قسط 32
یارم کے لاکھ کہنے کے باوجود بھی وہ نہ مانی تو یارم واپس چلا آیا ۔ اور روح کی ضد کی وجہ سے اس وقت وہ دونوں ایئرپورٹ پر بیٹھے ہوئے تھے ۔یارم اس سے آگے پیچھے کی باتیں کر رہا تھا جب کہ روح کا دھیان سامنے بیٹھے اس آدمی کی طرف تھا ۔
یارم نے دو تین بار اسے نوٹس کیا۔
روح وہ بہت ہینڈسم ہے کیا ۔۔۔؟یارم نے جل کر پوچھا ۔
کون ۔۔۔؟ روح نے پوچھا
وہ آدمی جسے آنکھیں پھاڑے دیکھ رہی ہو ۔۔۔؟ یارم نے دانت پیس کر کہا تھا ۔
مجھے کیا پتا ہوگا پیارا میں تو اس کی گود میں بیٹھے ڈوگی کو دیکھ رہی ہوں ۔دیکھیں نا کتنا پیارا ہے کیوٹ سا۔آپ تو کہتے تھے کہ اس ملک میں لوگ جانور نہیں پالتے۔روح نے یارم کا دھیان چھوٹے سے کتے کی طرف کیا ۔
روح یہ ایئرپورٹ ہے یہاں پر دنیا کے بہت سارے لوگ ہیں اور یہ کتا اگر اس آدمی کا ہے بھی تو یہ اس ملک کا نہیں ہے اور وہ چھوٹا اور پیارا سا نہیں ہے ۔بہت تیز و ذہین قسم کی نسل ہےیہ ۔یہ صرف دیکھنے میں چھوٹے ہوتے ہیں ۔اور وہ جتنا کیوٹ سا لگ رہا ہے نہ بالکل بھی کیوٹ نہیں بہت خطرناک ہے ۔یہ صرف اپنے مالک سے وفادار ہوتے ہیں ۔
یارم نے تفصیل سے بتایا مگر روح کا اس کی طرف پسندگی سے دیکھنا ۔اسے اچھا نہیں لگ رہا تھا ۔روح کے پیار پر صرف اس کا حق تھا چاہے وہ چھوٹا سا جانور ہی کیوں نہ ہو ۔
یارم پلیز جائیں نا اس آدمی سے پوچھیں کیا وہ ڈوگی ہمیں دے گا ۔
روح دماغ خراب ہو گیا ہے تمہارا میں کسی آدمی سے اس کا پالتو جانور کیوں مانگنے لگا ۔یارم نے انکار کرتے ہوئے کہا۔
یارم آپ تو کہتے تھے کہ آپ مجھ سے بہت پیار کرتے ہیں روح کو اچانک ہی اس کا پیار یاد آگیا ۔
روح میری جان میں تم سے بہت پیار کرتا ہوں مگر اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ میں لوگوں سے ان کے کتے مانگتا پھروں گا ۔اور تمہیں کیا لگتا ہے وہ آدمی وہ کتا ہنسی خوشی تمہیں دے دے گا ۔بیچارے نے بہت محنت سے پالا ہوگا اسے ۔یارم نےبات ختم کرنا چاہی ۔
کہاں پالا ہے اتنا چھوٹا تو ہے وہ پالوں گی تو میں اگر آپ اس کو یہاں لے آئیں گے تو ۔ایک بار پوچھنے میں کیا حرج ہے آپ میرے لیے لپسٹک بھی نہیں لائے تھے ۔روح کو اچانک ہی یاد آگیا کہ شاپنگ کی چیزوں کے بیچ میں لپسٹک نہیں تھی۔روح اب منہ پھیلا کر بیٹھ گئی تو یارم کو مجبوراً اٹھنا پڑا۔اس کو آجاتا دیکھ کر ایکسائٹمنٹ سے چہرہ اس کی طرف کیا۔
بیسٹ آف لک ، دونوں ہاتھوں کے انگوٹھے دکھاتے ہوئے کہا۔پلیز اس آدمی کو منا کر ڈوگی لے آئیے گا۔یارم نے ایک نظر اپنی بے وقوف بیوی کو دیکھا اور پھر اٹھ کر اس آدمی کی طرف چل دیا
اب دوبئی کا ڈان لوگوں سے کتے مانگتا پھرے گا ۔
°°°°°°°°°°
Can i talk to you sir
یارم نے آدمی کے قریب بیٹھتے ہوئے کہا
Oh yes..What do you want to say
آدمی نے مسکراتے ہوئے کہا ۔
اس کے لب و لہجے سے لگ رہا تھا کہ وہ اردو میں بات کر سکتا ہے ۔
My wife has liked your dog so much and now she is insisting that I get her this dog
آدمی نے پہلے مسکراتے ہوئے اس کی بات سنی لیکن بات مکمل ہونے کے بعد اس کی مسکراہٹ بھی ختم ہوگئی ۔
No sir this dog is my pet i don’t want to give it im sorry ۔ It’s like my children to me .It’s been with me for a long time .
آدمی نے انکار کرتے ہوئے کہا
See, I want this dog, you can take whatever you want at any cost, I will give you as much money as you want. My wife has very fondly asked me and Can not avoid any of his things, this dog is her choice and she should get it. I love my wife dearly .
یارم اب بھی اسے منانے کی کوشش کر رہا تھا ۔جبکہ اس کا دل چاہ رہا تھا اپنی پیچھے کی جیب سے بلیڈ نکال کر اس کی گردن کاٹے اور وہ کتا روح کو دے دے ۔
You can ask me anything in the world instead ۔I’m ready to give you anything . I am willing to give you 25000 Drhum for this dog . I think this price is enough for this Dog.
آدمی بے یقینی سے آنکھیں پھاڑے اسے دیکھ رہا تھا ۔
تمہاری انڈین کرنسی میں یہ ایک کروڑ سے اوپر ہوگا ۔یارم نے اس کے ہاتھ میں اس کا کارڈ دیکھتے ہوئے کہا جہاں راکیش ملہوترا لکھا تھا ۔تمہارا دماغ خراب ہے تم ایک چھوٹے سے کتے کے لیے اتنے پیسے دینے کو تیار ہو۔
آدمی بھی اب اس سے اسی کی زبان میں بات کرنے لگا۔
ہاں میں تمہیں اس کتے کے لئے تمہاری منہ مانگی رقم دینے کو تیار ہوں اگر یہ کم ہے تو اور دینے کو تیار ہوں ۔مجھے میری بیوی کو یہ کتا تحفے میں دینا ہے ۔
یارم نے اس کی گود میں کتا دیکھتے ہوئے کہا ۔
تمہیں پتہ ہے مجھے اس دنیا میں بس یہی ایک جانور اچھا نہیں لگتا لیکن میری بیوی کو یہ بہت پسند آیا ہے ۔تم یہ مجھے دے دو بدلے میں اپنی زندگی سنوار لو۔
this is a golden chance for you, you can change your life ۔
یارم نے بات ختم کرنا چاہیی موقعے سے فائدہ اٹھانا چاہیے یارم نے اسے سوچتے ہوئے دیکھ کر کہا ۔
میں 30 ہزار درہم لونگا ۔وہ کافی دیر سوچنے کے بعد بولا تو یارم کی ڈمپلز نمایاں ہوئے ۔تم نے ہی تو کہا موقع کا فائدہ اٹھانا چاہیے اس کو ہنستا دیکھ کر وہ آدمی جلدی سے بولا ۔
ہاں بالکل کیوں نہیں ۔یارم نے اپنی جیب سے چیک بک نکالتے ہوئے کہا ۔
تھینک یو سو مچ ۔تمہاری وجہ سے میری بیوی مجھ سے ناراض نہیں ہوگی۔ یارم نے چیک سائن کرتے ہوئے کہا ۔
یا تو تمہارے پاس پیسہ بہت ہے یا تم تو اپنی بیوی سے بہت پیار کرتے ہو ۔آدمی نے چیک تھامتے ہوئے کہا ۔
اگر تم سیدھے طریقے سے میرا مطلب ہے پیسے لے کر یہ کتا مجھے نہیں دیتے تو میں تمہیں مار کر لے جاتا ۔اب تم خود ہی اندازہ لگا لو کہ میں اپنی بیوی سے کتنا پیار کرتا ہوں ۔ یارم کتے کی رسی پکڑ کر اسے کھینچتا ہوا اپنے ساتھ لے گیا ۔
°°°°°°°°
مجھے پتا تھا آپ اسے لے آئیں گے ۔یہ کتنا پیارا ہے ۔روح نے اس آدمی کی طرح اسے اپنی گود میں بٹھاتے ہوئے کہا ۔
روح اسے نیچے کرو کیا کر رہی ہو تم ۔نیچے کرو اسے زہر لگتی ہیں مجھے یہ حرکتیں ۔
کیوں زہر لگتی ہیں اتنا پیارا ساتو ہے۔میں اسے یہی بٹھوں گی اپنے ساتھ روح نے اس کے ساتھ کھیلتے ہوئے کہا ۔
رؤح یہ وہاں جائے گا جہاں باقی لوگوں کے جانور بیٹھے گے۔اسے اس طرح سے اپنی گود میں بٹھانا الاؤ نہیں ہے ۔
یہ وہاں اکیلے ڈر جائے گا نا۔روح نے معصومیت سے کہا۔
بےبی یہ ڈوگ ہے یہ نہیں ڈرے گا ۔ڈوگ بہت بہادر ہوتے ہیں ۔تم بے فکر ہوکر اسے ایئر ہوسٹس کے حوالے کردو ۔یارم نے اس کی بات سنے بغیر پاس کھڑے لڑکی کو اشارہ کیا ۔
جو فورا اس کے اشارے کی تکمیل کرتے ہوئے کتا اس کی گود سے اٹھا کر لے گئی ۔
یارم وہ ایسی کیسی مجھ سے پوچھے بغیر لے گئی اسے بلائیں واپس ۔روح ضدی انداز میں کہا ۔بےبی اب کیا ہم ایک کتے کے لیے لڑیں گے یہاں پے۔یارم نے اسے دیکھتے ہوئے سمجھانے کی کوشش کی ۔
اسے باربار کتا مت کہیں وہ میرا شونو ہے ۔روح نے منہ بنا کر کہا ۔
واء بے بی نام بھی رکھ لیا ہے اتنا جلدی شونو۔ یارم نے ہنستے ہوئے کتے کا نام دہرایا ۔
یارم آپ نے اس آدمی کو کیسے منایا شونو کے لئے ۔تھوڑی دیر کے بعد روح سب کچھ بھول بھلا کر اس سے پوچھنے لگی ۔
پیسا سب کو منا لیتا ہے بے بی ۔یارم نے بس اتنا ہی کہا ۔
یارم آپ کو شونو کے لیے پیسے دینے پڑے ۔میری وجہ سے آپ کے پیسے ضائع ہوگئے کسی اہم کام میں آجاتے ۔ روح اداسی سے بولی ۔
یارم کے لیے روح سے زیادہ اہم اور کچھ بھی نہیں ہے اپنی جان بھی نہیں ۔یارم نے اس کا ہاتھ اپنے سینے پر رکھتے ہوئے کہا ۔
پھر بھی بہت زیادہ پیسے لیے ہونگے اس نے ۔کتنے پیسے لیے اس نے ۔روح نے پوچھا
تیس ہزار۔۔۔۔۔۔۔
تیس ہزار یارم آپ نے اتنے پیسے کیوں دیے اسے ۔اس نے سمجھ کیا رکھا ہے بہت امیر ہیں ہم ۔ایک بار مجھے مل جائے جان سے مار دوں گی اسے ۔ایک چھوٹے سے پپی کی قیمت تیس ہزار روپے۔حد ہوگئی تیس ہزار میں تو مہینے کا راشن آجاتا ہے گھرمیں۔ روح نے پریشانی سے کہا جبکہ یارم شکر منا رہا تھا کہ اس نے تیس ہزار درہم نہیں کہا