راز وفا

post cover

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

قسط: 4

گرمی کی شدت میں کچھ حد تک کمی آئیں کیوں ساون کا موسم تھا دن کو بوہڑ رہتا لیکن شام کو ٹھنڈی ہواؤں کی وجہ سے موسم بہت دلکش ہوجاتا ۔۔۔ابھی بھی آسماں پہ ہلکے بادل چھائے تھے سورج بادلوں کے ساتھ آنکھ مچولی کھیل رہا تھا۔۔
نورِ حرم نے ایک دفعہ ماں کو دیکھا جو سوئی ہوئیں تھیں اسے سکول سے واپس آئے گھنٹا ہوگیا تھا دوپہر کا کھانا وہ کھا چکی تھی اور اب اس نے اپنے کمرے کی صفائی کا سوچا اور واشنگ مشین لگالی ۔۔۔۔وہ ساتھ ساتھ کپڑے دھوتی گئی اور ساتھ ساتھ نچوڑ کہ ٹوکری پہ رکھتی رہی ۔۔۔۔ایک گھنٹے کی انتھک محنت کے بعد اس نے سارے کپڑے دھو کہ رکھے اور واشنگ مشین صاف کرکے پھر باقی کپڑوں کو اٹھائے چھت پہ پھیلانے آ گئی ۔۔
وہ اپنے دھیان میں ہی کپڑے پھیلاتی رہی اور کچھ دیر بعد سارے پھیلا کہ جب واپس جانے لگی تو اس کی نظر چاچو کی بالکونی پہ پڑی ۔۔۔۔چھت پہ چھوٹا سا کمرے تھا جسے بالکونی کا نام دیا گیا آج ا ُس کا دروازہ کھلا ہوا تھا۔۔۔دونوں کے سیٹ ایک جیسے ہی تھے دونوں گھر بہت زیادہ اعلی تو نہیں تھے مگر کچھ حد تک فینسی تھے ۔۔۔اس نے ایک نظر بالکونی پہ ڈالی تو کوئی چھلنگا چرپائی پہ لیٹا ہوا نظر آیا اسے ایسا لگا کہ وہ مانی ہے اور بلاشبہ وہ مانی ہی تھا چھت کا دروازہ بند تھا وہ جانتی تھی وہ فضول شخص چاچو سے ڈرتا ضرور ہے مگر اپنی عادتوں سے باز نہیں آتا ۔۔۔” اس لیے چھت کا دروازہ بند کرکے نشہ کر رہا ہوگا۔۔۔ “
وہ اگنور کرکے جانے لگی مگر پھر اس نے اس کے ہوش ٹھکانے لگانے کا سوچا ۔۔۔” وہ آگے بڑھتی ہوئی چھت کے بیچ چھوٹے سے دروازہ کی سنگلاخ گرل کو پیچھے دکھیلتی چاچو کی چھت کی جانب چلی گئی ۔۔۔ “
وہ ابھی بالکونی کی طرف بڑھتی جب وہ سیگریٹ منہ میں دبائے کریمی کلر کے شیڈ کے نیچے آکہ کھڑا ہوگیا نورِ حرم نے اسے آج پانچ دن بعد دیکھا تھا وہ بہت عجیب لگ رہا تھا
ہاں ابھی کھڑکی سے دیکھ لیا ہوگا مجھے اس لیے اپنے کرتوت چھپانے کےلیے باہر نکل آئے ہو۔۔۔” وہ جل بھن کر بولی تو اسکے چہرے پہ مبہم سی مسکراہٹ چھاگئی نورِ حرم کو اسکی خاموش زباں مگر بولتی نگاہوں سے ناگواری محسوس ہوئی وہ اپنے بارے میں بہت کم بات کرتا تھا اسکی غیر معمولی دلچسپیاں بھی نورِ حرم کو مزید اس جانچ کی کھوج کےلیے مصروف رکھتیں ابھی اسے عجیب قسم کی چڑ محسوس ہوئی کیونکہ اس کا یکدم چھاپہ مارنے والا پلان جو فیل ہوگیا تھا ۔۔۔۔”
ہٹو ۔۔۔۔آگے سے بلکہ میں ابھی تمھارے سارے کرتوت دیکھ کہ جاؤں گی اور پھر چاچو کو بتاؤں گی ۔۔۔” وہ اس کے ساتھ سے نکل کر اندر جانے کےلیے آگے بڑھی ۔۔۔۔”
پورے کا پورے بندہ اپنے کرتوتوں سمیت تمھارا سامنے آگے ہوا ہے اب اندر جا کہ میرے کرتوت جان ک کیا کرو گی مسسز۔۔۔” وہ کافی معنی خیزی سے بولتا اس کے آگے حائل ہوا۔۔۔
خبر دار آئندہ اس واحیات نام سے مجھے مخاطب کیا۔۔۔” میں منہ توڑ دوں گی تمھارا ۔۔۔ اس کو جب اپنا منصوبہ مکمل ناکام ہوتا دکھائی دیا تو وہ اس کے دیے گئے نام سے چڑتی ہوئی بولی ۔۔۔”
بیوی ۔۔۔جانتی ہو شوہر کی عزت نہ کرنے والی خاتون جہنمی ہوتی ہیں
بالکونی کا دروازہ بغیر مڑے بند کرتے اس نے قہقہ لگاتے ہوئے ہنس کر جواب دیا
عزت اسکی کی جاتی ہے جو عزت کے قابل ہو ۔۔۔” وہ اس کے منہ سے سگریٹ کا دھواں نکلتے ہوئے دیکھ کر سنجیدگی و ناگواری سے بولی ۔۔۔ “
قرآن کہتا ہے کہ جیسا مرد ہوگا ویسی عورت ملے گی۔۔۔”
پتہ ہے میں کبھی کبھی سوچتی ہوں کہ مجھ سے ایسا کونسا گناہ سرزد ہوا ہے جو خدا نے تم جیسا برائیوں میں اٹا ہوا شخص اللہ نے میری قسمت میں لکھ دیا ہے ۔۔۔” کیا پتہ کوئی ایسا گناہ ہوگیا ہو جس کے بدلے میں تم مجھ پہ مسلط ہوگئے ہو۔۔۔۔” وہ یہ کہتے اس وقت انتہائی کوئی بے بس لگیں۔۔۔ “
برائی کوئی ماں کے پیٹ سے نہیں سیکھ کہ آتا نورِ حرم ۔۔۔برا تو انسان کو یہ معاشرہ یہ ماحول اور انسان کے یہ رویے بناتے ہیں ۔۔۔”
ویسے تم یہ سوچا کرو ۔۔۔کہ ایسی کون سی نیکی تم نے کی تھی جو اُس نیکی کے بدکے میں اللہ نے تمھاری قسمت میں مجھ جیسا باذوق اور نفیس لکھ دیا ہے۔۔۔” یہ سوچنے کی بات ہے۔۔۔ ” وہ سیگریٹ کا سوٹا لگاتے ہوئے آنکھ مارتے دانتوں کی نمائش کرتے کہا __
نور حرم جو اس کی بات سن کر پہلی دفعہ حیران ہوئی کہ اس جیسا شخص بھی ایسی باتیں کر سکتا ہے مگر پھر اس کی فضول گفتگو سن کہ وہ اندر تک سلگ کہ رہ گئی ۔۔۔”
باذوق اور نفیس انسان جاؤ اپنے آپ کو ایک بار آئینے میں دیکھ لو ۔۔۔۔۔” پھر تمھیں پتہ چلے کہ میں کیسے جھیلتی ہوں تمھیں ۔۔۔۔ ” مجھے کبھی چاچو اور چاچی پہ حیرت ہوتی ہے ۔۔۔” کہ اتنے سالوں سے تمھیں کیسے جھیل رہے ہیں ویسے ان کی ہمت کو داد دینی بنتی ہے۔۔۔”
پھر تو تم نے بھی مجھے ساری زندگی جھیلنا ہے ۔۔۔ہائے مسز کتنا مزہ آئے گا ۔۔۔جب تم مجھے جھیلا کروگی۔۔۔”
وہ جو اب جوتے کی نیچے سگریٹ کو مسلتا ہوا بولا ۔۔۔
وہ اس بات کا فائدہ اٹھاتی اس کی نظروں کو زمین پہ ٹکا دیکھ کر بغیر کوئی جواب دئیے بالکونی کا دروازہ کھولنے لگی۔۔۔۔” جب مقابل نے اس کے پکڑ کے ہاتھ پیچھے کیے ۔۔۔”
مفت کی شراب تو قاضی بھی نہیں چھوڑتا مسسز ۔۔۔۔تم تو پھر میری بیوی ہو۔۔۔۔” وہ اسے ہاتھ سے پکڑتے پیچھے کرتے کافی بے باکی سے بولا ۔۔۔۔”کہ کئی وہ دروازہ کھول کہ اندر ہی نہ گھس جائے۔۔۔”
اس کی نظروں اور آنکھوں میں پتہ نہیں ایسا کیا تھا کہ نورِ حرم کانپ کہ رہ گئی اس کی نگاہیں اپنے وجود پہ جمی دیکھ کہ اسے بہت بڑی غلطی کا احساس ہوا۔۔۔۔” اسے لگا کہ اس نے اس دوپہر میں اس نے اس تن تنہا گھٹیا شخص کے پاس آکہ بہت بڑی غلطی کر دی ہے۔۔۔۔” کم ازکم اس تپتی دوپہر میں یہاں نہیں آنا چاہیے تھا جب سب سوئے ہوئے تھے ۔۔۔
اسے خطرہ لاحق ہوا تھا پہلی بار اُسے لگا کہ اس نے بہت بڑی غلطی کر دی ہے ۔۔۔۔وہ تو پہلے ہی اتنا مشکوک شخص تھا کیا وہ اس شخص کی عادتوں سے واقف نہ تھی ۔۔۔ اسے بہت پچھتاوا ہو رہا تھا کہ وہ اس گھٹیا شخص کے پاس گئی ہی کیوں ؟ ۔۔۔
وہ ڈھرکتے دل سے اپنے چھت کی جانب بھاگی بغیر ٹوکری اٹھائے خود سے یہ طے کیے نیچے گئی ۔۔۔۔کہ وہ کبھی بھی اس شخص سے بات نہیں کرے گی۔۔۔” بے شک وہ اسکے نکاح میں تھی مگر کوئی اسے اکیلے دیکھ لیتا وہ انگلی اس کے باپ کی تربیت پہ اٹھاتا۔۔ اور لوگوں کا تو کہنا عام سا ہے کہ اس کے سر پہ چھت نہیں ہے اس لیے یہ ایسی ہے کردار پہ تو وہ ایک بات بھی نہیں سن سکتی تھی ۔۔۔۔” اس کے ہاتھ مسلسل کانپ رہے تھے۔۔۔۔وہ بہت مضبوط لڑکی تھی مگر اب جیسے اس کے ہاتھ پاؤں کام نہیں کر رہے تھےساری مضبوطی کئی گم ہوگئی تھی ۔۔۔”
دوسری طرف مانی گہرا سانس بھرتے اسے جاتے دیکھتا رہا اور پھر وہیں شیڈکے نیچے پڑی کرسی پہ بیٹھتا پرسکون ہوگیا۔۔۔
****
مانی سچ سچ بتانا ۔۔۔۔میرے پرس سے پیسے تم نے اٹھائے ہیں نہ ۔۔۔۔”
وہ جو عصر کے وقت گھر میں داخل ہوا تھا ۔۔۔۔ماں کی آواز کانوں میں پڑی جو باہر صحن میں بیٹھی سبزی کاٹ رہی تھیں
امی صبح شرافت سے آپ سے پیسے مانگے تھے مگر آپ نے ٹھینگا دکھایا۔۔۔۔اس لیے مجھ جیسا شریف آدمی یہ انتہائی قدم اٹھانے پہ مجبور ہوا ہے۔۔اس نے کولر سے گلاس اٹھاتے کافی اطمینان سے جواب دیا ۔۔۔تو علیزے کی ہنسنے کی آواز آئی۔۔اس نے نظریں اٹھا کہ دیکھا جو شاید بچوں کے ٹیسٹ چیک کر رہی تھی اور ساتھ مسکرائے جارہی تھی۔۔
تم کس خوشی میں اتنی کھی کھی کر رہی ہو ۔۔۔۔؟” وہ اس کی طرف دیکھتا چڑ کر بولا ۔۔۔ “
اس لیے کہ کچھ لوگوں کو بہت خوش فہمییاں ہیں کہ وہ شریف ہیں۔۔۔” ریڈ پنسل منہ میں دباتے دانت نکالتے جواب دیا گیا۔۔۔”
خوش فہمییاں بھی انسان کی زندگی کا حصہ ہوا کرتی ہیں۔۔۔۔وہ اس کے پاس سے گزرتا اس کے بالوں کو کھنچتا ہوا بولا۔۔”
ابو ابو۔۔۔۔۔” اس کے بال کھینچتے ساتھ ہی وہ چیخ و پکار کرتی ماسٹر صاحب کو پکارنے لگی۔۔۔”
مانی۔۔۔۔مانی ۔۔۔۔” وہ جو پیسے اٹھائے تھے وہ کمیٹی والے پیسے تھے۔۔۔” وہ پیسے مجھے دے دے نہیں تو میں تیرے ابا کو شکایت لگاؤں گی۔۔۔” زارا بیگم اس کو بیٹھک میں گم ہوتا دیکھ کر باپ کی دھمکی کا حوالہ دیتی ہوئی بولیں”
یہ لیں ایک ہزار روپے۔۔۔۔ ایک ہزار میں خود رکھوں گا۔۔۔یہ اچھا ہے بھئی ۔۔۔ہر کسی کے پاس ابا کا بڑا پکا آپشن ہے۔۔۔میں کوئی الٹا کام کرتا بھی نہیں ہوں ۔۔۔تو اس گھر میں ابا ابا کی آوازیں بلند ہونے لگ پڑتی ہیں۔۔ایسے لگتا ہے جیسے ابا نہ ہوگئے ۔۔۔پاکستان کے صدرِ مملکت ہوگئے ۔۔۔” ویسے اس زندگی سے تو موت اچھی ہے ۔۔”
کبھی کبھی میرا دل کرتا ہے ۔۔۔چھت سے کود کر اپنی جان دے دوں۔۔۔وہ بیٹھک سے نکالتا ہوئے ان کو پیسے تھماتا جیسے اپنے نقصان پہ چڑ اٹھا ۔۔۔۔”
شوق سے۔۔۔۔وہ رہا چھت کا رستہ ۔۔۔۔ ” مگر گلی کی طرف چھلانگ لگانا۔۔۔” میرا گھر مت خراب کرنا۔۔۔۔”
یہ گھر میری پنتیس سال کی ریاضت کی کمائی سے بنایا ہے جو میں نے پائی پائی جوڑ کہ اپنی حق حلال کی کمائی سے بنایا ہے ۔۔۔” ماسٹر صاحب جو مسجد سے واپس آئے جیسے ہی دروازہ کھول کہ اندر داخل ہوئے ۔۔۔اس کی آواز کانوں میں پڑی تو وہ دروازے پہ ہی کھڑے ہوگئے اور اس کو سنتے جوابی وار کیا ۔۔۔جو سبزی کاٹتی ماں کے پاس سے ٹماٹر کے ٹکڑے اٹھا کر ماں کے ساتھ کوئی بحث کر رہا تھا۔۔۔۔”
توبہ توبہ یہ زمانے آ گیا ہے باپ کو اولاد سے زیادہ گھر پیارا ہے …اس نے زمین پہ ہاتھ رکھ کہ کان پہ ہاتھ رکھتے محلے کی پھاپھے کٹنی عورتوں کی طرح صدمے سے کہا۔”وہ جو ماں کو ایموشنل کر رہا تھا باپ کے اس طرح کہنے پہ صدمے میں جاتا ہوا مصنوعی غم سے بمشکل بول سکا۔۔۔”
ایک دفعہ اپنی یہ شکل جا کہ شیشے میں دیکھ لو۔۔۔”
پھر اندازہ لگالینا میرا گھر زیادہ پیارا ہے یا توُ ۔۔۔۔وہ دوسری چرپائی پہ بیٹھتے اپنی جیب سے تسبیح نکالتے ہوئے بولے ۔۔۔” جب وہ اٹھ کھڑا ہوا تھا۔۔۔
اب کہاں جا رہے ہو تم۔۔۔؟ زارا بیگم نے اس کے چہرے کو دیکھتے پیار سے کہا ۔۔۔”
خو”دکشی کرنے ہے جا رہا ہے بیگم ۔۔۔۔ لہذا روکنا مت ۔۔۔” ماسٹر صاحب اطمینان تسبیح کے دنوں پہ ورد کرتے رک کہ کافی اطمینان سے کہا۔۔۔
نہ نہ۔۔۔۔ابا حوصلہ رکھیں ۔۔۔اتنا جلدی نہیں سب کہ سینوں پہ مونگ پیس کہ مرؤ”ں گا۔۔۔۔۔ ابھی فلحال چچا شیدے کی دکان پہ شیشہ دیکھنا وہ ذرا بڑا ہے اس میں بے میں مثال لگتا ہوں ۔۔۔۔” اور جس شیشے سے آپ ڈاڑھی بناتے تھے وہ صبح صبح میرے ہاتھوں قت”ل ہو چکا ہے ۔۔۔وہ یہ کہتے ابا کے تیور دیکھتے جلدی سے باہر نکلتا ان کا سکون غارت کر چکا تھا۔۔۔۔ “
ذلیل بغیرت۔۔۔۔۔تُو آ واپس ۔۔۔میں تجھ سے حساب لیتا ہوں ۔۔۔حرام کی کمائی نہیں ہے میری ۔۔۔۔تو فکر مت کر میں حساب لے لوں گو تجھ سے۔۔۔۔ان کا بس نہیں چل رہا تھا وہ اس کی پشت تپھڑوں سے لال کر دیں۔۔۔”
نہیں ابا فکر کی باری اب آپ کی ہے۔۔۔۔وہ یہ کہتا مکمل غائب ہوگیا تھا۔۔۔
اور ادھر ماسٹر صاحب کا بس چلتا تو وہ اس کو بھاگ کہ گلی سے گھسیٹ کہ لاتے۔۔۔۔وہ شیشہ تو ان کو بہت پیارا تھا۔۔۔۔وہ جوانی سے اس شیشے سے ہی دیکھ کر شیو بناتے کرتے تھے وہ شیشہ تو ان کے والد محروم کی نشانی تھا جو انہوں نے سنھبال سنھال کہ رکھا تھا۔۔۔۔”
ابو چھوڑیں اسے ۔۔۔۔یہ پانی پی لیں۔۔۔علیزے ان کو غصے میں دیکھتی پانی لے آئی تھی جس وہ تھام کے پینے لگے ۔۔۔ “
پہلے بھی وہ کتنی دفعہ ان کی پرانی یادگار چیزیں توڑ چکا تھا۔۔۔جس سے اُس نے کتنی دفعہ مار بھی کھائی تھی ۔۔
****
کپٹن غنی کیا میں اندر آ سکتی ہوں ۔۔۔۔؟ ایمن آدھی رات کو اتنی سکیورٹی کے باوجود بھی اس گھر میں اکیلے قدم رکھ چکی تھی وہ خود روم میں موجود نہیں تھا۔۔۔
ہاں البتہ اسکی خاکی وردی بیڈ پہ سلیقے سے پڑی ہوئی تھی ۔۔۔
ایمن جو دروازہ کھول کہ ہمیشہ کیطرح صرف پوچھتی کہ اس کا جواب سنے بغیر آفس روم سمجھ کر اندر داخل ہوئی وہ اس کی اجازت کا کہاں انتظار کرتی آج تو وہ پھر کئی نظر نہیں آرہا تھا ۔۔۔
وہ جو روم میں آئی تواس کی نظریں روم پہ ٹکی کی ٹکی رہ گئی کپٹن ارمغان کے کمرے سے تو اسے عشق تھا ۔۔ایمن فاروق آج کتنے دن بعد اس کے روم میں آئی ۔۔۔یہ روم ذوق و نفاست کا اعلیٰ اور منہ بولتا ثبوت تھا۔۔
ایمن فاروق خود بھی بہت اپر کلاس فیملی سے تعلق رکھتی تھی اور وہ جس چیز پہ ہاتھ رکھتی وہ ہی اسے مل جاتی تھی مگر پھر بھی وہ منہ کھولے حیرت سے اس شخص کا روم دیکھ رہی تھی کمرہ کافی وسیع تھا ۔۔۔ ترکش سٹائل بیڈ اور صوفے ک۔رے کی خوبصورتی کو چار چاند لگاتے تھے مہنگے فینسی سنہری دبیز ۔۔۔کمرے کی دیوار پہ قائداعظم علامہ اقبال ڈاکٹر عبدالقدیر اور دیگر بڑی بڑی شخصیت کی تصاویر اور یونیک سٹائل اربیک کیلی گرافی آوایزں تھیں ۔۔
یہ روم ویل فرنشڈ تھا اسی روم میں ایک اسٹڈی روم بھی جس کا دروازہ بھی درمیان سے ہی کھلتا تھا جو اسی روم کا حصہ تھا اس میں ایک ٹیبل پہ کمپوٹر جو وائر کنکشن تھا جس میں شاید اس کا سارا سیکرٹ ڈیٹا تھا ساتھ میں لیپ ٹاپ تھا جو وہ آگے پیچھے جاتا تو لے کہ جاتا تھا شیلف پہ ٹرافی اور بکس تھیں اور کتابیں بھی ایک سے بڑھ کہ ایک تھیں بیچ میں پڑا ڈائنگ ٹبیل وہ اس کے دوست آتے تو وہاں بیٹھ کہ کتاب کا مطالعہ کرتے اور ٹی پلان وغیرہ کرتے ۔۔۔
ایمن فاروق اسٹڈی روم میں جانے کا سوچ رہی تھی جس کا ڈور نیم کھلا ہوا تھا اسے لگا شاید کوئی اندر ہے۔۔۔” پھر وہ نہ جانے کا سوچ ایک دفعہ پھر اشتیاق سے کمرے کو دیکھنے لگی ۔۔”
ایمن کو یہ و کمرہ ہرگز عام انسان کا نہیں لگا ۔۔۔یہ آرمی آفیسر کا روم تھا اور پھر عام انسان کا کیسے ہوسکتا تھا۔۔۔؟
وہ دو مہینے پہلے ایک دفعہ چھپ کے اس کے روم میں اس کی تصویر چرانے آئی تھی اور کچھ تصویر اس نے کپٹن ارمغان عالم کی چراکہ لے کے بھی گئی تھی وہ پچھلی دفعہ تفیصل سے ایک ایک کونہ دیکھ کہ گئی تھی لیکن پھر بھی آج دوسری دفعہ آنے کے باوجود اسے لگا کہ وہ پہلی بار دیکھ رہی تھی ۔۔” ارمغان عالم نے یہ گھر کچھ ماہ پہلے خریدا تھا۔۔ ٹبیل پہ اس دشمنِ جاں کی تصویر جو ایمن فاروق کا دل کرتا کہ وہ یہ ہی تصویر اٹھا کہ لے جائے ۔۔۔۔مگر اس شخص کو علم پڑ جاتا تو اسکی شامت آجانی تھی وہ بے خودی کے عالم اس کی تصویر کو تکنے لگی جس میں تصویر کنچھواتے وقت کپٹن ارمغان عالم شاید پہلی بار مسکرایا تھا وہ تصویر پہ ہاتھ پھیرتی ہی جب ڈور کھلنے کی آواز آئی تھی وہ فٹ سے ہاتھ ہٹاتی پیچھے ہوگئی ۔۔۔
ارمغان عالم خاکی پینٹ کے اوپر سیاہ ٹی شرٹ میں ملبوس اسٹڈی روم کا دروازہ پیچھے کیے اپنے دھیان میں باہر نکلا۔۔۔ سیاہ بال ماتھے پہ پڑے ۔۔۔۔تیکھی ناک پہ ہر وقت سنجیدگی چھائی رہتی، لب ہمہ وقت بھینچے رہتے
ابھی وہ اپنی ازلی سنجیدگی میں گم باہر نکلتا اپنی ہروقار شخصیت کے سبب ایمن فاروق کے تو ہوش ٹھکانے لگا گیا ایمن کو وہ شخص اپنے نام کی طرح بہت ہی خوبصورت تھا۔۔۔”
ایمن تو اس کی سحر انگیز شخصیت میں کھینچتی جاتی آج تو وردی میں بہت پیارا لگ رہا تھا ایمن فاروق بے خودی کے عالم میں اسے دیکھنے لگی ۔۔۔وہ شخص تو اسے پورے کا پورا اچھا لگتا ۔۔۔مگر وہ اس شخص کو کیا بتاتی کہ وہ اس کی غلافی آنکھوں اور اس کی گھنی سیاہ بیرڈ پہ دل ہار بیٹی تھی اس کے تیکھے نقوش کی بھی تو اپنی بات تھی ۔۔۔۔”
مس ایمن فاروق۔۔۔۔۔۔۔” آپ اس وقت یہاں ۔۔۔خیریت ۔۔۔” کوئی ایمرجنسی تو نہیں ہوگی ۔۔۔۔”
وہ جو لیپ ٹاپ ٹاپ اور کچھ مشن کی فائل اٹھاتا باہر نکلا اس کی ڈیوٹی نائٹ ٹائم تھی
اس کو اس وقت کمرے میں دیکھ کہ وہ حیرت و بے یقنی سے بولا۔۔ وہ دیکھ کہ پریشان ہوگیا کہ وہ اس وقت بارہ بجے اسکے گھر میں کیا کرنے آئی تھی۔۔۔
اللہ نہ کرے کوئی ایمرجنسی ہو کپٹن وہ تو مجھے آئس کریم کھانی تھی۔۔۔میں اس لیے یہاں آپکے پاس آئی ہوں۔۔۔۔ ” میں جانتی ہوں اس وقت مجھے صرف آپ ہی لا کہ دے سکتے ہیں ۔۔۔اس لیے تو آپکے پاس آئی ہوں ۔۔۔”
اس وقت ۔۔۔۔دماغ خراب ہوگیا ہے آپکا۔۔۔۔یا میں پاگل نظر آرہا ہوں آپکو۔۔۔۔ اُکھڑے تیور سے اسے دیکھتے وہ ٹی شرٹ کے اوپر خاکی رنگ کی شرٹ پہنتا ہوا بولا ۔۔اُس کی بے اختیار نگاہوں کو بھی اپنے اوپر دیکھ رہا تھا جس کی نگاہیں اس کے اوپر سے ہٹ ہی نہیں رہی تھی ۔۔۔”
یا اللہ آج مجھے ان سے بچا لے اے اللہ ابھی تیری بندی کی عمر ہی کیا ہے ۔۔۔۔؟” صرف بیس سال کی ہی تو ہوں۔۔۔۔اے اللہ میرے ہونے والے اُن کو کنوارا بننے سے بچا لیجئے گا۔۔۔۔وہ مصعومیت سے منہ ہی منہ میں بڑ بڑاتے اس کے رائٹ سائیڈ پہ ارمغان عالم نیم بیجز کو دیکھتی شدت سے اپنے بچنے کی دعا مانگ رہی تھی ۔۔۔
Instagram
Copy link
URL has been copied successfully!

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

کتابیں جو آپ کے دل کو چھوئیں گی

Avatar
Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial