بیٹا !! اسے مسجد کے باہر ہنوز کھڑے دیکھ کر بابا جی نے آواز دی تو وہ بھی اندر داخل ہو گیا “-
–––––––––––––––––––––––––––
” ماریہ ایمان کے گھر کا ایڈریس دے نا زرا !! “
” ماریہ لاؤنج میں صوفے پر نیم دراز ٹی وی پر کوئی ڈرامہ دیکھ کر ہنس ہنس کے لوٹ پوٹ ہو رہی تھی جب احتشام نے اس کے پاس آ کر ایمان کے گھر کا پتہ مانگا “-
” جی بھیا آپ نے کچھ کہا !! وہ ڈرامے میں اتنی منہمک تھی کہ ٹھیک سے سن نہیں سکی “
” مجھے ایمان کے گھر کا ایڈریس دے دو !! “
” کیوں ؟؟ ماریہ نے پوچھ ہی لیا “-
” کیا مطلب کیوں ؟؟ میں ڈھونڈنے جا رہا ہوں اسے !! احتشام کے دل کے کونے میں ایک موہم سی امید تھی کہ شاید !! شاید وہ وہاں لوٹ گئی ہو “-
” آپ اسے کیوں ڈھونڈ رہے ہیں بھیا ؟؟ پندرہ دن ہوچکے ہیں اسے گم ہوئے اسے ملنا ہوتا تو مل چکی ہوتی !!! وہ دنیا کی بھیڑ میں کہیں کھو چکی ہے ۔۔۔۔ ماریہ نے ایسے کہا جیسے اس کا لاپتہ ہونا کوئی بڑی بات ہی نہیں ہے”-
“ماریہ یہ تم بول رہی ہو ؟؟ احتشام نے اچھنبے سے اسے دیکھا “-
“اسے روکنے کے لیے ہی تو تم نے ہمارا نکاح کروایا تھا ۔۔۔ وہ تمھاری بیسٹ فرینڈ تھی !!! احتشام کو ماریہ کا نارمل ہونا حیرت میں مبتلا کر گیا “-
” ہاں میں مانتی ہوں میں نے ہی آپ کو نکاح کرنے کا کہا تھا ۔۔۔ لیکن اب مجھے احساس ہو گیا میں نے آپ کو زبردستی ایمان سے نکاح کا بول کر بہت غلط کیا تھا !! میں بھول گئی تھی آپ کے لیے سب کچھ صرف حریم بھابھی ہیں ۔۔۔ آپ ان کی جگہ کسی کو نہیں دینا چاہتے !!!! ماریہ “حریم ہی سب ہے ” والے جملے پر زور دے کر بولی تو احتشام کو شرمندگی محسوس ہوئی “-
“آئی ایم سوری بھیا !! ہمیں آپ کے ساتھ زبردستی نہیں کرنی چاہیے تھی !!! وہ افسردگی سے بولی “-
” احتشام تم کہیں جا رہے ہو ؟؟؟ عاتکہ چائے لے کر لاؤنج میں آئیں اسے تیار دیکھ کر انہیں لگا شاید وہ کہیں جا رہا ہے اسی لیے انہوں نے پوچھ لیا”-
“بھیا ایمی کو ڈھونڈنے اس کے گھر جا رہے ہیں ماریہ نے جواب دیا “-
” بس کر دو احتشام !!! اور کتنا ڈھونڈو گے ؟؟؟ پندرہ دنوں سے تم پاگلوں کی طرح اسے ڈھونڈ رہے ہو !!! بلا وجہ اس کے پیچھے خوار ہو رہے ہو ؟؟ کیا ضرورت ہے اسے خود سے ڈھونڈنے کی پولیس ڈھونڈ تو رہی ہے ، ملنا ہو گا تو مل جائے گی ، تم کیوں خود کو کیوں تھکا رہے ہو ؟؟ عاتکہ صوفے پر بیٹھتے ہوئے بولیں “-
” ماں ایسے کب تک پولیس کے آسرے میں بیٹھا رہوں !!! وہ بیوی ہے میری !!! اسے اپنی ہی آواز کھائی سے آتی ہوئی محسوس ہوئی “-
” بیوی تھی !! پتہ نہیں زندہ ہے بھی یا ۔۔۔۔۔ “-
” ماں پلیز !! عاتکہ کے جملہ مکمل کرنے سے پہلے ہی وہ تڑپ کر بول پڑا “-
” آدھی رات کو جوان ، خوبصورت ، سجی سنوری ، لڑکی سڑک پر تن تنہا تھی ۔۔۔۔۔۔ خدا ہی جانتا ہے کیا ہوا ہوگا ؟؟ اللہ نہ کرے اس کے ساتھ کچھ ایسا ویسا ہو گیا ہو !!! لیکن تم آج کل ہمارے معاشرے کے حالات سے اچھی طرح واقف ہو عاتکہ نے اسے حقیقت سے آشنا کرایا “-
” مجھے یقین ہے وہ جہاں بھی ہوگی بلکل ٹھیک ہو گی ۔۔۔ اس نے ان دونوں سے زیادہ خود کو دلاسہ دیا تھا “-
” ماریہ تم مجھے ایڈریس دو !! میں اسے ڈھونڈ لوں گا وہ زور دے کر بولا تو ماریہ کچھ ہی دیر میں ایڈریس لکھ کر لے آئی “-
” مجھے نہیں لگتا بھیا ایمی وہاں گئی ہو گی !!! اسے واپس ہی جانا ہوتا تو وہ یہاں کیوں آتی ؟؟ اب تو ویسے ہی اس کی فیملی نے اس سے تعلق ختم کر لیا ہے ۔۔۔۔ اس کے وہاں جانے کا جواز ہی نہیں بنتا !!! لیکن آپ جانا چاہتے ہیں تو آپ کی مرضی ہے !!! ماریہ نے ایڈریس اس کی جانب بڑھایا جسے احتشام نے فورا تھام لیا “-
” ماریہ وہ والا ڈرامہ لگانا جو تم کل دیکھ رہی تھی ۔۔۔ اچھا تھا عاتکہ نے ٹی وی نظریں جمائے ہوئے ہی ماریہ کو مخاطب کیا تو ماریہ واپس صوفے پر جا بیٹھ گئی”-
” جی امی !! ماریہ اپنا چائے کا کپ اٹھا کر ان کے ساتھ ڈرامہ دیکھنے میں مصروف ہو گئی “-
” احتشام نے غور سے ان دونوں کو دیکھا ۔۔۔ ان دونوں کے چہروں پر دور دور تک پریشانی نام کی کوئی چیز ہی نہیں تھی ایسا لگ ہی نہیں رہا تھا کہ ایمان کے لاپتہ ہونے سے انہیں کوئی فرق پڑا ہو ، وہ لوگ اپنی اپنی زندگی میں خوش اور مطمئن ہو چکے تھے شروع شروع میں ایک دو دن یہ لوگ اپ سیٹ تھے لیکن اس کے بعد سے نارمل ہوگئے مانو جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو ۔۔۔۔ وہ انہیں دیکھتا خاموشی سے باہر نکل گیا “-
” اس دن وہ رش ڈرائیونگ کر کے شادی حال پہنچا تھا ، لیکن ایمان کو وہاں نا پا کر اس کے حالت غیر ہوئی تھی سردیوں کی وجہ سے لوگ بھی بہت کم تھے اس نے سب سے ایمان کے بارے میں پوچھا لیکن کسی کو کچھ پتہ نہیں تھا ، کسی نے نہیں دیکھا وہ کہاں گئی صبح فجر کے قریب وہ اکیلا گھر پہنچا تو عاتکہ نے اسے خوب سنائی ، ماریہ نے تو بول چال ہی بند کر دی ، شام کو ثوبیہ کا ولیمہ تھا جس میں احتشام نے شرکت کرنے کی زحمت ہی نہیں کی ۔۔۔۔ اس دن سے احتشام اسے ہر جگہ تلاش کر چکا تھا ہوٹل ، ہاسٹل ، درالمان کوئی جگہ ایسی نہیں تھی جہاں اس نے ایمان کو تلاش نہ کیا ہو ، پولیس اسٹیشن میں اس کی گمشدگی کی رپورٹ بھی لکھوا رکھی تھی لیکن ایمان کا کہیں کچھ پتہ نہیں چل رہا تھا “-
–––––––––––––––––––––––––––
” دوسری بار بیل بجنے پر میکس نے دروازہ کھولا “-
” ایمان !! مطلب کیرل یہاں آئی ہے ۔۔۔ احتشام نے دروازہ کھلتے ہی بے قراری سے پوچھا “-
” تمھاری ہمت کیسے ہوئی یہاں آنے ۔۔۔ میکس تو اسے یہاں دیکھ کر ہی بھڑک گیا “-
” یہ میرے سوال کا جوب نہیں ہے !! میں نے پوچھا ہے میری بیوی یہاں آئی ہے ؟؟ احتشام بھی تنک گیا “-
” بیوی تمھاری ہے !! پوچھ مجھ سے رہو واہ !! میکس کے لہجے میں طنز واضح تھا ۔۔۔۔ یہاں کھڑے میری شکل کیا دیکھ رہے ہو !! جاؤ یہاں سے میرا دماغ خراب نہ کرو !!! میکس بول کر اس کے منہ دروازہ بند کرنے لگا “-
“میں تم سے عزت سے پوچھ رہا ہوں !! ایمان آئی ہے یہاں ؟؟؟ احتشام نے اپنے ہاتھ سے دروازے پر زور ڈال کر اسے بند ہونے سے روکا “-
” نہیں آئی !! اگر آ جاتی تو قسم سے میں خود اپنے ہاتھوں سے اس بے غیرت ، ذلیل (گالی) کا گلہ دبا دیتا ، منحوس ہمارے منہ پر کالک مل کر گئی ہے ۔۔۔۔ میکس نے ایمان کو گندی گندی گالیاں دیتے ہوئے غصے سے دانت پیس کر جواب دیا ۔۔۔۔ اور یہیں احتشام کی برداشت جواب دے گئی “-
” تمھاری ہمت کیسے ہوئی ؟؟؟ میری بیوی کو گالی دینے وہ بھی میرے سامنے !! خبیث
” احتشام نے غصے سے دروزا کو دھکا دیا حملہ اتنا اچانک تھا کہ میکس کو سنبھلنے کا موقع بھی نا ملا وہ سیدھا زمین پر جا گرا !! احتشام بھوکے شیر کی طرح اس پر جھپٹ پڑا اسے بری طرح پیٹنے شروع ہو گیا ۔۔۔۔ میکس بھی کوئی بچہ نہیں تھا وہ بھی باڈی بلڈر تھا وہ بھی اپنے بچاؤ کے لیے وار کرنے لگا “-
” کیا ہو رہا ہے یہاں ؟؟ ولما شور کی آواز سن کر بھاگتی ہوئی باہر آئیں دونوں کو فرش پر گتھم گتھا ہوئے دیکھ کر چیخ پڑیں “-
” ولما کی آواز پر ان دونوں نے ایک دوسرے کا گریبان چھوڑا اور اپنے اپنے کپڑے جھاڑ کر کھڑے ہوئے “-
” یہ کیا جانوروں کی طرح لڑ رہے ہو ؟؟؟ میکس کون ہے یہ ؟؟ کیوں مار رہا ہے تمھیں ؟؟ ایک انجان شخص کو اپنے گھر میں اپنے بیٹے سے لڑتا دیکھ کر وہ میکس سے گویا ہوئیں “-
” ممی اسی سے کیرل نے شادی کی ہے !! اس کا ہزبینڈ ہے یہ !! کیرل کو ڈھونڈنے آیا ہے !! میکس نے ناگوار نظروں سے احتشام کو دیکھ کر ہونٹوں سے نکلتے خون کو انگوٹھے سے صاف کیا “-
” کیرل یہاں نہیں آئی ، ہمارا اس سے کوئی رشتہ نہیں ۔۔۔ تم شرافت سے یہاں سے چلے جاؤ !! میں تمھیں صرف اس بنا پر چھوڑ رہی ہوں کیونکہ کیرل کو میں نے ماں بن کر پالا ہے اور تم اس کے ہزبینڈ ہو !! ورنہ میں پولیس کو فون کر کے تمھارے خلاف ایف آئی آر درج کرواتی کہ تم نے میرے گھر میں گھس کر میرے بیٹے پر جان لیوا حملہ کیا ہے !!! تمھارے حق میں بہتر ہے شرافت سے نکل جاؤ !!! اور آئندہ یہاں مت آنا !! کیرل ہمارے لیے مر چکی ہے ۔۔۔ ولما کے درشتگی سے بولنے پر احتشام اپنی شرٹ درست کرتا ہوا ایک خونخوار نظر میکس پر ڈال کر وہاں سے نکل گیا “-
–––––––––––––––––––––––––––
” تو پاگل ہے ؟؟ ایسے منہ اٹھا کر ان کے گھر پہنچ گیا اور تو اور ایمان بھابھی کے کزن کے ساتھ مار پیٹ بھی کری !! احمد تیرا دماغ تو نہیں ہل گیا اگر وہ ایف آئی آر کٹوا دیتے تو توں اس وقت جیل میں ہوتا !! شہرام کو اس دماغی حالت پر شبہ ہوا “
” شہرام اس وقت اس کے آفس میں اس کے سامنے والی کرسی پر ٹیک لگا کر میز پر دونوں پاؤں رکھے بیٹھا ہوا تھا !! وہ ابھی ابھی اپنی جاب کا انٹر ویو دے کر آیا تھا !!! اسے ایک انٹرنیشنل کمپنی میں جاب مل گئی کل سے اسے جوائن کرنا ہے یہی خوشخبری سنانے وہ احتشام کے آفس آیا تھا لیکن یہاں تو ماجرا ہی کچھ اور تھا “-
” ایک تو مجھے تیری سمجھ نہیں آ رہی ؟؟ جب وہ لڑکی ساتھ تھی تیرے آ گے پیچھے ہوتی تھی تو تجھے مسئلہ تھا کہ وہ بچی ہے ، چھوٹی ہے وغیرہ وغیرہ !!! اب جب چلی گئی ہے تو دیوانوں کی طرح دھونڈ رہا ہے !! تو چاہتا کیا ہے احمد ؟؟؟ شہرام زچ آ گیا تھا اس کے پاگل پن سے “-
” مجھے خود نہیں پتا میں کیا چاہتا ہوں !! مجھے کچھ بھی سمجھ نہیں آ رہا !! میرا دل کر رہا ہے ساری دنیا کو آگ لگا دوں !! مجھے وہ ہر حال میں واپس چاہیے !!! وہ جنونی کیفیت میں بولا “-
“شہرام نے غور سے اس کا خوبصورت وجیہہ چہرہ دیکھا جو اس وقت کافی حد تک خراب نظر آ رہا تھا ہونٹ پھٹا ہوا تھا گال پر نیل پڑا ہوا تھا شہرام کو دکھ ہوا اس کے حال پر وہ اتنا جنونی کبھی بھی نہیں تھا حریم کے لیے بھی نہیں جتنا وہ ایمان کے لیے ہو رہا تھا “-
” احتشام تجھے عشق ہو گیا ہے !! وہ بھی طوفانی قسم کا !! شہرام نے اس کے دیوانے ، جنونی انداز پر چوٹ کی “-
” ایسی بات نہیں ہے شہری بس مجھے گلٹ ہے کہ وہ میری وجہ سے کھو گئی ہے اگر میں اس دن ماریہ کی بات پر دھیان دے دیتا تو ایسا نہ ہوتا ۔۔۔۔ وہ آج ہمارے ساتھ ہوتی ۔۔۔۔ اگر اس کے ساتھ کچھ ہوگیا تو ؟؟ یہ سوچ کر ہی میری جان نکلے لگ جاتی ہے !!
“وہ شاید ابھی بھی اپنی دل کی کیفیت سمجھنے سے قاصر تھا اسی لیے محبت کو گلٹ کا نام دے رہا تھا “-
” ادھر آ میرے ساتھ !!! “
” شہرام اپنی کرسی سے اٹھ کر گھوم کر احتشام کی جانب آیا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر کھڑا کیا “-
” کہاں لے جا رہا ہے !!
” احتشام اس کے ساتھ زبردستی کھنچتا ہوا پوچھنے لگا “-
” چل تو سہی !! تجھے خود ہی سب سمجھ آ جائے گا !!! تیرے سوالوں کے جواب تجھے مل جائیں گے ۔۔۔ شہرام نے واشروم کا دروازے کھول کر اسے واش بیسن کے اوپر لگے آئینے کے آگے کھڑا کر دیا “-
” دیکھ خود کو اچھی طرح !! اب بتا جنہیں گلٹ ہوتا ہے وہ تیری طرح نظر آتے ہیں ؟؟ “-
” شہرام کے کہنے پر اس نے غور سے خود کو دیکھا سرخ آنکھیں جن کے نیچے سیاہ حلقے رت جگوں کی چغلی کھا رہے تھے ، چہرے پر لگی چوٹیں ، بڑھی ہوئی شیو ، بکھرا سا حلیہ ایک لمحے لیے تو وہ خود کو بھی پہچان نہ سکا “-
” نہیں احمد وہ تیری طرح نہیں دکھتے ۔۔۔ تیری آنکھیں چیخ چیخ کر تیرے عشق کی داستان سنا رہی ہیں ۔۔۔ پتہ نہیں تو کیسے انجان بنا ہوا ہے ۔۔۔۔ کب تک خود کو سزا دیتا رہے گا ، کب تک اپنی چاہت کو قبول کرنے سے انکار کرے گا ۔۔۔ اپنی محبت سے انجان بن کر تو لوگوں کو نہی تو خود کو دھوکا دے رہا ہے !!!
” تجھے کیا لگتا اس کا تیری زندگی میں آنا ایک اتفاق ہے ؟؟ نہیں احمد اللہ نے ہر انسان کا جوڑا پہلے ہی بنایا ہوا ہے !!!! تو خود سے سوچ پوری دنیا میں وہ تیرے ہی گھر مدد لینے کیوں آئی اور وہ بھی ان دنوں میں جب تو اس گھر میں رہنے کے لیے گیا ہوا تھا ؟؟ اس سے پہلے تو اچھا بھلا فلیٹ میں تھا اچانک تجھے ڈپریشن اٹیک ہونا ، عاتکہ خالہ کا تجھے اپنے ساتھ گھر لے جانا ، ایمان کا وہاں آ جانا ، تم دونوں کا نکاح ہونا یہ محض اتفاق نہیں ہے بلکہ اسے قدرت کا کھیل کہتے ہیں میرے یار !!! اللہ کے یہاں سب کچھ پہلے سے طے تھا ، تم دونوں کی جوڑی اللہ نے بنائی ہے ، اس نے تم دونوں کو ملوایا ہے ، اب اللہ ہی تم دونوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے محبت ڈال رہا ہے !!!
” شہرام نے ایک بار پھر اسے احساس دلانے کی کوشش کی”-
“میں نے آج تک قصے کہانیوں میں “شریں کے لیے فرہاد ، جولیئٹ کے لیے رومیو ، ہیر کے لیے رانجھا ، لیلہ کے لیے مجنوں ، سسی کے لیے پنوں کا نام تو عاشقوں کی سر فہرست میں سنا تھا لیکن آج ایک جیتے جاگتے عاشق کو اپنے سامنے دیکھ بھی لیا ہے ” ایمان کا احتشام ” شہرام اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے مسکرا کر بولا اور احتشام کو وہیں چھوڑ کر خود چلا گیا”-
” میں محبت کرتا ہوں اس سے !!
” اس نے آئینے میں نظر آتے اپنے عکس کو دیکھتے ہوئے خود سے سوال کیا “-
” ہاں احتشام تمھیں اپنی بیوقوف ، لا ابالی ، چھوٹی لڑکی سے محبت ہو گی ہے !! “
” اس کے دل نے فوراً گواہی دی آج اس کے دماغ نے دل کی گواہی کا انکار نہیں کیا “-
” میں محبت کرتا ہوں ایمان سے !! ہاں میں میں محبت کرتا ہوں ایمان سے !!! “
” میری ایمان ، میری بیوی ، میری محبت ، میری جانم ۔۔۔ وہ روتے ہوئے ہنس کر خود سے باتیں کر رہا تھا کوئی اس وقت اس باوقار ، شاندار شخصیت کے مالک انسان کو دیکھ لیتا تو دیوانہ ہی کہتا “-
–––––––––––––––––––––––––––
” مبشر وہ نسمیہ آنا چاہ رہی تھیں !! “
” عاتکہ نے چائے کا کپ ان کا جانب بڑھایا !!! وہ ان کے لیے چائے بنا کر لائیں تھیں وہ اس وقت بیڈ پر نیم دراز اپنے آفس کی کوئی فائل دیکھنے میں مصروف تھے “-
” کون نسیمہ ؟؟ مبشر حسین چشمہ اتار کر رکھتے ہوئے چائے کا کپ تھام کر پوچھنے لگے “-
” احثشام کا دوست شہرام ہے نا اس کی والدہ میں نے آپ کو بتایا تو تھا ۔۔۔۔ وہ کافی وقت سے ہمارے گھر آنا چاہ رہیں ہیں ماریہ کے رشتے کے لیے !!! ثوبیہ بھی رہنے کے لیے آئی ہوئی ہے !! اگر آپ اجازت دیں تو میں انہیں بلا لوں ؟؟ عاتکہ نے ان کے پاس بیٹھتے ہوئے ان سے اجازت چاہی “-
” شہرام میرا دیکھا بھالا، پڑھا لکھا سمجھدار بچہ ہے !! نسیمہ بتا رہیں تھیں انٹرنیشنل کمپنی میں اچھی پوسٹ پر جاب لگی ہے !! کمپنی کی طرف سے فلیٹ اور گاڑی بھی ملی ہے ، گاؤں میں اس کے والد کی بھی اچھی خاصی زمینیں ہیں ، ایک چھوٹا بھائی ہے وہ بھی اسکالر شپ پر پڑھنے باہر گیا ہوا ہے ۔۔۔ ہر لحاظ سے اچھی فیملی ہے ۔۔۔ عاتکہ نے تفصیل سے انہیں آگاہ کیا “-
“کیا کہتے ہیں آپ بلا لوں ؟؟ عاتکہ نے انہیں سوچوں میں گم دیکھ کر دوبارہ پوچھا “-
“ابھی ایک ماہ بھی نہیں ہوا ثوبیہ کی شادی کو ۔۔ اور تم ماریہ کے چکروں میں پڑ گئی ہو ۔۔۔ فلحال میرے پاس پیسے نہیں ہیں انہوں نے صاف ہاتھ جھاڑ لیے ۔۔۔ البتہ اگر تمھارا بیٹا سارا خرچ برداشت کر لے گا تو مجھے کوئی مسئلہ نہیں تم بلا سکتی ہو !! وہ چائے کا گھونٹ بھرتے ہوئے تحمل سے بولے “-
” ٹھیک ہے میں انہیں فون کر دیتی ہوں !! عاتکہ بیڈ سے اٹھ کر کمرے سے نکل گئیں شہرام سے اچھا لڑکا ماریہ کے لیے کوئی ہو ہی نہیں سکتا تھا وہ اتنے اچھے رشتے کو ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہتی تھیں رہی بات احتشام کے خرچے اٹھانے کی تو اس نے ثوبیہ کی شادی میں بھی اچھی خاصی رقم خرچ کی تھی ، ماریہ تو ویسے ہی اس کی لاڈلی بہن تھی احتشام اس پر جان چھڑکتا تھا اسی لیے عاتکہ کو خرچے کی کوئی فکر نہیں تھی “-
” چلو اچھا ہی ہے !! احتشام کے سہارے میرے سر سے ماریہ کی شادی کا بوجھ بھی اتر جائے گا !!! مبشر حسین خود کلامی کرتے ہوئے خالی کپ کو میز پر رکھ کر اپنا چشمہ دوبارہ لگاتے ہو فائلز دیکھنے میں مصروف ہو گئے “-
–––––––––––––––––––––––––––
” ایمان پلیز واپس آ جاؤ میں جانتا ہوں میں نے تمھیں بہت دکھ پہنچایا ہے ، تمھارا معصوم سا شفاف دل دکھایا ہے ، تم سہی کہتی تھی محبت کو ہونے کے لیےصرف ایک لمحہ بھی کافی ہوتا ہے !! آ کر دیکھو مجھے بھی تم سے محبت ہو گئی ہے !! ایمان میری جان میں احتشام احمد دل سے تمھاری محبت پر ایمان لاتا ہوں !! پلیز واپس آ جاؤ !! میں تھکنے لگا ہوں ، بہت اکیلا ہو گیا ہوں ، تمھاری یادیں مجھے سکون نہیں دیتیں !! تمھارا مجھے محبت بھری نگاہوں سے تکتے رہنا ، میرے پاس رہنا ، میری فکر کرنا ، مجھے بے تحاشا چاہنا ، تمھارے ساتھ گزارے ہر ایک ایک لمحے کو میں بہت یاد کر رہا ہوں !! پلیز جانم جہاں بھی واپس آ جاؤ !! تمھارا ” مسٹر شوہر ” تمھارے بنا مر جائے گا !!! میں تھک گیا ہوں خود سے لوگوں سے لڑتے لڑتے , مجھے سمیٹ لو آ کر !! “
” وہ اس وقت اپنے کمرے کی بالکنی میں کھڑا آنکھیں موندے تصور میں ایمان سے باتیں کر رہا تھا !! بند آنکھوں سے لڑیوں کے مانند آنسو بہہ رہے تھے “-
” احتشام !! عاتکہ نے اسے بالکنی میں کھڑے دیکھ کر پکارا لیکن وہ ٹس سے مس نہ ہوا “-
“حد ہوتی ہے !! مجال ہے جو تم بات سمجھ جاؤ !! اسے اتنی سردی میں بنا شال ، جیکٹ کے صرف آدھی آستین کی ٹی شرٹ میں کھڑا دیکھ کر انہیں سخت غصہ آیا ۔۔۔۔ عاتکہ الماری سے اس کی شال نکال کر لائیں اور پیچھے سے اس کے کندھوں پر پھیلا کر اس کے ساتھ ہی کھڑی ہوگئیں “-
” کل شہرام کے والدین ماریہ کا رشتے لینے گھر آ رہے ہیں !!! “-
“عاتکہ کی آواز پر اس نے آنکھیں کھول کر گردن موڑ کر انہیں دیکھا وہ کب آ کر اس کے ساتھ کھڑی ہوئیں اسے خبر ہی نہ ہوئی “-
” احتشام میری جان کیا ہوا تمھیں !! اس کی آنکھوں سے بہتے آنسوؤں پر وہ تڑپ کر اس کا چہرہ ہاتھوں میں بھر گئیں “-
” ماں !! وہ روتے ہوئے ماں کے گلے لگ گیا “-
” احتشام میرا بچہ کیا ہوا ہے بتاؤ مجھے !! عاتکہ بے چینی سے بولیں !! بلکہ میرے ساتھ اندر آؤ ٹھنڈ لگ جائے گی !! عاتکہ اسے خود سے الگ کر کے کمرے میں لے آئیں !!! اسے اپنے سامنے بیڈ پر بٹھایا “-
” ماں مجھے ایمان چاہیے !! اس کے لہجے میں بچوں جیسی ضد تھی !! “-
“میں بہت محبت کرنے لگا ہوں اپنی بیوی سے ، میں نہیں رہ سکتا اس کے بنا !! مجھے ایمان واپس لا کر دیں !! میں نہیں رہ سکتا اکیلا ۔۔۔ یہ تنہائی مجھے کاٹتی ہے ۔۔۔ میں مر جاؤ گا ایسے ۔۔۔۔ بلکہ آپ ایسا کریں اللہ سے دعا کریں کہ میں مر ہی جاؤں وہ ہذیانی انداز میں چیخا “-
” خبردار جو آئندہ میرے سامنے مرنے کا لفظ بھی اپنے منہ سے نکالا !! “
” اس کے منہ سے مرنے والی بات سن کر عاتکہ نے پہلے تو ایک زوردار تھپڑ اس کے منہ مارا اس کے بعد اسے سینے سے لگایا !! ماں کے سینے سے لگا وہ بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رو دیا عاتکہ بھی خاموش آنسوں بھانے لگیں !! احتشام ان کی پہلی اولاد تھی اس کی پیدائش نے انہیں ماں جیسے معتبر رشتے پر فائز کیا تھا !! لیکن احتشام ہی ان کی وہ اولاد تھا جس کے انہوں سے سب سے زیادہ دکھ دیکھے تھے لوگ کو بیٹیوں کے نصیبوں پر رونا پڑتا ہے عاتکہ کو اپنے اکلوتے بیٹے کے لیے رونا پڑ رہا تھا ( والدین کے جھگڑوں اور ان کی علیحدگی سے ان کی اولاد سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہے اور ان میں سے ہی کچھ جو احتشام کی طرح حساس طبیعت کے مالک ہوتے ہیں وہ احساس کمتری ، اکیلے پن کا شکار ہو جاتے ہیں )”-
“بابا سائیں مجھ سے پیار نہیں کرتے ، آپ نے ماریہ کے بابا سے شادی کرلی ٬ حریم مجھے چھوڑ کر چلی گئی ، ایمان بھی پتا نہیں کہاں چلی گئی !!! وہ ماں کے سینے سے لگا مدہم آواز میں بول رہا تھا “-
” کیا میں اتنا برا ہو ماں کہ کوئی میرے ساتھ نہیں رہنا چاہتا ؟؟ وہ سر اٹھا کر شکوہ کناں نظروں سے ماں کو دیکھتا سوال پوچھنے لگا “-
” نہ میری جان !!! عاتکہ نے نفی میں گردن ہلاتے محبت سے اس کا ماتھا چوما !! اس وقت وہ عاتکہ کو چار سال پہلے والا احتشام لگا جسے سنبھالنا ان کے لیے انتہائی مشکل تھا “-
“کوئی ایک اپنا مجھے بھی چائیے !! جو صرف میرا ہو !! جسے مجھے کسی کے ساتھ شئیر نا کرنا پڑے !! ماں میں آپ کو بتا رہا ہوں اگر مجھے ایمان نہیں ملی تو میں خود کو ختم کر لوں گا ۔۔۔ وہ بولتے بولتے جنونی ہو گیا !! عاتکہ نے اس کی آنکھوں میں وہی محبت کے دیپ جلتے دیکھے جو کچھ وقت پہلے ایمان لے آنکھوں میں دیکھے تھے”-
” ادھر دیکھو میری طرف !! میں تمھاری ایمان کو واپس لاؤنگی !! لیکن اس کے لیے تمھیں مجھ سے ایک وعدہ کرنا ہوگا !! عاتکہ نے اس کے آنسوں صاف کر کے پیار سے اس کے بال سنوارتے ہوئے پوچھا “-
” کیسا وعدہ ؟؟ وہ نم آنکھوں سے ماں کو دیکھ کر گویا ہوا “-
“مجھ سے وعدہ کرو کہ تم کبھی بھی خود کو کوئی نقصان نہیں پہنچاؤ گے !! “
” عاتکہ کو اس کے خود کو ختم کر دینے والی بات نے پریشان کر دیا تھا ۔۔۔ وہ ماضی میں بھی دو بار خود کشی کی کوشش کر چکا تھا !! “
” تم وعدہ کرو گے تو میں ایمان کو لے آؤنگی ۔۔۔ انہوں نے زور دے کر کہا “-
” آپ ایمان کو لے آئیں بس !! میں اس کے ساتھ رہنا چاہتا ہوں !! وہ مل جائے گی تو میں کچھ نہیں کروں گا ۔۔۔ وہ ماں کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا “-
” میں لے کر آؤنگی یہ میرا وعدہ ہے !! اب میں اپنے بیٹے کی خوشیوں کے بیچ کسی کو نہیں آنے دونگی !! عاتکہ اس کے بالوں میں انگلیاں چلانے لگیں تو وہ سکون سے آنکھیں موند گیا “-
–––––––––––––––––––––––––––
” ساری تیاریاں مکمل ہو چکی تھیں ۔۔۔ ثوبیہ ماریہ کو تیار ہونے میں مدد کر رہی تھی ۔۔۔۔ مبشر حسین اپنے کمرے میں تھے انہوں کہہ دیا تھا جب مہمان آ جائیں تب انہیں بلوا لیں ۔۔۔۔ احتشام بیزار سا صوفے پر بیٹھا موبائل میں محو تھا عاتکہ نے رات اس کی حالت کے باعث آج اسے آفس جانے ہی نہیں دیا تھا”-
“باہر گاڑی کے رکنے کی آواز آئی تو عاتکہ مہمانوں کو خوش آمد کرنے کے آگے بڑھیں “-
” اسلام علیکم !! “
“سلام کی آواز پر احتشام نے بے اختیار سر اٹھا کر آنے والے کو دیکھا تھا ۔۔۔۔ اس آواز کو تو وہ سیکڑوں میں بھی پہچان سکتا تھا “-
” ایمان !! “
” اس کے لب سرگوشی میں ہلے “-
Instagram
Copy link
URL has been copied successfully!

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

کتابیں جو آپ کے دل کو چھوئیں گی

Avatar
Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial