قسط: 20
وہ گاؤں بھی تھوڑا ہی دور ہے بس ہم چلتے رہے اور گاؤں کے قریب پہنچے گاؤں کے قریب پہنچنے پر ہمیں تھوڑی بہت ابادی محسوس ہو لیکن یہاں ایک مسئلہ تھا یہاں پہ سگنل نہیں اتے تھے کہ ہم کال کر کے پیچھے خیر خیریت معلوم کر لیتے گاؤں کے اندر انٹر ہوئے اور ادھر ادھر دیکھنے لگے ہمیں کوئی بھی نظر نہ ایا ہم کھیتوں کے پاس سے گزر رہے تھے
کہ وہاں ہمیں کچھ ادمی کام کرتے دکھائی دیے ہم ان کے پاس گئے مامو بولے کہ یہاں سے کوئی سواری مل سکتی ہے ہم نے قصبے تک جانا ہے وہاں کے لوگوں نے پوچھا کیا کام ہے اپ کو اور اپ یہاں کے نہیں لگتے ہو ہم نے کہا جی ہم نے اپنا بتایا کہ اس وجہ سے ائے ہیں اور قاری صاحب کا بتایا تو انہوں نے بولا کہ جی قاری صاحب کے پاس جانا ہے
انہوں نے ہمیں بتایا کہ یہاں اپ کو سواری کہیں سے نہیں ملے گی ہاں اپ کو بیل گاڑی ضرور دے دے جائے گی اپ بیل گاڑی کے ذریعے قصبے تک پہنچ سکتے ہو ہم نے ان کا شکریہ ادا کیا اور انہیں بولا کہ مہربانی ہوگی اگر اپ ہمیں بیل گاڑی دے دیں انہوں نے اپنا ایک ادمی ہمارے ساتھ روانہ کیا اور ہم سب بیٹھ کر جانے لگے ہم نے پوچھا پوچھا کہ قصبہ کتنی دور ہے اپ نے بولا بس 45 منٹ تک ہم وہاں پہنچ جائیں گے ہم کافی تھکاوٹ محسوس کر رہے تھے
اور اب سفر تو طے کرنا ہی تھا اتنی مشکلات کا سامنا کیا ہے خدا خدا کر کے ہم قصبے میں پہنچے اور قاری صاحب کا پتا کرنے لگے بیل دان کو معلوم تھا کہ قاری صاحب کہاں پہ ہوں گے وہ ہمیں قاری صاحب کے پاس ہی لے گیا مسجد میں گئے تو وہاں پر قاری صاحب موجود نہیں تھے پوچھنے پر کہا کہ قاری صاحب کہیں گئے ہوئے ہیں
اور تھوڑی دیر تک ائیں گے ہم وہیں پر مسجد میں ہی بیٹھ گئے اور ظہر کی نماز پڑھنے لگے ظہر کی نماز کے بعد قاری صاحب ائے ہم نے ان سے ملاقات کی تو قاری صاحب نے پوچھا کہ جی اپ کا کیسے انا ہوا ہم نے بتایا کہ ہم اس مسئلے میں ائے ہیں اور حویلی میں اسیب کا اثر ہے جس سے ہمارے دو لڑکوں پر اس کا اثر ہے اور وہ لوگوں کا خون پی لیتے ہیں اور مار دیتے ہیں
قاری صاحب نے کہا کہ کیا مجھے مکمل صورتحال بتائی جائے گی جس پر ماموں نے ساری وجوہات بتا دی قاری صاحب نے کہا کہ وہ گڑیا جو اپ کی الماری میں پڑی ہے اپ نے اس گڑیا کو کسی ویران قبرستان میں دفنانا ہوگا لیکن شرط یہ ہے کہ اس گڑیا کو اب اس صورت میں ہاتھ لگا سکتے ہیں کہ یا تو جو وہ گڑیا لے کر ایا وہ اٹھائے لیکن گڑیا کو اٹھانے میں بہت زیادہ خطرہ ہے کیونکہ اس گڑیا کے اندر ہی سارا سیب ہے اور اسی کے اوپر کسی نے جادو کیا ہوا ہے وہ گڑیا اپ کو جنگل میں سے ملی
اور وہ گڑیا اپ کے پاس ائی کہاں سے تھی ماموں نے بتایا کہ ہماری بہن تھی وہ لے کر ائی تھی قاری صاحب نے کہا وہ گڑیا کسی جنگل سے اپ کی طرف ائی ہے اور ہو سکے تو جس نے وہ گڑیا رکھی تھی اسی کو ہی گڑیا اٹھانے کا کہا جائے تو بہتر ہوگا ماموں نے کہا لیکن ہماری بہن نہیں آئے گی کیونکہ وہ شہر میں رہتی ہیں اور وہ یہاں پر کافی عرصے سے نہیں ا رہی اسی کی وجہ سے وہ کافی ڈری ہوئی ہیں ان کے اوپر بھی کافی اثر ہوتا ہے
جس پر قاری صاحب نے ہمیں ایک تعویز دیا اور کہا کہ یہ تعویز اپنے پہن لینا ہے اور اس گڑیا کو اٹھا کر کسی ویران قبرستان کے اندر کوئی پرانی قبر ڈھونڈ کر اس کے اندر دفن کر دینا ہے ساتھ میں یہ تعویذ رکھ دینا ہے امید کرتے ہیں کہ اپ کے گاؤں کا مسئلہ حل ہو جائے گا لیکن یاد رہے کہ اس گویا کو احتیاط سے اٹھانا ہے اور اگر کسی نے گڑیا کو چھو دیا تو وہ ایسے اس کی طرف بڑھ سکتا ہے
ہم نے پھوچھا کہ کیا وہ لڑکے ٹیک ہو جائے گے تو قاری صاحب نے بولا انشاءاللہ ٹھیک ہو جائیں گے اور گاؤں کا مسئلہ بھی حل ہو جائے گا لیکن جو احتیاط بتائی ہے اس کے اوپر عمل کرنا ہوگا جس پر ہم نے قاری صاحب کو اپنے دو ساتھیوں کی بات کی قاری صاحب نے کہا ایک کو تو اپ بھول جاؤ تو وہ زندہ ہو گا دوسرے کا بھی ہمیں پتہ ہے قاری صاحب شاید جنات سے رابطہ بھی کرتے ہوں جس پر قاری صاحب نے ساری بات ہمیں کھل کر بتائی
قاری صاحب نے کہا کہ وہ آدمی اپ کو جنگل میں ہی ملے گا اپ نے اس کو بھی ایک تعویز پہنا دینا ہے جس پر وہ نارمل ہو جائے گا اور اپ اس کو پکڑ کر اپنے ساتھ لے کر جانا اب اس عمل کے بعد تین چار دن کے بعد اپ کے گاؤں سے یہ اثرات ختم ہو جائیں گے لیکن جس نے یہ گڑیا اٹھائی تھی اس کو کوئی خطرہ ہوگا میں پریشان ہو گیا کہ ماما کو کیا خطرہ ہو سکتا ہے
جس پر قاری صاحب نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ یہ گڑیا کا اسیب اپ کی ماما کی طرف چلا جائے جس پر قاری صاحب نے کہا تو اس کے لیے اپ کو تعویذ لکھ کر دے دیتا ہوں اور وہ پہنا دینا ہم نے سب تعویذ لیے اور قاری صاحب سے سلام کیا اور ہم آنے لگے تو قاری صاحب نے کہا ابھی مت جاؤ اپ صبح کے وقت نکلنا ہے اس لیے کہ وہ اپ کو ندی جنگل کراس کرنے میں اسانی ہوگی
جس پر ہم اس دن مسجد میں ہی رکے اور بیل گاڑی والاواپس چلا گیا اس پر قاری صاحب ہم کہا ہم آپ کو سواری دیں گے جو اپ کو وہاں تک چھوڑ کر ائے گی ہم بہت خوش ہیں بس ہمارے گاؤں سے یہ مصیبت ختم ہو جائے جس پر ہمیں یہ بھی تھا کہ پھر یہاں سے کسی اور کے اوپر ہوا یا ہمارے گھر میں اگیا تو پھر ہمیں کافی مشکل ہو گئی
لیکن ہمارے پاس تعویز موجود تھا جس کی ہم کو ٹینشن نہیں ہوئی اور ہم اور سب سکون سے رہنے لگے گے ہم نے رات کو وہیں پر ارام کیا قاری صاحب نے ہماری اچھی دیکھ بھال کی اور ہماری مہمان نوازی بھی کی صبح فجر کی نماز پڑھنے کے لیے ہم سب مسجد میں گئے نماز پڑھی اور قاری صاحب سے سلام کیا اور قاری صاحب کا شکریہ ادا کر کے ہم اپنی منزل کی طرف واپس چل پڑے
ب ہم نکلے تو ہمیں سواری دی گئی جو ہم سب کو اگلے گاؤں تک پہنچے دے گا جہاں پر ہمیں بیل گاڑی والاملا تھااک وہاں پر گئے تو وہ واپس چلا گیا ہم پھر اگے پیدل چلنے لگے تقریبا ہم دو گھنٹے کے بعد وہاں بڑھیی ماں کی جھونپڑی کے پاس پہنچ گئے ہم نے جھونپڑی میں اواز دی جس پر بوڑھی ماں نے کہا بیٹا اندر ا جاؤ ہم اندر گے اور بوڑھی ماں کے پاس جا کر بیٹھ گئے ہم نے پانی پیا اور بوڑھی ماں کو ساری بات بتا دی بوڑھی ماں نے ہمیں دعا دی اور ہم اپنے راستے کی طرف چل پڑے اب ہمیں ندی کے پاس سے گزرنا تھا
ہم ندی کے اوپر گئے تھے ہمیں کوئی خطرح محسوس نہ ہو مامو نے کہا یہ جو تعویذ ہیں ان کی وجہ سے وہ شاید ہمیں کچھ نہیں ہو رہا لیکن ہمیں واہم تھا ہم جیسے ہی پل کے درمیان میں پہنچے تو پل ہلکا سا ہی ہلنے لگا مامو نے کہا جلدی کرو یہ پل رہا ہے ہم جلدی جلدی چلنے لگے ہم سب نے ابھی پل کراس نہیں کیا تھا کہ پل زور زور سے ہلنے لگاہمارا ایک ساتھی ابھی پل پر ہی تھا جو ڈر کی وجہ اسے نیچے گر گیا اور بس ہمیں اس کی چیخ ہی سنائی دی
اچانک پورے جنگل میں خوفناک چیخیں انے لگی ہم ڈر گئے اور ہم نے اپنا سفر جاری رکھا ہمیں بوڑھی ماں کی بات یاد ائی کہ بیٹا تم نے اگ جلا لی تھی شاید ہماری حفاقت ہو جائے جس پر ہم نے اگ جلائی روشنی تھوڑی تھوڑی آ رہی تھی جس پر ہمیں راستہ ڈھونڈنا مشکل نہ ہوا ہم چلتے رک رہے ہم اپنے دوست کو بھی دیکھتے رہے کہ جنگل میں کوئی آواز آجائے ہم اسے ڈھونڈتے گزر رہے تھے ہمیں ایک درخت کے پاس وہ گرا ہوا ملا ہم نے جب اس کو اٹھایا تو اس کی انکھیں لال تھی اور اس کے چہرے کے اوپر کچھ نشان تھے ہم اس کی حالت دیکھ کر ایک بار تو ڈر گئے کہ ہم نے اس کے گلے میں تعویز پہنا دیا جیسے ہی ہم نے تعویز ڈاکا وہ کانپنے لگا ہم نے کہا اس کو اٹھاؤ اور اپنے ساتھ لے کر چل ہو
انشاءاللہ اس کو کچھ نہیں ہوگا اور ہم نے اس کو اپنے ساتھ اٹھایا اور لے کر چلنے لگے راستے میں ہمیں وہ حویلی بھی نظر ائی جہاں پہ ڈھول کی اوازیں ا رہی تھی ہم نے حویلی کے اندر کی طرف دیکھا تو ہمیں ایک ہڈیوں کا ڈھانچہ نظر ایا ہم نے سوچا شاید یہ وہی ہمارا دوستوں ہے جو انہوں نے قید کر لیا تھا
لیکن ہم اس کی پروا کیے بغیر گزرتے رہے بالا ہم جنگل کو پار کرنے میں کامیاب ہو گئے اور ہمیں زیادہ مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑا میں نے جنگل کو پیچھے کی طرف مڑ کر دیکھا تو ایک سفید کپڑے پہنے چڑیل ہماری طرف ہی دیکھ رہی تھی اور گھور گھور کر اشارہ کر رہی تھی جیسے وہ کچھ کہنا چاہ رہی ہو لیکن میں نے سامنے دیکھا اور اپنے سفر کی طرف جانے لگا
جب ہم وہاں پہنچے جہاں پر ہماری بائک وغیرہ کھڑی تھی ہم وہاں پہنچے تو ہم نے لمبی سانس لی اور اللہ کا شکر ادا کیا ہم سب نے پانی وغیرہ پیا عصر کا وقت تھا ہم نے عصر کی نماز پڑھی عصر کی نماز پڑھنے کے بعد ہم اپنی بائک کے اوپر بیٹھے اور گاؤں کی طرف روانہ ہو گئے