خونی حویلی

post cover

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

قسط: 16

ہم جنگل میں بہت مشکل سے چل پا رہے تھے یہاں تو سچ میں ہی اسیب ہے یہاں دن میں اتنی ڈراؤنی اوازیں اتی ہیں رات کا کیا عالم ہوگا میں یہ ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ اچانک سے ہمیں محسوس ہوا کہ ہمارے پیچھے کوئی ہے جیسے ہی ہم نے مڑ کر پیچھے دیکھا ہمارے پیروں تلے سے زمین نکل گئی ہمارے پیچھے بہت سارے ڈراؤنی چہرے کھڑے تھے جو ہمارے ساتھ ساتھ چل رہے تھے ہم سب کانپنے لگے
اور ہمارا وجود ٹھنڈا ہونے لگا اب ہم میں اتنا حوصلہ ہی نہ تھا کہ ہم ایک قدم اگے ہی بڑھا دیتے ہیں اب تو ہمارے ہر طرف اسی بھی اسیب نظر ارہا تھا شام ہوتے مغرب کی اذان ہوئی اور مغرب کی اذان کے بعد تو ایک حو کا عالم تھا ہر طرف خاموشی ہی خاموشی بس الوں کے بولنے کی اوازیں تو کہیں پر سانس لینے کی اوازیں اگر ہلکی سی بھی کوئی اواز نکالتا ہے تو وہ اس طرح گھومتی جیسے کہیں سے کوئی دیو زور سے چلا رہا ہو جنگل بہت ہی خطرناک تھا
ہم کافی دیر ایسے ہی خاموشی سے کھڑے رہے اور ایک دوسرے کو کیا دیکھنا تو دور ہماری انکھیں ہی کھلی کی کھلی رہ گئی بہت مشکل سے ہم ہمیں کچھ حوصلہ سا ہوا مامو نے ہمیں ہلکا سا ہلایا جب ہم ہوش میں ائے تو ہم نے دیکھا کہ ہم میں سے ایک ادمی کم ہے ہم سب نے اس کو اوازیں دی لیکن اس کی کوئی اواز نہ ائی مامو یہ کہاں چلا گیا اور کیسے چلا گیا
ایک نے بولا پتہ نہیں مجھے اتنا پتہ ہے کہ کسی نے میرا ہاتھ پکڑا تھا جس ڈر سے میں نے ہاتھ کو چھوڑ دیا اور وہ ہم میں سے الگ ہو گیا مامو نے کہا جو بھی ہو جائے اپنے ہاتھ نہیں چھوڑنا یہ ہم کو بھٹکاتے رہیں گے ہم نے ایت الکرسی پڑھی ہمیں کچھ سکون ہوا کہ اللہ کے نام میں بہت برکت ہے ہم رکے ہی تھے تو ہم نے کہا چلو پانی پی لیتے ہیں تھوڑا سا پانی پیا اور ہم چلنے لگے
لیکن ہم زیادہ دیر چل نہیں سکے کہ ہمیں ایک طرف سے ڈھول کی اواز سنائی دی میں نے سے پوچھا مامو یہ ڈھول کی اواز کیسی ہے مامو نے کہا معلوم نہیں کہ ڈھول کی اواز شاید ہمیں گمراہ کرنے کا کوئی نیا طریقہ ہوگا ہم نے ایک چیز محسوس کی کہ ڈھول کی اواز جیسے جیسے ہم اگے بڑھ رہے ہیں ڈھول کی اواز ہمارے قریب ہوتی جا رہی ہے ہم چند قدم اگے ہی بڑے ہوں گے کہ ہمیں ایک حویلی نظر ائی
مامو یہ حویلی کیسی ہے اور یہاں پر حویلی کے کس نے بنا رکھی ہے مامو نے کہا معلوم نہیں یہ کس کی حویلی ہے لیکن ہم نے حویلی کے پاس سے گزر کر جانا تھا جیسے ہی ہم حویلی کے پاس سے گزرے تو میں نے حویلی کے اندر جھانک کر جھانک لیا کیونکہ حویلی کا دروازہ نہیں تھا وہ بہت خستہ حال تھی معلوم ہوتا تھا یہ صدیوں پرانی حویلی ہے
میں نے حویلی کے اندر دیکھا تو وہاں پر کچھ عجیب سی شکلوں کے جن جو کہ اپنی رسم کے طریقے سے ناچ رہے تھے میں رک گیا مامو نے میرا ہاتھ پکڑا ہوا تھا مامو نے کہا چلو لیکن میں چلنا سکا ہم وہیں پہ رک گئے مامو نے دیکھا تو مامو نے کہا یہ ڈھول کی اواز یہاں سے ا رہی ہے میں نے کہا یہ کیا ہے
ماموں نے بولا یہ شاید ان کی کوئی شادی ہوگی میں پریشان ہوا کہ شادی ان کی کیسی شادی مامو بولے بیٹا ان کی بھی شادیاں ہوتی ہیں جیسے ہماری ہوتی ہیں ان کے بھی خاندان اباد رہتے ہیں میں دیکھنے لگا کہ اچانک میری نظر ایک درخت کے نیچے پڑی وہاں پر ایک ادمی بندھا ہوا تھا میں نے کہا مامو وہ ادمی کون ہے مامو نے کہا معلوم نہیں کون ہے لیکن ہمیں یہاں سے چلنا ہوگا میں نے کہا مامو یہ وہی تو نہیں جو ہم میں سے غائب ہے
کسی طرف سے مجھے ایک سرخ سی چمک نظر ائی میں نے مامو کو کہا مامو کوئی سرخ سی روشنی ہماری طرف ا رہی ہے دیکھو مامو نے کہا سرخ روشنی نہیں ان کی انکھوں چمک ہے ہمیں شاید ہمیں کسی نے دیکھ لیا ہے ہمیں یہاں سے جلد از جلد نکلنا ہوگا اور ہم جلدی جلدی چلنے لگے ہم نے حویلی کراس کر کے ٹچ ان کر لی
اور ہم جلدی جلدی چلنے لگے اب تو یہاں پر اندھیرا ہی اندھیرا تھا کچھ چیز نظر نہیں ا رہا تھا ہم بس چل رہے تھے کہ ہمارے راستے میں اچانک سے ایک سفید لباس پہنے ایک روح سامنے کھڑی تھی ہم ڈر گئے اور وہیں پر رک گئے ہم ایت الکرسی پڑھنے لگے اور ہم نے کہا یا اللہ ہم تیری عبادت کرتے ہیں اور مدد مانگتے ہیں
وہ بہت ہی پرکشش لگ رہی تھی مامو یہ چڑیل ہو گئی میں نے سنا ہے کہ چڑیلیں بہت خوبصورت لباس پہن کر ا جاتی ہیں اور اپنا چہرہ بنا لیتی ہیں وہ ایک خوبصورت اور نوجوان لڑکی لگ رہی تھی جب ہم نے اس کے پاؤں کی طرف دیکھا تو واقعی میں ہی اس کے پاؤں الٹے تھے ہم نے چڑیلوں کا صرف سنا تھا لیکن دیکھنے میں یہ بہت ہی خطرناک ہوتی ہیں
مامو نے کہا بس تم خاموشی سے چلتے رہو میں نے کہا مامو یہاں پر ہم ہلکی سی اگ جلا لیتے ہیں یہ آگ سے دودھ بھاگتںی ہے مامو نے کہا بیٹا شیطانی جن اگ سے نہیں ڈرتے …..
Instagram
Copy link
URL has been copied successfully!

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

کتابیں جو آپ کے دل کو چھوئیں گی

Avatar
Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial