خونی حویلی

post cover

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

قسط: 21

ہم سب بہت خوش تھے کہ ہمارے گاؤں سے بلا ٹل جائے گی لیکن ہمیں اپنے دو ساتھیوں کا بہت دکھ تھا جو ہمارے ساتھ نہیں رہے خدا خدا کر کے ہم شام کے وقت اپنے گاؤں میں پہنچے گزرتے وقت ہم نے حویلی کی طرف دیکھا وہاں سے ہمیں کچھ اوازیں انے لگی لیکن ہم نے انہیں نظر انداز کرتے ہوئے اپنے گھروں کی طرف چل پڑے مامو نے سب سے کہا کہ اپ ہماری طرف ہی رک جاؤ بہتر ہوگا صبح اپ اپنے گھروں میں چلے جاؤ سب نے ہمارے گھر پہ رہنے پر اتفاق کیا
اور ہم سب گھر کی طرف چلے راستے میں ہم یہ دیکھ کر بہت حیران و پریشان ہوئے کہ احمد ہمیں وہاں پہ گھومتا ہوا نظر ایا احمد کی انکھیں لال تھی دانتوں سے خون بہہ رہا تھا اور وہ ہمیں دیکھتے ہی دور بھاگ گیا میں نے مامو سے کہا مامو یہ احمد ہے اس کو پکڑو مامو نے کہا بیٹا اب اس کو پکڑنے کا فائدہ نہیں ہے اب اس کو جانے دو صبح ہم اس کو اسانی سے پکڑ سکتے ہیں مجھے بہت دکھ ہوا کہ پتہ نہیں کسی بے گناہ کا ناحق قتل کر دیا
لیکن میں پریشان تھا کہ یہ احمد ازاد کیسے ہوا اس کو کس نے ازاد کیا ہے ہم سب گھر پر پہنچے تو بھائی نے ہمیں دیکھ کر بہت خوش ہوا بھائی نے کہا یا اللہ تیرا شکر ہے اپ لوگ صحیح سلامت پہنچ گئے اور مجھے بتایا کہ ماما بہت زیادہ پریشان تھی اور کال کر کے بار بار تمہارا حال پوچھ رہی ہے تم کال کر لو ماما کو اور اپنی خیریت بتا دو میں نے کہا بھائی اب تھک چکا ہوں صبح ہی بتاؤں گا ہم سب نے گھر میں کھانا کھایا اور ارام کرنے کے لیے ایک جگہ پر لیٹ گئے
میں نے بھائی سے پوچھا کہ احمد کو کس نے ازاد کیا ہے بھائی نے بتایا کہ احمد کو اس کے گھر والوں نے ہی ازاد کیا ہے احمد کی ماں سے احمد کا حال نہیں دیکھا گیا جس کی وجہ سے اس نے اس کو ازاد کر دیا احمد ایک دو دفعہ میرے کمرے تک بھی ایا ہے لیکن مجھے اس نے کچھ نہیں کہا کیونکہ میں نے تعویذ پہن رکھا تھا اور میں ایت الکرسی پڑھ کر رات کو سوتا تھا میں اکثر احمد کو خود کے پاس محسوس کرتا
جب میں انکھیں کھولتا تو احمد کھڑکی کے پاس موجود ہوتا میں نے بہت دفعہ پکڑنے کی کوشش کی کہ اس کو پکڑ کے باندھ لیتا ہوں لیکن وہ میرے ہاتھ نہیں ا سکا میں نے کہا ارسلان وہ بولا نہیں وہ قید ہے اس کے گھر والوں نے اسے نہیں چھوڑا مامو نے کہا ٹھیک ہے اور اب سب سو جائیں صبح کو ہم سب بیٹھ کر بات کریں گے اور ساری ترتیب کے اوپر غور کریں گے صبح مسجد کے مولوی صاحب کو بھی ہم بلائیں گے
جس پر ہم سب نے ارام کرنے کا ارادہ کیا اور ہم سب سو گئے رات تو اسانی سے گزر گئی صبح کو ہم سب اٹھے ناشتہ وغیرہ کیا مسجد کے مولوی صاحب کو بلایا اور وہ بھی اگئے ان سب نے ہمیں خیریت سے واپسی انے پر سراہا جب ہم نے بتایا کہ ہمارے دو ساتھی جو اب ہمارے ساتھ نہیں ہیں انہوں نے گاؤں کی خاطر گاؤں کے سکون کی خاطر اپنی جان قربان کی ہے تو سب لوگوں نے ان دونوں کی کافی تعریف کی ان کے گھر والوں کو خبر کر دی گئی تھی
لوگوں نے اور گاؤں والوں نے یہ فیصلہ کیا کہ ہم سب گاؤں والے ان کے گھر والوں کی دیکھ بھال کے لیے جتنا ہو سکے اتنا کریں گے کیونکہ انہوں نے ہمارے گاؤں کے سکون کی کے لیے اپنی جان کی قربانی دی ہے ماموں نے امام مسجد کو سب باتیں بتائی اور کہا کہ یہ اس طرح معاملات ہیں اور یہ کرنا ہوگا امام صاحب نے کہا کہ کوئی پرانا قبرستان ڈھونڈنا مشکل نہیں ہے یہاں پر ایک نزدیک ہی پرانا قبرستان ہے ہاں یہ ہے کہ وہاں پہ کوئی پرانی قبر ڈھونڈنا مشکل ہوگا جس میں ہم نے ادھے لوگوں کو قبرستان کی طرف روانہ کر دیا
وہ کوئی پرانی قبر دیکھ کر اس کے اوپر نشانی لگا کر ائے ہو سکے تو وہیں پر رکے ہم حویلی میں جا کر وہ گڑیا اٹھا کر لائیں گے لیکن سب سے پہلے ہم نے احمد اور ارسلان کو یہ تعویذ پہنانا ہے ہم سب مل کر احمد کے گھر گئے احمد شکر ہے گھر پر ہی تھا وہ ابھی سو رہا تھا ہم نے اس کو پکڑ لیا اور اس کو اٹھایا وہ ہڑبڑا تا ہوا اٹھا جیسے وہ اٹھا اس نے ہمیں دیکھ کر عجیب سی مایوسی ظاہر کی اور وہ پریشان ہو گیا
اور ںولاآپ لوگ صحیح شکر ہے احمد نے مجھے دیکھااور کہنے لگا شکر ہے یار تم ٹھیک ٹھاک اگئے ہو پتہ نہیں تم مجھے کیوں اس طرح باندھ کے چلے گئے تھے میں نے کہا تمہیں باندھنے کی ضرورت نہیں پڑے گی دوست اب تم ازاد ہو جاؤ گے بے فکر رہو اور ساتھ ہی ہم نے ایک تعویذ نکالا اور اس کے گلے میں ڈال دیا جیسے ہی ہم نے وہ تعویز کے گلے میں ڈالا اس کا جسم کانپ نے لگا اور وہ مچھلی کی طرح تڑپنے لگا احمد تو بے ہوش ہو گیا یہی حال ارسلان کے ساتھ ہوا وہ دونوں بے ہوش ہو گئے تھے
مامو نے کہا ان کو بے ہوش ہی رہنے دو یہ خود ہی ہوش میں ا جائیں گے لیکن شکر خدا کا یہ کریں کہ ان دونوں کے اوپر سے یہ اثرات ختم ہو چکے ہیں اب ہم سب نے حویلی میں جانا تھا ہم حویلی میں گئے اور وہاں جا کر ہم نے الماری کو کھولنا تھا لیکن حویلی کے اندر جب ہم داخل ہوئے تو وہاں پر کافی چیخ و پکار شروع ہو گئی ایک عجیب اور ڈراؤنی اوازیں انے لگی ابھی تک ہم نے ایسی اوازیں نہیں سنی تھی جو اب اوازیں ہم نے سنی گاؤں ایک دفعہ کانپ کر رہ گیا
اتنی خوفناک اوازیں یہ کیسی اوازیں ہیں ہم خاموشی سے کمرے کی طرف گئے کمرے کا دروازہ کھولا اور جیسے ہی الماری کے پاس گئے الماری کو کھولا اندر گڑیا موجود تھی شکر ہے یہ گڑیا غائب نہیں ہوئی ہم نے گڑیا کو اٹھایا جیسے ہی مامو نے تعویذ پہن کر گڑیا کو ہاتھ لگایا حویلی ہلنے لگی جیسے کوئی زلزلہ اگیا ہو ہر طرف چیخ و پکار تھی مامو نے گڑیا کو اٹھایا اور سب سائٹ پر ہو گئے کہ گڑیا کو کوئی چھو نہ سکے مامو گڑیا کو لے کر قبرستان کی طرف روانہ ہو گئے
قبرستان کے اندر جاتے ہی ہم نے قبر دیکھی اور گڑیا کو قبروں کے اندر پھینک دیا مامو نے گڑیا کے ساتھ ہی تعویذ رکھا اور اوپر سے مٹی ڈال کر قبر کو بند کر دیا ہم نے خدا کی ذات کا شکر ادا کیا کہ شکر ہے یہ بلا ہمارے گاؤں سے چلی گئی لیکن جب ہم واپس گھر کی طرف ائے ہم نے حویلی کو دیکھا حویلی میں اگ سی لگی ہوئی تھی اووو خدا ہے یہ کیا ہوا حویلی میں آگ کیسی لگی ہے مولوی صاحب نے کہا یہ اثرات ہے یہ جو ختم ہو رہا ہے
تو یہ اسی طرح ظاہر ہو جاتا ہے حویلی میں اگ لگی ہوئی تھی اور حویلی ہل رہی تھی اور پورے گاؤں کے اندر بہت زیادہ ڈراونی چیخیں ا رہی تھی اہستہ اہستہ یہ اوازیں کم ہو گئی اور ہم سب نے شکر ادا کیا پاک ہے وہ ذات جس کے قبضے قدرت میں ہم سب کی جان ہے بے شک اللہ سے امید رکھنے میں ہی انسان کی کامیابی ہے اور ہمیں یقین تھا کہ ہم کامیاب ہوں گے
سب گاؤں والوں نے میرا بہت شکریہ ادا کیا کہ عمران تمہاری وجہ سے یہ ہم نے حوصلہ کیا ہے ورنہ ہم اس اسیب میں اب تک جکڑے رہتے میں نے کہا یہ میں نے یہ سب کچھ اپنے دوست اور گاؤں کی بھلائی کے لیے کیا ہے ان سب نے مجھے بہت سارا پیار دیا اور دعائیں دی احمد اور ارسلان ابھی تک بے ہوش تھے ہم سب نے پھر اپنے گھر کی راہ لی اور ہم دوپہر کا کھانا کھا کر جب میں نے احمد کو کال کی تو احمد نے اٹھائی شکر ہے تم ہوش میں اگئے ارسلان کدھر ہے یار ارسلان میرے گھر ابھی ایا تھا وہ واپس چلا گیا ہے وہ بول رہا ہے کہ شام کو ملتے ہیں
میں نے کہا نہیں تم ابھی میرے پاس اؤ پھر میں ارسلان اور احمد ہم تینوں ایک ساتھ بیٹھے کھانا وغیرہ کھایا ہم نے کافی باتیں کی پھر میں نے سارا واقعہ ارسلان کے ساتھ اور احمد کے ساتھ شیئر کیا یہ سن کر یہ دونوں حیران رہ گئے اب ان دونوں کی انکھیں بھی براؤن ہو گئی تھی پہلے ان کی انکھیں لال اور نیلی رہتی تھی انہیں خود پر یقین نہیں ا رہا تھا کہ ہم ایسے تھے پھر میں نے کہا کہ حویلی کی طرف چلتے ہیں
اؤ وہ بولے نہیں بھائی اب ہم حویلی کے اندر کبھی زندگی میں نہیں جائیں گے میں ہنسنے لگا اور کہا کہ اب کچھ نہیں ایسا ہے اپ چلو میرے ساتھ لیکن جانے سے انکار کر دیا وہ کافی ڈر گئے تھے شام کے وقت میں اور مامو حویلی میں جانے کا فیصلہ کیا ہم حویلی میں گئے اور ہم نے جا کر دیکھا کہ حویلی بالکل ٹھیک تھی لیکن کہیں جگہ سے دیواریں وغیرہ گر چکی تھی مامو نے کہا شاید یہ ان کے گھر تھے جہاں پر وہ رہ رہے تھے اور وہ گر چکے ہیں اوپر والے کمرے کا دروازہ بھی ٹوٹ چکا تھا اور کمرے کے اندر کھڑکی اور الماری تو مکمل طور پر اگ کی طرح جل کے راخ ہو چکی تھی
ماموں نے کہا نقصان کی بات نہیں ہے لیکن شکر ہے ہم اس اسیب سے بچ چکے ہیں مولوی صاحب نے ہمیں بلایا ہم سب گاؤں والے ایک جگہ پر اکٹھے ہوئے مولوی صاحب نے کہا کہ اپ کے علاقے میں مسجد نہیں ہے جس کی وجہ سے ایسی اثرات اپ کے اوپر حملہ آور ہو جاتے ہیں تو میں اپ سے گزارش کرتا ہوں کہ اپ یہاں پر ایک مسجد بنائیں جب یہاں پر اللہ کے نام کی صدا گونجے گی تو انشاءاللہ یہاں پر کوئی ایسی چیزیں نہیں ہوں گی ہم سب نے عہد کیا اور مامو نے تو یہاں تک کہا کہ حویلی کے بالکل ساتھ ہی مسجد بناتے ہیں تاکہ سب لوگوں کا ڈر اور خوف ختم ہو جائے
ابھی بھی کچھ لوگ ایسے ہیں جو حویلی کی طرف نہیں جاتے ڈر کی وجہ سے مولوی صاحب نے کہا جی ٹھیک ہے تو اب ہم حویلی کے پاس ہی مسجد بناتے ہیں ہم نے مسجد کی تعمیر رکھی مجھے ماما کی کال اتی رہی کہ اب گھر واپس ا جاؤ میں نے پھر فیصلہ کیا کہ اب ہمیں جانا چاہیے میں اس کے بعد تین چار دن رہا سب کچھ گاؤں میں نارمل تھا سب لوگ خوش حال رہنے لگے اب تو ہم لوگ رات کو بھی باہر نکلتے گاؤں میں رات کے وقت بھی ابادی ہونے لگی لوگ چہل پہل کرتے اور ہم دونوں بھائی ایک دن پھر گھر کے لیے واپس روانہ ہوئے جس پر تمام گاؤں والوں نے مجھے اور میرے بھائی کو دعائے دی احمد اور ارسلان نے مجھے دوبارہ آنے کا کہا جس پر میں نے انشاء اللہ ضرور اؤں گا
Instagram
Copy link
URL has been copied successfully!

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

کتابیں جو آپ کے دل کو چھوئیں گی

Avatar
Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial