خونی حویلی

post cover

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

قسط: 11

میں نے سوچا لازمی اس پتلے میں ہی کچھ نہ کچھ گڑبڑ ہے لیکن یہ پتلا ماما لائی کہاں سے ہوگی میں سوچ میں ہی گم تھا کہ اچانک سے حویلی کے در و دیوار ہلنے لگے ہم جلدی سے باہر نکل ائے اور الماری کا دروازہ احمد نے بند کر دیا تھا جیسے ہی ہم باہر ائے ہم نے دیکھا کہ حویلی کے اندر سے کچھ اوازیں انے لگی احمد بولا یار یہاں سے چلتے ہیں ہم وہاں سے چلے گئے اور احمد ہمارے ساتھ ہی تھا
میں نے دیکھا کہ احمد کو ابھی تک کچھ نہیں ہوا اب میں شام کا انتظار کرنے لگا کہ احمد کو شام کو جو بھی معملات اتے ہیں وہ دیکھو میں نے احمد کو اپنے ساتھ رکھنے کا ہی فیصلہ کیا میں نے کہا شاید اس کو اپنے ساتھ ہی رکھوں تو یہ کچھ حرکت نہ کر سکے احمد آج میرے ساتھ رہا اور شام کو میں نے احمد کے گھر جانے کا فیصلہ کیا احمد بس مجھ سے تھوڑی دیر کے لیے گھر گیا تھا اور واپس نہیں ایا
میں احمد کے گھر گیا اور پتہ کیا اس کے گھر والوں نے بتایا کہ احمد ابھی ابھی باہر نکلا ہے میں جلدی سے باہر گیا اور کھیتوں کی طرف جانے لگا لازمی کھیتوں کی طرف ہی ہوگا ارسلان ارے ارسلان کیا تم نے احمد کو دیکھا ہے اس سے پہلے کہ میں کوئی اور سوال کرتا ہے ارسلان کی انکھیں سرخ ہونا شروع ہو گئی وہ انتہائی غصے میں تھا کیونکہ رات میں نے ان کا شکار چھین لیا تھا
ارسلان کو جھنجھوڑتے ہوئے میں نے پوچھا کیا ہوا تم غصے میں کیوں ہو وہ بولا تم چلے جاؤ تم نے رات ہمارے ساتھ اچھا نہیں کیا مجھے شک ہوا کہ شام کے وقت ان دونوں کے اثرات شروع ہو جاتے ہیں اور پھر احمد کی تلاش میں نکلنے لگا احمد کہاں ہوگا ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ کھیتوں کے درمیان میں دیکھا کہ کچھ چیز ہے
میں نے اواز لگائی احمد کا تم ہو وہاں پر کوئی اواز نہ ائی تو میں نے پتھر اٹھا کر پھینکا ساتھ ہی میں نے دیکھا کہ وہ سچ میں احمد ہی تھا جو زمین کے اندر اپنا منہ دبائے بیٹھا تھا ارے یہ منہ زمین کے اندر کیسے ہوا ہے احمد ہوش میں اؤ جب میں نے اس کا منہ باہر نکالا تو میں نے دیکھا کہ اس کی انکھیں سرخ ہو گئی تھی اج تو وہ دونوں احمد اور ارسلان دونوں بہت خطرناک نظر ا رہے تھے
ان کی شکلیں بھی تبدیل ہو رہی تھی ارسلان کو تو میں نے بھاگتے ہوئے حویلی میں جا تے دیکھا آج تو احمد اور ارسلان بہت زیادہ ڈراؤنے لگ رہے تھے احمد کی آنکھیں لال سرخ تھی اور وہ عجیب سی اوازے نکال رہا تھامیں نے احمد کو پکڑ لیا اور اس کو حویلی سے دور لے کر جانے لگا
میں نے ماموں کو آواز لگائی ماموں باہر آئے تو احمد کو دیکھ کر بولے عمران اس کو چھوڑ دو میں بولا نہیں آج اس کا میں حال ٹیک کرو گا لیکن یہ میرا وہم ہی تھا شاید احمد کو پکڑ کر میں نے ایک رسی سے باندھ دیا
Instagram
Copy link
URL has been copied successfully!

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

کتابیں جو آپ کے دل کو چھوئیں گی

Avatar
Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial