قسط 34
یارم رات کو گھر آیا تو دیکھا روح سو رہی ہے ۔ وہ سفر سے کافی زیادہ تھک چکی تھی ۔وہ اسے جگائے بغیر ہی اس کے قریب آیا ۔لیکن اپنے بیڈ پےشونو کو دیکھ کر کھٹکا ۔اب کیا ایک کتا ڈان کے بیڈ کے سوئے گا۔اس کا دل چاہا ایک گولی مار کے ابھی یہ قصہ ہی تمام کردے ۔
لیکن فی الحال یہ اس کے بس میں نہیں تھا ۔اس نے گردن سے کتے کا پٹا پکڑا اور اوپر کی طرف لٹکا لیا ۔کتا اس کی طرف لپک کر نیچے اترنے کی کوشش کر رہا تھا ساتھ میں دبی دبی چیخیں بھی نکل رہی تھی ۔
جس کی وجہ سے روح میڈم کی آنکھ کھل گئی ۔
روح یہ کتا میرے بیڈ پے کیا کر رہا ہے۔۔۔۔؟وہ سختی سے بولا۔ جبکہ ہاتھ ابھی تک ہوا میں لٹک رہا تھا کتّے سمیت ۔
یہ کتا نہیں ہے اس کا نام شونو ہے ۔روح نےیاد دلاتے ہوئے جلدی سے لپک کر کتے کو پکڑنا چاہاجب کہ یارم نے پھینکنے والے انداز میں کتے کو اس کی گود میں ڈالا ۔
میلا پیارا شونو چوٹ تو نہیں لگی ۔روح شونو کو ٹٹولتے ہوئے بولی ۔
نہیں لگی اسے چوٹ وہ چلایا تھا۔روح ابھی کے ابھی اس کتے کو نکالو میرے کمرے سے باہر ۔ٹھیک ہے جا رہیں ہم باہر ۔روح نے اٹھتے ہوئے کہا جب یارم نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا ۔روح تم کہاں جا رہی ہو ۔۔۔؟
دوسرے کمرے میں جا رہی ہوں اور کہاں جا رہی ہوں۔
مطلب اب تم اس کتے کے لیے یہ کمرہ چھوڑ دو گی۔یارم کو اب اس پر غصہ آنے لگا تھا ۔
تو اسے اکیلے دوسرے کمرے میں ڈر لگے گا نا ۔روح نے منہ بنا کر کہا ۔
روح یہ ایک کتا ہے اور اسے باہر نکلتے ہوئے ڈر نہیں لگے گا اسے باہر کرو اس کمرے سے اور خبردار جو تم اس کمرے سے باہر نکل گئی ٹانگیں توڑ دوں گا تمہاری ۔فالحال اسے شونو سے زیادہ روح پے غصہ آرہا تھا جو ایک کتے کے لئے اسے چھوڑ کر جا رہی تھی۔باہر کرو اسے بلکہ میں خود کرتا ہوں ۔ یارم کہہ کر آگے بڑھا اور اس کا پٹا پکڑ کر کمرے سے باہر کردیا ۔روح بھی اٹھ کر باہر جانے لگی ۔
روح تمہیں میری بات ایک بار میں سمجھ نہیں آئی کچھ زیادہ ہی سر پر چڑھا لیا ہے میں نے تمہیں بھی اب اسے سچ مچ میں اس پر غصہ آ گیا تھا
یارم میں تو آپ کے لئے کھانا لانے جا رہی ہوں۔ روح اسے غصے میں دیکھ کر واقعی گھبرا گئی تھی ۔
شکر ہے شونو کے علاوہ شوہر کا بھی خیال آیا وہ جتلاتے ہوئے بولا
تم نے کھانا کیوں بنایا ۔۔۔؟ہم باہر چل کے کچھ کھا لیتے اتنی تھکاوٹ ہوتی ہے سفر سے ۔یارم سمجھ چکا تھا کہ وہ اس کے غصے کی وجہ سے اتنی کم آواز میں بات کر رہی ہے۔آج وہ بالکل اسی دن کی طرح سے بات کر رہی تھی جب یارم نے پہلی بار اسے تھپڑ مارے تھے ۔
جہاز کیا میں اپنے سر پر اٹھا کے لائی تھی جو تھک گئی ہوںگی ۔وہ فورا ہی اپنے پرانے لہجے میں بولی ۔
اس کا یہ پیارا سا انداز یارم کی جان تھا ۔ اب وہ پہلے دن کی طرح ایک دبوسی محرومیوں کا شکار ۔ایک ڈری سہمی لڑکی نہیں تھی ۔باقی لوگوں سے وہ آج بھی اسی طرح سے گھبراتی تھی۔لیکن اب یارم کا اسے کوئی ڈر نہ تھا ۔وہ جانتی تھی یہ شخص اس سے دیوانوں کی طرح محبت کرتا ہے ۔اس کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے ۔اسے یقین تھا یہ شخص اسے کبھی خود سے دور نہیں ہونے دے گا ۔یہی وجہ تھی کہ اب وہ اس سے نہیں ڈرتی تھی جبکہ اسے صرف اسی سے ڈرنا چاہیے تھا ۔
°°°°°°°
تمہارے اس کتے نے کیا کھایا ۔یارم نے کھانا کھاتے ہوئے پوچھا ۔اب یارم ماننے نہ ماننے روح کے لئے وہ اس گھر کا حصہ تھا۔
میں نے اس کو سیب کھلایا تھا اور تھوڑا کھانا بھی ۔
روح تم نے کتے کو سیب کھلایا ۔۔۔؟ یارم کے لیے یہ آج کے دن کا دوسرا جھٹکا تھا ۔
پہلا جھٹکا اسے اپنا آفس دیکھ کر لگا تھا جس کا نشان اب تک شارف کے منہ پر موجود تھا ۔اور دوسرا جھٹکا روح نے ایک آسٹریلین کتے کو سیب کھلائے تھے ۔لیکن اس بات سے یارم کے گال کے ڈمپلز نمایاں ہوئے تھے ۔
اچھا ہے اس کتے سے جلدی جان چھوٹ جائے گی
کیوں یارم کتے کو سیب نہیں کھلانے چاہیے ۔روح نے فکر مندی سے پوچھا ۔
نہیں روح یہ آسٹریلین کتا ہے اور اس کی الگ خوراک ہے ۔میں بلڈنگ کےسرونٹسروس کو کہوں گا وہ تمہیں لا دے گے۔
اور اگر آپ بھول گئے تو ۔میں خود آنٹی سے کہوں گی یہ جو ہماری پڑوس میں نہیں ہوتیں وہ کہتی تھیں کچھ بھی ہو تو مجھے بتانا ۔
آپ ایسا کریں پیسے مجھے دے دیں ۔اور صرف شونوکی خوراک کی چیزیں نہیں ۔ہمارے لیے بھی کچھ تازہ سبزیاں منگانی ہیں۔ روح نے کہا تو یارم نے اسے اپنے وولٹ سے پیسے درہم کی صورت میں نکال دیے۔
یہ کتنے پیسے ہیں۔ ۔۔۔؟
روح نے نوٹوں کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔
یہ پانچ سو درہم ہیں۔یارم نے بتایا۔
یارم صرف پانچ سو روپے سے کیا آئیں گا۔ روح نے عجیب سے انداز میں پوچھا ۔
روح میری جان لوگ اس سے پورے مہینے کی چیزیں لے آتے ہیں ۔مگر تم اور رکھ لو یارم نے ہنستے ہو اپنا وولٹ نکالا ۔اور پانچ سو درہم نکال کر دیئے ۔
ان میں تو آ جائے گا نہ ۔۔؟
یارم نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا ۔
ہاں شاید ۔روح کو اب بھی یقین نہیں تھا کہ ہزار روپے میں انکی ضرورت کی ساری چیزیں آجائیں گی ۔
°°°°°°°°°
یہ ممکن نہیں ہے صارم میں یہ نہیں کرسکتی لیلیٰ کو ڈیول نے اپنے گھر آنے سے منع کیا ہوا ہے ۔اور اگر لیلیٰ وہاں نہیں جائے گی تو میں کیسے جا سکتی ہوں ؟
مجھے تو وہ سب ویسے بھی کسی کھاتے میں نہیں لیتے ۔یہاں پر بھی صرف شارف کی وجہ سے ٹکی ہوئی ہوں ۔ورنہ ان لوگوں کا مجھے اپنے ساتھ رکھنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
یہاں تک کہ میرے سامنے کوئی بات نہیں کرتے ۔اور نہ ہی مجھے کرنے کو کوئی کام دیا ہے ۔وہ خضر تو ہر وقت ڈیول کے کان بڑھتا رہتا ہے میرے خلاف ۔ایم سوری میں یہ نہیں کر پاؤں گی ۔
ٹرائی تو کرو معصومہ ۔یار تم میرے لئے اتنا نہیں کرسکتی ۔اور یہاں میں اس کیس کے بعد اپنی ساری فیملی چھوڑنے کو تیار ہوں تمہارے لیے ۔یاد رکھنا معصومہ اگر آج تم نے میرا کام نہیں کیا تو آئندہ میں تم سے کبھی بات نہیں کروں گا ۔صارم کا لہجہ اب جذبات سے عاری تھا ۔
لیکن صارم میری بات سمجھنے کی کوشش کرو میں اسے نہیں لاسکتی باہر ۔معصومہ اداسی سے سمجھانے کی کوشش کر رہی تھی لیکن وہ کچھ بھی سننے کو تیار نہ تھا ۔
تو میں یہ سمجھوں کہ ہم آخری بار بات کر رہے ہیں معصومہ ۔۔۔۔۔؟صارم نے اس کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا ۔
میں کوشش کروں گی ۔ معصومہ نے ہار مانتے ہوئے کہا تھا ۔
مجھے یقین ہے تم یہ کرلو گی ۔صارم فون بند کرکے دل کھول کر ہنسا تھا اسے یقین تھا کہ معصومہ اس کا کام ضرور کرے گی ۔
وہ خود ڈیول کے گھر نہیں جا سکتا تھا کیونکہ سوال اس کی چھوٹی سی معصوم بچی کا تھا ۔جس سے وہ بے انتہا محبت کرتا تھا ۔ڈیول نے کہا تھا کہ اگر صارم اس کی فیملی تک جائے گا تو وہ بھی پیچھے نہیں ہٹے گا ۔ورنہ کسی کی فیملی تک جانا ڈیول کے اصولوں کے خلاف تھا۔
°°°°°°°°
یارم پچھلے پانچ منٹس سے دروازے پر کھڑا رک کا انتظار کر رہا تھا جب تک روح اس کے ماتھے پر اپنی معصوم محبت کا بوسہ نہ دے دے یارم کا دن نہیں گزرتا تھا ۔جبکہ روح ابھی تک اپنے شونو کو کھانا کھلانے میں مصروف تھی ۔
روح جلدی کرو مجھے جانا ہے ۔یارم نے دانت پیس کر آواز دی۔
جی ایک منٹ میں ہاتھ دھو کر آئی۔ وہ جلدی سے بیڈروم میں جانے لگی ۔
اور اگلے ایک منٹ میں ہاتھ دھو کر آئی جن سے وہ بڑے پیار سے اپنے شونو کی پیٹھ سہلارہی تھی ۔
پھر روز کی طرح یارم نے جھک کر اس سے اپنا حق وصول کیا ۔
روح اس کتے کے ساتھ نہ چپکی رہا کرو ہر وقت ۔روح بنا دروازہ بند کیے واپس شونو کی طرف جانے لگی تو یارم ٹوکے بنا نہ رہ سکا ۔
یارم اسے آئے ہوئے ابھی صرف ایک دن ہوا ہے اور آپ اس طرح سے کہہ رہے ہیں ۔رات کو بھی آپ نے اس معصوم کے ساتھ کتنا برا سلوک کیا اگر آپ نے دوبارہ اس کے ساتھ ایسا کیا ۔تو میں آپ سے بالکل بات نہیں کروں گی ۔روح نے منہ بنا کر دھمکی دی ۔جو یارم کو بالکل اچھی نہ لگی ۔
اس دو ٹکے کے کتے کے لیے تم مجھ سے بات نہیں کرو گی۔یارم کو اچھا خاصہ غصہ آیا تھا اس بات پر۔
وہ کتا نہیں ہے میرا شونو ہے ۔وہ پھر سے منہ بنا کر بولی ۔
اور تم میری ہو ۔یارم نے اس کے پھولے ہوئے گال کو دیکھتے ہوئے کہا ۔
نہیں ہوں میں آپ کی اور نہ ہی مجھے آپ کی بننا ہے ۔وہ لاڈ سے بولی تھی ۔گال اب بھی پھولے ہوئے تھے
لیکن اگلے ہی لمحے روح کے بال یارم کے ہاتھ میں تھے۔”کیا کہا تم نے میری نہیں ہو تم ۔ہمت کیسے ہوئی ایسا بولنے کی ہاں ۔میری ہو تم ۔
تم ہوتی کون ہو میری نہ ہونے والی تم میری ہواور آخری سانس تک میری رہو گی ۔یارم کا غصہ حد سے بڑھ چکا تھا ۔
یارم کیا کر رہے ہیں آپ بال چھوڑیں میرے ۔درد کی شدت سے روح کی آنکھوں سے آنسو نکلنے لگے ۔
کس کی ہو تم ۔۔۔؟
یارم کا ارادہ سارے حساب بے باک کرنے کا تھا ۔
آپپپ ۔۔پ۔۔۔ کی ہوں چھوڑیں ۔روح بمشکل بول پائی تھی۔
شاباش آئندہ ایسا مت بولنا ۔ بہت پیار کرتا ہوں تم سے ۔اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے اس نے روح کا ماتھا چوم کر کہا ۔اور باہر نکل گیا۔
°°°°°°°°
کیا کیا چاہیے مجھے بتا دو میں لا دیتا ہوں ۔یا تم میرے ساتھ چلو میں تمہیں سب کچھ لے دیتاہوں شارف نے آفر کرتے ہوئے کہا جب وہ لیلیٰ سے شاپنگ کی بات کر رہی تھی ۔
ہاں تم اسی کے ساتھ چلی جاو میرا کہیں جانے کا کوئی پلان نہیں ہے ۔میرا موڈ بہت خراب ہے ۔لیلیٰ نے نخرے دکھاتے ہوئے کہا ۔
لیلی اسے فیشن کے بارے میں کیا پتا میں آجکل کی کچھ چیزیں لینا چاہتی ہوں ۔اب تم سے بہتر فیشن کو کون فولو کرتا ہے ۔معصومہ نے اسے اہمیت دیتے ہوئے کہا ۔جس پر وہ اترآئی تھی
ہاں ٹھیک ہی کہتی ہو تم فیشن کو مجھ سے بہتر کون جانتا ہے ۔ٹھیک ہے میں چلتی ہوں تمہارے ساتھ ۔وہ احسان کرنے والے انداز میں بولی ۔جبکہ شارف نے منہ لٹکایا تھا ۔