روح یارم

Areej shah

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

قسط 33

وہ اس وقت دوبئی ایئرپورٹ پر تھے خضر پہلے ہی ان کا انتظار کر رہا تھا ۔یارم وہ لوگ اپنے آپ ہی ہمیں شونو کو واپس کر دیں گے یا ہمیں پوچھنا پڑے گا۔ساڈھے گیارہ گھنٹے کے اس سفر میں روح نے اگر اس سے کوئی بات کی تھی تو وہ اس کے شونو کے بارے میں ہی تھی۔
وہ اپنے آپ ہی واپس دے دیں گے ۔یارم نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اپنے ساتھ لے جاتے ہوئے کہا ۔یارم شونو کہاں رہے گا ہمارے ساتھ ہمارے روم میں یا پھردوسرے روم میں ۔اس کے ساتھ چلتے ہوئے وہ پوچھنے لگی۔
وہ ہمارے کمرے میں کیوں رہے گا ۔اور وہ دوسرے کمرے میں بھی کیوں رہے گا اب کیا ہم اسے الگ سے ایک بیڈروم دیں گے ۔یارم حیرانگی سے پوچھ رہا تھا ۔
یارم اب ہم اسے یوں ہی تو نہیں چھوڑ سکتے جانوروں سے پیار کرنا چاہیے ۔اور اوپر سے آپ نے اتنے پیسے دے کر خریدا ہے اس کو ۔اس آدمی نے تو ہمیں لوٹ لیا ۔اگر کبھی زندگی میں میرے ہاتھ چڑگیا نہ تو آپ کے پیسے واپس ضرور نکلواؤں گی ۔اچھی لوٹ مار مچارکھی ہے ان لوگوں نے ۔تیس ہزارکسی غریب سے پوچھیں تیس ہزار کی کیا اہمیت ہوتی ہے ۔
آپ کا بھی اچھا خاصا نقصان ہوگیا ۔ اب وہ جہاز سے نیچے اترنے لگے تھے۔
روح میرے پاس بہت پیسے ہیں تیس ہزار دے دینے سے میں غریب نہیں ہو جاؤں گا ہاں لیکن تم میرا اثاثہ ہو تمہیں کھو دیا تو غریب ہو جاؤں گا ۔وہ مسکرایا تھا ۔
جبکہ اس کی بات پر روح شرمائی تھی ۔
آپ بھی نہ یارم کہیں پر بھی شروع ہو جاتے ہیں ۔روح شرماتے ہوئے آگے بڑھی۔
جب کہ یارم نے وہ کتے والی باسکٹ پکڑی ۔اور روح کے پیچھے آیا ۔اس سفر میں سب سے خاص بات یہ ہوئی تھی کہ روح کو ڈر نہیں لگا تھا ۔بس جہاز کے پرواز بڑھتے ہوئے وہ یارم کے سینے میں منہ چھپاگئی تھی
°°°°°°°°°
خضر پہلے سے ہی ان کے انتظار میں تھا ۔روح نے دور سے ہاتھ ہلا کر اپنی طرف متوجہ کیا ۔وہ تیزی سے آیا اور ان کے ہاتھ سے سامان پکڑنے لگا۔
ارے نہیں خضربھائی میں اٹھا لوں گی آپ بتائیں کیسے ہیں آپ اور آپ کے گھر میں سب ٹھیک ہے ۔۔؟روح نے مسکراتے ہوئے پوچھا جبکہ اس کی بات پر خضر کے ساتھ یارم کے بھی ہاتھ سست ہوئے تھے
میرے گھر والے ۔۔۔۔وہ حیرانگی سے بولا
ہاں خضر تمہارے گھر والے یارم نے اسے آنکھوں سے اشارہ کیا ۔
ہاں میرے گھر والے بالکل ٹھیک ٹھاک سب ایک دم فٹ ہیں خضر نے اس کا اشارہ سمجھتے ہوئے کہا ۔
ڈونٹ یو ٹیل می اب اس لڑکی کے لیے ہمیں گھر والے بھی پیدا کرنے ہوں گے ۔خضر نے چلتے ہوئے یارم کے کان میں کہا ۔
اگر ضرورت پڑی تو ہاں ضرور ۔یارم ایک آنکھ دباتے ہوئے مسکرایا ۔
واہ اس لڑکی نے تو تمہیں ہنسنا سیکھا دیا ۔خضر کو خوشی ہوئی تھی ۔
لوگوں سے مانگنا بھی سیکھا دیا ہے ۔یارم نے کتے والی ٹوکری کی طرف اشارا کیا ۔توخضر بھی مسکرایا ۔
سچ کہتے ہیں اس دنیا میں عورت سے زیادہ چالاک اور کوئی نہیں ۔خضراس کے ساتھ چلتے ہوئے بولا ۔
سچ ہی کہتے ہوں گے لیکن میری روح تو بہت معصوم ہے۔ یارم کے لہجے میں محبت ہی محبت تھی ۔
اللہ تمہیں خوشیاں نصیب کرے ۔اور تم ہمیشہ ایسے ہی رہو خوش اور مطمئن ۔خضر نے مسکراتے ہوئے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا ۔اس خوشگوار تبدیلی سے اسے بھی بہت خوشی ہوئی تھی ۔
°°°°°°°°°°°
روح اور شونو کو گھر چھوڑنے کے بعد وہ اپنے آفس آیا تھا خضر کے ساتھ ۔اور آتے ہی پہلا تھپڑشارف کے منہ پر مارا تھا ۔
آفس کا ایک ایک کونہ چمکا دینے کے بعد بھی یہاں پر بہت گند تھا یارم کے حساب سے ۔
آدھا گھنٹہ ہے تمہارے پاس مجھے ایک بھی کونے میں ذرا سے دھول مٹی نظر آئی تو تمہیں معاف نہیں کروں گا ۔
یارم نے جانے سے پہلے اسے صرف صفائی کا کام سونپا تھا ۔اور اب آفس کی حالت دیکھ کا یارم کویہ اپنی غلطی لگ رہی تھی ۔
ہائے کتنے زور سے مارا ظالم نے ۔مجھے تو لگا تھا کہ تم ڈیول سر کا بایاں بازو ہو ۔اور تم کیا نکلے آفس کے پیون ۔معصومہ نے ادا سے کہتے ہوئےقہقہ لگایا ۔
ارے یہ سب کچھ تو یہاں کا کوئی آدمی بھی کر سکتا ہے میں تو یہ سب کچھ اس لئے کر رہا ہوں تاکہ کسی کو بتا سکوں کہ شادی کے بعد ایک بہت اچھا ہسبنڈ ثابت ہو سکتا ہوں ۔شارف نے مسکراتے ہوئے اسے آنکھ ماری ۔
ہاہاہا تم عاشق ہی بنو شوہر بننا تمہارے بس میں نہیں ۔معصومہ نے پھر سے طنز کیا ۔
ویسے بھی آج کل کے لڑکے صرف عاشقی ہی کر سکتے ہیں ۔وہ کہہ کر جانے لگی جب شارف نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا۔
وہی تو کہہ رہا ہوں عاشقی تو سب کرلیتے ہیں ہم کچھ نیا کریں گے چلو شادی کرتے ہیں۔یارم کو پتہ تک نہیں تھا کہ شارف اس ریلیشن شپ میں کافی حد تک آگے بڑھ چکا تھا۔
یہاں تک کہ شارف یارم سے اپنی شادی کے بارے میں بات کرنا چاہتا تھا ۔لیکن معصومہ تھی جس کا کہنا تھا کہ وہ صرف دوست ہیں اس سے بڑھ کر اور کچھ نہیں ۔
دیکھو شارف میں تمہیں پہلے بہت بار بتا چکی ہوں میں یہاں اپنے بابا کی موت کا بدلہ لینے آئی ہوں شادی بیاہ کرنے نہیں ۔اس لئے بار بار ایک ہی بات کرکے مجھے انبیرس مت کرو۔اس کی بات سن کر شارف اداس ہوگیا ۔اور اس کی اداسی معصومہ کو بھی اچھی نہ لگی تھی۔
دیکھو شارف میں تمہاری فیلنگز کی قدر کرتی ہوں ۔لیکن فی الحال میرا مقصد کچھ اور ہے ۔ٹرائی ٹو انڈرسٹینڈ ۔وہ اس کےہاتھ سے اپنا ہاتھ نکالتی وہاں سے چلی گئی ۔
اس کا مطلب ہے مجھے ڈیول سے جلد سے جلد بات کرنی ہوگی ۔وہ شارف ہی کیا جسے آسانی سے بات سمجھ آجائے ۔
°°°°°°°°°°
ہاں بولو کیا خبر ہے انسپیکٹر صارم اپنے گھر میں بیٹھا فون پر بات کر رہا تھا ۔احتیاطً وہ گھر سے باہر نکل آیا تھا ۔جہاں اس کی بیٹی باہر کھیل رہی تھی
ایسے ہی خبر دے دوں۔ مجھے کیا ملے گا ۔ڈارلنگ تم چاہتی کیا ہو جو چاہو گی وہ ملے گا میری جان ۔وہ آواز کافی کم رکھ رہا تھا کہ اس کی بیٹی تک نہ پہنچے۔
اتنا دھیرے کیوں بول رہے ہو انچی آواز میں بولو نا ۔وہ ایک ادا سے بولی تھی ۔
ڈارلنگ میں کام کر رہا ہوں نا ۔تم بولو نہ میری جان کیا ہوا ہے ۔وہ التجا کر رہا تھا ۔جبکہ سارا دھیان اندر تھا ۔اگر عروہ سن لیتی تو اچھا خاصا ہنگامہ ہوتا ۔
پہلے کہو یو لو می ۔وہ شاید اس کی بے بسی کو انجوائے کر رہی تھی ۔
افکورس آئی لو یو ۔۔تمہارے لیے ہی تو میں اتنا کچھ سوچ رہا ہوں ۔میں نے فیصلہ کر لیا ہے۔یہ ڈیول کا کیس حل ہوتے ہی نہ میں تم سے شادی کروں گا ۔
لیکن اس کے لئے تمہیں میری بہت ساری مدد کرنی ہوگی ۔اس کے لہجے میں صرف سچائی تھی ۔جس پر معصومہ دل و جان سے ایمان لے آئی تھی ۔
مجھے تم پر پورا یقین ہے صارم اور میں تمہاری پوری مدد کروں گی اچھا سنو میری بات خبر یہ ہے ۔وکرم دادا انڈیا سے منڈے کو دوبئی آ رہا ہے ڈیول نے اسے یہاں بلایا ہے ۔
کوئی راشد کیس کے سلسلے میں وہ لوگ کوڈواڈ میں بات کرتے ہیں اس لئے مجھے زیادہ سمجھ نہیں آتی۔
معصومہ نے الجھتے ہوئے کہا کیونکہ وہ راشد کیس کے بارے میں کچھ نہیں جانتی تھی ۔
کیا مطلب ہے تمہارا ڈیول واپس آگیا ہے دوبئی ۔۔۔؟
صارم پریشان ہوا تھا ۔
ہاں ڈیول سر آج ہی واپس آئے ہیں۔
دیکھو معصومہ اس کی نظر سے بچ کر رہنا وہ تمہیں دیکھ کر ہی سب جان لے گا ۔وہ بہت چالاک ہے چیل کی نظر رکھتا ہے ۔تمہیں ہوشیار رہنا ہوگا ۔اب تم جاؤ ان لوگوں کے پاس میں فون رکھ رہا ہوں ۔اس نے سامنے سے عروہ کو آتے دیکھ کر کہا۔
دیکھ رہی ہوں میں آپ کو آج کل آفس کا کام گھر پے اٹھا لاتے ہیں ہم دونوں کی تو پرواہ ہی نہیں ہیں آپ کو ۔وہ روٹھے ہوئے انداز میں بولی تو صارم مسکرایا ۔
تو کیا کروں جان من تمہیں دیکھے بنا میرا گزارا نہیں ۔اسی لئے تو آفس سے جلدی آ جاتا ہوں تاکہ زیادہ سے زیادہ وقت تم دونوں نہیں بلکہ تینوں کے ساتھ گزار سکوں ۔اس نے محبت سے عروہ کے بھرے ہوئے وجود کو دیکھا ۔جہاں سے دو مہینوں کے بعد اس کا دوسرا بچہ اس دنیا میں آنے والا تھا ۔
°°°°°°°
میں نے سب کچھ ہینڈل کرلیا ہے لیکن مجھے یہ لڑکی معصومہ بہت چالاک لگتی ہے مجھے لگ رہا ہے یہ بیچ میں کوئی گڑ بڑ کر رہی ہے ہم سے چھپ کر ۔خضر نے اسے کام کی تفصیل بتاتے ہوئے معصومہ کے بارے میں بتایا ۔جبکہ اس کی بات سننے کے بعد شارف کا چہرہ غصے سے سرخ ہونے لگا تھا ۔
کیوں بھائی معصومہ بے شک کیوں ہے مجھ پر نہیں ہے ۔کل یہ کہہ دینا کہ میں بھی غداری کر رہا ہوں ڈیول کے ساتھ ۔شارف توبڑک ہی اٹھا تھا ۔شارف آرام سے وہ بات کر رہا ہے نہ ۔یارم کو اس کا اس طرح سے بیچ میں بولنا بالکل پسند نہ آیا تھا ۔
یہ معصومہ پر جھوٹا الزام لگا رہا ہے جس دن سے وہ یہاں آئی ہے ۔ایسی ہی بکواس کیے جا رہا ہے ۔
آخر مسئلہ کیا ہے اسے اس سے مجھے سمجھ نہیں آتا ۔ہر بات میں کہیں نہ کہیں اس نے معصومہ کا ذکر کرنا ضروری ہوتا ہے ۔شارف غصے سے خضر کی طرف دیکھتے ہوئے بولا ۔
دیکھو شارف بیکار میں میرے ساتھ بحث مت کرو وہ بھی اس لڑکی کیلئے ۔خضر کو بھی اچھا خاصہ غصہ آگیا ۔
بس بہت ہوگیا کیا پاگلوں کی طرح ایک دوسرے سے لڑ رہے ہو تم لوگ آرام سے بیٹھ جاؤ ۔یارم کے غصے سے کہنے پر دونوں بیٹھ گئے ۔آج کے بعد کسی تیسرے کی وجہ سے میں نے تم دونوں کو لڑتے ہوئے دیکھا ۔تو یاد رکھنا میں بھول جاؤں گا کہ تم دونوں میرے لیے کیا ہو ۔اور وہ لیلیٰ کہاں ہے ۔۔۔؟چھوڑ تو نہیں گئی ہمہیں ۔ڈیول نے کہا ۔
کیوں تم اسے مس کر رہے ہو خضر نے شرارتاً کہا تھا ۔
نہیں اگر چھوڑ کر چلی گئی ہے تو دوسری ہیکر ڈھونڈنے میں وقت لگے گا خاصی انرجی ویسٹ ہو گی۔اور اوپر سے پارٹی بھی تو کرنی ہوگی بھلا ٹلنے کی خوشی میں۔ یارم بالکل سیریس انداز میں بولا تھا ۔
جبکہ اس کی بات مکمل ہونے کے بعد خضر اور شارف کا قہقہ بے ساختہ تھا
کیونکہ باہر سے ٹک ٹک کی آواز آنا شروع ہو چکی تھی ۔اور یہ آواز لیلیٰ کی ہائی ہیلز کی تھی۔یعنی کے ہمارے نصیب میں پارٹیز نہیں لکھی۔خیر مزاق کا وقت ختم ہوچکا ہے جاو اپنے کام پر لگ جاؤ ۔یارم نے فون نکالتے ہوئے کہا ۔اور روح کا نمبر ڈائل کرنے لگا ۔وکرم دادا کی خاطر تواضع میں کوئی کمی نہ رہے ۔اس نے جاتے ہوئے شارف اور خضر سے کہا تھا ۔

Instagram
Copy link
URL has been copied successfully!

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

کتابیں جو آپ کے دل کو چھوئیں گی

Avatar
Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial