قسط: 13
کیسے بھی کر کے ہم نے احمد کو اپنے پاس قابو رکھا احمد نے خود کو ازاد کروانے کی بہت کوشش کی لیکن وہ جلد ہی نارمل ہو گیا اب احمد بس ایک جگہ پر پڑا ہوا تھا جس پر ہم نے سکون کا سانس لیا باقی تو سب بھاگ گئے تھے اب میرے ذہن تھا کہ ارسلان کو بھی پکڑ لیں میں نے مامو سے بات کی مامو بولا نہیں ماموں نے پوچھا اس کو پکڑنے کی وجہ تو بتا دو میں نے کہا مامو یہ کچھ غلط کرتا ہے بہتر تھا کہ ہم نے اس کو روک لیا
مامو بولے یہ تو اچھی بات ہے میں نے کہا مامو اب صبح ہم نے کیا کرنا ہے مامو بولے کچھ نہیں فی الحال تو اس احمد سے ہی کچھ بنے گا ہمارے سب گھر والے کمرے میں ائے اور احمد کو دیکھ کر ڈر گئے ہم نے سب کو باہر نکال دیا کہ کہیں یہ زیادہ ڈ نہ جائے احمد کا چہرہ کافی بدلا ہوا تھا
مامو نے کہا یہ اب نارمل ہی رہے گا اپ ارام سے پر سو جاؤ بھائی تو ارام سے سو گیا لیکن مجھے نیند نہیں ائی میں ساری رات جاگتا رہا صبح اذان کی اواز ائی شاید بھائی نے موبائل پر الارم لگایا ہوگا کیونکہ یہاں پر تو نزدیک کوئی مسجد ہی نہیں میں نے الارم کو بند کیا اور احمد کی طرف دیکھنے لگا
جو اب بالکل نارمل ہو چکا تھا میں احمد کے پاس گیا اور احمد کو ہلایا احمد نے انکھیں کھول لی احمد کی انکھیں ابھی تک لال تھی اور ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ مجھے بہت نفرت سے دیکھ رہا ہو میں نے اس کو چھوڑا اور اپنے بستر پر ا کر بیٹھ گیا احمد نے سر جھکایا ہوا تھا اور بیٹھا تھا
بھائی اٹھا تو بھائی نے کہا کہ تم کیا کر رہے ہو ابھی تک سوئے نہیں عمران میں نے کہا مجھے نیند نہیں ائی میں ساری رات اس میں رہا کہ کہیں احمد بھاگ نہ جائے بھائی نے کہا چلو اب میں جاگتا ہوں تم ارام سے سو جاؤ میں سو گیا تھوڑی ہی دیر سے لیٹا ہوں گا کہ مامو ائے اور وہ اٹھانے لگے اب احمد بالکل نارمل تھا
اور وہ ہم سے پوچھ رہا تھا کہ مجھے کیوں بند کر رکھا ہے تم پاگل تو نہیں ہو گئے عمران مجھے اغوا کرنے کا پلان تو نہیں بنا رکھا تم نے کہ میرے گھر والوں سے پیسے لینے ہے اور ہنسنے لگا میں نے کہا نہیں یار ویسے ہی تجھے باندھا تھا تیری حرکتیں ٹھیک نہیں ہے ورنہ تجھے ازاد چھوڑ دیتے
احمد بولا چلو یار اب تو مجھے ازاد کرو میں نے احمد کو ازاد کیا اور پھر مامو نے کہا تم یہی رکو ہم اکٹھے ناشتہ کریں گے ہم سب نے ناشتہ کیا احمد بہت مشکل سے ہی ناشتہ کر رہا تھا شاید اس کو جو خون کی ہوا لگی تھی اس وجہ سے وہ کھانے سے بہت دور ہو چکا تھا
میں نے احمد کو کہا کہ ٹھیک ہے اب تم گھر جاؤ احمد گھر چلا گیا اور میں نے مامو کو بلایا مامو نے کہا کہ میں نے گاؤں کے چودھری صاحب کو کال کی ہے وہ بولتے ہیں کہ ہم جرگا لگائیں گے اور سب بیٹھ کر بات کریں گے جس پر میں نے کہا ٹھیک ہے تھوڑی ہی دیر کے بعد کافی لوگ ہمارے گھر کی طرف اتے ہوئے نظر ائے
ہم سب نے ان کے بیٹھانے کے لیے جگا دی اور بات شروع کی مامو بولے جی میرا ے بھانجا ہے عمران اب سب سے کچھ کہنا چاہتا ہے مہربانی کر کے اس کی کچھ بات سن لیں میں نے بات شروع کی اور سب کو سلام کیا اور خیریت دریافت کی سب نے جواب دیا اور اپ اپنی خیریت بتائی
پھر میں نے کہا جی بات ایسے ہے کہ اب ہم اس اسیب سے پیچھا چھڑوانا چاہتے ہیں اور میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ میں اور مامو ہم دوسرے قصبے میں جائیں گے اور وہاں قاری صاحب سے مشورہ کریں گے جس پر سب لوگوں نے کہا کہ ٹھیک ہے ہم اپ کے ساتھ ہیں مامو بولے لیکن ہمیں کچھ اور بھی دوست چاہیے جو ہمارا ساتھ دیں گاؤں کے تقریبا پانچ چھ لوگوں نے ہمارا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا
مامو نے بولا کہ اس میں جان کا بھی خطرہ ہے کسی بھی نقصان کے ہم ذمہ دار نہیں ہوں گے جس پر انہوں نے کہا کہ اگر ہمارا نقصان ہو اور گاؤں والوں کا فائدہ ہو اس سے اچھا اور کیا ہو سکتا ہے ہم اپ کے ساتھ چلنے کے لیے تیار ہیں ماموں نے کہا ٹھیک ہے تو بات کر لیتے ہیں ایک وقت مقرر کرتے ہیں اس وقت ہم نے یہاں سے نکلنا ہے لیکن کوشش یہ کریں گے کہ ہم جلدی جلد صبح سویرے نکلیں تاکہ دو تین گھنٹے کا سفر ہے اور جنگل کا تو اپ کو پتہ ہی ہے وہ جنگل کو ہم جتنی جلدی ہو سکے اتنی جلدی کراس کر لیں
مامو نے ایک چھوٹا سا نقشے کی طرح ہمیں بتایا کہ ہم نے یہاں سے گزرنا ہے اور ایک ندی ہے اس ندی کو کراس کرنا سب سے مشکل ہے اگر وہ ندی ہم لوگ کراس کر گئے تو پھر سمجھو ہم قاری صاحب تک پہنچ سکتے ہیں جس پر ہم سب نے اتفاق کیا کہ ٹھیک ہے ہم سب مل کر ساتھ دیں گے ہماری مسجد کے علامہ صاحب بھی ائے تھے جنہوں نے ہمیں ایک تعویذ بنا کر دیا کہ یہ سب اپنے گلے میں پہن لیں انشاءاللہ اپ کو کچھ نہیں ہوگا
ہم سب نے وہ تعویز اپنے اپنے گلے میں پہن لیا اور صبح فجر کی نماز کے بعد نکلنے کا فیصلہ کیا اب میں بہت خوش تھا کہ چلیں میری وجہ سے ہی میرے دوستوں کی جان بچ سکتی ہے جب ہم گرجے سے فارغ ہوئے تو میں نے احمد کو کال کی اور اس سے پوچھا کہاں ہو وہ بولا میں گھر ہی ہوں میں نے کہا میں اتا ہوں میں احمد کے گھر گی
ا اور اس کی ماما کو سلام کیا جس پر اس کی ماما نے مجھے دعائیں دی اور کہا کہ بیٹا میں نے سنا ہے رات احمد کو بند کر رکھا تھا میں نے کہا جی ہاں جی احمد کی ماما نے بولا اچھی بات ہے اس کا یہی علاج ہے لیکن میں نے ان کو جب بتایا کہ ہم سب نے یہ فیصلہ کیا ہے اور انشاءاللہ میں اپنے دوست کی خاطر اپنی جان بھی قربان کر دوں گا جس پر اد نے بولا کہ کون سی جان کیا ہوا ہے مجھے میں ٹھیک ہوں
میں نے کہا ہاں تم ٹھیک ہو لیکن بس تمہاری حرکتیں ٹھیک نہیں ہیں احمد کی ماما نے مجھے دعائیں دی اور بولی کہ اللہ تمیں خیر خیریت سے لے جائے اور واپس بھی لے ائے احمد بولا میں بھی ساتھ چلتا ہوں میں نے احمد کے سامنے ہاتھ جوڑے اور بولا بھائی تم یہیں پر رہو تمہارا ہی تو سارا یہ مسئلہ بنا ہوا ہے احمد بولا نہیں میں ساتھ چلوں گا میں نے کہا تم یہیں پر ہو اپنے گھر والوں کا خیال رکھو انشاءاللہ ہم جلد واپس ائیں گے
اور ایک اچھی خبر لائیں گے میں نے بات کی اور احمد میرے ساتھ میرے گھر تک ایا راستے میں ہمیں ارسلان کی تلاش رہی لیکن وہ کہیں نہ نظر ایا میں نے کہا وہ حویلی میں ہی ملے گا اس کے علاوہ اس کا کوئی ٹکانا نہیں احمد بولا نہیں یار حویلی میں وہ نہیں ہوگا وہ کہیں باہر ہی نکلا ہوگا وہ کسی دوست کے پاس ہوگا دوست سے میرا دماغ کھٹکا کہ کہیں اج یہ کچھ غلط حرکت نہ کر دے یہ
میں چلا جاؤں یا میرے پیچھے سے کوئی بے گناہ کو یہ نقصان نہ پہنچائے لیکن میں نے سوچا کہ اب کسی نہ کسی کو قربانی دینی پڑے گی میں گھر ایا دوپہر کا کھانا وغیرہ کھایا اس کے بعد ہم نے ان سب لوگوں کو اپنے گھر بلایا اور ہم نے پلاننگ کی جس طرح ہم نے کچھ کھانے کا سامان اور سواری کے لیے کچھ چیزیں منتخب کی اور ہم نے نکلنے کا فیصلہ کیا سب لوگوں نے ایک ہی رائے دی اور پھر سبب اپنے گھروں کو چلے
گئے مامو نے بولا اج رات تم ارام سے سو جانا ٹھیک ہے اور صبح کو جلدی اٹھنا ہوگا میں نے کہا ٹھیک ہو گیا مامو مغرب کے وقت کا ٹائم تھا کہ میں نے دیکھا حویلی کی طرف وہاں پہ کچھ سرخ سا مجھے محسوس ہوا میں نے سوچا کہ حویلی کی طرف جا کے دیکھتا ہوں لیکن اج میں کوئی خطرہ مول نہیں لوں گا کیونکہ صبح اس سے بڑا خطرہ ہے جو میں نے دیکھنا ہے