قسط: 21
” بابا یہ سب کیا ہے ؟؟ آپ نے مجھے کیا کہا تھا آپ میری شادی احتشام سے کروائیں گے !! تو پھر یہ کیا ہے ؟؟ رائقہ نے شدید غصے سے کارڈ اٹھا کر پھینکا کارڈ سیدھا انوار علی کے پیروں کے آ گے جا کر گرا ۔۔۔۔۔ ابھی بمشکل دس منٹ پہلے ہی مبشر حسین اور عاتکہ انہیں ماریہ کے نکاح کے ساتھ احتشام کے ولیمے کا کارڈ دے کر نکلے تھے “-
” بیٹا مجھے کیا معلوم تھا وہ لڑکی واپس آ گئی ہے ان لوگوں نے تو یہی بتایا تھا وہ لاپتہ ہے !! ان سب میں میری کیا غلطی ہے !! انوار علی اپنی لاڈلی بیٹی کے آگے بے بس ہوئے “-
” میں نے آپ سے کہا بھی تھا میں خود احتشام سے بات کرتی ہوں !! لیکن آپ صرف آپ کے کہنے کی وجہ سے میں نے صبر کیا !!! لیکن آپ کچھ نہیں کر سکے اس کا ولیمہ ہو رہا !! دوسری بار وہ کسی اور کا ہو گیا اور آپ کچھ نہیں کر سکے !! کیا کہا تھا آپ نے مجھ سے کہ ثوبیہ کی شادی ربیان سے کروا کر میں ان لوگوں پر پریشر ڈالونگا !! کہاں گئے آپ کے وعدے ؟؟ وہ غصے پاگل ہوتی چیخ رہی تھی “-
” رائقہ میری بچی !! تم کیوں اس احتشام کے پیچھے پاگل ہو ؟؟ اس اچھا لڑکا تمھیں مل جائے گا !! میں خود تمھاری شادی احتشام زیادہ امیر اور خوبصورت لڑکے سے کر واؤنگی !! سائر بیگم نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اس کا غصہ کم کرنے کی کوشش کی “-
” مجھے احتشام ہی چاہیے !! ہر حال میں !!! میں نے چار سال اس لیے انتظار نہیں کیا کہ وہ کسی اور کا ہو جائے !! وہ صرف میرا ہے !! اگر وہ میرا نہیں ہوگا تو میں اسے کسی اور کا بھی نہیں ہونے دونگی !! جو بھی میرے اور احتشام کے بیچ میں آئے گا میں اسے زندہ نہیں چھوڑوں گی !! وہ تنفر سے اپنے کندھے پر رکھا ماں کا ہاتھ جھٹک گئی “-
” کہاں جا رہی ہو !! انوار علی اسے غصے گھر سے باہر نکلتے دیکھ کر پریشانی سے اس کے راستے میں حائل ہوئے “-
” بابا میرے سامنے ہٹ جائیں ورنہ میں خود کو آگ لگا لونگی وہ درشتگی سے کہتی تن فن کرتی آ گے بڑھ گئی “-
” خدا جانے اس بار یہ کیا کرے گی ؟؟ انوار علی سر پکڑ کر بیٹھ گئے “-
” میں آپ کو پہلے ہی سمجھاتی تھی انوار صاحب اسے سر پر مت چڑھائیں !! بچوں کو اتنی زیادہ ڈھیل نہیں دینی چاہیے لیکن آپ نے کبھی میری بات نہیں مانی اب بھگتیں !! سائرہ بیگم نے افسوس سے اپنے شوہر کو دیکھا “-
” ایک اکلوتی بیٹی ہے میری اس کی بھی خواہشیں پوری نہ کر سکوں تو پھر کیسا باپ ہوں میں ؟؟ وہ ابھی بھی اپنے کیے پر شرمندہ نہیں تھے “-
“خدا کا خوف کرو انوار علی تم اپنی بیٹی کی خواہشات کو پورا نہیں کرتے بلکہ اس کے گناہوں میں اس کا ساتھ دیتے ہو !!! تمھاری شے پر ہی یہ اتنی بگڑ گئی ہے !! پچھلی بار تو یہ بچ گئی تھی !! اب اگر اس نے کوئی غلط کام کیا تو میں خود آپ باپ بیٹی کا سچ سب کو بتاؤں گی !! آپ لوگوں کو پتہ نہیں مرنا ہے یہ نہیں لیکن مجھے مرنا ہے !! میں مزید اس کے گناہوں میں آپ لوگوں کا ساتھ نہیں دے سکتی !! سائرہ بیگم اٹل لہجے میں بولی “-
” تم کیسی ماں ہو سائرہ اپنی ہی بیٹی کی دشمن بنی پڑی ہو !! تم نے دیکھا نہیں رائقہ شدید غصے میں گھر سے نکلی ہے !! اس مسئلے کو حل کرنے میں میرا ساتھ دینے کے بجائے تم الٹا مجھ سے بحث کر رہی ہو !! انوار علی اس وقت اچھی مشکل میں پھنس گئے تھے “-
” معاف کیجئے گا انوار والدین کا کام صرف اولاد پیدا کرنا نہیں ہوتا اولاد کی اچھی تربیت کرنا بھی ماں باپ کا ہی فرض ہے !! اور ان کی غلطیوں پر سزا دینا بھی اسی فرض کا حصہ ہے !! مجھے افسوس ہے اس بات پر کہ میں اپنی بیٹی کی اچھی تربیت نہیں کر سکی !!! لیکن میں مزید اس گناہ میں آپ دونوں کا ساتھ نہیں دے سکتی !! “-
” تم سے منہ لگنا ہی بیکار ہے !! میں خود اس مسئلے کا حل نکالتا ہوں !! انوار علی تنک کر بولے “-
–––––––––––
Novels of Akasha Ali
” اس نے کسمسا کر آنکھیں کھولیں منہ پر ہاتھ رکھ کر جمائی روکتے اس نے بھر پور انگڑائی لینے کے بعد دونوں ہاتھوں سے آنکھیں مسلتی وہ اٹھ بیٹھی کمرے میں چاروں طرف نگاہ دوڑانے پر بھی وہ اسے کہیں نظر نہیں آیا واشروم کا دروازہ بھی کھلا ہوا تھا “-
” ایمان کمبل ہٹا کر پیروں میں چپل اڑستے کمرے سے باہر نکل گئی … کچن سے کھٹ پٹ کی آوازیں آ رہیں تھیں مطلب وہ کچن میں تھا “-
” اسلام و علیکم !!! گڈ مارننگ !!
” ایمان کے کچن میں قدم رکھتے ہی احتشام کی ہشاش بشاش سی آواز نے اس کا استقبال کیا “-
” وعلیکم اسلام !!
” آپ کو کھانا بنانا بھی آتا ہے ؟؟ وہ اسے مہارت سے پراٹھے کو تلتے ہوئے دیکھ کر آنکھیں پھیلا کر گویا ہوئی “-
” جی میڈم !! آپ کے شوہر بہت اچھے کک ہیں !! اس نے سینے پر ہاتھ رکھ کر سر کو ہلا سا جھکا کر جواب دیا “-
” جاؤ جلدی سے فریش ہو کر آؤ پھر ساتھ میں ناشتہ کرتے ہیں !! احتشام نے اسے خود کو تکتے دیکھ کر مسکرا کر کہا بجائے واپس جانے کے ایمان الٹا اس کے قریب چلی آئی”-
” آپ مسکراتے ہوئے بہت پیارے لگتے ہیں !! جب آپ کے گال پر یہ ڈمپل بنتا ہے تو میرے لیے نظریں ہٹانا مشکل ہو جاتا ہے !!! ایمان پنجوں کے بل اونچی ہوتی اس کے ڈمپل پر اپنے لب رکھ گئی ۔۔۔ احتشام کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں اس کو ہرگز امید نہیں تھی کہ وہ اتنی دیدہ دلیری سے اس کا گال چوم لے گی “-
” میڈم کو صبح صبح رومانس سوجھ رہا ہے ؟؟ وہ آنکھیں چھوٹی کر کے اسے دیکھنے لگا “-
” اب آپ صبح صبح اتنے ہینڈسم بن کر مسکرائیں گے تو رومانس ہی سوجھے گا !! وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی “-
“ویسے حیران کن بات ہے تم مجھ سے زرا نہی شرماتی !! ڈھٹائی سے مجھے دیکھتی رہتی ہو !! اظہار بھی کھلے دل سے کرتی ہو !!! کیا بات ہے تمھاری احتشام نے داد دیتی نظروں اسے دیکھا “-
” آپ شاید بھول رہے ہیں میں برٹش نیشل ہوں !! مجھ سے شرمانے کی امید تو آپ کو ہرگز نہیں رکھنی چاہیے !! رہی بات آپ کو دیکھنے کی تو آپ میرے شوہر ہیں !! آپ کو دیکھنے پر مجھے ثواب ملتا ہے !! اور اگر آپ اظہار کی بات کریں تو مجھے لگتا ہے اظہار ہی رشتوں کو خوبصورت بناتے ہیں !!! وہ آہستگی سے اس ناک دباتی ہوئی واپس پلٹ گئی “-
” ارے واہ !! آپ نے اتنی جلدی کمرہ بھی سیٹ کر لیا !! وہ واشروم فریش ہو کر باہر نکلی احتشام بیڈ شیٹ درست کر رہا تھا ایمان جتنا حیران ہوتی اتنا کم تھا وہ ہر چیز نفاست سے اپنی جگہ پر رکھ چکا تھا رات لائے شاپنگ بیگز بھی صوفے پر موجود نہیں تھے مطلب صاف تھا وہ انہیں بھی الماری میں سیٹ کر چکا تھا “-
” جی میڈم اس میں اتنا حیران ہونے والی کیا بات ہے !! آپ کا شوہر اکیلا ہی رہتا تھا !! مجھے ہر کام خود سے کرنے کی عادت ہے !! پہلے میں اور شہری ساتھ رہتے تھے تب بھی ہم مل کر سارے کام کرتے تھے !! حریم کے آنے بعد وہ سارے کام خود ہی کر لیا کرتی تھی لیکن ہمارا ساتھ ہی زیادہ وقت نہیں رہا !! وہ بولنے کے ساتھ ساتھ ایمان کا ہاتھ پکڑ کے ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے لے آیا “-
” احتشام نے دراز سے ایک مخملی دبہ نکال کر اس میں سے ایک خوبصورت سا لاکٹ باہر نکالا ایمان کے بالوں کو سمیٹ کر ایک طرف کرتے ہوئے وہ لاکٹ اس کی گردن میں پہنا دیا “-
” واؤ یہ تو بہت پیارا ہے ایمان نے لاکٹ کو ہاتھ سے چھوتے ہوئے کہا یہ وائٹ گولڈ کا انتہائی نفیس سا لاکٹ تھا جس میں اسٹائلش طریقے سے احتشام لکھا ہوا تھا “-
” میں بھی تو بہت پیارا ہوں !! احتشام نے اپنے دونوں ہاتھ اس کے پیٹ پر باندھ کر اسے اپنے حصار میں لیتے ہوئے اس کے کندھے پر اپنی ٹھوڑی ٹکا کر آئینے میں دونوں کے عکس کو دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔ اس کی بات پر ایمان کھلکھلا کر ہنس دی “-
” یہ میری منہ دکھائی ہے ؟؟ ایمان کو یاد آیا اس نے آج تک اسے کوئی بھی تحفہ نہیں دیا تھا ۔۔۔۔ ہاں دادا سائیں کا دیا ہوا بریسلیٹ ضرور پہنایا تھا “-
“نہیں منہ دکھائی کی کیا ضرورت یہ منہ تو مین ہزار بار دیکھ چکا ہوں !! وہ لب دبائے مسکرا رہا تھا !! ایمان نے کھا جانے والی نظروں سے اسے دیکھا لیکن بولی کچھ نہیں”-
” مذاق کر رہا ہوں جانم !! تمھاری سونی گردن مجھے اچھی نہیں لگ رہی تھی !! میں چاہتا ہوں جب بھی تم آئینے میں دیکھو تمھیں اپنی گردن میں لٹکتا میرے نام کا لاکٹ یہ یاد دلائے کہ تم صرف اور صرف ملک احتشام احمد کی ملکیت ہو !! وہ ایمان کے بالوں سے آتی دل فریب خوشبو کو محسوس کرتے ہوئے گھمبیر لہجے بول کر اس کی گردن چوم گیا “-
“چلو ناشتہ ٹھنڈا ہو رہا ہے !! احتشام اس دور ہو کر اس کا ہاتھ تھام کر کچن میں لے گیا “-
––––––––––
Novels of Akasha Ali
“کون ہے !! حد ہے گھنٹی پر ہاتھ رکھ کر ہی بھول گیا ہے !! آ رہی ہوں بھئی !! مسلسل بجنے والی بیل پر عاتکہ جلدی جلدی دروازے کی طرف بڑھیں “-
” ارے رائقہ تم اس وقت !! رائقہ کو اپنے دروازے پر اکیلا کھڑے دیکھ کر انہیں پریشانی ہوئی “-
” ممانی احتشام گھر میں ہے ؟؟ سلام دعا کے بجائے وہ سیدھے مدعے پر آئی “-
” بیٹا اندر آ جاؤ یوں باہر کھڑے رہنا مناسب نہیں ہے !! “-
” ممانی میں جو آپ سے پوچھ رہی ہوں آپ بس مجھے اتنا بتا دیں احتشام گھر میں ہے یا نہیں !! وہ ساری تمیز بلائے طاق رکھتے ہوئے اونچی آواز میں چیخی ۔۔۔۔ اس کی تیز آواز سن کر ماریہ اور ثوبیہ بھی وہیں آ گی “-
” نہیں بیٹا وہ تو گھر میں نہیں ہے ؟؟ عاتکہ نے نرمی سے جواب دیا “-
” کب تک واپس آئے گا ؟؟ رائقہ نے بیزاری سے پوچھا “-
” وہ تو اپنے فلیٹ واپس جا چکا ہے !! اب تو اس کا واپس آنا ناممکن ہے اس کی بیوی آ چکی ہے وہ اپنے ہی گھر رہے گا ۔۔۔ عاتکہ نے تفصیل سے بتایا جسے سن کر وہ پیر پٹکتی ہوئی واپس لوٹ گئی “-
” عجیب لڑکی صرف احتشام کا پتہ کرنے دن دھاڑے اکیلے چلی آئی ۔۔۔ تمھاری گھر والے کچھ بولتے نہیں اسے !! عاتکہ نے اس کے جانے کے بعد ثوبیہ سے پوچھا “-
” کیا بولنا ہے امی کسی نے پھوپھو کی تو پھوپھا کے آگے چلتی نہیں اور ان کے علاؤہ یہ کسی کی سنتی نہیں ہے !! انتہائی کام چور ہے !! پانی بھی خود سے اٹھ کر نہیں پیتی !! پھوپھا نے سر چڑھایا ہوا ہے جب دل کرتا منہ اٹھا کر ایسے ہیں گھر سے نکل جاتی ہے کوئی اس سے پوچھنے والا نہیں ہے !! ثوبیہ نے اپنے دل کی بھڑاس نکالی”-
” آپ دونوں اسے چھوڑیں ؟؟ مجھے بتائیں میں کل کیا پہنوں گی ؟؟ ماریہ ان دونوں کو اپنے ساتھ کھینچتی ہوئی کمرے میں لے گئی “-
–––––––––––
Novels of Akasha Ali
” سجاول تم بھی ہمارے ساتھ ہی چلو !! ایسے اچھا نہیں لگے گا !! ہم احتشام کو کیا کہیں گے ؟؟ جب وہ ہم سے تمھارے بارے میں پوچھے گا !!! ۔۔۔۔۔ کل احتشام کا ولیمہ تھا ۔۔۔۔ اسی سلسلے میں شہرام کے والدین نے ایمان کے لیے ایک چھوٹی سی مہندی رکھی تھی تاکہ اسی بہانے سب اکھٹے ہو جائیں دادا سائیں اور زیبا شہر جا رہے تھے دادا سائیں نے سجاول ملک کو بھی اپنے ساتھ چلنے کا کہا “-
” بابا سائیں اس کی نظر میں باپ کی کوئی اہمیت نہیں ہے !! میرے جانے نا جانے سے اسے کوئی فرق نہیں پڑتا آپ بے فکر رہیں کوئی آپ سے کچھ نہیں پوچھے گا !! سجاول ملک صاف انکار کر گئے “-
” سجاول ہماری سمجھ میں نہیں آتی اپنے ہی خون سے تمھیں کیا مسئلہ ہے !! کچھ تو خدا کا خوف کر لو بیٹا ہے تمھارا کبھی تو اس کی خوشیوں میں خوش ہو جایا کرو !! شمشیر ملک سخت برہم ہوئے “-
” چلو اسی وقت ہمارے ساتھ !! دادا سائیں ان کے ساتھ چلنے پر بضد ہوئے “-
” بابا سائیں آپ لوگ جائیں !! میں کل آ جاؤں گا !! سجاول ملک اپنا فیصلہ سنا کر چلے گئے شمشیر ملک تاسف سے ان کی پیٹھ گھور کر آگے بڑھ گئے “-
–––––––––––
Novels of Akasha Ali
رائقہ تم کہاں تھی ؟؟ تمھیں اندازہ بھی ہے ہم لوگ کتنے پریشان ہو رہے تھے !! اس کے گھر میں قدم رکھتے ہی انوار علی نے پریشانی سے آ گے بڑھ کر اس سے پوچھا “-
” جہاں بھی گئی تھی واپس آ گئی ہوں نا !! وہ جو پہلے ہی احتشام کے نا ملنے پر تپی ہوئی تھی باپ کے سوال پر بھڑک کر بولی “-
” یہ تم کس لہجے میں بات کر رہی ؟؟ ساری تمیز بھول گئی ہو کیا ؟؟ اسے باپ سے بدتمیزی کرتے دیکھ کر ربیان کا خون کھول اٹھا “-
” ربیان تم تو میرے منہ نا لگو جا کر اپنا کام کرو !! یہ سوال جواب مجھ سے نا کیا کرو تمھیں اچھی طرح پتہ ہے میں کسی کے سوال کی جواب دہ نہیں ہوں !! تمھارے حق میں بہتر ہے اپنے کام سے کام رکھو بلا وجہ میرے باپ مت بنو !! وہ انگلی اٹھا کر درشتگی سے بولی “-
” ربیان بیٹا تم اسے چھوڑو جا کر تیار ہو ثوبیہ بار بار فون کر رہی ہے !! سائرہ بیگم جانتی تھیں ربیان بھی غصے میں آ گیا تو بڑا فساد کھڑا ہو جائے گا رہبان قہر بار نگاہوں رائقہ کو دیکھتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا “-
” یہ کہاں جا رہا ہے ؟؟ ربیان کے جانے کا سن کر رائقہ کے کان کھڑے ہوئے “-
” ماریہ کے سسرال !! ماریہ کی ساس سسر نے احتشام کی بیوی کو بیٹی بنایا ہوا ہے کل ان دونوں کا ولیمہ ہے !! اس لیے انہوں آج ایمان کے لیے چھوٹا سا مہندی کا فنکشن رکھا ہے !! ہم لوگوں کو بھی انوائیٹ کیا ہے !! سائرہ بیگم نے اسے تفصیل سے بتایا جس پر رائقہ کی آنکھوں میں شیطانی چمک ابھری “-
” میں بھی جاؤنگی !! دس منٹ میں تیار ہو کر آتی ہوں وہ مسکرا کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی”-
“اللہ خیر کرے !! خدا ہی جانے یہ کیا کرنے والی ہے !! سائرہ بیگم سے اس کی آنکھوں کی چمک مخفی نہ رہ سکی “-
–––––––––––
Novels of Akasha Ali
ایمان کے دونوں ہاتھوں میں بھر بھر کے مہندی لگ رہی تھی وہ آج بہت خوش نظر آ رہی تھی ماریہ،ثوبیہ اور زیبا اس کے ساتھ بیٹھیں باتوں میں مصرف تھیں “-
“بہت بہت مبارک !! فائنلی ایمی تمھاری زندگی میں سب کچھ نارمل ہو گیا بھیا اور تم دو جسم ایک جان بن گئے !!! ہماری محنت اور دعائیں رنگ لے آئیں !! ماریہ نے مسکرا کر اسے گلے لگایا وہ اپنے بھائی اور بیسٹ فرینڈ کو ایک ساتھ دیکھ کر بہت خوش تھی “-
” تھینک یو سو مچ ماری !! یہ سب تمھاری وجہ سے ہوا ہے !! اگر تم میری مدد نہ کرتی تو میں آج پتہ نہیں کہاں ہوتی !! تم واقعی بہت اچھی ہو !! جن لوگوں کے پاس تمھارے جیسے مخلص دوست ہوتے ہیں وہ میری طرح بہت خوش قسمت ہوتے ہیں !! اللہ تمھاری جیسی دوست سب کو دے !! ایمان نے دل سے اس کا شکریہ ادا کیا “-
” مجھے تمھارا شکریہ نہیں چاہیے !! بلکہ تم سے کچھ چاہیے !! ماریہ سنجیدہ ہوئی “-
” کیا چاہیے ؟؟ ایمان نے ماریہ سے پوچھا تو ثوبیہ اور زیبا بھی تجسس سے ماریہ کو دیکھنے لگیں”-
” بس اب جلدی سے مجھے پھوپھو بنا دو !! ماریہ دا۔تق کی نمائش کرتی ہوئی بولی”-
” ماریہ کی فرمائش پر ایمان کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا جبکہ زیبا ہنسنے لگی “-
” تم تو ایسے کہہ رہی ہو ماری جیسے بچے دکان پر ملتے ہیں فوراً جا کر لے آؤ !! ایمان نے آنکھیں گھماتے ہوئے آخر میں ماریہ کو گھور کر دیکھا “-
“دکان پر بے شک نہیں ملتے !! لیکن کوشش تو کر ہی سکتے ہیں !! میں اللہ سے بہت دعائیں کرتی ہوں پھوپھو بننے کے مجھے بچے بہت پسند ہیں ماریہ پرجوش سی بتانے لگی”-
” تو پھر ایسا کرتے ہیں میں شہرام بھائی کو بولتی ہوں کل نکاح کے بجائے وہ تمھاری دخصتی کروا لیں پھر تم اپنا پرسنل بے بی لے آنا ایمان نے اسے آنکھ مار کر کہا !! شہرام بھائی !! اس نے ماریہ کو بولنے کے بعد شہرام کو آواز لگائی ماریہ نے جھٹ سے ایمان کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ کر اس کی آواز دبائی “-
” ایمی اب تم زیادہ ہی پھیل رہی ہو !! چپ چاپ بیٹھ جاؤ نہیں تو میں بھیا کو بلا لونگی ماریہ نے اسے گھور کر کہا “-
” یہ تم اچھا کرو گی !! جاؤ جلدی سے اپنے بھیا کو بلا کر لے آؤ میں نے ابھی تک دیکھا نہیں وہ کیسے لگ رہے ہیں !! بڑا دل کر رہا ہے انہیں دیکھنے کا ایمان نے بنا شرمائے ڈھٹائی سے کہا تو ان سب کے منہ کھل گئے “-
” واہ دیورانی جی آپ تو بہت بے باک ہیں !! زیبا نے اسے چھیڑا “-
” کیا کروں بھابھی آپ کے دیور کا عشق سر چڑھ کر بولتا ہے !! ورنہ تو میں بہت شریف ہوں !! ایمان سامنے آتے احتشام کو دیکھ کر خاموش ہوئی”-
” اہممم میں آپ سب کے سامنے ایمان سے کچھ کہنا چاہتا ہوں !! احتشام نے گلہ کھنکار کر سب کو اپنی طرف متوجہ کیا سب اا کی طرف دیکھنے لگے وہ قدم قدم چلتا ایمان کے سامنے آ کر رکا “-
” ایمان میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں !! میں تمھارے بنا نہیں رہ سکتا !! تم میری زندگی ہو !! میرے جینے کی وجہ ہو !! احتشام نے سب کے سامنے ایمان کے دونوں کو اپنے ہاتھوں میں لے کر اس سے اپنی محبت کا اظہار کر رہا تھا “-
” کیا تم میری زندگی میں شامل ہو کر میری بے نور زندگی کو رنگ بخشو گی ؟؟ احتشام اپنے گٹھنوں پر بیٹھ کر دائیں ہاتھ میں گلاب کا پھول تھامے بائیں ہاتھ میں انگوٹھی کی ڈبیا پکڑے اس سے شادی کا پوچھ رہا تھا “-
یس یس یس !! ایمان نے اس کے ہاتھوں سے گلاب کا پھول لے کر اسے دونوں بازوؤں سے پکڑ کر کھڑا کیا “-
” آئی لو یو سو مچ !! احتشام انگوٹھی اس کے ہاتھوں میں پہنا کر کہا “-
لو یو ٹو !! ایمان نے بھی کھلے دل سے اظہار محبت کیا !! سب انہیں دیکھ کر تالیاں بجانے لگے “-
رائقہ جو ابھی ابھی وہاں پہنچی تھی دروازے پر سے ہی یہ منظر دیکھ کر اس کی آنکھوں میں مرچیں بھر گئیں”-
–––––––––––
Novels of Akasha Ali
سب ایک دوسرے کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف تھے ایمان اس وقت صوفے پر اکیلی بیٹھی ہوئی تھی اسے بھوک لگ رہی تھی ماریہ اس کے لیے کھانا لینے گئی تھی ۔۔۔۔ ثوبیہ اپنے سسرال والوں کو لیے چائے پانی کا انتظام کر رہی تھی زیبا بھابھی پارس کو سلانے گئیں ہوئیں تھیں اسے اکیلے بیٹھے دیکھ کر رائقہ اس کے پاس چلی آئی “-
” تم ایمان ہو نہ !! احتشام کی دوسری بیوی !! اس نے سر تا پیر ایمان کا جائزہ لیا۔۔۔۔ لیکن اب زیادہ دیر تک نہیں رہو گی !! تمھارا وقت پورا ہوا !! رائقہ نے اپنے ہاتھ میں پکڑے چاقو کو ایمان کے آگے لہرایا ۔۔۔ ایمان ڈر کر کھڑی ہوگئی “-
“آپ پاگل ہو کیا !! یہ چاقو کیو لیا ہوا ہے اسے رکھ کر آؤ !! ایمان گھبرا گئی “-
” واپس رکھنے کے لیے تھوڑی نہ لائی ہوں !! اس سے تمھارا کام تمام کرونگی !! بہت شوق ہے نہ تمھیں احتشام کی بیوی بننے کا اب اوپر جا کر اس کے وہاں آنے کا انتظار کرنا کیونکہ اس دنیا میں تو میں اسے کسی اور کا ہونے نہیں دونگی !! رائقہ سفاکیت سے بولی “-
” ماریہ ٹھیک کہتی ہے تم بلکل ہی پاگل ہو !! ہٹو میرے راستے سے ایمان کو اس کے ارادے ٹھیک نہیں لگ رہے تھے جب ہی وہ رائقہ کو جواب دیتی سائیڈ سے نکلنے لگی کہ رائقہ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر مڑوڑتے ہوئے کمر سے لگایا جس پر ایمان کے حلق سے ایک زور دار چیخ بلند ہوئی سب ان کی طرف متوجہ ہوگئے “-
” خبردار !! کوئی میرے پاس نہیں آئے گا ورنہ میں اس کا گلہ کاٹ دونگی !!! احتشام اور شہرام اس کی طرف بڑھتے ہی وہ چیخ پڑی ایمان کی گردن پر اس نے چاقو رکھا ہوا تھا جس کے باعث وہ ہل بھی نہیں پا رہی تھی “-
” رائقہ ایمان کو چھوڑ دو !! احتشام نے گھبرا کر کہا ایک بار پھر اس کی زندگی میں وہی موڑ آ گیا تھا ایک بار اس کی محبت زندگی اور موت کے درمیان آ گی تھی “-
” رائقہ یہ کیا بچپنا ہے !! ایمان کو چھوڑو !! عاتکہ کا دل حلق میں آیا تھا بیٹا بے حال ہو رہا تھا بے اختیار ان کی آنکھوں کے سامنے حریم والا واقعہ گھوم گیا سب پریشانی سے رائقہ کو ایمان کو چھوڑنے کا کہہ رہے تھے ۔۔۔۔ انوار علی کے چہرے کی تو ہوائیاں آڑی ہوئیں تھی سائرہ بیگم اور ربیان الگ پریشان ہوگئے تھے ۔۔۔ تب ہی شہرام نے پیچھے سے جانے کی کوشش کی لیکن رائقہ کی چنگاڑہتی ہوئی آواز نے اس کے قدم روکے “-
” خبردار !! جو آپ میں سے کسی نے بھی ایک قدم بھی آگے بڑھانے کی کوشش کی میں اس کو جان سے مار دونگی اس نے ایمان کی گردن پر چاقو سے دباؤ ڈالا جس پرایمان کے گلے سے چیخ برآمد ہوئی “-
” احتشام اگر تم اسے زندہ سلامت دیکھنا چاہتے ہو تو ابھی اس وقت اسے طلاق دے کر مجھ سے نکاح کرو !! ورنہ میں اسے نہیں چھوڑوں گی “-
” رائقہ تم پاگل ہو گئی ہو !! چھوڑو اسے ربیان طیش میں آتا اس کی طرف بڑھا “-
” ہاں ہو گئی ہوں میں پاگل !!! احتشام صرف میرا ہے !! جو کوئی بھی میرے اور احتشام کے بیچ آنے کی کوشش کرے گا اسے میں مار ڈالوں گی !!! سولہ سال کی عمر میں میں نے پہلی بار احتشام کو دیکھا تھا اسی وقت اپنے دل احتشام کو جگہ دے دی تھی !! کئی بار احتشام کو اپنی محبت کا یقین دلانے کی کوشش کی لیکن ہر بار ، ہر بار اس نے میری محبت کو ٹھکرا دیا !! مجھے چھوڑ کر حریم کو چن لیا لیکن کیا ہوا حریم مر گئی ۔۔۔ بلکہ میں نے اسے مروا دیا !! میں نے گولی چلانے والے کو پیسے دہے تھے حریم کو گولی مارنے کے لیے ۔۔۔۔ رائقہ اپنے پاگل پن میں اپنے منہ سے اپنا راز فاش کر گئی ۔۔۔۔ وہاں موجود لوگوں کے پیروں تلے زمین نکل گئی جسے وہ حادثہ سمجھ رہے تھے وہ سوچا سمجھا قتل تھا “-
احتشام اسے طلاق دو !! نہیں تو میں اسے بھی حریم کے پاس بھیج دیتی ہوں !! رائقہ سفاکیت سے ہنستے ہوئے بولی “-
آہ ۔۔۔۔ اس کے چاقو پر دباؤ بڑھاتے ہی ایمان کراہ اٹھی اس کی آنکھوں سے آنسوں بہنے لگے شاید گردن پر ہلکا سا کٹ لگ گیا تھا ۔۔۔۔۔ احتشام نے اپنی سرخ آنکھوں سے بے بسی سے ایمان کو دیکھا ایمان کی آنکھیں اس پر ہی جمی ہوئی تھی “-
طلاق دو !! رائقہ چیخی !! “
” میں احتشام احمد اپنے پورے ہوش و حواس میں ایمان تمھیں …..