قسط: 19
ہم کافی تھک گئے تھے ہم تو اندر چلے گئے اندر گئے تو جوپڑی عجیب سی لگی ہمیں کچھ شک ہوا کی یہ اسیب کا جال تو نہیں ورنا یہاں جوپڑی کیا کام خونی جنگل یہاں سے ایک میل دور ہے بڑھیا نے ہمیں پینے کے لیے پانی دیا ہم کافی ڈر رہے تھے کہ کہیں یہ بھی اسیب نہ ہو اور ہمیں یہاں سے کوئی نقصان نہ ہو ایک ادمی جو باہر تھا
ہم نے اس کو اندر آنے کا کہا وہ بولا میں نہیں اؤں گا ہم سب نے کہا کچھ ایسی بات نہیں ہے تو اندر ا جاؤ بڑھیا باہر ائی اور بولا بیٹا ڈرو نہیں آجاؤ ہم سب ایک تعجب میں پڑ گئے کہ یہ نہیں ہو سکتا اور ہمارا شک بہت ہی جلد دور ہو گیا جب ہم نے دیوار پر لگے فریم کو دیکھا فریم میں اللہ کا نام لکھا ہوا تھا اور ایت الکرسی ہمیں حوصلہ ہوا کہ ہم یہاں پر محفوظ ہیں
ہم سب نے پانی پیا اور آرام کرنے کے لیے لیٹ گئے لیکن ہم نے ایک کہا کہ پہلے دو ادمی نگرانی کریں گے باقی سب سوئیں گے اور پھر بعد میں وہ سوجائے گے اس طرح سے ہمیں پریشانی نہیں ہوگی اب تو بس کسبے کے اندر جانا تھا لیکن وہ کسبہ ابھی کافی دور ہی تھا
بڑھیا نے ہم سے پوچھا کہ بیٹا یہاں کیا کرنے ائے ہو ہم نے کہا ماں جی ہم یہاں پر ایک مسئلے کے لیے قاری صاحب سے ملنے ائے ہیں مجھے بتاؤ تمہارا مسئلہ کیا ہے شاید میں حل کر دو ہم دیکھنے لگے کہ بلا یہ ہمارا کیا مسئلہ حل کرے گی پھر بھی ہم نے اسے بتا دیا کہ اس طرح سے ہماری حویلی میں اسیب آچکا ہے
اور دو لڑکوں کے اوپر حملہ کیا ہوا ہے جس سے پوراگاؤں پریشان ہے اور ہمیں قاری صاحب کا بتایا گیا تھا اس لیے ہم قاری صاحب سے ملنا چاہتے ہیں بڑھیا ماں نے کہا ٹھیک ہے واپسی پر مجھے بتاتے جانا قاری صاحب نے کیا کہا ہے ہم نے کہا جی ضرور اور آرام کیا تو ہم سب فریش ہو گئے اور ہم نے منہ ہاتھ دھو کر کھانا کھایا
اور بڑھیا ماں سے اسلام کیا اور رخصت ہو گئے مامو نے کہا اب ہمیں شاید کوئی خطرہ نہ ہو بڑھیا سے ہم نے پوچھ لیا تھا کہ ماں جی اگے کوئی خطرہ تو نہیں ہے اس نے کہا نہیں بیٹا جو خطرح تھا تم نے پار کر لیا ہے وہ خونی جنگل اور ندی میں تو پریشان ہوں کہ تم ندی پار کر کے یہاں تک پہنچے کیسے مامونے کہا ماں جی ہم نے اگ جلائی تھی جس کی وجہ سے ہم یہاں پر پہنچے ہیں اس نے کہا بیٹا آگ کی وجہ سے تم بچے ہو ورنہ تم نے تو یہاں تک پہنچنا بھی نہیں تھا
ہم نے شکریا کیا اور اپنے راستے پر چل پڑے ہم آگے کسی سواری کی تلاش میں تھے کے چل چل کر ہم تھک گئے تھے اور ہم چاہتے تھے کہ ہمیں کوئی سواری ملے جس پر ہم بیٹھ کر ارام سے قصبے تک پہنچ سکے لیکن یہاں دور دور تک کوئی نام و نشان نہیں تھا شاید ہمارے نصیب میں اگے پیدل چلنا ہی لکھا تھا ماموں نے کہا تھوڑی ہی دور جا کر ہمیں گاؤں مل جائے گا ہو سکے اس میں سواری کا انتظام ہو جائے