خونی حویلی

post cover

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

قسط: 14

لیکن حویلی کی طرف سے نگاہ ہٹنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی میں پھر بھی کسی طرح کر کے میں خاموشی سے سو گیا میں سویا ابھی تھوڑی دیر ہی ہوئی تھی کہ مجھے ایسا محسوس ہوا کہ کوئی میرے پاس موجود ہے اور میرے منہ کے پاس کسی کے سانس کی اواز انے لگی میں نے اچانک انکھیں کھولی تو میرے تو ہوش حواس اڑ گئے
اور میں ڈرنے لگا میرا جسم بھی کانپ رہا تھا احمد اور ارسلان دونوں میرے سامنے کھڑے تھے یہ کیسے اگئے یہاں پر اور ان کو اندر انے کس نے دیا میں جلدی سے اٹھا اور احمد کو پوچھنا تم یہاں کیا کر رہے ہو احمد مجھے نفرت سے گھور رہا تھا کہ اچانک مجھے کچھ اواز محسوس ہوئی میں نے دیکھا مجھے کوئی نظر نہ ایا میں نے کھڑکی کی طرف دیکھا تو ایک دیو ہیکل انسان وہاں پر کھڑا مجھے ہی گور رہا تھا میں نے اواز کو سننے کی کوشش کی لیکن نہ جانے کیوں مجھے اواز سنائی نہیں دے رہی تھی
میں نے اپنے بھائی کو اٹھانے کی کوشش کی لیکن وہ نہیں اٹھا میں نے احمد سے کہا کیا مسئلہ ہے کیوں ائے ہو یہاں پر چلو یہاں سے چلے جاؤ مجھے ایک بار پھر اواز ائی کہ تم صبح نہیں جاؤ گے تم وہاں نہیں جاؤ گے ایک عجیب بات تھی کہ وہ میرے پاس نہیں آرہا تھا لیکن احمد اور ارسلان میرے قریب آ رہے تھے شاید وہ تعویذ سے ڈر رہا تھا
احمد کو میں نے ہاتھ لگانے کی کوشش کی لیکن احمد نے ہاتھ نہیں لگانے دیا اور پیچھے ہٹتا چلا گیا مجھے پتہ چلا کہ یہ ڈر رہے ہیں تعویذ کی وجہ سے تو میں ان کے اگے اگے چلنے لگا کہ یہ مجھے پکڑ کر دکھائیں ایسی حرکتیں مجھے بہت حوصلہ دے رہی تھی کہ جن سے میں بے خوف ہوتا جا رہا تھا اور میرے اندر ایک نئی طاقت پیدا ہو رہی تھی
میں احمد کو پکڑنے لگا لیکن مجھے اچانک خیال ایا کہ کیوں نہ کھڑکی کے ساتھ لوہے کی زنجیر اور دروازے کے ساتھ بھی لوہے کی زنجیر لگا دی جائے اور یہ دونوں اندر ہی بند رہیں گے یہ پھر بھاگ نہیں سکیں گے میں نے زنجیر اٹھائی اور کھڑکی کی طرف جا کر اس کو لٹکا دیا زنجیر کو دیکھ کر ویو ہیکل انسان تو فورا بھاگ گیا ہے
لیکن احمد اور ارسلان دونوں پکڑے گئے اب میں نے انہیں کہا کہ اب تمہیں کون بچائے گا ان کی زور زور سے اوازیں انے لگی ہے عجیب ہے کہ بھائی کو کوئی اواز نہیں سنائی دے رہی بھائی کو کیا ہوا ہے کیا بھائی کسی نشے میں تو نہیں ہے یا انہوں نے کچھ بھائی کے ساتھ کیا تو نہیں میں جلدی سے بھائی کے پاس گیا اور بھائی کو ہلانے لگا
لیکن وہ نہیں اٹھا میں نے پانی اٹھایا اور اس کے منہ پر پانی کا چھینٹے مارے وہ ہڑبڑاتا ہوا اٹھا اور بولا کیا ہوا عمران کیوں مجھے تنگ کر رہے ہو میں نے کہا یہ دیکھو ادھر اس نے دیکھا کہ احمد اور ارسلان دونوں کمرے میں ہیں اور بہت ہی خوفناک شکل بنا کر کھڑے ہیں
بھائی نے کہا یہ یہاں کیسے ائے میں نے کہا مجھے نہیں پتہ میں خود سویا ہوا تھا مجھے محسوس ہوا جیسے کوئی میرے آس پاس ہے دیکھا تو یہ تھے بھائی کہنے لگا ان دونوں کو یہاں سے نکالو بھائی فورا میں نے کہا یہ بھائی نہیں نکل رہے بھائی نے کہا تم نے وہ زنجیرہ جو باندھ رکھی ہے یہ کیسے نکلیں گے
مامو نے بولا تھا کہ یہ لوہے سے ڈرتے ہیں اور تم نے زنجیریں لگا دی جلدی سے زنجیر اتارو ان کو باہر نکالو میں نے کہا بھائی کیوں نہ ہم ان کو بھی یہیں پر قابو کر کے رکھیں کہ رات کو یہ کچھ غلط نہ کریں ویسے بھی اج میں نے سنا تھا کہ یہ کسی دوست کے ساتھ ملنے والے ہیں مجھے ڈر ہے کہ اس معصوم بے گناہ کی جان کو خطرہ نہ ہو ان سے
بھائی نے کہا عمران لگتا ہے تمہیں کچھ نظر نہیں ارہا میں نے کہا کیا چیز نظر نہیں ا رہی وہ بولا ان کے دانت دیکھو میں نے جب غور کیا تو مجھے وہاں پر کچھ خون اور گوشت لگا نظر ایا میں نے سر پر ہاتھ مارا اور کہا انہوں نے لگتا ہے اس بے گناہ اور معصوم کے ساتھ بھی وہی کیا جو میرے دوست فیضان کے ساتھ کیا تھا
مجھے بہت غصہ ایا اور میرے خون کھولنے لگا میں نے ابھی ارادہ کیا کہ ابھی ان دونوں کی خیر نہیں دونوں پر میں سے کوئی نہیں بچائے گا اور ان کو اب میں اس کمرے میں ہی بند کر کے رکھوں گا اور ان کو کھانا یہیں پر ملتا رہے گا میں نے مامو کو کال کیا اور مامو کو بولا کہ کمرے میں ائے مامو کمرے میں ائے تو انہوں نے دیکھا کہ ہم نے ان دونوں کو پکڑ رکھا ہے
ماموں نے کہا یہ دونوں یہاں پر کیا کر رہے ہیں اور ان کو کون لے کر ایا ہے میں نے کہا مامومجھے خود نہیں پتہ یہ کیسے اندر ائے مامو نے بولا یار اب ان کو جانے دو کیونکہ صبح ہم نے جانا ہے تو ان کا علاج ہم کریں گے میں نے کہا مامو نہیں میں انہوں نے کیس بے گناہ کا قتل کیا ہے اور دیکھو انہوں ان کے منہ پر خون اور گوشت بھی لگا
ہوا ہے
مامو نے دیکھا مامو نے کہا اللہ معاف کرے ایسے کیسے کر لیتے ہیں میں نے کہا مامو یہ اپنے ہوش میں نہیں اں پر اسیب کا قاصر ہے ابھی تک یہ صبح تک نارمل ہوتے ہیں مامو نے کہا تھا اب کیا کریں میں نے کہا ماموں ان کو ہم یہیں پر باندھ کر رکھیں گے تاکہ ہمارے وہاں جانے کے بعد یہ کچھ حرکت نہ کر سکیں مامو بولے ہاں یہ ٹھیک ہے لیکن یہ یہاں پر نہیں رہ سکیں گے
کیونکہ یہ یہاں پر ہمارے گھر لیے خطرہ بن سکتے ہیں میں نے کہا مامو ان کو کیوں نہ ہم حویلی کے اندر ہی قید کر دیں مامو بولا ارہے حویلی میں کیا قید کر رہی ہیں حویلی تو خود ان کے ساتھ ہے میں نے کہا مامو ہم ان کو زنجیروں کے ساتھ جکڑ کر وہاں پر باندھ رکھیں گے اور وہاں پر ان کو کھانا وغیرہ دے دیا کریں گے اسے مامو بولے نہیں ہم ان کو ان کے گھر میں ہی قید کر دیتے ہیں
وہاں پہ ان کے گھر والے ان کی اچھے سے دیکھ بھال کریں گے میں نے کہا یہ ٹھیک ہے اور پھر ہم نے احمد کے پاس جانے کی کوشش کی لیکن وہ ہم سے بھاگ رہاتھا میں نے کہا مامو یہ تعویز کی وجہ سے بھاگ رہا ہے میں نے بھائی سے کہا بھائی تم ذرا پکڑو جا کر بھائی گیا اور اس نے پکڑا بھائی نے تعویز نہیں پہنا تھا اس لیے اس نے احمد کو پکڑ لیا
میں نے کہا دیکھ لو مامو ہماری تعویز کی وجہ سے یہ ہمارے پاس نہیں ا رہے ماما بولا ہاں یہ بھی ٹھیک ہے ایسا کرتے ہیں ہم پھر قاری صاحب سے کہہ کر تعویز اور بنوا لیتے ہیں اور جن جن تک پہنچا سکتے ہیں ان تک پہنچا دیں گے بھائی بولا ہاں یہ ٹھیک ہے ان کو کید کرنے کی بجائے سب تعویذ پہن لیتے ہیں کم سے کم ان سے تو محفوظ رہیں گے
Instagram
Copy link
URL has been copied successfully!

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

کتابیں جو آپ کے دل کو چھوئیں گی

Avatar
Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial